120برس بعد بھی سرسید کا چراغ روشن ہے

Share Article

barny-foundation

بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سرسیداحمدخاں کی 120ویں برسی پر27مارچ 2018کو غالب اکیڈمی حضرت نظام الدین بستی نئی دہلی میں ’برنی فاؤنڈیشن‘ کے زیراہتمام ’یوم تہذیب علی گڑھ2018‘ تقریب کا انعقاد کیاگیا۔پروگرا م میں مہمانان خصوصی کے طور پر سماجی وتعلیمی سرگرمیوںمیں ہمہ وقت کوشاں رہنے والی سلمیٰ انصاری، اہلیہ سابق نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری،سابق ممبرآف پارلیمنٹ و’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ، سائنٹسٹ وشاعر گوہررضا، سلامت اللہ اور ڈاکٹراعظم میر کے علاوہ علیگ برادران اور جامعہ برادران سمیت دیگرمقتدرشخصیات نے شرکت کی۔پروگرام کی صدارت سلامت اللہ اورسرپرستی رضاء اللہ صاحبان نے کی۔

 

 

charag-e-samaj-award
چوتھی دنیاکے ایڈیٹران چیف سنتوش بھارتیہ کو’چراغ سماج ‘ ایوارڈ سے سرفرازکرتے ہوئے شرکا

 

برنی فاؤنڈیشن کے صدر وکنوینرشہزادعالم برنی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے سب سے پہلے ’یوم تہذیب علی گڑھ 2018‘ کے اغراض ومقاصد اوراہمیت وافادیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ سرسیداحمدخاں کی یوم پیدائش 17 اکتوبر1817سب لوگوں کویادہے اوریوم پیدائش بڑے دھوم دھام سے مناتے ہیںلیکن یوم وفات پرسرسیدکوبہت کم لوگ یادکرتے ہیں۔شہزاد عالم برنی نے کہاکہ جب انسان کی ولادت ہوتی ہے ،اس وقت وہ دنیامیں خالی ہاتھ آتاہے لیکن جب وہ دنیائے فانی سے رخصت ہوتاہے توبہت کچھ چھوڑ جاتاہے۔اسی طرح سرسیداحمدخاں دنیامیں بہت کچھ چھوڑگئے ہیں، ہندوستان کوبہت کچھ دے گئے ہیں، خصوصی طور پر مسلم قوم کیلئے بیش بہاقیمتی اثاثہ عنایت کرگئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سرسیداحمدخاں کی زندگی کے چاراہم پہلوہیں۔پہلا تعلیم، دوسرا تہذیب ، تیسری صحافت اورچوتھا سماج ۔اسلئے ان پہلوؤں پرپرانی ونئی نسلوں سمیت ہمارے دانشوران کوغورکرنے کی اشدضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ جس طرح سرسید نے تعلیم کوفروغ دیا، تہذیب کو ترقی دی، صحافت کوعروج بخشا اورسماج کوروشن کیا، ان سب کومزیدبڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ خوشی کی بات ہے کہ برنی فاؤنڈیشن کے زیرانتظام گذشتہ چارسالوں سے یعنی 2015سے لگاتارسرسیدکی برسی پرپروگرام منعقد کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل سارے پروگرام کااہتمام علی گڑھ میں ہوا ،مگر چونکہ علی گڑھ تہذیب علی گڑھ تک محدود نہیں ہے، اسلئے علی گڑھ سے باہر پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔لہٰذا اس بار دہلی میں پروگرام ہوا۔

 

 

شہزادبرنی نے کہاکہ سرسید کے مذکورہ چاراہم پہلوؤں پر کام کرنے والی شخصیات کواسی نام سے ایوار ڈ دینے کافیصلہ لیا گیا ہے یعنی ایوارڈ برائے چراغ تعلیم، ایوارڈ برائے چراغ تہذیب، ایوارڈ برائے صحافت اورایوارڈ برائے چراغ سماج۔
پہلاایوارڈ برائے چراغ تعلیم محترمہ سلمیٰ انصاری کو دیاگیا۔کنوینرشہزادبرنی نے کہا کہ سلمیٰ آپا تعلیمی میدان میں بہت زیادہ متحرک وسرگرم ہیں۔وہ متعدداسکول چلاتی ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ان کے اسکولوں میں مفت میں تعلیم دی جاتی ہے ۔دوسراایوارڈ برائے چراغ تہذیب گوہررضاکودیاگیا اور اسی طرح ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹرسنتوش بھارتیہ کوایوارڈ برائے چراغ سماج سے نوازا گیا۔برنی فاؤنڈیشن نے اعتراف کیاکہ سنتوش جی نے ایک جرنلسٹ، ایک رائٹر، ایک سماجی کارکن کے طور پر دلت اوراقلیتوں کولیکر بہت کام کیا،انہوں نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں’دلت اورمائنارٹی امپاورمنٹ اور ’پترکاریتا کانیادور قابل ذکر ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ سنتوش جی نے صحافت اورقلم کی جوذمہ داری ہے اسے بخوبی نبھایاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سنتوش جی نے پارلیمنٹ میں بھی لوگوں کی رہنمائی کی ہے۔ایوارڈ برائے صحافت معرو ف صحافی ونوددوا کیلئے مختص کیا گیاتھا لیکن ونوددواجی کسی وجہ سے پروگرام میں شرکت نہیں کرسکے ۔کنوینرپروگرام نے کہاکہ یہ ایوارڈ ان کوپہنچادیاجائے گا۔ایک اورایوارڈ برنی فاؤنڈیشن کی جانب سے ’چراغ برنی‘ پنڈوال ریاست کے راجہ ایس ایم رضاحیدرعلی خان کودیا جاناتھا لیکن طبیعت خراب ہوجانے کی وجہ سے وہ پروگرام میں شرکت نہیں کرسکے ،یہ ایوارڈ ان کی غیرموجودگی میں ان کے بیٹے حیدرعلی خان اسعدبھائی کودیاگیا۔
بہرکیف ایوار ڈکے تقسیم کے بعداے ایم یوطلبایونین کے صدر مشکوراحمد عثمانی نے برنی فاؤنڈیشن اورشہزادبھائی کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ سرسیداحمد خاں کی بات ہی تہذیب ہے، جنہو ںنے ہم سب کی رہنمائی کی۔انہوں نے کہاکہ سرسیدنام نہیں ہے، شخصیت نہیںہے بلکہ ایک سوچ ہے اور سلمیٰ انصاری، گوہررضااور سلامت اللہ جیسی شخصیات وہیں سے نکلی ہیں۔انہو ںنے کہاکہ سرسید کی لومدھم ضرورہوئی ہے لیکن چراغ نہیں بجھا ہے۔

 

 

’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹرسنتوش بھارتیہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ علیگیرین میں جتنابھائی چارہ ہے ، وہ اس لفظ سے ظاہرہے۔انہوں نے کہاکہ میں دنیاکے کسی بھی ملک میں گیاجہاں کوئی نہ کوئی علیگیرین ملا تو اس نے اس لفظ کا استعمال کیا ۔انہوں نے کہاکہ اس یونیورسٹی سے میری ملاقات ایک فلم ’میرے محبوب ‘ سے ہوئی تھی۔اس فلم میں نے پہلی بارعلی گڑھ مسلم نیورسٹی کی بلڈنگ دیکھی تھی اوروہیں میراپہلاتعارف شیروانی سے بھی ہوا۔اس کے بعدمیں نے لگ بھگ ہردوسرے سال ایک شیروانی سلوائی اورسال میں ایک دوبارپہن لیتاہوں۔
سنتوش بھارتیہ نے علی گڑھ سے اپناایک اوررشتہ بتاتے ہوئے کہاکہ میں شروع سے ہی ایک صحافی رہاہوں اورمالک کا شکرہے کہ اس کی وجہ سے اب تک اس پیشہ سے وابستہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ میں علی گڑ ھ کے پڑوس میں فرخ آباد کا رہنے والاہوں۔انہوں نے کہاکہ 1986کی بات ہے اس وقت ’چوتھی دنیا‘شروع ہوئی تھی اور ہم لوگ کرپشن کے خلاف کھڑے تھے۔ انہوںنے کہاکہ ایک صحافی کوچاہئے کہ وہ ہمیشہ کرپشن کے خلاف ،پاورکے خلاف کھڑارہے جوکہ ایک صحافی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہو ںنے کہاکہ کہنے کا مقصدیہ ہے کہ اس وقت 1989کاالیکشن آیاجہاں سے میراعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نزدیکی کا ایک رشتہ قائم ہوا،الیکشن آیااور وی پی سنگھ کے اصرار پرجو مجھ سے وہ بہت محبت کرتے تھے،مجھے لوک سبھاکا الیکشن فرخ آباد سے لڑنا پڑا۔میرے جومخالفین تھے ان میں ایک بہت بڑے وکیل تھے۔ان کا بہت بڑا نام بھی تھا۔یعنی سلمان خورشیدصاحب۔ سنتوش جی نے کہاکہ میرے بناکہے ہوئے 60سے 70طلبا جوعلی گڑھ مسلم نیورسٹی کے اسٹوڈنٹس تھے نے میرا پرچارکیا اورسلمان خورشیدصاحب کی ان لوگوں نے مخالفت کی اورمیں الیکشن جیت گیا اورسلمان خورشیدہارگئے۔
اس کے بعد اے ایم یوکے طلباء ،جن میں فرخ آبادکے طلبابھی شامل تھے جوکہ اے ایم یو میں پڑھتے تھے ،نے مجھے اے ایم یوکیمپس میں چارپانچ باربلایااورمیں گیا ۔سنتوش جی نے کہاکہ میں وہاں پرگیا اورلوگوں سے ملا۔انہو ںنے کہاکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سرسیدنے اس وقت ایک کھڑکی نہیں بلکہ ایک دروازہ کھولاتھا اور اگر وہ یہ دروازہ نہیں کھولتے تومیں آپ سے بالکل اتفاق کرتا ہوں کہ مسلم قوم کوپاورمیں شیئرنگ کرنے کی زبان میں طاقت ہی نہیں آتی ۔آج جوآپ لوگ یعنی مسلم قوم اپنے حق کیلئے لڑرہے ہیں ،انسانیت کیلئے لڑرہے ہیں اوراپنی آوازکیلئے لڑرہے ہیںیہ سب سرسیدکی دین ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سرسیدکوخراج عقیدت پیش کرتاہوں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ سرسیدکی زندگی سب کیلئے آئیڈیل ہے خصوصاً ہندوستان میں ۔سنتوش جی نے بتایاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نکلے متعدد علیگ برادران اوردانشوران ہمارے دوست ہیں ، کئی لوگ سیاست میں ہیں،ان سے ملاقاتیں ہوتی ہیں،طلباء یونین کے صدر رہے کئی افراد ہمارے دوست ہیں، کئی ایسے دوست ہیں جنہوں نے بڑی بڑی پارٹی بنالی ،آج وہ ہمارے بیچ نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ علی گڑھ کے لوگوں یعنی مسلم یونیورسٹی کے لوگوں سے میراپتہ نہیں کیوں ایک جذباتی رشتہ بنگیاہے۔

 

 

انہوںنے اپنے خطاب میں سلمیٰ انصاری کے تعلق سے کہاکہ ایسی خاتون بہت کم ہوتی ہیں جوقوم کے تئیں فکرمند،تعلیم کے تئیں سرگرم اوردیگرسماجی امورمیں ہمہ وقت متحرک وفعال ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بہت سے صدراورنائب صدرکی بیویوں کودیکھا ہے جواپنے شوہرکے سایہ کوسرپرڈھوتی ہیں،لیکن سلمیٰ انصاری جی میں ان کااپنا ایک’ انداز‘ہے۔انہوں نے کہاکہ سلمیٰ جی سے میری ملاقات تین چاربرس قبل راجستھان کے نول گڑھمیں ہوئی تھی۔راجستھان میں وہاں کمل مرارکاجی کا ایک شیخاوٹی فیسٹول ہوتاہے۔سلمی اس فیسٹول میں گئی تھیں،اس فیسٹول میں سلمیٰ جی کے ساتھ کئی جگہوں پرگیا جبکہ اکثر خاتون ایسی جگہوں پرنہیں جاتی ہیں ۔لیکن میں نے دیکھاکہ سلمیٰ جی کھیتوں میں گئیں، کیافصلیں ہوتی ہیں، گائے کی کتنی نسلیں ہوتی ہیں، گائے کیسے دودھ دیتی ہے،کس کس طرح کی کھادہوتی ہے سلمیٰ جی نے گلی گلی جاکرسب چیزوں کودیکھا۔انہوں نے بتایاکہ اتنے بڑے گھرانے سے وابستہ اورنائب صدرکی بیوی ہونے کے باوجود قوم کے تئیں وہ اتنا کام کرتی ہیں جو کہ یقینا قابل تعریف ہے۔
سنتوش جی نے شہزادبرنی کے بارے بتاتے ہوئے کہاکہ ان سے ایک دوبارصرف فون پربات چیت ہوئی ہے۔میں نے شہزادجی سے کہاکہ تہذیب سے میراکوئی لینادینانہیں ہے، میں توبدتمیزی کرتاہوں ،بدتمیزی کرنے کامطلب یہ ہے کہ جولکھتاہوں وہ بہت سارے لوگوں کے خلاف ہوجاتاہے۔ایک صحافی اگرکسی کی تعریف کرے توپھروہ صحافی نہیں ہے۔پھرچاہے وہ تاج محل کی تعریف ہو، کرینہ کپوریانریندرمودی کی تعریف ہو، یاکسی کی بھی تعریف ہو۔

 

 

 

’چوتھی دنیا‘کے چیف ایڈیٹرسنتوش بھارتیہ نے اپنے دل کی بات بتاتے ہوئے کہاکہ جس طرح سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مائنارٹی کریکٹرکوختم کرنے کی ایک پرزورکوشش ہورہی ہے، میں اس کے خلاف ہوں۔انہوں نے کہاکہ میرا یہ مانناہے کہ ادارے کسی مقصدکولیکربنتے ہیںاوربنانے والوں نے جوسپنادیکھاتھا اگروہ سپنے کوہی ختم کرنے کی کوشش ہوتواس کا ساتھ نہیں دیناچاہئے۔انہوںنے کہاکہ چاہے اخبارہویاسڑک ہو، ہرجگہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اس کریکٹرکوبنائے رکھنے میں اگرکوئی لڑائی لڑی جاتی ہے تومیں اس میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔
اخیرمیں سنتوش جی نے شہزادبرنی اوربرنی فاؤنڈیش کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اعزازسے نوازکر مجھے جوذمہ داری دی ہے میں جرنلزم کے ذریعہ غیرجانبدارانہ رول ہمیشہ اداکرتا رہوںگا۔
برنی فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ’یوم تہذیب علی گڑھ ‘کے موضوع پرمنعقدہ پروگرام سے سابق نائب صدرحامدانصاری کی اہلیہ محترمہ سلمیٰ انصاری نے جذباتی اندازمیں کہاکہ میں آپ سب کی آپاضرورہوں لیکن آج میں یہاں سلمیٰ آپاکی حیثیت سے نہیں ہوں۔انہوں نے جذباتی لہجے میں کہاکہ سرسیداحمدخاں نے سب کچھ کیا لیکن آپ لوگوں (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فضلا)نے کیا کیا؟انہوں نے کہاکہ سرسیدکودنیامیں خصوصاً ہندوستان اورخاص کرمسلم قوم کیلئے جو کچھ کرناتھا، وہ کرکے چلے گئے مگرآج ہم علیگیرین صرف اورصرف سرسیدکے کارناموں کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے مشن کوآگے نہیں بڑھاتے ، ان کے خواب کوہم لوگ پورا نہیں کررہے ہیں۔

 

 

سلمیٰ انصاری نے کہاکہ ہندوستان کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کے بچے بھوکے سوتے ہیں، ان کے لئے پڑھائی لکھائی کی بات تودورہے۔انہوںنے کہاکہ علی گڑھ کے ہی قرب جوارمیں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جہاں مسلم بچے بھوکے سوتے ہیں، ان کے والدین کے پاس دووقت کی روٹی کے پیسے نہیں ہیں۔ایسے میں ہم لوگوں کوچاہئے کہ ان علاقوں میں جاکرمسلم بچوں کی خبرگیری کریں،ان کیلئے اسکولیں کھولیں، مفت میں داخلہ دیں، تاکہ وہ بچے ہرمیدان میں ترقی کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ میں اسکول چلاتی ہوں اوربچوں کومفت تعلیم اوریونیفارم دیتی ہوں۔ میرے اسکول میں سرکاری اورنیم سرکاری اداروں سے پیسے نہیں آتے ہیں،نہ کوئی مسلم این جی اوز، تنظیمیں اورلیڈران چندہ دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے اسکولوں میں چارہزاربچے ہیں اوریتیم خانہ میں 18بچے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج ہمارے اسکول اسلئے چل رہے ہیں کہ میرے سب سے بڑے حمایتی ایک ہندوہیں۔
گوہررضا، رضاء اللہ خاں اورسلامت اللہ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔اخیرمیں سرسیدکی ترکی ٹوپی تمام مہمانان کرام کوپہنائی گئیں اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترانہ کو بجاکرپروگرام کا اختتام ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *