یوپی کے نتائج بہار کی سیاست پر اثرات؟

Share Article

damiارشاد الحق
اتر پردیش میں بی جے پی کی تاریخی جیت کے بعد بہار کی سیاست میں ابال آگیا ہے۔اچانک بیان بازیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔ ابتدا راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر رگھوونش پرساد نے کی۔ انہوں نے نتیش کمار پر ہلہ بولتے ہوئے کہہ ڈالا کہ نوٹ بندی کی حمایت اور یو پی انتخابات پر نتیش کی خاموشی سے وہاں گٹھ بندھن کو نقصان پہنچا۔ رگھو ونش کا اتنا کہنا تھا کہ جیسے بہار میں سیاسی ابال سا آگیا۔ ایسا لگنے لگا کہ یوپی اور اترا کھنڈ میں بی جے پی کی جیت کے بعد بہار ہی اکھاڑہ بن گیا ہے۔ رگھو ونش کے اس بیان پر جنتا دل یو کے دو ترجمانوں نیرج کمار اور سنجے سنگھ نے کہرام مچا دیا۔ نیرج نے سیدھے لالو پرساد سے سوال کر دیا کہ کیا وہ دوبارہ بہار میں جنگل راج لانا چاہتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ جنتا دل یو اس کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔اس سے پہلے کہ ان بیان بازیوں پر راشٹریہ جنتا دل کی طرف سے کوئی ریمارکس آتا۔نیرج کے بیان پر راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر رگھو ونش پرساد نے کہا کہ ان کے لیڈر لالو پرساد کا اشارہ ہو تو وہ ایسے لوگوں (نیرج کی طرف اشارہ ) کا غبار جھاڑ دیں گے۔ معاملہ بگڑتا دیکھ کر راشٹریہ جنتاد دل کی لیڈر رابڑی دیوی نے رگھو ونش پرساد کے بیان کو پھوہڑ بتایا ۔ اس کے بعد نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے بھی کہا کہ اگر رگھو ونش پرساد ایسے بیان دیتے رہیں گے تو وہ راشٹریہ جنتا دل صدر لالو پرساد سے ان کے خلاف کارروائی کی مانگ کریں گے۔
رگھوونش کی طرف سے گٹھ بندھن کے خلاف بیان بازی کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں تھی۔ سوا سال کی نئی سرکار کی تشکیل کے بعد رگھو ونش نے کم سے کم نصف درجن مرتبہ سیدھے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نشانے پر لیا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب بیانوں میں اس طرح کی تلخی آئی ہے۔ اتنا ہی نہیں،یہ پہلا موقع ہے جب رابڑی دیوی جیسی سینئر لیڈر نے رگھو ونش کے بیان کو پھوہڑ بتایا تو نائب وزیراعلیٰ نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کی۔ رگھو ونش سے شروع ہونے والے تمام متنازع بیانوں میں ایک بات عام طور پر دیکھی جاتی ہے کہ لالو پرساد ایسے موقعوں پر زیادہ تر خاموش ہی رہتے ہیں۔ معاملہ طول پکڑنے پر ہی وہ کودتے ہیں اور زخم پر مرہم لگا کر امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان بیان بازیوں کا فوری اثر یہ ہوتاہے کہ اپوزیشن پارٹی بی جے پی گٹھ بندھن کی اس کمزوری کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔
گٹھ بندھن سرکار کے اندر دیگر تنازعات اور یوپی انتخابی نتائج سے پیدا ہونے والی حالت کے بعد کے تنازعات میں فرق ہے۔ گٹھ بندھن سرکار اور خاص طور پر لالو خیمہ بی جے پی کی جیت کے بعد کچھ زیادہ ہی متاثر ہے۔ رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کا رگھو ونش کے خلاف سخت بیان ایک طرح سے اشارہ ہے کہ وہ راشٹریہ جنتا دل یو گٹھ بندھن کو اور نقصان نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ریمارکس رگھو ونش کے سابق بیانوں کو جنتا دل یو پر اپنے دبائو بنائے رکھنے کی پالیسی کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ لیکن یوپی کے نتائج نے راشٹریہ جنتا دل کو یہ احساس دلایا ہے کہ اب اتحادی جنتا دل یو سے الجھنے کے بجائے ایک ہونے کی ضرورت ہے۔
لالو پرساد نے یوپی کے کئی اسمبلی حلقوں میں انتخابی تشہیر کی اور بار بار جیت کا دعویٰ کیا تھا۔ وہاں کے نتائج پر لالو کا فکر مند ہونا فطری ہے۔ انہوں نے تو یہاںتک کہہ ڈالا تھاکہ 11 مارچ کے بعد یعنی رزلٹ آنے پر فرقہ وارانہ طاقتوں کا ہولیکا دہن کریںگے۔رزلٹ اپنے حق میں نہیں آنے پر ہولی کے دن لالوپرساد یادو کی رہائش گاہ پر سناٹا چھایا رہا۔ وہیں بی جے پی کے لوگوں نے راجدھانی پٹنہ میں جشن منایا اور راشٹریہ جنتا دل خیمے میں پھیلے سناٹے پر طنز بھی کیا۔ بی جے پی کا یہ طنز ایک طرح سے بہار میں ان کی ہار کی سرگرمی کے طور پر مانا گیا جسے وہ یوپی میں اپنی جیت کے ذریعہ ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
یو پی اور اترا کھنڈ میں جیت کے بعد یہ بہار کی سیاست پر پڑنے والا فوری اثر تھا، جو تیکھی بیان بازیوں کی شکل میں سامنے آیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یو پی اتراکھنڈ کی جیت کے دور رس اثرات کیا ہوںگے؟سرسری طور پر دیکھیں تو یو پی کی جیت نے بی جے پی میں ایک نیا جوش بھر دیا ہے، جسے وہ آنے والے دنوں تک بنائے رکھنا چاہے گی۔ یقینا اس جیت سے بی جے پی کا حوصلہ بڑھا ہے ، وہیں راشٹریہ جنتا دل کانگریس گٹھ بندھن کو کچھ اہم سبق بھی ملے ہیں۔
بی جے پی خیمے سے الگ ہونے کے بعد نتیش کمار کی سیاست، سماج وادی اور مذہبی غیر جانبدار پالیسی کے راستے پر ہی آگے بڑھی ہے ۔ایسے میں لالو- نتیش کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ گٹھ بندھن کے بہار ماڈل کی توسیع کریں۔ اس توسیع میں یوپی سے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی تو مغربی بنگال سے ترنمول کانگریس کو اتحادی بنائے جانے کی سمت میںیہ لیڈر پہل کر سکتے ہیں۔ حالانکہ اس ایشو پر اب تک نہ تو لالو پرساد نے کچھ کہا ہے اور نہ ہی نتیش کمار نے، لیکن اس کا اثر اتر پردیش میں ضرور ہونے والا ہے۔ وہاں سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی اور کانگریس کی بڑی شکست نے ان تینوں پارٹیوں کو احساس کرا دیا ہے کہ اب بی جے پی سے لڑنے کے لئے انہیں ایک ساتھ آنا ہی ہوگا۔ وہاں بی جے پی کی دھماکے دار جیت نے غیر بی جے پی پارٹیوں کے لئے امید کی ایک کرن باقی رکھی ہے کہ ہار کے باجوود ان تینوں پارٹیوں کا ووٹ فیصد بی جے پی سے زیادہ ہے۔ ایسے میں سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی کے سامنے یہی متبادل بچا ہے۔ ادھر بہار میں جس طرح سے بی ے پی میں جوش ہے، اس سے راشٹریہ جنتا دل ، جنتا دل یو اور کانگریس کے کان کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس لئے اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ بہار کے گٹھ بندھن کو توسیع دی جائے گی۔
2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کچھ اور ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں۔ ان میں گجرات بھی شامل ہے۔ گجرات چونکہ نریندر مودی کا نہ صرف گڑھ ہے ، بلکہ مودی ماڈل کی پالیسی کی لیبارٹری بھی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ڈیڑھ دہائی سے وہاں بی جے پی حکومت میں بھی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے لئے گجرات کی جنگ جیتنا ،ان کے کارکنوں کے حوصلہ کو بچائے رکھنے کے لئے ضروری ہو گیا ہے۔ ویسے تو گجرات کی پالیسی میں لالو پرساد اور نتیش کمار کی کوئی سیدھی مداخلت نہیں ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ گجرات کے پٹیل آندولن کے لیڈر اُرجیت پٹیل نتیش کمار سے کافی امیدیں لگائے ہیں۔ اُرجیت پٹیل وہا ں کورمیوں کے ایک ابھرتے لیڈر ہیں۔ اس لحاظ سے نتیش کمار کے تئیں ان کی قدرتی توجہ ہے ۔اُرجیت نے کچھ مہینے پہلے باضابطہ طورپر پٹنہ آکر نتیش کمار سے ملاقات بھی کی ہے۔ ایسے میں ممکن ہے کہ لالو پرساد بھی چاہیں گے کہ نتیش کمار گجرات کے پٹیل آندولن کی حمایت کریں اور وہاں جاکر بی جے پی مخالف سیاست کو مضبوط کریں۔ ادھر اترا کھنڈ اور منی پور اقتدار گنوا چکی کانگریس کے لئے بھی اتر پردیش زندگی و موت کا سوال بنے گا۔لہٰذا کانگریس چاہے گی کہ اُرجیت پٹیل کو سادھنے کے لئے وہ نتیش کا سہارا لیں۔ ایسے میں راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس دونوں کے لئے گجرات انتخاب کے مد نظر ، نتیش کمار کی اہمیت بڑھے گی۔ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اتر پردیش انتخاب کے دوران نتیش کمار ایک دم غیر فعال ہو گئے تھے۔ حالانکہ انتخابات سے پہلے انہوں نے یو پی میں اپنی پارٹی کے لئے لگاتار کئی ریلیاں کی تھیں،لیکن انتخاب آتے ہی ان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ جنتا دل یو وہاں انتخاب نہیں لڑے گا۔ حالانکہ جنتا دل یو نے اپنے لیڈر کے سی تیاگی سے یہ اعلان کرواتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے گٹھ بندھن کرتے وقت ، جنتا دل یو کو اپنا اتحادی نہیں بتایا ۔ اس کے باوجود یہ ینہں بھولنا چاہئے کہ یوپی انتخابی نتائج نے تمام علاقائی پارٹیوں کو فکرمند کردیا ہے۔ انہیں احسا س ہوچکاہے کہ بی جے پی کی توسیع سے جہاں کانگریس کے جود کو خطرہ ہے، وہیں علاقائی سیاسی پارٹیوں پر بحران کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ایسے میں بہار کو بچانے کے لئے راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل یو کو گجرات کے راستے آگے بڑھنا ہی ہوگا۔ انہیں پتہ چل چکا ہے کہ 2019 میں مودی کے طوفان کو روکنے کے لئے سب سے پہلے گجرات ماڈل کو شکست دینا ہوگا۔ اگر گجرات میں بی جے پی ہاری تو 2019 میں دہلی بچ سکے گی اور تب ہی 2020 میں بہار کو بچایا جاسکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *