p-11سول سروسز امتحان میں اس سال 1122 کامیاب امیدواروں میں صرف 34 مسلم طالب علم کامیاب ہوئے ہیں یعنی صرف 3 فیصد اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں نتیجہ تقریباً ایک جیسا ہی رہا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ دوسرے شعبوں مں تو مسلم طالب علم بہت بہتر کر رہے ہیں۔ڈاکٹرس،انجینئرس،وکلاء،بزنس مینجمنٹ،ٹورزم سبھی میں مسلم طالب علم دلچسپی دکھاتے رہے ہیں۔لیکن سول سروسز میں یہ تعداد اور فیصد بڑھ نہیں رہا ہے ۔ ایسے میں مسلم قوم کے لئے یہ یقینا لمحۂ فکریہ ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے ایک کوشش کی ہے۔ ان 34 مسلم طالب علموں سے انٹرویو کرنے کی جو کامیاب ہوئے ہیں۔ تاکہ نئی نسل کے دوسرے بچوں میں بھی سول سروسز کی جانب ذوق و شوق پیدا ہو اور یہ کامیاب طالب علم ان کے لئے نمونہ بن سکیں اور مسلم نوجوان یہ جان سکیں کہ کس طرح کی محنت کرکے ان کامیاب طلبا نے کامیابی کے زینے کو سر کیا ہے۔
چوتھی دنیا نے ایک کوشش کی ہے۔ ان 34مسلم طالب علموں سے انٹرویو کرنے کی جو کامیاب ہوئے ہیں۔ تاکہ نئی نسل کے دوسرے بچوں میں بھی سول سروسیز کی جانب ذوق و شوق پیدا ہو اور یہ کامیاب طالب علم ان کے لئے نمونہ بن سکیں اور مسلم نوجوان یہ جان سکیں کہ کس طرح کی محنت کر کے ان کامیاب طلبا نے کامیاب کے زینے کو سر کیا ہے۔ ڈاکٹر وسیم راشد جو ’چوتھی دنیا‘ کی مدیرہ ہیں ، انھوں نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اس بار آفاق احمد گری جو جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا انٹرویو یو پی ایس سی امتحان دینے والے طلبا کی رہنمائی کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔
آپ نے یو پی ایس سی امتحان میں کون سا رینک حاصل کیا ہے؟
میرا رینک 585 ہے۔
آپ کو کس محکمے کی ذمہ داری سونپی جائے گی؟
سروس سلیکشن اگست میں ہوتا ہے۔ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے مگر لگتا ہے کہ آئی آرایس کی ذمہ داری ملے گی۔
آپ کی پیدائش کہاں ہوئی اور تعلیم کہاں سے حاصل کی؟؟
بنیہا ل ،جموں و کشمیر میں میری پیدائش ہوئی اور سینک اسکول لنگروڈا، جموں سے تعلیم حاصل کی۔اس اسکول میں میرا داخلہ اس لئے ہوا کہ میں نے این ڈی اے (نیشنل ڈیفیس اکیدمی) کر رکھا تھا۔اس کے بعد میں نے الکٹرانک اینڈ کمیونیکیشن میں انجینئرنگ کی۔
کیاآپ اس امتحان میں بیٹھنے سے پہلے ملازمت کررہے تھے؟
جی ہاں میں ملازمت کررہا تھا۔میں نوکیا سمل انڈرکس گڑ گائوں میںنوکیا کمیونیکشن میں جاب کررہا تھا۔چونکہ میری ماں بیمار رہتی تھیںاور مجھے ان کی وجہ سے بار بار دہلی سے جموں جانا آنا پڑتا تھا اس لئے میں نے اس ملازمت سے استعفیٰ دے دیا پھر میری والدہ اسپتال میں داخل ہوئیں تو میں ان کی وجہ سے مسلسل ایک ماہ تک اسپتال میں رہا۔ لیکن میں ملازمت کے دوران بھی تیاری کرتا تھا ۔ استعفیٰ دینے کے بعد اسپتال میں رہتے ہوئے مجھے مزید مطالعہ کا وقت ملا اور مطالعہ کرتے ہوئے امتحان میں شریک ہونے کا شوق بھی بڑھا۔ اس کے بعد میں نے اپنے ان دوستوں سے جو یو پی ایس سی کا امتحان دے چکے تھے، ان سے رابطہ کیا اور گائڈ لائن لی اور اس طرح میں نے خوب مطالعہ کیا اور پھر پریلمس، مین امتحان اور انٹرویو نکال لیا۔اس سلسلے میں یہ بتانا چاہوں گا کہ جب میںنے پریلمس مکمل کرلیا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی گیا تھا اور وہاں مجھے دو مہینہ رہنے کا موقع ملا۔ دراصل جو لوگ پریلمس نکال لیتے ہیں انہیں جامعہ ویکینسی ہونے پر ہاسٹل اور لائبریری فراہم کرتا ہے ۔چنانچہ میں نے وہاں رہ کر مائنارٹی،ایس سی، ایس ٹی پر مطالعہ کیا۔وہاں پر کچھ ٹیچرس نے بھی بہت مدد کی۔
آپ نے انجینئرنگ کی تھی تو کیا آپ کو لگ رہا تھا کہ آئی اے ایس ایگزام میں کوالیفائی کر لیں گے؟
بس میں نے ارادہ کیا اور کچھ زیادہ محنت کرنی پڑی ،اللہ نے مدد کی اور ماں باپ کی دعائیں ساتھ رہیں اور میں کامیاب ہوگیا
کسی نے رہنمائی بھی کی؟
جو دوست کامیاب ہوگئے تھے ان سے پوچھتا رہتا تھا اور ان سے مدد لیتا تھا ان کی رہنمائی نے بہت مدد کی۔
یہ بتائیے کہ اس پریلمس جو پہلا امتحان ہے اس کے لئے کس طرح کا میٹریل لے کر تیاری کرنی پڑتی ہے؟
اس کے لئے کچھ الگ کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں جیسے ہسٹری اسپکٹرم اور جنرل اسپکٹرم کی ایک کمبائنڈ جنرل اسٹڈیز کی کتاب آتی ہے اس میں سارے سوالات ہوتے ہیں، ان میں سے میں نے کچھ منتخب سوالات پڑھے اوراکولوجی میں میں نے میٹریل حاصل کیے اور اس کو پڑھا۔ اسی طرح سے اکونومک میں شری رام کوچنگ کے میٹریل لئے ہوا تھا، اس کے علاوہ سی سیٹ پیپر 2 کے لئے میں نے سی سیٹ کا ہی ایک پیپر لیا تھا۔
آپ نے یو پی ایس سی میں میں کون سا مضمون لیا؟
اس امتحان میں ایک مضمون اوپشنل (اختیاری) ہوتا ہے اور ہم نے اپنا مضمون جغرافیہ چنا تھا۔
کیاآپ کا کوئی بیک گرائونڈ تھا اورا متحان کے لئے تیاری کہاں سے کی؟
میرا کوئی بیک گرائونڈ نہیںتھا۔میں نے کسی کوچنگ سینٹر سے تیاری نہیں کی بلکہ مختلف اسپکٹرم سے کتابیں پڑھیں اور مختلف نوٹس کو پڑھا۔ اوپشنل مضامین میں جغرافیہ اس لئے لیا کیونکہ اس میں میری دلچسپی تھی۔
آپ تیاری کے لئے کتنے گھنٹے پڑھتے تھے؟
میں زیادہ سے زیادہ وقت مطالعہ میں لگاتا تھا۔ شروع میں تو تین چار گھنٹے پڑھتا تھا ۔لیکن بعد میں پندرہ سولہ گھنٹے تک بھی پڑھتا رہا ہوں ۔ویسے عام معمولات میں 5-6 گھنٹے کافی ہوتے ہیں۔کبھی کبھی اس سے بھی کم وقت دے پاتا تھا۔جیسے تین چار مہینے پہلے میری والدہ جو اکثر بیمار رہتی تھیں وفات پا گئیں تو اس وقت میں 3-4 گھنٹے ہی پڑھ پاتا تھا۔
کیا مطالعہ کے لئے آپ پلان کرتے تھے؟
جی ہاں میں یہ پلان کرتا تھا کہ کون سا مضمون کتنی دیر پڑھنا ہے۔پیر سے جمعہ تک مطالعہ کرتا تھا،سنیچر کو ریوائیو کرتا تھا اور اتوار کے دن ذہن کو آزاد رکھتا تھا ۔تفریح کے لئے اتوار کو فلم وغیرہ بھی دیکھا کرتا تھا۔البتہ شام میں ایک گھنٹہ واک کرنے کا اہتمام ہر روز کرتا تھا۔
اس ا متحان میں شریک ہونے کی پوری سرگرمی کیا ہوتی ہے اس کے بارے میں بتائیں؟
یو پی ایس سی امتحان کے 3حصے ہوتے ہیں۔پہلا امتحان پریلمس ایگزام،دوسرا مین ایگزام اور تیسرا انٹرویو۔ہر امیدوار کو یہ تینوں ہی اسٹیج پار کرنا ہوتا ہے اور اگر اس میں سے وہ کسی بھی اسٹیج میں فیل ہوجاتاہے اسے اگلے سال دوبارہ پورے پروسیس سے گزرناپڑتا ہے اور سارے ہی امتحان پاس کرنے کے بعد تقریباً 1000 طالب علموں کو مختلف سروسز کے لئے چنا جاتا ہے۔
پریلمس ایگزام کو سی ایس پریلیم کہا جاتاہے۔جس میں 2 پرچے 200 نمبر کے ہوتے ہیں ۔ دونوں ہی پرچے آبجکٹیو ٹائپ یعنی معروضی ہوتے ہیں۔ غلط جواب کی نگیٹیو مارکنگ ہوتی ہے۔سوالنامہ ہندی اور انگریزی دونوں میں ہوتا ہے سوائے انگریزی زبان کے پرچہ کے۔
پرچہ 1 میںقومی اور بین الاقوامی اہمیت کے سوال ،ہندوستان کی تاریخ، ہندوستان اور دنیا کا جغرافیائی ڈھانچہ، ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ، معاشیات، سماجیات،جنرل سائنس اور عام معلومات پر مشتمل ہوتا ہے۔
پرچہ 2 انگلش زبان کی دسویں کی Comprehensionوغیرہ۔
پریلیم امتحان کے لئے خاص طور پر نویں اور دسویں کی این سی آی آر ٹی کے سبھی مضامین کی کتابیں اور گیارہویں بارہویں کی جغرافیہ ، تاریخ کی کتابیں بہت معاون ثابت ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ انڈین اکسپریس اخبار، ہندو اخبار، ماہنامہ یوجنا ، فرنٹ لائن کورکشیتر وغیرہ ۔
مین ایگزام:اس میں پرچہ اے 300 نمبر کا ہے جس میں کوئی بھی وہ زبان جو کہ آئین کے آٹھویں شیڈول میں ہے اس میں اردو زبان بھی ہے اور میں نے اردو زبان ہی لی تھی۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ اردو کا پرچہ اس باربے حد مشکل تھا ۔ اتنا مشکل کہ شاید کسی اردو کے پروفسیر اور بڑے اردو کے ماہر سیبھی حل نہ ہوسکتاتھا۔ مجھے آج تک کوئی بھی پرچہ اردو کا کبھی مشکل نہیں لگا ۔اس دفعہ کا بہت سخت تھا جس پر ضرور بات ہونی چاہئے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دفعہ انگلش کے مضمون کو اردو والوں کے لئے گوگل کے ذریعہ ترجمہ کرکے ہم لوگوں کو پیپر دیا گیا تھا ،گوگل کا ترجمہ صحیح مفہوم ادا نہیں کرتا ہے اس لئے ہم لوگوں کو اردو پیپر سمجھنے میں کافی دشواری ہوئی ،اس طرف حکومت کو خاص طور پر مسلم لیڈروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پرچہ بی 300 نمبر کا ہے جس میں پرچہ 1 میںدو مضمون،پرچہ 2 میں جنرل اسٹڈیز، تاریخ ، جغرافیہ ، پرچہ 3 میں جنرل اسٹڈیز ، پرچہ 4 میںجنرل اسٹڈیز ، سائنس و ٹکنالوجی،پرچہ 5 میں ایتھلکس،آئین، سیاست ،گورننس۔پرچہ 6 میں آپشنل مضمون۔پرچہ 7 میںآپشنل مضمون اور پھر انٹرویو۔پورا مین امتحان 1750 نمبر کا اور انٹرویو 275 نمبر کا ہوتا ہے یعنی کل 2025 نمبر کا امتحان ہوتا ہے۔
ان امتحانوںکی تیاری میں اسمارٹ ورک بہت ضروری ہے۔ اسمارٹ ورک کامطلب یہ ہے کہ یہ تعین کرنا کہ کیا پڑھیں کیا نہ پڑھیں۔کوشش یہ ہو کہ جو حالیہ تبدیلیاں ہیں اس پر نظر رکھی جائے۔اقتصادیات، سیاسیات،جغرافیہ ہر ایک موضوع میں تازہ صورت حال پر نظر رہنی چاہئے۔اخبار ضرور پڑھاجائے اور جیسا کہ پہلے بتا چکے ہیں کہ روزنامچہ میں دی ہندو اور انڈین اکسپریس بہت مناسب ہے۔کوئی ایک ماہانہ میگزین بھی ضرور پڑھا جائے۔اسی طرح سے مین امتحان کے وقت کوروکشیتراور یوجنا کو مطالعہ میں رکھا جائے۔دوسری بات یہ کہ بہت زیادہ پڑھنے پر ہی دھیان نہ دیا جائے بلکہ جس میٹریل کو پڑھا جائے اسے بار بار پڑھا جائے اور اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔
انٹرویو کی بڑی اہمیت ہے275 مارک کا ہوتا ہے۔ اس میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن کا جواب تجزیاتی ہوتا ہے۔ جیسے مجھ سے عدالت میں ایک روز پہلے آئے ایک فیصلے پر تجزیہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔اسی طرح سے تاریخ،اقتصادیات اور دیگر ایشو پر بھی سوالات ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ دیکھا جا سکے کہ آپ اپ ڈیٹ ہیں یا نہیں۔
کیا آپ کو کہیں پر محسوس ہوا کہ یو پی ایس سی کے امتحان میں مسلم بچوں کے لئے بہت مشکلیں ہوتی ہیں۔
مشکلیں ان تمام طبقوں کے لئے آتی ہیں جو محرومی کے شکار ہیں۔اس میں تمام اقلیتیں اور پسماندہ طبقہ شامل ہیں۔چونکہ مسلمان بھی اقلیت کا ایک حصہ ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں مشکلوں کا شکار ہوتے ہیں۔لیکن ان مشکلوں میں کہیں نہ کہیں مسلم بچوں کا اپنا عمل دخل بھی شامل ہوتاہے۔وہ اپنے دائرے سے باہر آنا ہی نہیں چاہتے ۔انہوں نے مان لیاہے کہ ان کا سلیکشن ہوگا ہی نہیں ۔اس لئے وہ کوشش بھی نہیں کرتے تو مسلمانوں میں بیداری نہ ہونے کی وجہ سے کہیں نہ کہیں مشکلیں پیش آتی ہیں۔
کیا آپ کو کشمیری ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔خاص طور پر یو پی ایس سی امتحان ہمیں ہر طرح سے شفاف لگا۔
گزشتہ مرتبہ ایک کشمیری طالب علم شاہ فیصل نے اول نمبر حاصل کیا تو اس سے آپ کو حوصلہ ملا؟
یقینا جب اسکول کا ،ریاست کا یا پڑوس کا کوئی آدمی کامیاب ہوتا ہے تو اس سے حوصلہ ملتا ہے اور دوسروں میں ویسا ہی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔شاہ فیصل کے بعد ہی کشمیر طلباء زیادہ تعداد میں آنے لگے ہیں۔اس مرتبہ بھی 8کشمیری طالب علم آئے ہیں۔
مسلم بچوں سے خوف کیسے نکالا جائے؟
اس امتحان کی تیاری کرنے کے لئے بنیاد کو مضبوط کرنا ہوگا۔اور کامیابی کی راہ میں آنے والی مشکلوں کو نظر انداز کرنا ہوگااور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے اس کو محسوس کرنا ہوگا جیسے معاشرے میں ڈیسیژن میکر کی کیا اہمیت ہے اگر اس کو محسوس کریں تو اس امتحان میں شریک ہونے کا جذبہ پیدا ہوگا۔میں مسلم طالب علموں سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے دائرے سے باہر آئیں اور ہر سطح پر اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کا ہدف بنائیں اور والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ مالی اعتبار سے بچوں کو بھرپور تعاون دیں۔اونچے گھر بنانے کے بجائے اونچی تعلیم دینے پر توجہ دیں۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here