وسیم راشد 
میرے سامنے ایک پریس ریلیز رکھی ہوئی ہے جو کسی Love Commandos کی جانب سے آئی ہے۔ اس میں بڑی عجیب و غریب اپیل کی گئی ہے اور وہ پانچوں ریاستوں کے ووٹرس سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان ہی امیدواروں کو ووٹ دیا جائے جو محبت کی حمایت کرتے ہوں ،جو محبت کی شادی کی حمایت کرتے ہوں اور جو آنر کلنگ کی مخالفت کرتے ہوں اور اگر ان میں سے کوئی امیدوار محبت کا حامی نہیں ہے ،محبت کو سپورٹ نہیں کرتا ہے تو پھر NOTA یعنی کوئی نہیں کا بٹن دبا دیا جائے۔ان کمانڈوز نے پانچوں ریاستوں کے ووٹرس سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ امیدواروں سے سوال کیا جائے کہ آیا وہ اپنے علاقوں میں محبت کے متوالوں کا ساتھ دیں گے یانہیں ؟اس کے ساتھ ہی ان کمانڈوز نے ملک کے نوجوان ووٹرس سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسی سیاسی پارٹیوں سے دور رہیں جو ان کی باتوں کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔بلکہ انکا تو یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹیوں کے مینی فیسٹو میں یہ لکھا ہونا چاہئے کہ وہ محبت کی شادی کی حمایت کریں گے اور محبت کرنے والوں کا ساتھ دیںگے۔
یہ پریس ریلیز پڑھ کر نہ جانے کیوں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں سے متعلق بار بار آتی خبریں مجھے جھنجھوڑ رہی ہیں اور میرے دل میں یہ خیال آرہا ہے کہ اگر ہماری سبھی تنظیمیں جن کے بڑے بڑے قد آور رہنما جو اس انتخابی موسم میں سونیا، راہل ،سلمان خورشید، مودی ،ملائم ، اکھلیش ، نتیش اور دیگر لیڈروں کے ساتھ فوٹو کھینچوانے کے لئے دوڑ جاتے ہیں ۔کبھی مودی کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی کانگریس کی۔یہ سبھی اگر ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر سبھی سیاسی پارٹیوں سے کہیں کہ ہم اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں صرف ان کو ہی ووٹ دیں گے جن کے مینی فیسٹو میں یہ لکھا ہوگا کہ جو مسلم نوجوان بغیر کسی جرم کے جیلوں میں بے یارو مددگار پڑے ہوئے ہیں ،انہیں چھڑانے کے وہ پابند ہیں۔ یہ وضاحت مینو فیسٹو میں باقاعدہ ہونی چاہئے اور اگر یہ سیاسی پارٹیاںجیتنے کے بعد یہ وعدہ پورا نہیں کرتیں ہیں تو پھر لوک سبھا الیکشن میں ان سب کا بائیکاٹ کیا جائے۔یعنی پہلے اسمبلی الیکشن میں آزمایا جائے ۔
بے حد افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ کتنے نوجوانوں کا پتہ ہی نہیں ہے ان میں مہر عالم جس کو پٹنہ دھماکوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔مہر عالم کہاں گیا؟این آئی اے نے چھوڑا یا نہیں ؟یہ پتہ نہیں ہے۔ہمارے کچھ رپورٹرس کی اس کے گائوں والوں سے بات ہوئی تو انہوں نے یہی کہا کہ این آئی اے والے کہتے ہیں کہ اس کو بری کردیا گیا ہے مگر وہ ابھی تک گائوں نہیں پہنچا ہے۔مہر عالم کے والد اور بھائی کا کہناہے کہ این آئی اے کی طرف سے جاری نوٹ میں اس نے مہر عالم کی گرفتاری سے انکار کیا ہے ۔ کبھی این آئی اے کہتا ہے کہ مہر عالم ان کی حراست سے فرار ہوگیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے کڑے پہرے سے مہر عالم کیسے فرار ہوسکتا ہے اور پھر جب فرار ہوگیا تھا تو وہ کہاں گیا؟یہ بھی حیران کن ہے کہ مہر عالم کے گرفتار ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد اسے دوبارہ کانپور سے گرفتار کرنے کی خبر آئی تھی لیکن سیکورٹی ایجنسی کے ایک سینئر افسر کا بیان ہے کہ اس رات مہر عالم کو کانپور سے گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ اس قدر الجھ گیاہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر کیا معاملہ ہے۔’دینک جاگرن‘ کے نیلو رنجن کی مانیں توانہوں نے لکھا ہے کہ پٹنہ دھماکوں کی جانچ کر رہی آئی این اے کی گرفت سے فرار مہر عالم کی گرفتاری کی خبر جھوٹی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ نیلو رنجن کی اس بات میں بھی بہت دم ہے کہ اگر مہر عالم این آئی اے کے پاس گواہی کے لئے گیا تھا تو پھر وہ فرار کیوں ہوا؟ این آئی اے نے ایسی گتھی بنادی ہے جس کا سمجھنا مشکل نظر آرہا ہے۔
اسی طرح دارالعلوم دیوبند کے ایک طالب علم محمد وسیم شاہد کا قصہ ہے جسے بنارس ریلوے اسٹیشن سے 10 اکتوبر 2013 کو پولیس کی ایک ٹیم نے گرفتار کیا۔ وسیم دھنباد (جھارکھنڈ) کا رہنے والا ہے اور وہ بنارس اپنے شیخ مولانا احمد نصر سے ملنے جارہا تھا ۔جس وقت وسیم شاہد کو گرفتار کیا گیا اس سے ایسے ایسے بیہودہ سوالات کئے گئے اور بار بار یہ جتانے کی کوشش کی گئی کہ دارالعلوم دیوبند صرف دہشت گردی کا اڈہ ہے۔دیوبند کے کسی طالب علم کی گرفتاری کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔خالد مجاہد اور طارق قاسمی پر ’’چوتھی دنیا‘‘ میں باقاعدہ نمیش کمیشن کی پوری رپورٹ ہم نے شائع کی تھی اور بار بار یہ بتانے کی کوشش کی کہ خالد مجاہد کو مار ڈالا گیا اور طاارق قاسمی پر بھی دہشت گردی کے کئی کیس لگا دیے گئے۔
یہ سب اپنی جگہ ،اس کے علاوہ بھی 4 مسلم نوجوانوں کی اپیل ایک اخبار میں پڑھ کر یہ احساس ہوگیا کہ ہماے نوجوانوں کو اسی طرح پکڑ پکڑ کرجیلوں میں ڈال دیا جائے گا اور ہمارے رہنما اخبار کے ذریعہ صرف زبانی ہمدردی کریں گے۔ کسی چینل پرایک کھڑکی کھول کر اس میں بیٹھ جائیںگے اور فضول بکواس کرکے یہ ظاہر کریں گے کہ انہیں قوم کا کتنا درد ہے اور اگر زیادہ کریں گے تو پھر کسی لیڈر کے ساتھ مل کر بیان دے دیںگے ۔ ان نام نہاد رہنمائوں تک نینی سینٹرل جیل کی انڈا بیرک میں سڑ رہے ان چار نوجوانوں کی آواز بھی نہیں پہنچ پا رہی ہے جنہوں نے ایک خبار کے ذریعے اپنی بے بسی اور دل دہلانے والی روداد کو عوام تک پہنچایا ہے۔ یہ چاروں قیدی مولانا نسیم، شکیل احمد،محمد عزیز اور ڈاکٹر عرفان ہیں جنہوں نے دہائی دی ہے کہ انہیں بے گناہ جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔
یہ وقت مسلمانوں کے لئے بہت ہی اہم ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ان کے اتحاد کی طاقت بے گناہ نوجوانوں کی قسمت بد ل سکتی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب اپنے مطالبات سیاسی پارٹیوں سے منوائے جاسکتے ہیں۔ ہمارے مسلم نوجوانوں کے لئے اگر یہ پارٹیاں کچھ نہیں کرسکتیں تو پھر ان کو ووٹ دینے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔ ان کا مینی فیسٹو دیکھا جائے ۔ہمارے رہنما ان پارٹیوں کے لیڈروں سے سوال کریں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔
پھر میں کہوں گی کہ الگ الگ نہیں جیسے نیشلسٹ کانگریس پارٹی کے اقلیتی ڈپاٹمنٹ کی تشکیل نو میں بھی وہی ڈرامہ ہوا کہ پارٹی بے قصور مسلم نوجوانوں کی رہائی کی کوشش کرے گی۔ ارے یہ سب چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اور ان کے کارکنوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلہ حل ہوگا تبھی، جب بڑی بڑی تنظیمیں جیسے جمعیت علماء ہند سے مولانا ارشد مدنی، محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند سے مولانا جلال الدین عمری، آل انڈیا مجلس مشاورت کے سرپرست مولانا سالم قاسمی ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری مولاناولی رحمانی، ، اتحاد المسلمین ، جمعیت اہل حدیث وغیرہ کے ذمہ داران اور اسی طرح جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری،مسجد فتح پوری کے امام مفتی مکرم وغیرہ اگر ایک ساتھ مل کر کھڑے ہوجائیں تو حکومت کو ہلا کر رکھ دیںگے اور سبھی پارٹیوں کو یہ احساس ہوجائے گا کہ ہمیں اپنے منشور میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا وعدہ کرنا ہی ہوگا۔
مولانا ولی رحمانی نے ایک بیان دیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ذہنی طور پر مفلوج کردیاگیا ہے اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صرف اپنی ذات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ایک فرد بھی زمینی سطح پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مولانا صاحب کا یہ بیان صحیح تو ہے مگر اس میں بے چارگی کیوں؟صرف سمینار میں بولنے سے یہ سب مسائل حل نہیں ہوںگے ۔ ایک بڑے رہنما کو سامنے آکر سب کو جمع کرنا چاہئے اور پھر مسلمانوں کے مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔الیکشن میں انہیں کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں ، ان کی رہنمائی کرنا چاہئے اور مینی فیسٹو میں نوجوانوں کی رہائی کو ضرور شامل کروانا چاہئے۔باقی بھروسہ تو کسی کا بھی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لئے ان سب پارٹیوں کے وعدے زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ سب رنگِ سیار ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here