کیوں کھورہی ہے فوج کشمیر میں عوام کی حمایت ؟

Share Article

damiچیف آف دی آرمی سٹاف جنرل بپن رائوت کا کہنا ہے کہ ’’ کشمیر میں ملی ٹینٹوں کو حاصل عوامی حمایت کی وجہ سے فوج کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘ فوجی سربراہ کے اس حالیہ بیان نے سبھی کو متوجہ کیا۔ در اصل اُن کا یہ بیان جنوبی کشمیرکے کولگام میں 12فروری کو ملی ٹینٹوں اور فوج کے درمیان 10گھنٹے کی طویل معرکہ آرائی کے دوران مقامی آبادی کی جانب سے محصور جنگجوئوں کو چھڑانے کی کوشش کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ اس جھڑپ کے دوران سینکڑوں مقامی نوجوانوں نے ملی ٹینٹوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو ناکام بنانے کے لئے فوج اور فورسز پر شدید پتھرائو کیا۔ظاہر ہے کہ پتھرائو کرنے والے نوجوان فوج کے حصار میں پھنسے ملی ٹینٹوں کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔اس جھڑپ میں چار ملی ٹینٹ ، دو فوجی اور دو عام شہری مارے گئے۔مارے جانے والے شہریوں میں شامل ایک اسحاق احمد ریشی کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ اسے فوج نے زیر حراست قتل کردیا۔ انکائونٹر ختم ہوجانے کے بعد ہزاروں لوگوں نے مارے گئے جنگجوئوں اور شہریوں کے آخری رسومات میں حصہ لیا۔لوگوں نے نماز جنازہ کے موقعے پر بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں زبرست نعرے بازی کی۔
صرف دو دن بعدیعنی 14فروری کو شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں ایک اور جھڑپ کے موقعے پر بھی مقامی لوگوں نے محصور جنگجوئوں کو بچانے کے لئے فوج پر پتھرائو کیا۔ اس جھڑپ میں چار فوجی اور ایک جنگجومارا گیا۔جنگجو کے مرنے پر مقامی آبادی نے تین دن تک تعزیتی ہڑتال کی۔یہ کشمیر کی وہ صورتحال ہے ، جس کے تناظر میں ملک کے فوجی سربراہ نے متذکرہ غیر معمولی بیان دیا۔ جنرل رائوت نے کشمیریوں کو متنبہ کیا کہ’’ اگر آئندہ فوجی آپریشن میں لوگوں نے رکائوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تو انہیں ( عوام کو) دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا اور اُن کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘‘
گزشتہ 28برس کی ملی ٹنٹ تحریک میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی فوجی سربراہ نے کھلے الفاظ میں جنگجوئوں کو عوامی سپورٹ حاصل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔اُن کے اس بیان کی مختلف لوگوں نے مختلف تاویلیں کیں۔ علاحدگی پسند لیڈروں نے اسے ایک آرمی چیف کی عوام کو دی گئی’’ دھمکی ‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا کہ فوجی سربراہ نے اس بیان کے ذریعے آئندہ لوگوں کو مارنے کی پیشگی دھمکی دے دی ہے۔ وہیں بعض لوگ فوجی سربراہ کے بیان کو’’ حقائق کا اعتراف ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ایک سرکردہ کارکن خرم پرویز کا کہنا ہے کہ ’’28سال تک بھارت یہ دعویٰ کرتا رہا کہ کشمیر میں پاکستان کا پراکسی وار جاری ہے اور اب بھارتی فوجی سربراہ کے بیان نے پاکستان کے اس موقف کو درست ثابت کیا کہ کشمیر کی ملی ٹنسی کو مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔‘‘نوجوان صحافی گوہر گیلانی نے بھی اس موضوع پریکساں خیال کا اظہار کرتے ہوئے فیس بُک پر لکھا کہ ’’ رائوت کے اس اعتراف سے کہ عوام فوج کی حمایت نہیں کرتے ہیں ، سے صاف ظاہر ہے کہ کشمیریوں کی تحریک مقامی ہے اور پاکستان اس سے بری الذمہ ہے۔‘‘
سیکورٹی ایجنسیاں عام لوگوں میں ملی ٹینٹوں کے تئیں نرم گوشے اور ملی ٹینٹ سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے گراف پر پریشان ہیں۔ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے ابتدائی 45 دن یعنی 15فروری تک وادی میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 19جنگجو اور 6فوجی جوان مارے گئے ہیں۔مارے جانے والے 19جنگجوئوں میں سے 10کشمیری تھے اور6 غیر ملکی جبکہ باقی3 کی شناخت نہیں ہوپائی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 8جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعدبپا ہونے والی احتجاجی لہر کے بعد کشمیری نوجوانوں میں ملی ٹنسی کی رغبت پیدا ہوگئی ہے۔ جولائی 2016کے بعد اب تک پولیس اعداد و شمار کے مطابق ایک سو مقامی نوجوان ملی ٹینسی میں شامل ہوگئے ہیں۔گزشتہ سال فوج اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 56جنگجو مارے گئے ، جن میں زیادہ تر کا تعلق حزب المجاہدین کے ساتھ تھا۔
وادی کشمیر کے حالات و واقعات کا جائزہ لینے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہاں نہ صرف بھارت مخالف تحریک کے تئیں عوامی ہمدردی بڑھتی جارہی ہے بلکہ علاحدگی پسند لیڈروں کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ حریت لیڈروں نے 9اور 11فروری کو افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کی برسیوں پر ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی جس پر وادی میں لوگوں نے سو فیصد عمل کیا۔ حریت نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ 10فروری کو سرینگر میں مقیم اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر تک مارچ کریں تاکہ وہاں ایک یاداشت پیش کی جاسکے ، جس میں اقوام متحدہ سے افضل گورو اور مقبول بٹ کے باقیات کشمیر واپس لانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبول کو غداری اور افضل گورو کو پارلیمنٹ حملے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں بالترتیب11فروری 1984ء اور9فروری2013کو پھانسی دے دی گئی۔ دونوں کی لاشیں ان کے لواحقین کو نہیں لوٹائی گئیں۔ انہیں تہاڑ جیل کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔ کشمیر میں ان کے باقیات کا واپسی کا مطالبہ وقفے وقفے سے کیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر تک مجوزہ جلوس کو روکنے کے لئے حکام کو سرینگر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔تمام علاحدگی پسندوں کو گرفتار کیا گیا یا پھر ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔
یہ وہ صورتحال ہے ، جو فی الوقت کشمیر میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہ کئی لحاظ سے غیر معمولی صورتحال ہے۔ 28سال میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ لوگ جھڑپوں کے دوران ملی ٹنٹوں کو بچانے کے لئے فوج اور فورسز پر پتھرائو کررہے ہیں۔ اس کو روکنے کے لئے حال ہی میں وادی کے کئی اضلاع میں حکام نے باضابطہ حکم نامے جاری کرتے ہوئے عوام سے جھڑپوں کے مقام سے تین کلو میٹر کے دائرے تک کسی جگہ جمعہ نہ ہوجانے کے لئے کہا ہے ۔فوج کے حصار میں پھنسنے والے ملی ٹینٹوں کو محفوظ راہدری فراہم کرانے کے لئے اور فوجی آپریشن کو ڈسٹرب کرنے کے لئے فوجیوں پر پتھرائو کرنے کا یہ سلسلہ گزشتہ سال فروری میں شروع ہوا تھا۔
اس طرح کا پہلا واقعہ اُس وقت دیکھنے کو ملا جب سرینگرکے مضافات میں واقع پانپورمیں ایک عمارت میں پھنسے جنگجوئوں اور فوج کے درمیان48گھنٹے تک معرکہ آرائی ہوئی۔ایک جانب فوج اس دیو قامت سرکاری عمارت ، جس کے اندر جنگجو پھنسے تھے کو مسمار کرنے کیلئے مارٹر بموں اور راکٹوں سے حملہ کررہی تھی اور دوسری جانے چند سو گز کے فاصلے پر درجنوں نوجوان ہاتھوں میں پتھر لیے فوج کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ مرنے والے جنگجوئوں کے آخری رسومات میں ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں کی شرکت کی روایت بھی گزشتہ سال سے ہی شروع ہوگئی۔ عوام کا یہ رویہ صاف طور پر کشمیر میں ملی ٹینسی کو عوامی حمایت حاصل ہونے کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں بھارت مخالف تحریک کو اس بڑے پیمانے پر عوامی حمایت کیوں حاصل ہورہی ہے؟ سرکردہ سیاسی مبصر ظریف احمد ظریف نے اس سوال کے جواب میں ’’چوتھی دُنیا‘‘کو بتایا کہ ’’ عوام کا یہ رویہ در اصل اُن کے اندر پنپ رہے غصے اور نفرت کے لاوے کی نشاندہی کررہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عوام پر ڈھائے جانے والا مسلسل جبر و تشد ہے۔اس کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہوسکتا بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کو جتنا زیادی کچلنے کی کوشش کی جائے ، اتنا ہی وہ بپھر جائیں گے۔ نئی دہلی اگر صورت کو بدلنا چاہے تو اسے سب سے پہلے طاقت کا استعمال بند کرنا ہوگا اور عوام کے جائز مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلے کا سیاسی حل تلاشنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوںگے۔ یہی ایک راستہ ہے۔‘‘ ظریف کا ماننا ہے کہ ’’کشمیری عوام ایک نفسیاتی تبدیلی سے دوچار ہوچکے ہیں۔ ایک جانب ان کے دلوں سے ڈر ختم ہوگیا اور دوسری جانب انہوں نے ’کرو یا مرو‘ کا فلسفہ قبول کرلیا ہے۔ ایسی صورت میں نئی دہلی کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ دیانتداری کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو حتمی طور پر حل کرنے کے لئے سیاسی عمل شروع کرے۔برعکس صورت میں یہاں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔
مستقبل میں حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں ، اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ نئی دہلی کشمیر میں عوام کی حمایت گزرنے والے دن کے ساتھ کھو رہی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *