کٹھوعہ عصمت دری متاثرہ کی شناخت اجاگر کرنے والے میڈیاگھرانوں پر دس -دس لاکھ روپے کاجرمانہ 

Share Article

delhi-high-court

دہلی ہائی کورٹ نے کٹھوعہ میں اجتماعی عصمت دری کی شکار معصوم کی شناخت کو عام کرنے یا فوٹو دکھانے والے پر اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر دس دس لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا ہے ۔ ہائی کورٹ جمع رقم جموں و کشمیر متاثرہ کی مدد فنڈ میں بھیجے گی ۔اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ جو اس معاملہ میں قصوروار پایا جائے گا اس کو چھ ماہ کی قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ عدالت اس معاملہ میں اگلی سماعت 25 اپریل کو کرے گی۔عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں جن لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ 10۔10 لاکھ روپے کورٹ میں جمع کرائیں۔ یہ پیسہ جموں و کشمیر میں متاثرین کے لئے قائم فنڈ میں منتقل کیا جائے گا۔
قابل غور ہے کہ جموں کشمیر کے کٹھوعہ میں آٹھ سال کی بچی کے ساتھ اجتماعی ریپ کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں کئی میڈیا چینلز نے متاثرہ کی تصاویر کے ساتھ بچی کا نام بھی نشر کیا تھا۔ اس پر ہائی کورٹ نے دفعہ 228 اے ای کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا۔کورٹ نے کاہ تھا کہکوئی بھی خبریہ ایجنسی لڑکی کا نام ،فوٹو،گھر یا پڑوس کی معلومات کا انکشاف نہیں کرے گا۔اس معاملے کی سماعت کٹھوعہ سے چنڈی گڑھ ٹرانسفر کرنے کی مطالبہ کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر سرکار کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ وکیلوں کے ذریعہ چارج شیٹ داخل کرنے میں رخنہ پیدا کرنے کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ نے بار کونسل آف انڈیا سمیت جموں بار ایسو سی ایشن اورکٹھوعہ بار ایسو سی ایشن کو بھی نوٹس جاری کیا ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *