آسام میں ہندی بولنے والوں پر حملہ: امن کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش

Share Article

گزشتہ دنوں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) کے اسلحہ بردار لوگوں نے کوکڑا جھار ضلع میں بس سے شیلانگ جا رہے آٹھ ہندی بولنے والوں کا قتل کر دیا۔ آسام میں شمالی ہند کے لوگوں کو ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا ہے، جب حکومت ہند اور علیحدگی پسندوں کے درمیان امن مذاکرات چل رہے ہیں۔ کیا ہے اس حملے کے پیچھے کی حکمت عملی؟ کیا آسام میں جاری جنگ بندی پر اس کا کوئی اثر پڑے گا؟ پیش ہے اسے معاملے پر چوتھی دنیا کی یہ خصوصی رپورٹ …

ابھیشیک رنجن سنگھ
p-4bعموماً نارتھ ایسٹ میں یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے وقت پر تشدد واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں کوکڑا جھار میں ہندی بولنے والوں کے قتل کی ذمہ داری نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ (سنگ وجت گروپ) نے لی، جو حکومت ہند کے ساتھ کسی بھی طرح کے امن مذاکرات کے سخت خلاف ہے۔ حالانکہ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ (رنجن دیماری گروپ) ان دنوں حکومت ہند کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہے۔ این ڈی ایف بی (ایس) کے کمانڈر اِن چیف سنگ وجت پر آسام پولس نے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ آسام میں تشدد کی حمایت کرنے والے سنگ وجت کا کہنا ہے کہ فوج ریاست کے اندر لوگوں کو کچلنے کا کام کر رہی ہے، اس لیے ان کے کیڈر ہندی بولنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
حالانکہ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (رنجن دیماری گروپ) کچھ سال پہلے تک حکومت ہند سے امن مذاکرات کے سخت خلاف تھا۔ رنجن دیماری کو آسام میں ہوئے کئی حملوں کا ذمہ دار بھی مانا جاتا تھا۔ غور طلب ہے کہ این ڈی ایف بی کے رنجن دیماری گروپ نے 30 اکتوبر، 2008 کو آسام میں سلسلہ وار بم دھماکوں کو انجام دیا تھا، جس میں سو لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ یہ بم دھماکے گوہاٹی، کوکڑا جھار، بونگئی گاؤں اور بارپیٹا میں ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد رنجن دیماری کو سال 2009 میں بنگلہ دیش میں گرفتار کیا گیا اور حوالگی معاہدہ کے مطابق، اس وقت کی شیخ حسینہ حکومت نے اسے ہندوستان کو سونپ دیا تھا۔ کئی سال جیل میں بند رہنے کے بعد جون 2013 میں آخرکار رنجن دیماری کو ضمانت مل گئی۔ اپنی رہائی کے بعد رنجن دیماری نے حکومت ہند کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ این ڈی ایف بی کی اس مثبت پہل کے بعد اس کے باقی ساتھیوں کو بھی عدالت نے ضمانت دے دی، تاکہ امن مذاکرات کے عمل میں تیزی آئے اور آسام میں بے قصور لوگوں کے قتل کا سلسلہ بند ہو۔
بات اگر اُلفا کی کریں، تو پریش برووا اِن دنوں چین میں رہ رہے ہیں۔ وہ بھی حکومت ہند کے ساتھ کسی طرح کے امن مذاکرات کے سخت مخالف رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف اروِند راج کھووا کی قیادت والی اُلفا (خود مختار) حکومت ہند کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہے۔ اروِند راج کھووا کو جنوری 2011 میں ضمانت ملی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت ہند نارتھ ایسٹ میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کے لیے مثبت پہل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُلفا کے سیاسی آئڈیولاگ کہے جانے والے بھیم کانت بر گوہین کو بھی دسمبر 2010 میں ضمانت دے دی گئی۔ تقریباً سات برسوں تک جیل میں رہنے والے بھیم کانت برگوہین اکیلے ایسے علیحدگی پسند نہیں ہیں، جنہیں قید سے رہا کیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اروِند راج کھووا اور بھیم کانت برگوہین جیسے سرکردہ اُلفا لیڈروں کے علاوہ، نائب صدر پردیپ گوگوئی، متھنگا دیمری، راجو برووا، سشا چودھری، چتر بن ہزاریکا اور پرنتی ڈیکا کو بھی امن مذاکرات کے مد نظر رہا کیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ آسام میں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ کا اثر عام طور پر کوکڑا جھار، چرانگ اور بونگئی گاؤں میں ہے، جب کہ ریاست کے زیادہ تر حصوں، خاص کر اوپر آسام میں اُلفا کا اثر ہے۔ تقریباً تین دہائیوں سے سرگرم اُلفا اور این ڈی ایف بی نے ریاست میں کافی خون خرابہ کیا۔ حالانکہ آسام کے انصاف پسند عوام نے اس تشدد کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ آسام کی اقتصادیات میں شمالی ہند کے لوگوں کے رول سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست کے چائے کے باغات، جوٹ صنعتوں، دستکاری اور بانس سے بنی اشیاء کی تعمیر میں بہار، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور چھتیس گڑھ کے مزدور کافی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ راجستھان کی ایک بڑی آبادی کئی دہائیوں سے آسام میں تجارت کر رہی ہے اور کئی نسلوں سے وہ لوگ آسام میں رہ رہے ہیں۔ کوکڑاجھار میں ہندی بولنے والوں کے قتل کے بارے میں گوہاٹی میں مقیم صحافی راجیو کمار نے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) نے یومِ جمہوریہ سے پہلے بے قصور ہندی بولنے والوں کو اس لیے نشانہ بنایا، تاکہ مرکزی حکومت دباؤ کی حالت میں آ جائے۔ ان کے مطابق، این ڈی ایف بی (رنجن دیماری گروپ) اپنی رہائی کے بعد سے حکومت ہند کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں شامل ہے، لیکن این ڈی ایف بی (سنگ وجت گروپ) اس پہل کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ گوہاٹی سے ہی شائع ہونے والے ہندی اخبار ’دی سینٹی نل‘ کے ایڈیٹر دنکر کمار کے مطابق، حکومت ہند کے ساتھ امن مذاکرات میں اُلفا (خود مختار) کے صدر اروِند راج کھووا شامل ہیں، لیکن پریش برووا آج بھی اپنے رخ پر اڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، این ڈی ایف بی نے جس مقصد سے کوکڑاجھار میں بہاری مزدوروں کا قتل کیا، اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکا، کیوں کہ بہار اور اتر پردیش سے گزرنے والے ٹرینوں میں سفر کرنے والے نارتھ ایسٹ کے لوگوں کو کھرونچ تک نہیں آئی۔ شاید این ڈی ایف بی کے لیے اس سے افسوس ناک بات کچھ اور نہیں ہو سکتی۔ کل ملا کر آسام سمیت نارتھ ایسٹ میں جیسے حالات بن رہے ہیں، انہیں دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت ہند کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں وہی علیحدگی پسند تنظیمیں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، جو اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *