یوروپ میں اردو کی اہمیت کا اعتراف

Share Article

damiزبان کوئی بھی ہو،اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر زبان سہل اور عام فہم ہوتو پھر کیا کہنا۔ آج دنیا میں جو زبانیں آسان ہیں وہ تیزی سے ترقی کررہی ہیں ۔مثال کے طورپر اردو اور انگریزی کو لیا جاتا ہے ۔یہ دونوں زبانیں ایسی ہیں جس کے بولنے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔جہاں تک انگریزی کی بات ہے تو یہ زبان تو عالمی سطح پر متعارف ہے اور ہر جگہ بولی جاتی ہے ۔ اسی طرح اردو زبان بھی عرب ممالک سے لے کر یوروپ کے بہت سے ملکوں میں بولی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کے دانشور اردو زبان کو سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔برطانیہ میں واقع کیمرِج یونیورسٹی کی پروفیسر وینڈی آئیرز بینٹ کا کہنا ہے کہ مختلف ثقافت کے لوگوں کے درمیان سماجی انضمام ایک دو طرفہ عمل ہے جس کے لیے مقامی باشندوں کو چاہیے کہ وہ اردو سمیت دیگر تارکینِ وطن کی زبانیں سیکھنے کی کوشش کریں۔ساتھ ہی تارکینِ وطن کو بھی چاہیے کہ وہ انگریزی سیکھیں۔یہ بات انہوں نے سماجی انضمام سے متعلق ڈیم لوئز کیسی اور کل جماعتی پارلیمانی گروپ کی مرتب کردہ دو رپورٹس کی اشاعت کے بعد کہی۔ ان رپورٹوں میں تارکین وطن کے لیے انگریزی میں استعداد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔پروفیسر وینڈی آئیرز بینٹ کیمرِج یونیورسٹی میں لِسانیات کی استاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سماجی انضمام کے لیے جہاں تارکین وطن کا انگریزی سیکھنا ضروری ہے، وہیں یہاں کے شہریوں کو اردو، پنجابی اور پولِش جیسی زبانوں کی جانکاری بھی ہونی چاہیے۔پروفیسر بینٹ کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں انگریزی کے ساتھ دوسری زبانوں کے بولنے والی کی بڑی تعداد آباد ہے، وہاں ان زبانوں کے سیکھنے سے ایک دوسرے سے قربت کا احساس اور ثقافت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔
وینڈی آئیرز بینٹ کے بیان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو کو عالمی سطح پر قبول کیا جاتا ہے اور اردو والوں سے رابطہ کے لئے انگریزی داں کو چاہئے کہ اردو زبان کو سیکھیں۔ وہیں اردو والوں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ انگریزی زبان کو سیکھیں۔ کیونکہ اگر ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتے ہیں تو ایسی صورت میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں دشواری ہوگی۔بلکہ معاملات کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوگی ۔
ابھی حال ہی میں برطانیہ نے غیر ملکیوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ جلد سے جلد انگریزی زبان سیکھ لیں تاکہ وہاں کی تہذیب و ثقافت اور معاملات کرنے میں انہیں دشواری نہ ہو۔ حکومت نے تو یہاں تک اعلان کیا تھا کہ انگریزی نہیں تو ملازمت نہیں۔برطانیہ حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ افراد جو روانی سے انگریزی زبان نہیں بول سکتے ہیں،انہیں ایسی ملازمتیں کرنے سے روک دیا جائے گا جہاں براہِ راست عوام کا سامنا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) اور مقامی حکومتوں میں صرف ایسے افراد ہی نوکری کر سکیں گے جن کو انگریزی زبان بولنی آتی ہو گی۔یہی نہیں مینیجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ دیکھیں کہ ملازمین ’موثر انداز میں لوگوں سے بات چیت کر سکتے ہیں یا نہیں۔اس سلسلے میں کابینہ کے وزیر میٹ ہینکاکا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف معاملات میں بہتری لانے بلکہ امیگریشن کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
نئے قواعد کے تحت جو سرکاری امیگریشن پالیسی کا حصہ ہوں گے، سرکاری محکمے کا ہر وہ کارکن جسے اپنی ملازمت میں ’عوام سے بات کرنا ہوگی‘، اس کے لیے اسکول کی سطح کی انگریزی زبان بولنا ضروری ہوگا۔اس میں پولیس کے افسران، سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے کارکن، تدریس کے پیشے سے وابستہ عملہ اور ان کے معاونین اور کونسل کے ملازمین شامل ہوں گے۔قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے پہلے سے ہی اچھی انگریزی زبان بولنا ضروری ہے اور جنرل میڈیکل کونسل ان کا امتحان لیتی ہے۔
صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد کے روانی سے انگریزی نہ بول سکنے کا معاملہ اس وقت بہت نمایاں ہوا تھا جب 2008 میں جرمنی کے ایک ڈاکٹر سے غلطی ہوئی تھی ۔انہون نے ایک مریض کو خطرناک مقدار کا پین کیلر ٹیکہ لگا دیا تھا۔اس وقت یورپی شہری کی حیثیت سے ڈاکٹر انگریزی زبان کا امتحان پاس کیے بغیر برطانیہ میں کام کر سکتے تھے۔ لیکن گزشتہ سال جون میں قاعدے اور قوانین تبدیل کر دیے گئے۔مسٹر ہینکاک کے مطابق ’ہم تمام محنتی افراد کے فائدے کے لیے امیگریشن کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے ہی یہاں آ کر کام کرنے والوں کے لیے زبان سے متعلق سخت شرائط متعارف کرا دی ہیں۔ اب ہم امیگریشن بل میں نئے قوانین لائیں گے تاکہ وزیرِ اعظم نے آگے بڑھنے کے لیے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے ہو سکیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جب ہم دوسری زبان سیکھتے ہیں تو ایسی صورت میں ہمیں اس زبان کی تہذیب و ثقافت کے علاوہ معاملات کو انجام دینے میں بھی سہولت ہوتی ہے ۔لیکن اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ہم محض انگریزی کو عالمی زبان سمجھ کر صرف اس پر اس طرح تکیہ کرلیں کے اپنی علاقائی زبان کو سرے سے خارج کردیں۔ جیسا کہ ملک کی مشہور تنظیم آر ایس ایس کا بھی یہی کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم دینے کے لئے انگریزی کو لازمی قرار دیئے جانے کے بجائے قومی زبان کی بھی گنجائش ہونی چاہئے۔ ابھی حال ہی میں حکومت نے میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے اعلیٰ تعلیم کو انگریزی کے ساتھ مشروط کرنے کی بات کہی ہے۔ اس پر رد عمل دیتے ہوئے آر ایس ایس کی طرف سے یہ بیان آیا تھا۔
بہر کیف اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ قومی زبان کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے ۔لیکن اس وجہ سے کسی اور زبان کو نظر انداز کردینا بھی مناسب سوچ نہیں ہے۔ اس طرح کی سوچ جو کہ ہمارے ملک میں آر ایس ایس کی ہے، وہی سوچ چینی حکومت کی ہے۔جیساکہ چین کی حکومت نے بھی اس بات کا اظہار کیا ہے کہ چینی زبان میں انگریزی اصطلاحات کے استعمال سے گریز کیا جائے۔بلکہ کچھ شعبوں میں انگریزی کے استعمال پر بالکل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ چنانچہ ملکی ذرائع ابلاغ میں غیر ملکی زبان خصوصاً انگریزی زبان کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اس پابندی میں اخبارات، ویب سائٹ، اور اشاعت کے دوسرے ادارے شامل ہیں۔حکومت کا کہناہے کہ غیر ملکی الفاظ کی ملاوٹ چینی زبان کے خالص پن کو آلودہ کرتی ہے۔
دراصل چینی ایک قدیم زبان ہے جس کی طویل اور بھر پور تاریخ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی الفاظ کا استعمال ایک درست اور معیاری طریقہ ہے، پریس اور دوسرے اشاعتی اداروں کو غیر ملکی زبانوں کے مختصر الفاظ اور ’ چینگلش‘ سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چینگلش انگریزی اور چینی زبان ملا کر بنائی گئی ہے۔اس حکم کا اطلاق ریڈیو اور ٹیلی وثرن پر بھی ہوگا، جہاں انگریزی الفاظ کی بھر مار ہوتی ہے۔سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کہیں غیر ملکی زبان کا استعمال کرنا بہت ہی ضروری ہو تو چینی زبان میں اس کی وضاحت کی جائے۔چین میں پریس اور پیبلیکیشنز کے انتظامی ادارے کا کہنا ہے کہ جس سطح پر ملک میں معاشی اور سماجی تبدیلیاں آرہی ہیں، غیر ملکی زبانوں کا استعمال ہر شعبے میں بڑھ رہا ہے۔چین کے ایک روزنامے ’پیپلز ڈیلی‘ نے لکھا ہے کہ دوسرے زبانوں کے الفاظ کی ملاوٹ سے چینی زبان بری طرح متاثر ہورہی ہے، جس کے ملکی ثقافت پر بھی منفی اثرات مر تب ہو رہے ہیں اور سماجی مضمرات سامنے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ چین میں نوجوان نسل میں نہ صرف انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال بڑھ رہا ہے بلکہ نوجوان اپنے چینی ناموں کے بجائے ایک دوسرے کو انگریزی ناموں سے پکارنا پسند کرتے ہیں۔دونوں زبانیں جاننے والے چینی افراد انگریزی بولنا پسند کرتے ہیں۔
حالانکہ چین نے انگریزی کو استعمال کرنے سے منع کردیا ہے مگر اس کے پیچھے جو وجہ بتائی ہے، اس کے لئے جو دلیل دی گئی ہے وہ کسی حد تک قابل قبول ہے لیکن انگریزی کی ممانعت فی الوقت ہمارے ملک میں جیسا کہ آر ایس ایس کا کہنا ہے، ممکن نہیں ہے ۔کیونکہ ہمارے یہاں جو قومی زبان ہے یا بہت زیادہ بولی جانے والی زبان اردو ہے ،اس میں میڈیکل یا انجینرنگ کی استعمال ہونے والی اصطلاحات مروج نہیں ہے۔ پہلے ہمیں ان اصطلاحات کو منتقل کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی ہمیں انگریزی کی جگہ قومی زبان یا علاقائی زبان کو لانا ممکن ہوسکے گا۔ دوسری بات یہ کہ چین نے جو انگریزی زبان کے استعمال کو منع کیا ہے تو اس میں اس کی دلیل یہ ہے کہ اس سے چینی زبان متاثر ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں ز بینٹ کا مشورہ زیادہ کارگر لگتا ہے کہ کسی بھی زبان کو سیکھنا اور بولنا خاص طورپر اردو جیسی زبان کو سیکھنا معاملات اور کلچر کو سمجھنے میں معاون ہوتا ہے۔ بہر کیف ان کے بیان سے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ چاہے اردو کو اپنی جائے پیدائش ہندوستان میں نظر انداز کیا جارہا ہو لیکن یوروپین ملکو ں میں اس کی اہمیت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *