ہم نہیں چاہتے کہ بچے بندوق اٹھائیں

Share Article

damiکشمیر محض سڑک، بجلی ، پانی اور کرسی کا مسئلہ نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگ یہاں پر جابس اور انسینٹوس مانگ رہے ہیں، لیکن بار بار ڈائریکشن دیا جارہا ہے کہ یہاں کا یوتھ بے روزگار ہے، اس کے پاس وسائل نہیں ہیں، پیسہ نہیں ہے، جاب نہیں ہے۔ سب سے افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ اتنا سب ہونے کے بعد بھی مسئلے کو کوئی سمجھنے والانہیں ہے۔ فی الحال مرکز میںجو سرکار ہے، وہ مسئلے کو سلجھانے میںزیادہ دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔ اب دوسرا ڈسکورس انھوں نے شروع کردیا ہے۔ ہر چیز کو یہ نیشنلزم کے دائرے میں لے آتے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔
ہمارے لیے یہ بہت اہم ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر گورنمنٹ کیا کہتی ہے؟ ایک مسئلہ ہمارے لیے یہ بھی ہے کہ ہندوستان کے عوام تک اپنی بات رکھنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس میں ہماری بھی تھوڑی کوتاہی ہو، لیکن وہاں تک صحیح بات پہنچنی ضروری ہے۔ اَنفارچونیٹلی (بدقسمتی سے) ایسا ماحول بن گیا ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، انھیںیہ لگتا ہے کہ یہ سب پاکستان کروا رہا ہے، اسپانسرڈ ہے یا پیسے کے دم پر ہو رہا ہے۔ انڈین پبلک اوپینئن ہر معاملے میںبہت زیادہ وائبرینٹ ہے، چاہے سول سوسائٹیز ہوں، کارپوریٹ یا پھر بالی ووڈ کو ہی دیکھ لیں۔ ہر ایک مسئلے پر وہ اپنی رائے رکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ گورنمنٹ کو بھی فیس ویلیو پر نہیں لیتے۔ لیکن کشمیر کی بات آتی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوجاتا ہے؟ جب بار بار آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب اسپانسرڈ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے، کوئی اکاؤنٹیبلٹی نہیں ہے، پھر بھی وہ ہر چیز کو جسٹیفائی کرتے ہیں، پھر چاہے وہ سیکورٹی فورسیز کا استعمال ہو، پیلیٹس ہو، پبلک سیفٹی ایکٹ ہو یا پھر یہاں کے یوتھ کو گرفتار کیا جانا ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ کشمیر کی حالت کو سدھارنے کے لیے ہم نے صلاح نہیں دی ہے۔ 2006میں، 2007 میں کئی بار صلاح دی اور تحریری طور پر بھی دی۔ حریت کی بات چیت بھی ہوئی۔ باجپئی جی کی حکومت تھی۔ اس کے بعد منموہن سنگھ صاحب آئے۔ ہم ایک دو بار ان سے بھی ملے۔ کچھ خیالات کا تبادلہ بھی ہوا، لیکن وہاںسے کوئی ریسپانس نہیںآیا۔ دہلی کی سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ وہ یہاں فائر فائٹنگ کرنے تب آتے ہیں جب یہاںپر آگ لگی ہوتی ہے۔ جب یہاں پر حالات بہتر ہوتے ہیںاور ایک بہتر ماحول بن سکتا ہے، تب وہ کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہاں جو حالات پیدا ہورہے ہیں، اس میں نوجوان نسل کو جنگ کی حالت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ایک بار پھر وہ تشدد کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ بندوق اٹھا رہے ہیں۔ پچھلے چار پانچ مہینوں میںیہاں جو بھی انکاؤنٹرس ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر میں کشمیری لڑکے مرے ہیں۔ ان میں زیادہ تر پڑھے لکھے ہیں۔ کوئی بی ٹیک چھوڑ کر ، گریجوئیشن چھوڑ کر آگیا۔ اس صورت حال کو جب تک سمجھا نہیںجائے گا اور جب تک ایک حوالے سے اس کا حل نکالنے کی کوشش نہیںکی جائے گی، حالات میں سدھار مشکل ہے۔ ابھی حالات یہ ہیںکہ یہاںپارلیمنٹری ڈیلی گیشن آتا ہے، ہوم منسٹر آتے ہیں، وہ سب تو سیدھے سیدھے حریت کا نام بھی نہیںلیتے، اسٹیک ہولڈرس کہتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیںکہ یہاں اسکول کالج اور ا کانومی بھی چلے، تو آپ کو جو ریئل پالیٹکل ایشو ہے، اس کوبھی آگے لانا ہوگا۔ لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا کچھ ہے ہی نہیں۔ اس مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو ایسی اسٹریٹجی بنانی ہوگی جو حقیقت پر مبنی ہو۔ جب مودی کی سرکار آئی، تب ہمیںامید تھی کہ وہ باجپئی کی پالیسی کو ہی آگے بڑھائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ٹھیک ہے، ہماری ایک پوزیشن ہے، گورنمنٹ آف انڈیا کی ایک پوزیشن ہے۔ پاکستان بھی ایک پارٹی ہے، تو ظاہر سی بات ہے کہ اچانک کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکتا۔ ہم ایک پروسیس کی بات کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ ہونا چاہیے، فی الحال سالیوشن کی بات نہ کریں۔ اس میں بھی ایک انڈر اسٹینڈنگ تھی کہ سہ رخی بات چیت ہو، جس میں انڈیا، پاکستان اور جموںو کشمیر بھی ایک سائڈ ہو۔ ٹھیک ہے ہم ایک ٹیبل پر نہیںبیٹھ سکتے، لیکن ایک سہ رخی بات چیت تو شروع کرسکتے ہیں۔ انڈیا – پاکستان بھی بات کریں، انڈیا – کشمیر بھی بات کریں، ساتھ ہی کشمیریوں کو آپ پاکستان بھی جانے دیں۔ وہ ایک سلسلہ چلا تھا۔ ہم مظفرآباد جاکر مشرف سے ملے، وہاں سے واپس آئے پھر باجپئی جی سے بات ہوئی۔ لیکن پھر 2007 کے بعد کانگریس کے آٹھ دس سال کے دوران کچھ ہوا ہی نہیں۔ چدمبرم صاحب بھی بڑے بڑے آرٹیکل لکھتے ہیں آج کل، لیکن جب وہ خود سرکار میںتھے، تب کچھ نہیںکیا۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے یہاں جو پارٹیاںہیں ، وہ بھی کوئی اسٹینڈ نہیںلیتی ہیں۔ اگر انھوںنے کوئی اسٹینڈ لیا ہوتا،تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ بہت ساری چیزوں کو سیف گارڈ کیا جا سکتا تھا۔ ہم نے بھی کوشش کی، جائیں پہلے بات کریں۔ لیکن حالات ایسے تھے کہ میں چنڈی گڑھ گیا، چنئی گیا، کولکاتا گیا، جہاں جہاں گیا تو وہاں پرہنگامہ کردیابی جے پی والوں نے۔ بات ہی نہیںہوسکی۔ یہ اہم ہے کہ کم سے کم بات چیت تو ہو۔ اراؤنڈ دی ٹیبل بیٹھیں گے، بات چیت کریں گے، ہمارا بھی ایک پوائنٹ آف ویو سنا جائے، کوئی اپنی بھی بات کہے،شاید اس میںتو کوئی اعتراض نہیںہے۔ لیکن یہ ہے کہ اب وہ اسپیس بھی نہیںلگ رہا ہے۔ کم سے کم ڈسکشن، ڈسکورس تو ہو، جس میںکی بات ہو۔ ہندوستان کی سول سوسائٹی اور ریجنل میڈیا کو اس بارے میںبات کرنی ہوگی اور صحیح بات۔
ابھی تو پیلیٹ کو بھی بین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس ماحول میںکیا گورنمنٹ کا کوئی انیشئیٹو ہوسکتا ہے جس کا یہاں کے لوگ ویلکم کریں۔ دونوں ٹریکس پر ہمیں کوشش کرنی ہوگی۔ ایک تو یہ بھی ہے کہ اگر ہم پیپل ٹو پیپل انیشئیٹو کریں، وہ بھی چلتا رہے۔ دوسرا یہ ہے کہ آل ریڈی ہمارے پاس ایک میکنزم تھا۔ انڈیا پاکستان کے بیچ کراس ایل او سی ٹریڈ بھی ہو رہا ہے۔ ڈوائڈیڈ فیملیز (منقسم خاندان) مل رہی ہیں۔ ان کو بھی اگر مضبوط کیا جائے، تو اس میںہم بھی اپنا رول ادا کرسکتے ہیں۔ انفارچونیٹلی (بدقسمتی سے) گورنمنٹ آف انڈیا نہیں سمجھتی کہ پاکستان ایک ریئلٹی ہے۔ آپ اس کو نظرانداز نہیںکرسکتے۔ کشمیر کے پرابلم میںپاکستان ایک پارٹی ہے اور اسے ہم نے نہیں بنایا۔ آپ نے خود بنایا ہے، شملہ اور باقی ایگریمنٹس کے ذریعہ۔ پاکستان میں بھی بہت لوگ کہتے ہیںکہ بیچ کاراستہ اختیار کیا جائے۔ہم دو چار بار پاکستان گئے ان دس پندرہ سالوں میں۔ وہاں کا ایک میجارٹی طبقہ جن سے ہم ملے، چاہے وہ بے نظیر کی پارٹی ہو، عمران خان کی پارٹی ہو، نواز شریف کی پارٹی ہو، ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ اس کا آؤٹ آف دی باکس سالیوشن نکالا جائے، گورنمنٹ آف انڈیا کو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ کچھ بیسک چیزیں جیسے ہیومین رائٹس، افسپا، پبلک سیفٹی ایکٹ وغیرہ کو آہستہ آہستہ ریوزٹ کرنا پڑے گا۔کوئی نہ کوئی ایسا میسج تو جانا چاہیے گراؤنڈ پر۔ لیکن ابھی تو یہ ہے کہ کوئی سلسلہ ہی نہیں ہے۔ ایسے ہوسٹائل بیان آتے ہیں، چاہے ان کے ہوم منسٹر صاحب کے ہوں یا پاریکر صاحبکے۔
آہستہ آہستہ حالات بھی پٹری پر آئیںگے۔ ہم بھی کوشش کررہے ہیں کہ ہڑتالوں کا سلسلہ تھمے۔ کوئی نہیںچاہتا کہ یہ چھوٹے بڑے بچے بندوق کی طرف جائیں یا بندوق اٹھائیں۔ یہاںکا کشمیری کتنا بھی بندوق اٹھائے، بندوق سے کچھ ہونے والا نہیںہے۔ لیکن یہ ہے کہ اتناغصہ ہے یہاں پر گراؤنڈ میںکہ ہم سب کے لیے بڑا مشکل ہورہا ہے۔ اس کے حل کے لیے یہاںپر بات چیت ہونی چاہیے۔ ہماری یونیورسٹیز ہیں، ہمارے کالجیز ہیں، وہاںڈبیٹ ہوں، ڈسکشنس ہوں۔ لیکن ابھی یہاںپر آپ نے بین لگا دیا ہے۔ جب تک آپ یہاںکے بچوں کو اسپیس نہیںدیںگے، یہاںکے پڑھے لکھے لوگوںسے بات نہیںکریں گے، تب تک حل نہیںنکلے گا۔ ہم کوشش کررہے ہیںکہ ملیں، آپس میںبات کریں،لیکن ملنے ہی نہیں دے رہے ہیں۔ گیلانی صاحب کو بند کردیا۔ اب جاتے ہیں تو دروازوں سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ یہ ایک عجیب وغریب سچوئیشن ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیںکہ حالات بہتر ہوں توہمیں تو بات کرنے دیں، ملنے دیں وہاں پر۔ یہ سلسلہ عجیب و غریب ہے۔ یاسین صاحب کو بھی انھوںنے کنفائنڈ کردیا۔ زیادہ ہی زیادتی وغیرہ کی۔ 6 مہینوں میںبیمار بھی ہوگئے۔ ہاتھ میںانفیکشن ہوگیا، ہاتھ بھی کٹنے والا تھا۔ ٹریٹمنٹ میںبھی ڈیلے کردیاگیا۔ حریت نے کیلینڈر کے حوالے سے جو بھی اسٹینڈ لیے چاہے وہ ریلیکشیسن ہو یا کچھ اور، اسے سب نے فالو کیا۔ انھوںنے بھی جنھیں ملی ٹینٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ اپنا چلاتے رہے وہاں سے، لیکن پبلک ڈومین میں وہ نہ تو کوئی ایسا بیان دیتے ہیں ،نہ کوئی پالیٹکل اسٹیٹمنٹ دیتے ہیں کہ ہم لیڈر شپ کو اوور ٹیک کرنا چاہتے ہیں یا کوئی نریشن دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے فالو ہی کیا ہے اس جوائنٹ لیڈر شپ کے پروگرام کو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ساؤتھ کشمیر میں جو ملیٹنسی ہے، اس کا گراف تھوڑا سابڑھ گیا ہے۔ ان کی ریکروٹمنٹ وغیرہ تو ہوگئی ہے۔ لیکن یہ جو چھوٹے چھوٹے لڑکے جارہے ہیں، وہ اس لحاظ سے اُتنے زیادہ ایفیکٹو نہیں ہیں، کیونکہ نہ تو یہ بیچارے ٹرینڈ ہیں اور نہ ہی ان کے پا س کوئی ایسا تجربہ ہے۔ لیکن یہ ایک اموشنل آؤٹ برسٹ ہے کہ بندوق اٹھا کے آزادی لی جاسکتی ہے۔ ایسابھی نہیں ہے کہ وہ پاکستان گئے اور ٹریننگ کرکے آگئے۔ یہ ایک ڈفرینٹ ملیٹنسی ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ یہاں پر ایسا کوئی ملیٹنٹ ڈسکورس ڈومنیٹ نہیںکرے گا۔ یہ تو چلتا رہے گا چھٹ پٹ وغیرہ ہوتے رہیں گے۔ کل یہاں انسیڈینٹ ہوا، کل وہاں، پرسوں وہاں یہ تو چلے گا۔ لیکن میرا یقین ہے کہ پاکستان کے لیول پر بھی یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہاں پر چینجیز ہوئے ہیں۔ نئے جنرل وغیرہ آئے ہیں۔ آئی ایس آئی کے بھی۔ ان کا کیا رخ رہتا ہے، یہ دیکھنا پڑے گا۔ میں’ڈان ‘میںپڑھ رہا تھا کہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ پھر سے ڈائیلاگ کے ٹریک کو ریوائز کیا جائے۔ لیکن دیکھنا پڑے گا کہ انڈیا-پاکستان کیسے قدم اٹھاتے ہیں؟ اس کا بھی ایک بہت بڑا اثر پڑے گا۔ یہ بھی دیکھناپڑے گا کہ ملیٹنسی کے حوالے سے کیا پالیسی رہتی ہے؟
جہاںتک محبوبہ صاحبہ کی بات ہے تو انھیںگراؤنڈ لیول پر اپنی پوزیشن ری اسٹیبلش کرنی پڑے گی۔ ان کا اپنا تو کوئی ایجنڈا نظر ہی نہیں آرہا ہے اب ۔ ایجنڈا آف الائنز بنایا تھا، انھوںنے ،لیکن اس پر تو کوئی کام ہی نہیں ہورہا ہے۔ یہاںکی سرکار بی جے پی کے حوالے سے ہی چل رہی ہے۔ لیکن انھیںکچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ہمیںپتہ نہیں کہ مودی مانیں گے یا نہیں۔ ویسے بی جے پی کو بھی پتہ ہے کہ وہ یہاںکمزور ہوگئی ہے اس وقت۔ ایسا نہ ہو کہ پھر سے ایک سارا کا سارا ڈسٹرب ہوجائے۔ اپنی ساکھ بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا ان کو۔ انھوںنے خود بھی کہا ہے کہ ہمیں تھوڑا ٹائم دیں، ہم کچھ کریں گے۔ پتہ نہیں وہ کیا کریںگے؟ پتہ نہیںکیسے محبوبہ یہاںکے لوگوںکو کنوینس کرپائیںگی؟ لیکن شروعات تو کریں۔ حالانکہ یہ بھی اب اپریل کے بعد ہی ہو پائے گا۔ اس کے بعد انھیں دیکھنا پڑے گا کہ کہاںپر کیا سچوئیشن رہتی ہے؟ ہم بھی کوشش کررہے ہیں کہ آہستہ آہستہ حالات کو ٹھیک کیا جائے۔ یہ تو چلتا رہے گا آن دی گراؤنڈ۔ ایک سچوئیشن تو ہے، وہ چینج ہوگی نہیں۔ لیکن دیکھنا چاہیے کہ اس کے ساتھ اکانومکس کا بھی مسئلہ جڑا ہوا ہے۔ ٹریڈ-ٹورزم وغیرہ بھی متاثر ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *