گوا اسمبلی انتخابی نتائج نہ کانگریس ہاری، نہ بی جے پی جیتی

Share Article

damiگزشتہ اسمبلی نتائج کی مانند اس الیکشن میںبھی گوا ا میںبی جے پی اور کانگریس کے بیچ ہی اہم مقابلہ رہا۔ اس بار بھی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں حکومت بنانے میںاہم کردار میں ہیں۔ آخری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو 17 سیٹوں کے ساتھ کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے روپ میں ابھری ہے جبکہ بی جے پی کو 13 سیٹیں ملی ہیں۔ مہاراشٹر وادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی ) کو تین ، گوا فارورڈ پارٹی کو تین اور آزاد و دیگر کو چار سیٹیںملی ہیں۔
الیکشن سے پہلے ہی بی جے پی کو بغاوت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ریاست کے سابق آر ایس ایس پرمکھ سبھاش ویلنگکر نے بغاوت کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ وہیںدوسری طرف وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پارسیکر کے ذریعہ ایم جی پی کے دو وزیروں کو اپنی کابینہ سے برخاست کیے جانے سے بی جے پی – ایم جی پی کا اتحاد ختم ہوگیا تھا۔ شیو سینا کے ساتھ بھی بی جے پی کا انتخابی اتحاد نہیںہوپایا تھا۔ گر انتخابی اعداد وشمار پر نظر ڈالیںتو یہ صاف ہوجاتا ہے کہ بی جے پی نے اگر ایم جی پی کے ساتھ اپنا اتحاد قائم رکھا ہوتا تو وہ حکومت بنانے کی حالت میں ہوتی۔ 2012 میںبی جے پی کو 21 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی اور ایم جی پی کو 3 سیٹیں ملی تھیں۔ اس الیکشن میں ایم جی پی نے اپنی 3 سیٹیںبرقرار رکھی ہیں۔ جہاں تک ووٹ فیصد کا سوال ہے تو 32 فیصد ووٹوں کے ساتھ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی رہی لیکن یہ ووٹ فیصد نتیجوں میں نہیں بدل پائے او ربی جے پی اکثریت سے دور رہ گئی۔ کانگریس گوا میں 17 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ سال 2012 میں کانگریس کو یہاںصرف 9 سیٹیں ملی تھیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک اچھا مظاہرہ ہے لیکن بی جے پی میںبغاوت اور حکومت مخالف لہر کے حساب سے دیکھیں تو کانگریس کا مظاہرہ اور بہتر ہونا چاہیے تھا ۔ اگرکانگریس نے گوا فارورڈ پارٹی کے ساتھ اپنا اتحاد کرلیاہوتا تو بی جے پی کی حالت او ربھی خراب ہوجاتی۔ عام آدمی پارٹی، جس پر سب کی نظر تھی، ریاست میںکوئی کارنا مہ نہیںکرپائی۔ اسے یہاںایک بھی سیٹ نہیںملی۔ ایسا کہا جارہا تھا کہ گوا کے انتخابی میدان میںعام آدمی پارٹی کی مضبوط موجودگی کانگریس کو نقصان پہنچائے گی۔ لیکن انتخابی اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک دو سیٹوںکو چھوڑ دیا جائے تو عام آدمی پارٹی کی موجودگی سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیںہوا۔ عام آدمی پارٹی کو صرف 6.3 فیصد ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس کو 28.4 فیصد ووٹ ملے۔ حالانکہ کانگریس کو ریاست میں مکمل اکثریت نہیںملی لیکن اتر پردیش اور اتراکھنڈ میںملی کراری شکست کے بیچ پنجاب ، گوا اور منی پور تسلی کی طرح ہیں۔
کسے کتنی سیٹیںملیں
کانگریس 17
بی جے پی 13
این سی پی 01
ایم پی جی 03
جی ایف پی 03
دیگر 03
اہم سیٹوں پر ہارجیت
سیٹ جیت ہار مارجن
مانڈریم دیانند رگھو ناتھ سوپتے لکشمی کانت پارسیکر 7,119
(کانگریس) (بی جے پی )
نوویلیم لوئی جنہو فلیئیرو ارویٹانو فورٹاڈو 2,478
(کانگریس) (آزاد)
ماپوسا ڈے پنٹو ای سوزا ونود پھاڑکے 6,828
(بی جے پی ) (ایم جی پی )
مارکیم رام کرشن دھاوالیکر پردیپ پنڈلیک سیٹ 13,860
(ایم جی پی ) (بی جے پی )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *