’‘چوتھی دنیا“ کے ہم اردو والے شکر گزار ہیں کہ اس نے اردو کا ایک نیا باب کھول کر تاریخی کام انجام دیا ہے۔اردو جیسی پیاری اور میٹھی زبان ایسی ہے کہ اس پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے، کیونکہ اردو کے خلاف کچھ کم ظرفوں نے بہت نا انصافی کی ہے۔جس کو کھلی نظریات نے دیکھا سمجھا اور محسوس کیااور ”چوتھی دنیا“ اردو کے حساس ترین دوستوں میں ایک ایک ہے۔ ایک بار پھر جب اردو کی تاریخ رقم کی جائے گی تو مورخ ”چوتھی دنیا “کو فراموش نہیں کر سکے گا۔
میں مبارکباد پیش کرتا ہوں تمام چوتھی دنیا کے اراکین ومنتظمین اور متعلقین کو اس عظیم قدم پر۔
وسیم راشدصاحبہ
آپ کو چوتھی دنیا مبارک
آج جب اردو والے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اردو اور اردو والوں کیا ہوگا،کیوں کہ دیکھا جائے تو متعدد زبانیں جو ریاستی سطح کی ہیں کم سے کم ان ریاستوں میں وہ زبانیں مضبوط ہیں ، جیسے مہاراشٹر میں ، مراٹھی ، اتر پردیش میں ہندی ، بہار میں ہندی ، ایسے ہی مختلف ریاستوں میں مختلف زبانیں ، مگر اردو کو کہیں بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے ۔
اکثر اردو والوں کو بڑی ہی نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، میں جس کمپنی سے جڑا ہوا ہوں وہاں اردو کا بھی شعبہ ہے، مگر جو مقام دوسرے لوگوں کو میسر ہے ، اردو والوں کو اس سے کوسوں دور رکھا گیا ہے ۔ یعنی ہمشیہ اردو اور اردو والوں کے ساتھ نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اردو والے ہی نا انصافی کرتے ہیں۔
ایسے دور میں” چوتھی دنیا “کا اردو ایڈیشن اپنے آپ میں ایسے لوگوں کیلئے ایک مثال ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی باب کا حصہ ہے ۔جو اردو کے نام پر ڈکٹیٹر شپ کا حصہ بن چکے ہیں ۔جن کے اندر ” میں “ ہی سب کچھ ، کا لفظ گھر کر گیا ہے ۔
محترمہ ایسے میں آپ کی قیادت مزید اس کو چار چاند لگائے گی ۔ ہمیں قوی امید ہے آپ اردو اور اردو والوں کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھیں گیں۔ اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے اخبار کو مزید ترقی عطا کرے ۔
آمین
جس دور میں متفقہ طور پر اردو اخبارات و رسائل کی نشر واشاعت کو گھاٹے کا سودا قرار دیا جا چکا ہو ایسے میں آپ کی یہ جرات مندی قابل تحسین ہے یقینا یہ کام آپ جیسے پرعزم اور حوصلہ مند حضرات کا ہی ہے جنہوں نے اردو صحافت کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ وہ اپنی موجودگی کا احساس کرا رہی ہے ۔چوتھی دنیا کے انٹر نیٹ ایڈیشن کے مطالعے کے بعد پھر کسی اخبار کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یہی اس کی خاص خوبی اور امتیاز ہے جودوسرے اردو اخبارات کو حاصل نہیں اس کی وجہ کچھ بھی بیان کی جائے ۔ اردو قارئیں کو شاید پہلی بارمکمل اخبار نصیب ہو رہا ہے۔ آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد ۔
اشرف علی بستوی
سب اڈیٹر“ سہ روزہ دعوت دہلی“
Cont: 09891568632
E-mail: ashrafbastavi@gmail.com
congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد .
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-٢٥.
nai duniya urdu k inaugral issue k liye ek bachcho ki nazm KOEAL fax kardi hai . ummeed hai pasand farmayenge.
congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد . congratulation
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
E mail: jawed.ma@gmail.com
#9313007131.
!congratulation کی آپ نے چوتھی دنیا کا اردوکا پہلا شمارہ بھی نکا لا ہے.
نظر نواز ہوا ہے، ہر اعتبار سے قا یل تعریف ہے.
شکریہ!
اک بار پھر مبارکباد.
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
E mail: jawed.ma@gmail.com
#9313007131.
آداب /تسلیمات
سنتوش بھارتیہ صاحب و وسیم راشد صاحبہ
اس دنیا کو اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تووہ بی باک صحافت کی ،جس کے ذریعہ ہی کچح بدلاءو آسکتا ہی ۔ یہ بات صرف ہمارے ملک ہندوستان ہی تک محدود نہیں پورے عالم پر لاگو ہو تی ہے
اس کا کما حقہ کردار چوتھی دنیا ادا کرسکتا ہی۔اسی امید کہ ساتھ آپ دونوں اور تمام عملہ کو مبارکباد دیتا ہوں
کہ آپ کا اخبار ضرور انقلاب لاءےگا۔
نگار عظیم صاحبہ آج کی لکھک ہیں ، جو لکھتی ہیں خوب لکھتی ہیں،
میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، انکے صاحبزادے حسن عظیم فیسبوک پر میرے دوست ہیں، انہونے وعدہ کیا ہے .
دیکھئے کب سعادت حا صل ہوتی ہے .
نیک خواھشات کے ساتھہ .
جاوید اختر ، نئی دہلی .
#9313007131
موحترم سنتوش بھارتیہ و وسیم رشید صاحبان
تسلیمات
یوں تو صحافت سے تعلّق ہونے کی وجہ سے بھارتیہ صاحب سے واقف تھا ان کے مضامین اور چوتھی دنیا کے حوالے سے/ اور جب چوتھی دنیا اردو کا ویب ایڈیشن دیکھا تون کے ساتھ ساتھ آپ اور آپ کے صحافتی کارناموں کو بھی قریب سے دیکھنے کو ملا یقینن صحافت اور اردو کے سلسلے میں آپ لوگوں کی کاوش تعریف کے لایق ہے یوں تو اردو کے لئے زبانی جما خرچ سبھی کرتے ہیں لیکن اسے عملی جامہ آپ جیسے باہمّت اور بے لوث لوگ ہی پہنا سکتے ہیں. میری جانب سے اور تمام اردو برادری کی جانب سے آپ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرایوں سے موباراکباد -
غفران ساجد قاسمی
ریاض-سعودی عربی
آپ کی اخبار بہت اچھی ہے پڑھ کر لطف آ جاتا ہے . خاص طور پر ٹورانٹو سے عفاف اظہر صاحبہ کے کالمز تو کمال کے ہیں اس نوجوانی کی عمر میں قلم کی مہارت لکھائی میں غضب کی روانی دل نشین انداز بیان کے ساتھ سوچ کی پختگی بہت کم نظر اتی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے .
سکھ جیت سنگھ
چندی گھڑھ
اڈیٹر جی
آپ کا اخبار ماشا الله سے بہت خوب ہے . ہر ہفتے انتظار رہتا ہے . آپ کے قلمکار بہت اچھے ہیں خاص کر عفاف اظہر کینیڈا سے بہت غضب کی قلمکار ہیں . ہر مضمون بے مثال ہوتا ہے . انداز بیان اتنا اچھا کہ جتنی دفعہ بھی پڑھو اچھا ہی لگتا ہے .
ثمینہ اگروال
جھارکھنڈ
چوتھی دنیا ایک بہت ہی ادبی اور سماجی قسم کا اخبار ہے . آپ کی ٹیم کی محنت اور لگن نے اسے ممتاز بنا ڈالا ہے . لکھاری بہت اچھے ہیں خاص طور پر مجھے آپ کے اخبار میں ٹورانٹو سے لکھنے والی عفاف اظہر کے کالم بہت پسند ہیں . ہر کالم منفرد اور دلنشیں ہوتا ہے .
اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے .تحریر عفاف اظہر کینیڈا
واہ ایک بہت ہی شاندار اور بھرپور مضمون ہے . مضمون نویس کے قلم میں کمال کی کاٹ اور تحریر بلا کی خوبصورت ہے
Your comment is awaiting moderation.
ایک نظم ” سوال ”
………………………………………..
وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
جس سے بھاگتا ہوں میں،
ہاں وہی گیت ،وہی غزل
جس سے جو جھتا ہوں میں .
آخر کیا ہوگا میرا؟
یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں.
جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
سب کچھ کرتے ہوئے بھی
کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
………………………..
………………………
نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
تنگ آکے ، مرجھا کے سب سے جیت کے ، خود سے ہار کے
یہی سوال دہراتا ہوں میں،
کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
* جاوید اختر ، راشد.
#9313007131
وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
جس سے بھاگتا ہوں میں،
ہاں وہی گیت ،وہی غزل
جس سے جو جھتا ہوں میں .
آخر کیا ہوگا میرا؟
یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے
جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں
جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
سب کچھ کرتے ہوئے بھی
کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
………………………..
………………………
نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
تنگ آکے ، مرجھا کے
سب سے جیت کے
، خود سے ہار کے
یہی سوال دہراتا ہوں میں،
کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
==============================================
نی دہلی. ٢٦ نومبر ٢٠١٠
بہار اسمبلی انتخابات میں جنتا دل یونایٹڈ کی رکارڈ ٹوڈ کامیابی پر انصاف مورچہ دہلی کے کنوینر سیّد کمال اشرف نے بھار کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے پریس بیان میں کہا کی یہ کامیابی پارٹی کے سربراہ عالی جناب نتیش کمار جی کی ایمانداری ، محنت ، لگن اور بھار کی ترقی کا نتیجہ ہے.
انہوں نے کہا کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے جھوٹے وعدوں سے عاجز ہوکر بہار کے عوام نے جس دانشمندی، حکمت عملی کا ثبوت دیا وو قابل تعریف ہے.
کمال اشرف نے مزید کہا کی صاھب پور کمال اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئی موحترم پروین امانوللہ کو وزارت مے شامل کئےجانے سے بہار ہی نہیں، بلکی انکی کاوشوں سے پورا بہار ترقی کریگا.
تحریر کردہ:
سید کمال اشرف، کنوینر
E -mail : skamalashraf@yahoo.in
mobile : 09871434990
ایک خبر کی تلاش میں آپ کی ’’چوتھی دنیا‘‘دیکھنے کا اتفاق ہوا،آپ کی اس قابل تحسین کاوش کے لیے شاید میری رائے کو ئی معنی نہ رکھے،لیکن شاید یہ رائے میرے جذبات کی کسی حد تک ترجمانی کر سکے۔
ایک معروف عالم دین مولانا مرغوب رحمن کی وفات کی خبر بالاخر آپ کی اس دنیا سے مل ہی گئی،اس سے میرا جہاں بہت سا وقت بچا وہاں میری بہت سی محنت بھی محفوظ رہی۔اس کے لیے اپ کی دنیا کا بے حد شکریہ
محمد بلا ل اکرم کاشمیری
اعزازی لکھاری ’’ماہنامہ گلوبل سائنس‘‘کراچی
لاہور پاکستان
ابھی تازہ شمارے میں جناب نعمان شوق کا مقالہ پڑھا . نہایت جراتمندانہ انداز میں انہوں نے اردو شیری کی نے میلانات پر گفتگو کی ہے .در اصل ہمارے سینئر شاعر حضرت ادبی سیاست میں اسقدر ملوث ہو گے ہیں کہ انہیں ایمانداری سے لکھنے اور بولنے سے در لگنے لگا ہے .گوپی چند نارنگ کیچاپلوسی سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے . ندا فاضلی ، شین کاف نظام ، شہریار وغیرہ پچھلے دس برسوں سے کیا لکھ رہی ہیں جب قاری کو ان کا ایک بھی تازہ شعر یاد نہیں .
سفیان اختر
اردو کی ترویج اور اشاعت کے لئے اردو صحافیوں نے جو کوششیں کے ہیں وہ ناقابل تحریر ہیں .اردو اخبارات اور تے ٹی وی والے badi janfashani karte ہیں
نیپال میں اردو کی taraqi کے لئے koi khas kam nahen huwa tha lekin اب جاکر نیپال سے اردو زبان میں ایک ہفت روزہ اخبار نکلتا ہے اس میں صحافیوں سے گزارش ہے کہ اپنے مضامین دیکر نیپال سے نکلنے والے اخبار کی رمق کو زندہ رکھیں /
محمّد ہارون انصاری
ایڈیٹر
صداۓ عام اردو نیوز پپر
جنکپور دھناشا نیپال
First of all I would like to thank Editor and CHAUTHI DUNYA TEAM that they are attempting to make better and better.I study every page of CHAUTHI DUNYA،because this weekly paper comes at my house by ASFAR FARIDY.
This is a good paper.
mian to Sirf Dr. Waseem Rashid kI wajeh se Urdu Chouthi Duniya Ko janta hoon، aur unke hone se Chouthi Duniya ko allah aur Tarqqi Se nwaze،، urdu padhne walon ke liye yeh bahut bada kam hai،،
چوتھی دنیا مگزینے یکایک پڑھنے کا اتفاق ہوا.اور اسے خریدنا پڑا.چمکیلے پاپڑ پر چوتھی دنیا ایک اچّھا اخبار ہے.تو کے دور میں اخبار نکلنا بدی ہمّت کا کم ہے.پاکستان کے جاگیرداران نظام پر مضمون پڑھا.یہ کیا ستم ہے کے پاکستان میں اب بھی ووہی نظام چل رہا ہے.جو دنیا سے کب کا ختم ہو گیا ہے.کڑھ پاکستان کا بھلا کرے.آج وہ ملک تررقی پر آ گئے جو کبھی پچدے تھے.اب پاکستان کے کھآنی لکھنے والے منشی پریم چن…نہیں.پاکستان قیمت تک نہیں سدھار سکتا.دنیا کا سب سے بدنصیب ملک پاکستان ہے..اور اس کی وجیہ وہاں کا فدل سیسٹم ہے…..
जकात, फितरा व सदका
हमारे देश में लगभग 18 से 20 करोड़ मुस्लमानों की आबादी है और हर साल गरीब हो या अमीर, वो ईद की नमाज अदा करने से पहले अढ़ाई किलो गेंहू के बराबर का पैसा बतौर फितरे के रुप में और ऐसे लोगों को अदा करता है जो कभी उसका हिसाब उन लोगों को नहीं देते जिनसे उन्होंने फितरा व जकात के रुप में पैसा उगाया है। किसी को कोई पता नहीं कि यह रकम कहां खर्च होती है। इसका इस्तमाल जायज कामों पर खर्च किया जाता है या नाजायज काम पर। जिसका आकलन अरबों रुपयों में है। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि इस रकम के लिए एक ऐसा कोष बनाया जाए। जो इस्लामिक शरीयत के अनुसार उन लोगों पर खर्च किया जाए। जो इसके असली हकदार हैं। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि जकात, फितरा व सदका का एक ऐसा कोष स्थापित किया जाए। जिसमें जकात, फितरा व सदका इक्ठा किया जाए और असली जरुरतमंद और इस्लामिक शरीयत के अनुसार इसका प्रयोग किया जाए। बरा-ए-मेहरबानी अपने विचार निम्नलिखित ईमेल पर लिखें। या अधिक जानकारी के लिए निम्न नम्बरों पर सम्पर्क करें।
Mohd. Rafiq Chauhan
State Chief co-ordinator
Haryana Muslim Khidmat Sabha
Mob: +91-9416097234, +91-9729258554
Email: 786hmks@gmail.com
ماہانہ ہندی مگزیں “قومی فرمان” اگست ٢٠١١ میں جناب رام پنیانی کا مضمون “دنگوں کا دیش اسس بات کی عکّاسی کرتا ہے کے بعد آزادی چھوٹے بڑے اور چھت پت معملات والے، اس ہندوستان نے لگ بھگ ٥٠ ہزار دنگو کی مار کو جھیلے ہے جسمے اپنوں کے ہی خون بہے ہیں غیروں کا کچھ نہیں بگدا ہے. کہنے کو یکتا اکھندتا اور دنیا کا سبسے بڑا جمہوری اور سیکولر ملک کو کسی کی نہیں بلکے خود ہماری نظر لگ گی ہی ہے. ہم جتنے پڑھ لکھ گئے ہیں اتنے ہو نسلی، مسلکی و مذہبی امتیازی سلوک کے جاتے ہیں. ہم ایک طرف تو چند اور مریخ پر جانے اور بسنے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ہم اپنو کے دل مے مے بھی نہیں بس پے ہیں. یا جگہ نہیں بنا پے ہیں. کدوی سچچآیی یہ بھی ہے کے ہند کی تاریخ میں بدی آزادی سیاست کی بگ ڈوڈ لاشوں پر ہی سمبھالی گی ہے. ہر قصہ کرسی کا ہے ہر کھل ستا کا ہے. ہم کہاں آزاد کل انگریز ہم پر قابض تھے اور آج کمنل سوچ. اور سچ تو یہ ہے کے انگریز کی تھورے پھوٹ ڈالو اور راج کرو، بس یہی سیکھا ہے سیاسی ہے تنظیموں نے. فرق صرف اتنا ہے کل ہم انگریزوں کے ہتھے چڑھے تھے اور آج سیاستدانو کے یا ان بھگوا تنظیموں کے جو منہ پر رام رام کا نارا اور بغل میں چھری لئے پھرتے ہیں. ہمیں شرم آنی چاہے کے جوں جوں ہم تعلیم یافتہ ہو رہر ہیں توں توں ہم جاہلانہ رسمو رواج اور حرکتو سکنات کرتے ہیں. ہمارے پاس کہنے کو سب کچھ تو ہے مگر بھی چارگی، یکتا، اکھندتا، ایک دوجے کے لئے دل میں عزت و پاس، اور یہ کے ذہنی سکون و آرام نہیں ہے ہمارے پاس. اور ان سب کے ہم خود زممدار ہیں. نہ کے کوئی اور.
لگ بھگ ٨٠٠ دنگے ہر سال (تناسب کے لحاظ سے) بعد آزادی ابتک ٦٢ سالوں میں ٥٠ ہزار دنگوں کا ہونا یہی ثبوت فراہم کرتا ہے کے واقعی بھارت دنگوں کا دیش ہے نہ کے آستھاؤں کا دیش، بھکتوں کا دیش، علموں کا دیش، صوفیوں کا دیش، سنتوں کا دیش، اور سب سے بڑھ کر “ہمارا دیش”
!مکرمی
آج کے ہر اخباروں نے جس طرح سرورق پر اپنے اپنے سرخیاں لگایں، سب یہی کہ رہے ہیں کی یہ اننا کی جیت ہے یر سرکار کی ہار ہے-
محترمی ، ایسا کہنا شاید سہی نہیں ہوگا، چنکی یہ کوئی جنگ نہیں اور نہ ہی رام لیلا میدان کوئی جنگے میدان تھا ، جو اننا اور انکے حامی جیت گئے بلکی ہار جیت کی بات نہیں ہے یہ، اسے بھی زیادہ ایک ام رے بن جانے کی تحریک کی بات ہے. می سمجھتا ہوں نہ کوئی ہارا ، نہ جیتا، ہاں صرف جیتا گیا اور جیتے ہم سبھی، جسمے سرکار بھی شامل ہے. یہ جیت صرف عوام کی نہیں بلکےیکتا کی ، اکھندتا کی اور یہ کے ایک وشواس کی جیت ہی ہے. ایسے میں ہمے صرف قا نون بنانے کی ہی نہیں بلکی اسے بھی کہی زیادہ خود شخسی طور پر اماندر ہونے کی زیادہ ضرورت ہے. ہمے اپنے گریبان مے جھانکنے کی ضرورت ہے کے آیا ہم کتنے ایماندار اور پاک صاف ہیں. اگر ہم رشوت دینا چھوڈ دن تو رشوت لیگا کون. بس ہمیں خود کے ذہن و دل سے بےایمانی دور کرنی چاہے، پھر جب ہم پہلے اپنے گھروں سے یہ نیک کام کا آغاز کردیں تو پھر اسکے لئے ہمیں آج خود سے ہی وعدہ لینا ہوگا اور خود کو دے ہوئے وعدے سے مکرنا نہیں ہوگا. تو وو دیں دور نہیں جب ایک مہزب اور پاک صاف معاشرہ کی تشکیل ہو پیگی بلکی ہمی جینے کا انداز بھی مل جایگا-
Muslims are divided in three group in India. First group of Muslim so rich and educated and this group does not bother about the rest of two groups Middle Class and lowest Class. Middle class of Muslims are fighting and struggling for the rights as well as rising their status in societies and progress but lower class Muslims are under the influence of the religious leader, They left their life on …the God. They are illiterate and they do not want to change their life. They believe blindly on the God. Because the religious leader says, you are live in this world on the mercy of the God. Without the direction of the God, No single leaf move here and there. I also believe this idea, but I also believed in hard work and those Muslims understand the both views. They would achieve both worlds i.e. Jannat and present life in the world. But those Muslims are running behind the Jannat and ignoring the present life in the world, they always living in miserable conditions
چوتھے دنیا قابل مبارک باد کام انجام دے رہی ہے تمام قارئین اردو اس کی شکر گزار ہیں کی اس نے اردو تحریک کے قائد شمیم احمد کے عزائم کو انٹرویو کی شکل میں شائع کیا
میں خود ایک صحافی اور قلمکار ہوں اور کئی اخبارات اور سائٹوں کے لئے لکھتا ہوں مگر آپ کی وئب سائٹ بہت ہی معلوماتی اور متاثر کن ہے ۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر سے ٹیم کے تمام ارکان تک سبھی باخبر لوگ نظر آتے ہیں اور وہ بھی تین زبانوں میں مواد شائع کرنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو ایک مضمون کشمیر سے متعلق بھیجنا چاہتا ہوں مگر مجھے کہیں بھی آپ کا ای میل نہیں ملا اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہے
شکریہ الطاف ندوی کشمیری
’‘چوتھی دنیا“ کے ہم اردو والے شکر گزار ہیں کہ اس نے اردو کا ایک نیا باب کھول کر تاریخی کام انجام دیا ہے۔اردو جیسی پیاری اور میٹھی زبان ایسی ہے کہ اس پر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے، کیونکہ اردو کے خلاف کچھ کم ظرفوں نے بہت نا انصافی کی ہے۔جس کو کھلی نظریات نے دیکھا سمجھا اور محسوس کیااور ”چوتھی دنیا“ اردو کے حساس ترین دوستوں میں ایک ایک ہے۔ ایک بار پھر جب اردو کی تاریخ رقم کی جائے گی تو مورخ ”چوتھی دنیا “کو فراموش نہیں کر سکے گا۔
میں مبارکباد پیش کرتا ہوں تمام چوتھی دنیا کے اراکین ومنتظمین اور متعلقین کو اس عظیم قدم پر۔
خیر اندیش :مطیع الرحمن عزیز
وسیم راشدصاحبہ
آپ کو چوتھی دنیا مبارک
آج جب اردو والے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اردو اور اردو والوں کیا ہوگا،کیوں کہ دیکھا جائے تو متعدد زبانیں جو ریاستی سطح کی ہیں کم سے کم ان ریاستوں میں وہ زبانیں مضبوط ہیں ، جیسے مہاراشٹر میں ، مراٹھی ، اتر پردیش میں ہندی ، بہار میں ہندی ، ایسے ہی مختلف ریاستوں میں مختلف زبانیں ، مگر اردو کو کہیں بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے ۔
اکثر اردو والوں کو بڑی ہی نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، میں جس کمپنی سے جڑا ہوا ہوں وہاں اردو کا بھی شعبہ ہے، مگر جو مقام دوسرے لوگوں کو میسر ہے ، اردو والوں کو اس سے کوسوں دور رکھا گیا ہے ۔ یعنی ہمشیہ اردو اور اردو والوں کے ساتھ نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اردو والے ہی نا انصافی کرتے ہیں۔
ایسے دور میں” چوتھی دنیا “کا اردو ایڈیشن اپنے آپ میں ایسے لوگوں کیلئے ایک مثال ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی باب کا حصہ ہے ۔جو اردو کے نام پر ڈکٹیٹر شپ کا حصہ بن چکے ہیں ۔جن کے اندر ” میں “ ہی سب کچھ ، کا لفظ گھر کر گیا ہے ۔
محترمہ ایسے میں آپ کی قیادت مزید اس کو چار چاند لگائے گی ۔ ہمیں قوی امید ہے آپ اردو اور اردو والوں کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھیں گیں۔ اللہ تعالی آپ کو اور آپ کے اخبار کو مزید ترقی عطا کرے ۔
آمین
شنتوش بھارتی جی آداب
پہلی بارمکمل اخبار
جس دور میں متفقہ طور پر اردو اخبارات و رسائل کی نشر واشاعت کو گھاٹے کا سودا قرار دیا جا چکا ہو ایسے میں آپ کی یہ جرات مندی قابل تحسین ہے یقینا یہ کام آپ جیسے پرعزم اور حوصلہ مند حضرات کا ہی ہے جنہوں نے اردو صحافت کو یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ وہ اپنی موجودگی کا احساس کرا رہی ہے ۔چوتھی دنیا کے انٹر نیٹ ایڈیشن کے مطالعے کے بعد پھر کسی اخبار کے مطالعے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی یہی اس کی خاص خوبی اور امتیاز ہے جودوسرے اردو اخبارات کو حاصل نہیں اس کی وجہ کچھ بھی بیان کی جائے ۔ اردو قارئیں کو شاید پہلی بارمکمل اخبار نصیب ہو رہا ہے۔ آپ کی پوری ٹیم کو مبارکباد ۔
اشرف علی بستوی
سب اڈیٹر“ سہ روزہ دعوت دہلی“
Cont: 09891568632
E-mail: ashrafbastavi@gmail.com
congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد .
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-٢٥.
nai duniya urdu k inaugral issue k liye ek bachcho ki nazm KOEAL fax kardi hai . ummeed hai pasand farmayenge.
congratulation کی آپ چوتھی دنیا کا اردو بھی نکلنے جارہے ہیں ، اک بار پھر مبارکباد . congratulation
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
E mail: jawed.ma@gmail.com
#9313007131.
!congratulation کی آپ نے چوتھی دنیا کا اردوکا پہلا شمارہ بھی نکا لا ہے.
نظر نواز ہوا ہے، ہر اعتبار سے قا یل تعریف ہے.
شکریہ!
اک بار پھر مبارکباد.
شکریہ !
جاوید اختر ،دی – ٢٥٠ ، ابل فضل ینکلاوے، جامہ نگر ، ا کھلا ، نی دہلی-
E mail: jawed.ma@gmail.com
#9313007131.
مہتر،ہ وسیم راشد صحبہ
میرے مضمون کی اشاعت کا شکریہ – آپکا اداریہ معلوماتی ہی – آ ر تی آ ای کا کالم مفید ہی -
آداب /تسلیمات
سنتوش بھارتیہ صاحب و وسیم راشد صاحبہ
اس دنیا کو اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تووہ بی باک صحافت کی ،جس کے ذریعہ ہی کچح بدلاءو آسکتا ہی ۔ یہ بات صرف ہمارے ملک ہندوستان ہی تک محدود نہیں پورے عالم پر لاگو ہو تی ہے
اس کا کما حقہ کردار چوتھی دنیا ادا کرسکتا ہی۔اسی امید کہ ساتھ آپ دونوں اور تمام عملہ کو مبارکباد دیتا ہوں
کہ آپ کا اخبار ضرور انقلاب لاءےگا۔
ڈاکٹر طیب خرادی
بنگلور کرناٹک
نگار عظیم صاحبہ آج کی لکھک ہیں ، جو لکھتی ہیں خوب لکھتی ہیں،
میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، انکے صاحبزادے حسن عظیم فیسبوک پر میرے دوست ہیں، انہونے وعدہ کیا ہے .
دیکھئے کب سعادت حا صل ہوتی ہے .
نیک خواھشات کے ساتھہ .
جاوید اختر ، نئی دہلی .
#9313007131
موحترم سنتوش بھارتیہ و وسیم رشید صاحبان
تسلیمات
یوں تو صحافت سے تعلّق ہونے کی وجہ سے بھارتیہ صاحب سے واقف تھا ان کے مضامین اور چوتھی دنیا کے حوالے سے/ اور جب چوتھی دنیا اردو کا ویب ایڈیشن دیکھا تون کے ساتھ ساتھ آپ اور آپ کے صحافتی کارناموں کو بھی قریب سے دیکھنے کو ملا یقینن صحافت اور اردو کے سلسلے میں آپ لوگوں کی کاوش تعریف کے لایق ہے یوں تو اردو کے لئے زبانی جما خرچ سبھی کرتے ہیں لیکن اسے عملی جامہ آپ جیسے باہمّت اور بے لوث لوگ ہی پہنا سکتے ہیں. میری جانب سے اور تمام اردو برادری کی جانب سے آپ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرایوں سے موباراکباد -
غفران ساجد قاسمی
ریاض-سعودی عربی
آپ کی اخبار بہت اچھی ہے پڑھ کر لطف آ جاتا ہے . خاص طور پر ٹورانٹو سے عفاف اظہر صاحبہ کے کالمز تو کمال کے ہیں اس نوجوانی کی عمر میں قلم کی مہارت لکھائی میں غضب کی روانی دل نشین انداز بیان کے ساتھ سوچ کی پختگی بہت کم نظر اتی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے .
سکھ جیت سنگھ
چندی گھڑھ
اڈیٹر جی
آپ کا اخبار ماشا الله سے بہت خوب ہے . ہر ہفتے انتظار رہتا ہے . آپ کے قلمکار بہت اچھے ہیں خاص کر عفاف اظہر کینیڈا سے بہت غضب کی قلمکار ہیں . ہر مضمون بے مثال ہوتا ہے . انداز بیان اتنا اچھا کہ جتنی دفعہ بھی پڑھو اچھا ہی لگتا ہے .
ثمینہ اگروال
جھارکھنڈ
ایک غزل پیش خدمت ہے،
تصحیح کے ساتھ شایع ضرور کریں
-
شکریہ
جاوید اختر
9313007131
چوتھی دنیا ایک بہت ہی ادبی اور سماجی قسم کا اخبار ہے . آپ کی ٹیم کی محنت اور لگن نے اسے ممتاز بنا ڈالا ہے . لکھاری بہت اچھے ہیں خاص طور پر مجھے آپ کے اخبار میں ٹورانٹو سے لکھنے والی عفاف اظہر کے کالم بہت پسند ہیں . ہر کالم منفرد اور دلنشیں ہوتا ہے .
اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے .تحریر عفاف اظہر کینیڈا
واہ ایک بہت ہی شاندار اور بھرپور مضمون ہے . مضمون نویس کے قلم میں کمال کی کاٹ اور تحریر بلا کی خوبصورت ہے
Your comment is awaiting moderation.
ایک نظم ” سوال ”
………………………………………..
وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
جس سے بھاگتا ہوں میں،
ہاں وہی گیت ،وہی غزل
جس سے جو جھتا ہوں میں .
آخر کیا ہوگا میرا؟
یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں.
جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
سب کچھ کرتے ہوئے بھی
کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
………………………..
………………………
نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
تنگ آکے ، مرجھا کے سب سے جیت کے ، خود سے ہار کے
یہی سوال دہراتا ہوں میں،
کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
* جاوید اختر ، راشد.
#9313007131
ایک نظم ” سوال ”
………………………………………..
وہی حالات، وہی بات پیچھا کرتا ہے میرا
جس سے بھاگتا ہوں میں،
ہاں وہی گیت ،وہی غزل
جس سے جو جھتا ہوں میں .
آخر کیا ہوگا میرا؟
یہ خودی سے پوچھتا ہوں میں
آخر کیوں جھگڑتا ہوں میں؟
آخر کیوں لڑتا ہوں میں؟
یہ جیون کا کیسا پاٹھہ ہے
جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھتا ہوں میں
جسکا پھل میں بھی نہ کھا سکوں،
آخر، کیوں ایسے بیج بوتا ہوں میں ؟
سب کچھ کرتے ہوئے بھی
کچھ نہیں کرتا ہوں میں،
نہ سوتا ہوں، اور نہ جاگتا ہوں میں
آخر کیا کیا کرتا ہوں میں؟
کوئی پاپ جو کیا تھا پچھلے جنم میں میں نے
شاید، اسی کا جرمانہ بھرتا ہوں میں،
………………………..
………………………
نہ جیتا ہوں اور نہ ہی مر تا ہوں میں
آخر کیا ہے کام میرا اس جگ میں
تنگ آکے ، مرجھا کے
سب سے جیت کے
، خود سے ہار کے
یہی سوال دہراتا ہوں میں،
کہ آخر کیا کھوتا ہوں، اور کیا پا تا ہوں میں
کہ ، کیوں زندگی سے دور بھاگتا ہوں میں؟
==============================================
* جاوید اختر ، راشد
#9313007131
نی دہلی. ٢٦ نومبر ٢٠١٠
بہار اسمبلی انتخابات میں جنتا دل یونایٹڈ کی رکارڈ ٹوڈ کامیابی پر انصاف مورچہ دہلی کے کنوینر سیّد کمال اشرف نے بھار کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے پریس بیان میں کہا کی یہ کامیابی پارٹی کے سربراہ عالی جناب نتیش کمار جی کی ایمانداری ، محنت ، لگن اور بھار کی ترقی کا نتیجہ ہے.
انہوں نے کہا کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے جھوٹے وعدوں سے عاجز ہوکر بہار کے عوام نے جس دانشمندی، حکمت عملی کا ثبوت دیا وو قابل تعریف ہے.
کمال اشرف نے مزید کہا کی صاھب پور کمال اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئی موحترم پروین امانوللہ کو وزارت مے شامل کئےجانے سے بہار ہی نہیں، بلکی انکی کاوشوں سے پورا بہار ترقی کریگا.
تحریر کردہ:
سید کمال اشرف، کنوینر
E -mail : skamalashraf@yahoo.in
mobile : 09871434990
چوتھی دنیا ممبئی مے دستیاب نہیں ہے .لہذا اسے دستیاب کراے.
شکریہ.
ایک خبر کی تلاش میں آپ کی ’’چوتھی دنیا‘‘دیکھنے کا اتفاق ہوا،آپ کی اس قابل تحسین کاوش کے لیے شاید میری رائے کو ئی معنی نہ رکھے،لیکن شاید یہ رائے میرے جذبات کی کسی حد تک ترجمانی کر سکے۔
ایک معروف عالم دین مولانا مرغوب رحمن کی وفات کی خبر بالاخر آپ کی اس دنیا سے مل ہی گئی،اس سے میرا جہاں بہت سا وقت بچا وہاں میری بہت سی محنت بھی محفوظ رہی۔اس کے لیے اپ کی دنیا کا بے حد شکریہ
محمد بلا ل اکرم کاشمیری
اعزازی لکھاری ’’ماہنامہ گلوبل سائنس‘‘کراچی
لاہور پاکستان
آپ کا اخبار chauthi دنیا حقیقت میں ایک تحریک ہیں
مگر یہ اخبار ممبئی میں نہیں مل رہا ہے آپ سے گزارش ہے یہا بھی دستیاب کرایے
شکریہ
salim ممبئی .
ابھی تازہ شمارے میں جناب نعمان شوق کا مقالہ پڑھا . نہایت جراتمندانہ انداز میں انہوں نے اردو شیری کی نے میلانات پر گفتگو کی ہے .در اصل ہمارے سینئر شاعر حضرت ادبی سیاست میں اسقدر ملوث ہو گے ہیں کہ انہیں ایمانداری سے لکھنے اور بولنے سے در لگنے لگا ہے .گوپی چند نارنگ کیچاپلوسی سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے . ندا فاضلی ، شین کاف نظام ، شہریار وغیرہ پچھلے دس برسوں سے کیا لکھ رہی ہیں جب قاری کو ان کا ایک بھی تازہ شعر یاد نہیں .
سفیان اختر
خاص طور پر مجھے آپ کے اخبار میں ٹورانٹو سے لکھنے والی عفاف اظہر کے کالم بہت پسند ہیں
موکامے حیرت ہے کیا کہوں سنتوش بھارتی صاحب اور ان کی ٹیم کو بہت مبارک ہو.
سعید جاوید
میں نے اسے بہت دلچسپ پایا. میں اس کی لیے اپنی چیزیں کیسے بھجواسکتا وں
dakTr asad فیز اسلام آباد pakstan
چوتھی دنیا اپنے ہر نیے شمارے کے ساتھ بہتر ہوتا جا رہا ہے ، مبارکباد اور نیک تمننائیں
اگر آپ اپنی ویب پر” جمیل نوری نستعلیق فانٹ ڈال دیں۔تو پڑھنا آسان ہوجایے گا۔یہ فری دستیاب ہے۔۔ “
ایسے۔۔۔۔http://nawaiadab.com/khurram/?p=1883
اردو کی ترویج اور اشاعت کے لئے اردو صحافیوں نے جو کوششیں کے ہیں وہ ناقابل تحریر ہیں .اردو اخبارات اور تے ٹی وی والے badi janfashani karte ہیں
نیپال میں اردو کی taraqi کے لئے koi khas kam nahen huwa tha lekin اب جاکر نیپال سے اردو زبان میں ایک ہفت روزہ اخبار نکلتا ہے اس میں صحافیوں سے گزارش ہے کہ اپنے مضامین دیکر نیپال سے نکلنے والے اخبار کی رمق کو زندہ رکھیں /
محمّد ہارون انصاری
ایڈیٹر
صداۓ عام اردو نیوز پپر
جنکپور دھناشا نیپال
First of all I would like to thank Editor and CHAUTHI DUNYA TEAM that they are attempting to make better and better.I study every page of CHAUTHI DUNYA،because this weekly paper comes at my house by ASFAR FARIDY.
This is a good paper.
mian to Sirf Dr. Waseem Rashid kI wajeh se Urdu Chouthi Duniya Ko janta hoon، aur unke hone se Chouthi Duniya ko allah aur Tarqqi Se nwaze،، urdu padhne walon ke liye yeh bahut bada kam hai،،
چوتھی دنیا مگزینے یکایک پڑھنے کا اتفاق ہوا.اور اسے خریدنا پڑا.چمکیلے پاپڑ پر چوتھی دنیا ایک اچّھا اخبار ہے.تو کے دور میں اخبار نکلنا بدی ہمّت کا کم ہے.پاکستان کے جاگیرداران نظام پر مضمون پڑھا.یہ کیا ستم ہے کے پاکستان میں اب بھی ووہی نظام چل رہا ہے.جو دنیا سے کب کا ختم ہو گیا ہے.کڑھ پاکستان کا بھلا کرے.آج وہ ملک تررقی پر آ گئے جو کبھی پچدے تھے.اب پاکستان کے کھآنی لکھنے والے منشی پریم چن…نہیں.پاکستان قیمت تک نہیں سدھار سکتا.دنیا کا سب سے بدنصیب ملک پاکستان ہے..اور اس کی وجیہ وہاں کا فدل سیسٹم ہے…..
जकात, फितरा व सदका
हमारे देश में लगभग 18 से 20 करोड़ मुस्लमानों की आबादी है और हर साल गरीब हो या अमीर, वो ईद की नमाज अदा करने से पहले अढ़ाई किलो गेंहू के बराबर का पैसा बतौर फितरे के रुप में और ऐसे लोगों को अदा करता है जो कभी उसका हिसाब उन लोगों को नहीं देते जिनसे उन्होंने फितरा व जकात के रुप में पैसा उगाया है। किसी को कोई पता नहीं कि यह रकम कहां खर्च होती है। इसका इस्तमाल जायज कामों पर खर्च किया जाता है या नाजायज काम पर। जिसका आकलन अरबों रुपयों में है। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि इस रकम के लिए एक ऐसा कोष बनाया जाए। जो इस्लामिक शरीयत के अनुसार उन लोगों पर खर्च किया जाए। जो इसके असली हकदार हैं। इसलिए हरियाणा मुस्लिम खिदमत सभा का विचार है कि जकात, फितरा व सदका का एक ऐसा कोष स्थापित किया जाए। जिसमें जकात, फितरा व सदका इक्ठा किया जाए और असली जरुरतमंद और इस्लामिक शरीयत के अनुसार इसका प्रयोग किया जाए। बरा-ए-मेहरबानी अपने विचार निम्नलिखित ईमेल पर लिखें। या अधिक जानकारी के लिए निम्न नम्बरों पर सम्पर्क करें।
Mohd. Rafiq Chauhan
State Chief co-ordinator
Haryana Muslim Khidmat Sabha
Mob: +91-9416097234, +91-9729258554
Email: 786hmks@gmail.com
دنگوں کا دیش – بھارت
!مکرمی
ماہانہ ہندی مگزیں “قومی فرمان” اگست ٢٠١١ میں جناب رام پنیانی کا مضمون “دنگوں کا دیش اسس بات کی عکّاسی کرتا ہے کے بعد آزادی چھوٹے بڑے اور چھت پت معملات والے، اس ہندوستان نے لگ بھگ ٥٠ ہزار دنگو کی مار کو جھیلے ہے جسمے اپنوں کے ہی خون بہے ہیں غیروں کا کچھ نہیں بگدا ہے. کہنے کو یکتا اکھندتا اور دنیا کا سبسے بڑا جمہوری اور سیکولر ملک کو کسی کی نہیں بلکے خود ہماری نظر لگ گی ہی ہے. ہم جتنے پڑھ لکھ گئے ہیں اتنے ہو نسلی، مسلکی و مذہبی امتیازی سلوک کے جاتے ہیں. ہم ایک طرف تو چند اور مریخ پر جانے اور بسنے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف ہم اپنو کے دل مے مے بھی نہیں بس پے ہیں. یا جگہ نہیں بنا پے ہیں. کدوی سچچآیی یہ بھی ہے کے ہند کی تاریخ میں بدی آزادی سیاست کی بگ ڈوڈ لاشوں پر ہی سمبھالی گی ہے. ہر قصہ کرسی کا ہے ہر کھل ستا کا ہے. ہم کہاں آزاد کل انگریز ہم پر قابض تھے اور آج کمنل سوچ. اور سچ تو یہ ہے کے انگریز کی تھورے پھوٹ ڈالو اور راج کرو، بس یہی سیکھا ہے سیاسی ہے تنظیموں نے. فرق صرف اتنا ہے کل ہم انگریزوں کے ہتھے چڑھے تھے اور آج سیاستدانو کے یا ان بھگوا تنظیموں کے جو منہ پر رام رام کا نارا اور بغل میں چھری لئے پھرتے ہیں. ہمیں شرم آنی چاہے کے جوں جوں ہم تعلیم یافتہ ہو رہر ہیں توں توں ہم جاہلانہ رسمو رواج اور حرکتو سکنات کرتے ہیں. ہمارے پاس کہنے کو سب کچھ تو ہے مگر بھی چارگی، یکتا، اکھندتا، ایک دوجے کے لئے دل میں عزت و پاس، اور یہ کے ذہنی سکون و آرام نہیں ہے ہمارے پاس. اور ان سب کے ہم خود زممدار ہیں. نہ کے کوئی اور.
لگ بھگ ٨٠٠ دنگے ہر سال (تناسب کے لحاظ سے) بعد آزادی ابتک ٦٢ سالوں میں ٥٠ ہزار دنگوں کا ہونا یہی ثبوت فراہم کرتا ہے کے واقعی بھارت دنگوں کا دیش ہے نہ کے آستھاؤں کا دیش، بھکتوں کا دیش، علموں کا دیش، صوفیوں کا دیش، سنتوں کا دیش، اور سب سے بڑھ کر “ہمارا دیش”
جاوید اختر ، راشد جامہ نگر
نی دہلی
#9313007131
!مکرمی
آج کے ہر اخباروں نے جس طرح سرورق پر اپنے اپنے سرخیاں لگایں، سب یہی کہ رہے ہیں کی یہ اننا کی جیت ہے یر سرکار کی ہار ہے-
محترمی ، ایسا کہنا شاید سہی نہیں ہوگا، چنکی یہ کوئی جنگ نہیں اور نہ ہی رام لیلا میدان کوئی جنگے میدان تھا ، جو اننا اور انکے حامی جیت گئے بلکی ہار جیت کی بات نہیں ہے یہ، اسے بھی زیادہ ایک ام رے بن جانے کی تحریک کی بات ہے. می سمجھتا ہوں نہ کوئی ہارا ، نہ جیتا، ہاں صرف جیتا گیا اور جیتے ہم سبھی، جسمے سرکار بھی شامل ہے. یہ جیت صرف عوام کی نہیں بلکےیکتا کی ، اکھندتا کی اور یہ کے ایک وشواس کی جیت ہی ہے. ایسے میں ہمے صرف قا نون بنانے کی ہی نہیں بلکی اسے بھی کہی زیادہ خود شخسی طور پر اماندر ہونے کی زیادہ ضرورت ہے. ہمے اپنے گریبان مے جھانکنے کی ضرورت ہے کے آیا ہم کتنے ایماندار اور پاک صاف ہیں. اگر ہم رشوت دینا چھوڈ دن تو رشوت لیگا کون. بس ہمیں خود کے ذہن و دل سے بےایمانی دور کرنی چاہے، پھر جب ہم پہلے اپنے گھروں سے یہ نیک کام کا آغاز کردیں تو پھر اسکے لئے ہمیں آج خود سے ہی وعدہ لینا ہوگا اور خود کو دے ہوئے وعدے سے مکرنا نہیں ہوگا. تو وو دیں دور نہیں جب ایک مہزب اور پاک صاف معاشرہ کی تشکیل ہو پیگی بلکی ہمی جینے کا انداز بھی مل جایگا-
Muslims are divided in three group in India. First group of Muslim so rich and educated and this group does not bother about the rest of two groups Middle Class and lowest Class. Middle class of Muslims are fighting and struggling for the rights as well as rising their status in societies and progress but lower class Muslims are under the influence of the religious leader, They left their life on …the God. They are illiterate and they do not want to change their life. They believe blindly on the God. Because the religious leader says, you are live in this world on the mercy of the God. Without the direction of the God, No single leaf move here and there. I also believe this idea, but I also believed in hard work and those Muslims understand the both views. They would achieve both worlds i.e. Jannat and present life in the world. But those Muslims are running behind the Jannat and ignoring the present life in the world, they always living in miserable conditions
چوتھے دنیا قابل مبارک باد کام انجام دے رہی ہے تمام قارئین اردو اس کی شکر گزار ہیں کی اس نے اردو تحریک کے قائد شمیم احمد کے عزائم کو انٹرویو کی شکل میں شائع کیا
میں خود ایک صحافی اور قلمکار ہوں اور کئی اخبارات اور سائٹوں کے لئے لکھتا ہوں مگر آپ کی وئب سائٹ بہت ہی معلوماتی اور متاثر کن ہے ۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر سے ٹیم کے تمام ارکان تک سبھی باخبر لوگ نظر آتے ہیں اور وہ بھی تین زبانوں میں مواد شائع کرنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کو ایک مضمون کشمیر سے متعلق بھیجنا چاہتا ہوں مگر مجھے کہیں بھی آپ کا ای میل نہیں ملا اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہے
شکریہ الطاف ندوی کشمیری
urduintl@gmail.com