ڈاکٹر قمر تبریز
p-4ہندوستانی مسلمان پچھڑا ہوا ہے۔ دیگر قوموں کی طرح اسے بھی ملک کے آئین نے پورا تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ اس بات کو یہاں کی مختلف سیاسی پارٹیاں سمجھتی ہیں، لیکن ان کی نیت صاف نہ ہونے کے سبب مسلمانوں کو ان کا آئینی حق دینے میں یہی سیاسی پارٹیاں مختلف طریقوں سے رکاوٹیں بھی ڈالتی رہی ہیں۔ سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھے کانگریس پارٹی جہاں مسلمانوں پر رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے ان پر احسان جتاتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے اور مختلف ادوار میں اپنی مرکزی و ریاستی حکومتوں کے دوران ہوئے فرقہ وارانہ فسادات نیز ملیانہ اور ہاشم پورہ کے سرکار کی سرپرستی میں ہوئے قتل عام کو بھول جاتی ہے۔ وہیں مسلم مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ان کا قتل عام کرکے اور ملک کے مختلف خطوں میں فرقہ وارانہ فساد برپا کرکے انتخابات کے وقت اب چور دروازے سے ان کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اتر پردیش میں بی جے پی کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور نریندر مودی کے سپہ سالار امت شاہ اپنی عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی ہندو مسلم کی سیاست میں یقین نہیں کرتی، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں بھروسہ کرتی ہے۔ لیکن، وہ اس سوال کا جواب دینے سے کتراتے ہیں کہ اگر پورے ملک میں نریندر مودی کی لہر چل رہی ہے، تو پھر ان کی پارٹی مسلمانوں کو ٹکٹ کیوں نہیں دے رہی ہے۔ گویا کہ اس ملک میں صرف بی جے پی ہی ایک عقل مند پارٹی ہے، جو یہ سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کو پارلیمانی نمائندگی دیے بغیر بھی ان کے مسائل کو حل کرایا جا سکتا ہے۔ یقینا یہ ایک بڑا سوال ہے۔
دوسری طرف چور دروازے سے بی جے پی نے آر ایس ایس کے ترجمان اندریش کمار کو مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کے کام میں لگا دیا ہے اور اس طرح مودی کو اڈوانی کی ہی طرح سیکولر بنانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔ گزشتہ 12 مارچ، کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایسی ہی میٹنگ ہوئی، جس میں اندریش کمار کے ساتھ اسٹیج پر چند نام نہاد مسلم سیکولر چہرے، جیسے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے سابق ڈائرکٹر، ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ؛ شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر، پروفیسر ارتضیٰ کریم اور اردو صحافی قاری محمد میاں مظہری نظر آئے۔ اس کے بعد 16 مارچ کو لندن میں مقیم ورلڈ اسلامک فورم انڈیا کے چیئرمین، مولانا محمد عیسیٰ منصوری گجرات کے ایک بڑے مسلم کاروباری اور مودی حامی ظفر سریش والا کی وساطت سے اتحاد فرنٹ کے قائد اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاد مولانا سلمان حسنی ندوی کے ساتھ ملاقات کرتے اور مودی کے لیے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ گویا کہ اس انتخابی موسم میں وہ سارے چہرے بے نقاب ہو رہے ہیں، جو خود کو مسلمانوں کا قائد اور مسیحا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے مسلم مخالف طاقتوں کے ساتھ دوستی کرتے نظر آ رہے ہیں۔
وہیں کانگریس بھی ایک ماہر کھلاڑی کی طرح مسلمانوں کے درمیان اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چند نام نہاد چہروں کے ساتھ ملت بیداری کی مہم چلا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس وقت کانگریس کی قیادت والی مرکز کی یو پی اے سرکار مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ملک بھر میں متعدد اسکیمیں چلا رہی تھی، اس وقت اس نے ملت بیداری مہم چلا کر مسلمانوں کو ان اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کوئی ملت بیداری مہم کیوں نہیں چلائی؟ اور آج صرف مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اور انہیں بیوقوف بنانے کے لیے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی مہم کیوں چلا رہی ہے؟ اگر کانگریس نے یہ سارے کام پچھلے دس سالوں میں کیے ہوتے، تو یقینا اسے ملت بیداری مہم کو اسپانسر کرنے کی ضرورت اِس وقت نہیں پڑتی۔
سولہویں لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کانگریس نے علی گڑھ میں ’ملت بیداری مہم کمیٹی‘ کے نام سے باقاعدہ ایک تنظیم بنوائی ہے۔ اس کمیٹی نے اب بالی ووڈ کے مشہور فلم ڈائرکٹر اور سماجی کارکن مہیش بھٹ کو ساتھ لے کر 2 اپریل، 2014 سے پولنگ کے آخری دنوں تک پانچ ریاستوں دہلی، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور ہریانہ میں مسلمانوں کی گھنی آبادی والے علاقوں میں ’’کاروانِ بیداری‘‘ کے نام سے ایک مہم چلانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ مسلمانوں کو کانگریس پارٹی کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ملت بیداری مہم کمیٹی کے سکریٹری جنرل، جسیم محمد کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ایک نوجوان لیڈر ہیں اور زمینی سطح پر کام کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ حالانکہ آج ملک بھر میں مختلف میڈیا ہاؤس کے رپورٹرس گھوم گھوم کر یہ بتا رہے ہیں کہ دور دراز کے گاؤں میں آج نہ تو کوئی راہل گاندھی کو جانتا ہے اور نہ ہی بی جے پی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کو۔ حالت تو یہ ہے کہ مسلمان یہ بھی نہیں جانتے کہ راہل گاندھی کی پارٹی، یعنی کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے ان کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کوئی فلاحی اسکیم بھی شروع کر رکھی ہے۔ دوسری طرف وہ مسلم بنکر جو راہل گاندھی کو اس لیے جانتے ہیں، کیوں کہ انہوں نے بنکروں کے بینک کھاتوں میں ڈائرکٹ فنڈ ٹرانسفر کا وعدہ کیا تھا، وہ اپنے بینک کھاتوں میں پیسہ نہ پہنچنے کی شکایت راہل سے مل کر کرنا چاہتے ہیں، لیکن راہل گاندھی ان سے ملنے کے لیے پہنچ ہی نہیں رہے ہیں۔
مزیدار بات یہ ہے کہ جس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں نے جدو جہد آزادی کے وقت مسلمانوں کو کانگریس اور سیاست سے دور رہنے کی بات کہی تھی اور پوری توجہ اپنی تعلیم پر لگانے کی تلقین کی تھی، وہیں سے آج کانگریس پارٹی کے لیے حمایت کی آواز اٹھ رہی ہے۔ دراصل، سرسید احمد خاں کی یہ خواہش تھی کہ مسلمان پہلے سیاست کرنے کے لائق بن جائیں، حکومت کرنا سیکھ لیں، تب سیاسی میدان میں کودیں، کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ ہندوستان جب آزاد ہوگا، تو کانگریس میں اس وقت جو لوگ بڑے عہدے پر ہیں، وہی لوگ بعد میں اقتدار کا حصہ بنیں گے اور مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ آزادی کے 67 سال بعد واقعی میں کانگریس پارٹی میں مسلمانوں کی نمائندگی آج بھی ان کی آبادی کے تناسب سے نہیں ہے، پھر اقتدار میں مضبوط عہدوں پر حصہ داری ملنا تو دور کی بات رہی۔ کانگریس نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق دو چار کام ضرور کیے ہیں، لیکن اس کی نیت اب بھی صاف نہیں ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کو دیتی کم ہے اور ان سے لینا زیادہ چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اب تک جتنے بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں، وہ زیادہ تر کانگریس کے دورِ حکومت میں ہی ہوئے ہیں اور اِن 67 سالوں میں اگر ہندوستان کا مسلمان دلتوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہوا ہے، تو وہ بھی کانگریس حکومت کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ کیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موجودہ اور ریٹائرڈ سینئر ٹیچرس، اے ایم یو کورٹ اور ایگزیکٹو کونسل کے اراکین، ریسرچ اسکالرس اور دانشوروں پر مبنی تقریباً 70 رکنی یہ عملہ کیا عام مسلمانوں کو کانگریس کا حامی بنا پائے گا؟ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملت بیداری کی اس مہم میں مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندوتوا اور فرقہ وارانہ طاقتوں، یعنی بی جے پی کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ ملت بیداری کی اس مہم میں مسلمانوں کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ کانگریس کی آخر وہ کیا مجبوریاں تھیں، جن کی وجہ سے دس سال کے طویل عرصہ میں بھی مسلمانوں کو سرکاری نوکریاں نہیں مل سکیں، اردو میڈیم کے اسکول کیوں نہیں کھولے گئے، بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ کیوں نہیں رک سکا، مسلم اکثریتی علاقوں میں سرکاری پرائمری اسکول کیوں نہیں کھولے جا سکے، پینے کے صاف پانی کا انتظام کیوں نہیں ہو سکا، مقامی قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کو نمائندگی کیوں نہیں مل سکی، مسلم لڑکیوں کے لیے بورڈنگ اسکول اور ہاسٹل کیوں نہیں بنائے گئے اور نہ ہی یہ بتایا جائے گا کہ اگر اگلی بار بھی ملک میں کانگریس کی قیادت والی ہی سرکار بنی، تو مسلمانوں کے ان مسائل کو حل کرنے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟
چوتھی دنیا بی جے پی سے یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ اگر اسے مسلمانوں کا ووٹ چاہیے، تو اس نے ابھی تک مسلمانوں کے مسائل کو حل کرانے کے لیے کوئی بلیو پرنٹ کیوں نہیں پیش کیا؟ دوسری طرف چوتھی دنیا چوری چھپے نریندر مودی اور بی جے پی کی سیکولر شبیہ بنانے کے لیے کوشاں نام نہاد مسلمانوں سے بھی یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ اگر انہیں ایسا لگتا ہے کہ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہندوستانی مسلمان بھی بی جے پی کا ہی ساتھ دیں، تو وہ پبلک پلیٹ فارم پر آکر اس کی وکالت کیوں نہیں کرتے اور بھرپور دلیل کے ساتھ مسلمانوں کو اس کے لیے آمادہ کیوں نہیں کرتے؟ اگر وہ ایسا کوئی بھی کام چوری چھپے کریں گے، تو ان پر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ وہ پیسہ کھانے کے لیے بی جے پی کے دروازے پر جا رہے ہیں اور پوری مسلم قوم کو بدنام ہی نہیں کر رہے ہیں، بلکہ انہیں گمراہ بھی کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here