یہ ہم کس جانب بڑھ رہے ہیں؟

Share Article

سنتوش بھارتیہ
انیس سو سینتالیس میں آزادی ملی اور سن 50میں ملک کو اس کا آئین ملا اور ہندوستان جمہوریہ کہلایا۔ایک پوری نسل جو 45یا 50میں پیدا ہوئی اپنی جوانی گزار چکی اورمتوسط عمر پار کر کے بڑھاپے کی جانب جا رہی ہے۔ ملک کو ترقی کی جانب بڑھنا چاہئے تھا ،لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم کس جانب بڑھے ہیں۔
آخر کب سوچنے کا وقت آئے گا کہ ملک کو بنیادی ڈھانچہ کی ضرورت ہے، جس کا فیصلہ لینے کے لئے کسی نظریہ کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی کانگریس، سماجوادی اور کمیونسٹ ہوں یا دلت اور برہمن، ہندو ہوں یا مسلمان پینے کا پانی سبھی کو چاہئے۔ بغیر پانی پئے 24گھنٹے آدمی نہیں رہ سکتا۔ پینے کا پانی ختم ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب بارش کا پانی بے رحمی سے فصلوں اور گھروں کو تباہ کر کے انسانوں کی جان لے کر سمندر میں مل جاتا ہے۔منہ بھی سوکھا، کھیت بھی سوکھے، اس بات کی فکر نہ حکومت کو ہے اورنہ اپوزیشن کو ۔پانی کو ہارویسٹ کر نے کا کوئی منصوبہ ہماری ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔شہروں میں بالخصوص دہلی،ممبئی اور کولکاتہ میں دو گھنٹے کی بارش ہوتی ہے اور شہر تالاب میں بدل جاتے ہیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے اربوں روپے خرچ کر دئے سڑکیں بنانے میں ، لیکن پانی کی ترقی اور اس کو ہارویسٹ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنا پائے۔
دولت مشترکہ کھیلوں پر جتنا خرچ ہو رہا ہے اگر اتنا پیسہ ہندوستان میں پانی کو ہارویسٹ کرنے میں خرچ ہوتا تو پورا شمالی ہند پینے کے پانی کے مسئلہ سے نجات حاصل کر سکتا تھا۔آپ دولت مشترکہ کھیلوں پر یا ایسے ہی دوسرے کھانے کمانے والے منصوبہ پر خرچ کیجئے، لیکن عام آدمی کی زندگی سے وابستہ پانی کے مسئلہ کو اپنی اولین ترجیح تو بنایئے۔
کھیتوں میں آب پاشی کے لئے پانی زیادہ تر ہندوستان میں فراہم نہیں ہے۔آبپاشی کا محفوظ منصوبہ بنانا بھی ہندوستان کے سیاستدانوں ،حکومت اور اپوزیشن دونوں کو نہیں آتا۔دیہی علاقوں میں صنعتی کام کاج اور بازار بڑھیں یہ سوچنا تو ان لوگوں کی سمجھ کے باہر ہے۔ شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ پانی، سڑک ، صفائی ،مکان مثال کے لئے اگر ایک لاکھ کے لئے بنائے گئے تھے تو آج ان کا استعمال ایک کروڑ سے زیادہ لوگ کر رہے ہیں۔ اگر آبادی کا بوجھ اسی طرح بڑھا تو شہر لوٹ، جرائم، قتل اور نشیلی اشیاء کے اڈہ میں تبدیل ہو جائیں گے۔
دیہی علاقوں کو قصبوں سے اور قصبوں کو اضلاع سے جوڑنے والی سڑکیں ندارد ہیں۔ جہاں بنائی گئی ہیں وہاں پہلی بارش میں ہی گڈھوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ چونکہ ٹرانسپورٹ کرنے کے وسائل نہیں ہیں ۔ اس لئے پیداوار یا تو برباد ہوتی ہے یاسستے داموں میں منافع خوروں کے پاس پہنچ جاتی ہے۔
بجلی کی پیداوار بڑھنے کی جگہ کم ہو رہی ہے ۔بجلی گھروں کی پیداواری اہلیت صرف35فیصد رہ گئی ہے۔نہ ان کی تجدیدکاری کا منصوبہ ہے اور نہ پیداوار میں اضافہ کا منصوبہ۔جو بجلی تقسیم ہوتی ہے اس میں بھی 15سے 20فیصد چوری ہو جاتی ہے اور بڑی صنعتیں بجلی کا پیسہ نہیں دیتیں۔بجلی پروجیکٹ پچھلے 20سالوں سے صرف ایم او یو یا مفاہمت ناموں تک ہی رہ گئے ہیں۔اسپتال اور اسکولوں کی بات کرنا تو بیکار ہے، کیوںکہ اس شعبہ میں اب بڑے پیسے والے کود پڑے ہیں اور پانچ سال بعد اچھا علاج اور اچھی پڑھائی صرف 10سے 15فیصد تک کے لئے ہوگی، کیونکہ ان ہی کے پاس ان سہولیات کو خریدنے کی اہلیت ہے۔
اب تک نہیں کچھ ہوا یا نہیں کیا گیا،اسے بھول جانا چاہئے اور نئی شروعات کرنی چاہئے۔پینے کا پانی ، آبپاشی کے وسائل اور بجلی پر قومی اتفاق بناکر نئے سرے سے کام کرنا چاہئے۔قومی ترجیحات اسی طرح بنانی چاہئیں جس طرح دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے بنائی گئیں، لیکن اب لوٹ اور بدعنوانی پر لگام لگانی چاہئے، کیونکہ اگر پینے کا پانی، آبپاشی کا پانی اور بجلی فراہم نہیں ہوتی اور اس منصوبہ کا پیسہ بھی لٹیروں کی جیب میں جاتاہے تو جرائم میں ہی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ بے چینی بھی بڑھے گی۔ اس کی گرفت میں اب عام لوگوں کے ساتھ سیاستداں ،ٹھیکیدار اور افسر بھی آئیں گے۔
اس کے اشارے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔قانون کی تعمیل کرانے والی پولس پر اکثر الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں کہ وہی قانون توڑنے والوں کو نہ صرف تحفظ دیتی ہے بلکہ اب تو خود قانون توڑنے والی جماعت میں شامل ہوتی جا رہی ہے اس لئے اب لوگ کہیں بھی پولس کے لوگوں کو پکڑ کر زبردستی پیٹ دیتے ہیں۔ایسے مناظر ٹیلی ویژن پر دیکھ کر ان میں اضافہ کے اشارے ملنے لگے ہیں۔
پانی،ا ٓبپاشی اور بجلی کے پروجیکٹوں کی تیاری طے ہونی چاہئے۔ یہ ذمہ داری ضلع کے افسر سے لے کر وزیر تک کی ہونی چاہئے جو بھی منصوبہ کو پورا نہ کرپانے یا بدعنوانی میں شامل ملے اسے فوراً سزا ملنی چاہئے۔آج پانی کے حوالہ سے جو جھگڑے اور خون خرابے ہو رہے ہیں وہ سیاستدانوں کی بدولت سامنے نہیں آ رہے ہیں لیکن اگلے دوسالوں کے اندر یہ عوامی بے چینی اور فسادات کی اہم وجہ بنیں گے۔اسی کے درمیان سے نکلے گا پانی مافیا اور بجلی مافیا کا ایک گروہ جسے سیکورٹی کوئی سیاستداں دے گا۔
ہم کون ہیں جو وارننگ دیں لیکن وقت یقینا وارننگ دے رہا ہے ۔پانی اور بجلی کے مسئلہ سے اور پانی اور بجلی کی بدعنوانی سے پیدا شدہ بے چینی ،جمہوری اداروں کی طاقت جن میں اسمبلیاں اور لوک سبھا آتی ہیں کم کریں گی اور پھر ختم کردیں گی۔لوگوں کا اعتماد ٹوٹنے کا منظر نامہ تاناشاہی کے آنے کی ہلچل میں بدل جائے گا۔آج ملک چلانے والوں کو ڈر نہیں لگ رہا ہے لیکن کل جب یہ ڈریں گے تو ان کے پاس اپنی اصلاح کرنے کا وقت نہیں ہوگا اس لئے جو کرنا ہے انہیں آج ہی کرنا ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *