بھساول ۔ناسک ٹاڈا مقدمہ:25 سال بعد 11 مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات سے عدالت نے بری کیا

Share Article
11-people-acquitted
نئی دہلی27؍ فروری دہشت گردانہ معاملات میں بے جا گرفتار ساڑھے سات سو مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیئے مشہور ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم مؤقر تنظیم جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی)کی کوششوں سے بدھ کو 25؍ سالوں کے طویل انتظار کے بعد 11؍ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات سے ناسک کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے بری کیا۔ عدالت نے ملزمین کو نا کافی ثبوت اور تحقیقات کے دوران ٹاڈا قانون کے رہنمایانہ اصولوں کی دھجیاں اڑانے کو بنیاد بناکر ملزمین کو باعزت بری کردیا۔بدھ کو جیسے ہی خصوصی ٹاڈا جج ایس کھاتی نے مقدمہ کا فیصلہ سنایا ملزمین نے راحت کی سانسیں لیں اور خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ گذشتہ کل ہی فیصلہ آنا تھا لیکن دن بھر فیصلہ لکھنے کا عمل چلتا رہا اور آج بھی شام پانچ بج گیا فیصلہ ظاہر ہونے میں۔تفصیلی فیصلہ جلدہی ملزمین اور وکلاء کو دستیاب ہوگا کیونکہ ابھی فیصلہ کی نقول تیار کی جارہی ہے ۔واضح رہے کہ 28؍ مئی 1994ء کو تحقیقاتی دستہ نے مہاراشٹر اور ملک کے دیگر صوبوں کے مختلف شہروں سے اعلی تعلیم یافتہ ۱۱؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153(A) 120(B)اور ٹاڈا قانون کی دفعات3(3)(4)(5), 4(1)(4) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پرالزام عائد کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کشمیر جاکر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔تحقیقاتی دستہ نے ملزمین جمیل احمد عبداللہ خان، محمد یونس محمد اسحاق، فاروق خان نذیر خان، یوسف خان گلاب خان، ایوب خان اسماعیل خان، وسیم الدین شمش الدین، شیخ شفیع شیخ عزیز، اشفاق سید مرتضی میر، ممتاز سید مرتضی میر، محمد ہارون محمد بفاتی اور مولانا عبدالقدیر حبیبی کو بھساول الجہاد نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ناسک اور بھساول میں مسلمانوں کو جہاد کرنے پر اکسا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری عمارتوں سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اس فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح 25 برس کے بعد انصاف ملا ہے وہ اس انگریزی کہاوت کو سچ کردکھاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس پر نہ تو ملک کا میڈیا کچھ کہہ رہا ہے اور نہ ہی وہ دانشور طبقہ ہی کوئی تبصرہ کرتا ہے جو سیکولرزم کی قسمیں کھاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پچیس برس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک شخص کے زندگی کے انتہائی قیمتی ماہ و سال تباہ کردئے بلا شبہ انصا ف ملا اور ایجنسیوں کا جھوٹ ایک بار پھر طشت از بام ہو گیا لیکن کیا اس انصا ف سے لوگوں کی زندگی کے تباہ ہوئے ماہ و سال واپس لوٹائے جاسکتے ہیں ؟ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے آج کچھ لوگ باعزت بری ہوئے ہیں کل مزید کچھ لوگوں کو ایجنسیاں جھوٹے الزام میں سلاخوں کے پیچھے پہونچادیں گی اور یہ مذموم سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح کب تک بے گناہوں کی زندگیاں سے کھلواڑ ہوتا رہے گا ؟ انہوں نے یہ بھی کہا جب تک پولیس اور ایجنسیوں کی جواب دہی طے نہیں ہوگی اور جب تک بے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والے افسران کو سزا نہیں دی جاتی اسی طرح لوگ گرفتار اور رہا ہوتے رہیں گے اور اسی طرح ایجنسیاں مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کرتے رہیں گی ۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیوں سے تو اس سلسلے میں انصاف کی توقع ہی فضول ہے مگر بنیادی سوال تو یہ ہے کہ ملک کا سیکولر اور دانشور طبقہ اس ناانصافی پر کیوں چپ ہے ؟ انہوں نے آخیر میں کہا کہ جب تک قصووار افسران کو سزا نہیں دی جاتی یہ انصاف ادھوراہے ۔
maulana-syed-arshad-madni
خصوصی ٹاڈا جج کی جانب سے ۱۱؍ مسلم ملزمین کو باعزت بری کیئے جانے پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ حالانکہ حصول انصاف میں تاخیر ہوئی لیکن مسلمانوں کے ماتھوں پر سے دہشت گردی کا کلنک صاف ہونا اہم بات ہے ۔انہوں نے دفاعی وکلاء خصوصاً ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ان کے رفقاء متین شیخ، انصار تنبولی، رازق شیخ، شاہد ندیم، محمد ارشد، ہیتالی سیٹھ و دیگر کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسان نہیں تھا معاملے کی ہر سماعت پر ممبئی سے ناسک جاکر ملزمین کا دفاع کرنا لیکن انہوں نے تمام نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی خدمات پیش کیں جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ۱۱؍ مسلم ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی اور جب ہم نے تین سال قبل ان کا مقدمہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور دفاعی وکلاء نے چارج شیٹ کا مطالعہ کیا تب یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ ملزمین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایاگیا ہے اور انہیں ۲۵؍ سالوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔گلزار اعظمی نے کہاکہ مقدمہ کے جعلی ہونے کا ثبوت اس بات سے بھی واضح ہوتا ہیکہ عدالت میں آدھے سے زیادہ سرکاری گواہان اپنے بیانات سے ایک جانب جہاں منحرف ہوگئے وہیں روویو کمیٹی نے ۲۰؍ سال قبل ہی ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کی سفارشات حکومت کو پیش کیں تھیں لیکن حکومت کی سفارشات کو نچلی عدالت نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جس کا خمیازہ ملزمین کو بھگتنا پڑا اور انہیں عدالت میں یہ ثابت کرنا پڑا کہ ان پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *