سیاست دانوں کے 100 دن

Share Article

imran-khan

کسی بھی سرکار کے شروع کے سو دن بہت اہم ہوتے ہیں۔ کہنے کو تو سو دن کچھ بھی نہیں تاہم کم از کم سمت کا تعین ہو جاتا ہے۔ کئی سربراہان نے اقتدار میں آنے سے قبل سو دن کا پروگرام اور ایجنڈا عوام کو دیا۔ 1933 میں صدارت سنبھالنے والے امریکی صدر روزویلٹ کے سو دن کا پروگرام کافی مقبول ہوا۔ صدر روزویلٹ نے پہلے سو دنوں میں جو قانون سازی کی اسے تاریخی اور امریکی ترقی میں اہم مانا گیا۔اْن کے بعد سے اب تک کسی بھی امریکی حکومت کے

ہمارے ملک ہندوستان میں جب کوئی نئی حکومت آتی ہے تو پیلے سو دنوں کا بیورا پیش کرتی ہے ۔اگرچہ اس بیورا میں لفظی کھیل کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا مگر جو دستور چلا آرہا ہے اس پر عمل پابندی سے ہوتا ہے۔پاکستان میں تحریک انصاف حکومت کے پہلے سو دن کی کارکردگی کو اگر قانون سازی کے اس سانچے میں تولا جائے تو فی الحال اس کا کہیں شائبہ تک نہیں ملتا
اپنی حکومت کے 100 دن پورے ہونے پر چاہے عمران خان نے اپنی کارکردگی کا محاسبہ کیا ہو یا نہیں اور ملک میں آسمان چھوتی مہنگائی کے بارے میں کچھ سوچا ہو یا نہیں مگر اپنے ٹویٹر پر پوری طرح سے سرگرم نظر آئے۔ انہوں نے عثمان بزدار کے دفاع،خارجہ پالیسی سمیت مخلتف ایشوز پر 19 اگست سے 24 نومبر تک قریبا 50 ٹوئیٹس کیے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جب وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے عثمان بزدار کا نام لیا گیا تو ان پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ ایک نا تجربہ کار آدمی کوپنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا ایک درست فیصلہ نہیں ہے۔

 

عمران خان نے ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار کے نام پر2 ہفتے غوروفکر کیا میں ان کوایماندار شخص پایا ہے،عثمان بزدارنئے پاکستان کے نظیرے میں میرے ساتھ ہیں،عثمان بزدارکو نامزدکرنے کے فیصلے پرقائم ہوں۔عمران خان احسان مانی کے دفاع میں بھی ٹوئیر پر سامنے آئے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ میں نے احسان مانی کو چئیرمین پی سی بی نامزد کیا ہے ان کے پاس اس کام کے لیے وسیع تجربہ موجود ہے۔احسان مانی اس سے قبل آئی سی سی کے چئیرمین بھی رہ چکے ہیں۔
س کے ساتھ ہی عمران خان نے عارف علوی کے لئے بھی ٹویٹ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر پاکستان عارف علوی کے ساتھ اپنی جدوجہد کے آغاز کے زمانے کی تصویر پوسٹ کی۔وزیراعظم عمران خان نے پوسٹ کی گئی تصویر کے ساتھ لکھا کہ جب ہماری دنیا جوان تھی۔
وزیراعظم عمران خان نے سرکاری رہائش گاہوں سے متعلق ٹویٹ کیا اور کہا کہ 90 فیصد سرکاری زمین پر سرکاری رہائش گاہیں ہیں، سرکاری زمین کی مالیت سے متعلق اعدادوشمار ہوش اڑا دینے کی حد تک حیرت ناک ہیں۔انہوں نے یوٹرن کا طعنہ ملنے پر ٹوئیٹ کیا اور کہا یوٹرن لینے کو عظیم لیڈر کی نشانی قرار دے دیا۔عمران خان نے امریکی صدر کو بھی ٹوئیڑ پر پاکستان کی دہشت گردی میں دی گئی قربانیاں یاد کروائیں۔. ستمبر 11 کے حملوں میں ایک بھی پاکستانی ملوث نہ تھا مگر پاکستان نے امریکی جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی مسئلوں پر وزیر عظم عمران خاں نے ٹویٹ کیا۔
اب ذرا دیکھئے کہ وزیر اعظم کو ٹویٹ کرنے کے لئے تو خالی وقت مل جاتا ہے مگر پاکستان میں مہنگائی،بے روزگاری اور سیکورٹی کا جو مسئلہ عروج پر ہے ،اس پر انہیں سوچنے کا موقع نہیں ہے۔مطلب صاف ہے کہ انہیں سیاست سے زیادہ ٹویٹ میں دلچسپی ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *