یوم شہدا ء کے ساتھ یومِ ہری سنگھ کا جواز؟

Share Article

damiایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے جموں کشمیر میں اپنی اتحادی جماعت پی ڈی پی کوعوام کی نظروں میں رُسوا کر کے چھوڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔31جنوری کو اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے صرف اتنا کہا تھاکہ’’ دفعہ370کو ختم کرنے والے ملک دُشمن کہلائے جاسکتے ہیں۔‘‘بس اتنی سی بات پر بی جے پی نے بھرے ایوان میں اپنی اتحادی جماعت کے ساتھ مکمل اختلاف رائے کا اظہار کیا ۔ صورتحال اُس وقت مضحکہ خیز ہوگئی ،جب اسمبلی سپیکر کیوندر گپتا( جو بی جے پی کے رُکن ہیں ) نے وزیر اعلیٰ کے ریمارکس کو حذف کرنے کا حکم دیا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اسمبلی میں قائد ایوان کے کسی بیان کو حذف کیا گیا ہو۔اتحادی جماعتوں کی اس رسہ کشی کا اپوزیشن نے خوف فائدہ اٹھایا ۔ حزب اختلاف کے ممبران نے مسلسل دو دن دتک ایوان میں اس قدر ہنگامہ آرائی کی کہ اسمبلی اجلاس کو چھ دن قبل ہی ملتوی کیا گیا۔
اسمبلی قرارد داد
فی الوقت وادی کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر قوی ہورہا ہے کہ پی ڈی پی صرف اقتدار کو بحال رکھنے کے لئے بی جے پی کے سارے ناز نخرے برداشت کررہی ہے۔ مبصرین کی غالب اکثریت کا ماننا ہے کہ مخلوط سرکار کے قیام کے بعد ہی بی جے پی جموں کشمیر میں اپنے سیاسی ایجنڈے کو عمل میں لانے کی کامیاب کوشش کررہی ہے ۔جبکہ اس کے برعکس پی ڈی پی ہر معاملے میں بی جے پی کے سامنے سرینڈر کرتی نظر کرتی آرہی ہے۔ اسکی تازہ مثال 25جنوری کو اُس وقت دیکھنے کو ملی جب مہاراجہ ہری سنگھ کے پوتے اجات شترو، جو بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں، نے ایوان میں ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انکے دادا مہاراجہ ہری سنگھ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انکے یوم پیدائش کو سرکاری طور منانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔قرار داد میں کہا گیا کہ’’ ریاست جموں کشمیر کے تئیں مہاراجہ ہری سنگھ کے کنٹروبیوشن کے اعتراف میں ہر سال انکے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل منائی جانی چاہیے۔‘‘بھاجپا اراکین نے تو اجات شترو کی قرار داد کی حمائت کی ہی لیکن پی ڈی پی نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دے کر اسے پاس کرنے میں مدد کی۔ اب ہر سال 23ستمبر یعنی مہاراجہ ہری سنگھ جو کشمیر پر ایک سو سال تک حکومت کرنے والے ڈوگرہ حکمران خاندان کے آخری راجہ تھے ،کے جنم دن پرجموں کشمیر میں سرکاری تعطیل ہوگی۔
لیکن 70سال میں پہلی بار رونما ہونے والے اس واقعہ کے نتیجے میں فی الوقت ریاست کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ قرار داد کو حمائت دینے والی پی ڈی پی مہاراجہ ہری سنگھ کو ایک حق پرست راجہ تصور کرتی ہے یا ایک مطلق العنان حکمران۔کیونکہ پی ڈی پی بھی دوسری ریاستی پارٹیوں کی طرح ڈوگرہ دور حکمرانی کو مطلق العنانیت کا دور تصور کرتی رہی ہے۔ ریاست میں ہر سال 13جولائی کو سرکاری طور پر ’’یوم شہدائے کشمیر ‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری چھٹی ہوتی ہے اور وزیر اعلیٰ اپنے کابینہ اراکین کے ہمراہ مزار شہدا پر جاکر اُن 22شہداء کی قبروں پر پھول چڑھاتے ہیں ، جنہیں 13جولائی 1931ء کوسرینگر میں مہاراجہ کی فوج نے گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ مہاراجہ کے خلاف عوامی بغاوت کی قیادت نیشنل کانفرنس کے بانی رہنما شیخ محمد عبداللہ نے کی ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی جماعتوں کا اب تک یہی موقف رہا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت دراصل’’ جدوجہد آزادی‘‘ تھی اور اس میں مارے جانے والے لوگ شہید ہیں۔ان پارٹیوں کاموقف ہے کہ اس ’’جدوجہد آزادی ‘‘ کے نتیجے میں ہی 1947ء میں مہاراجہ کی حکمرانی ختم ہوئی اور ریاست آزاد ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 70سال میں کبھی بھی کسی نے مہاراجہ ہری سنگھ کی یاد میں کوئی دن منانے کی بات یا اس کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین بی جے پی کی قرار داد پیش کرنے پر حیران نہیں ہیں لیکن وہ اس قرار داد کوپی ڈی پی کے تمام اور نیشنل کانفرنس کے بعض اراکین کی حمائت پر دم بخود ہیں۔ سرکردہ سماجی کارکن اور سیاسی مبصر ظریف احمد ظریف نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ اب تو ہمیںیہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قاتل کون ہے اور مقتول کون؟ایک جانب پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس مہاراجہ ہری سنگھ کے دور حکومت کو کشمیریوں کی غلامی کا دور قرار دے رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو مہاراجہ کا یوم پیدائش منانے کا کیا جواز ہے۔ بی جے پی تو بہرحال اپنے ایجنڈے پر کام کررہی ہے لیکن پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ پی ڈی پی نے تو اقتدار کو بحال رکھنے کے لئے ہر معاملے میں بی جے پی کے سامنے سرینڈر کیا ہے۔‘‘
بی جے پی ایجنڈا
گزشتہ دو سال کے حالات و واقعات کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مارچ 2015میں بی جے پی جموں کشمیر میں پہلی بار اقتدار کے گلیاروں تک پہنچنے کے فوراً بعد ریاست میں اپنے سیاسی ایجنڈے کو عملانے کے مشن پر لگ گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی ایک جانب اپنے ایجنڈے کو عملارہی ہے اور دوسری جانب پی ڈی پی کو ڈکٹیٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔صحافی طارق علی میر کہتے ہیں،’’پی ڈی پی نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھاکہ بر سر اقتدار آتے ہی یہ وہ کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو رہا کرائے گی۔ لیکن بی جے پی کے دبائو کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکی۔ اس نے کہا تھا کہ نیشنل ہائیڈرل پاور کارپوریشن آف انڈیا( این ایچ پی سی )تحویل میں ریاست کے پائور پروجیکٹوں کے مالکانہ حقوق ریاست کو واپس دلائے جائیں گے لیکن اب تو پی ڈی پی نے یہ مطالبہ ہی ترک کردیا۔ اسی طرح کالے قوانین کو ختم کرنے، حریت اور نئی دلی کے درمیان مذاکرات کرانے جیسے وپی ڈی پی کے وعدے بھی سراب ہی ثابت ہوئے۔ اس کے برعکس بی جے پی اپنے ایجنڈے کو شدو مد کے ساتھ عملا رہی ہے۔یہ بی جے پی کا ہی دل گردہ ہے کہ 70بعد ریاست میں مہاراجہ ہری سنگھ کے نام سے منسوب دن منانے کی شروعات ہوچکی ہے۔ کچھ عجب نہیں کی اسی حکومت میں بی جے پی دفعہ 370کو ختم کرنے کے لئے باضابطہ اقدامات شروع کرائے گی اور پی ڈی پی اس کے خلاف محض زبانی جمع خرچ کرتے ہوئے ، محض اقتدار کو قائم رکھنے کی لالچ میں بھاجپا کا ساتھ دے گی کیونکہ گزشتہ دو سال کے دوران یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔ پی ڈی پی اپنی اتحادی جماعت سے کس قدر خوف زدہ ہے اس کا اندازہ اُس وقت بھی ہوا تھا جب وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے ایک حکم نامہ کے ذریعے وزراء کو ہدایت دی تھی وہ آئین کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے قومی پرچم کے ساتھ ساتھ ریاستی پرچم کی بھی یکساں عزت کریں۔ لیکن بی جے پی انہیں اس شدت کے ساتھ جھاڑ پلائی کہ مفتی کو اپنا یہ حکم نامہ صرف 24گھنٹے میں واپس لینا پڑا۔‘‘
اس ساری صورتحال کے تناظر میں سوال پیدا ہوتا ہے آخر پی ڈی پی کس حد تک بی جے پی کے ایجنڈے کو عمل میں لانے میں اس کا ساتھ دے گی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب ایوان میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی جانب سے دفعہ 370پر دیے گئے بیان کی مخالفت کی تو جواب میں پی ڈی پی بھی ایک واضح موقف کے ساتھ سامنے آجاتی۔اسی طرح جب بی جے پی نے مہاراجہ ہری سنگھ کا یوم پیدائش سرکاری طور پر منانے کامطالبہ کیا تو پی ڈی پی اسکے جواب میں اپنا روایتی موقف دہراتے ہوئے بی جے پی کو بتاتی کہ ریاست میں بیک وقت ’’یوم شہدائے کشمیر ‘‘ اور ’’یوم مہاراجہ ‘‘ نہیں منایا جاسکتا۔ لیکن پی ڈی پی بھگی بلی کی مانند خامو ش ہے ۔ اگر پی ڈی پی یہ سب کچھ صرف اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کے لئے کررہی ہے، تب بھی سوال یہ ہے کہ اس حکومت کے خاتمے پر پی ڈی پی دوبارہ اپنے رائے دہندگان کے پاس کون سا منہ لیکر جائے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *