کشمیر ہندوستان کے لئے عملًا الگ تھلگ ہوگیا ہے۔ چدمبرم

Share Article

Chidambaram_news18india_131216سابق مرکزی وزیر داخلہ و کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ ان کا یہ شدید احساس ہے کہ ناراضگی کو کچلنے کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے بے رحمانہ طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کشمیر ہندوستان کے لئے عملًا الگ تھلگ ہوگیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز شہر حیدرآباد میں عوامی پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی جس کا اہتمام ’’منتھن ‘‘نامی تنظیم کی جانب سے کیا گیا تھا۔ مسٹر چدمبرم نے کہا کہ انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر مرکز کی جانب سے 2010میں سلامتی پر مبنی کابینی کمیٹی کے اصلاحی اقدامات کی طرز پر اصلاحی اقدام نہیں کئے جائیں گے تو صورتحال مزید بدتر ہوجائے گی۔اُس وقت تشدد میں بتدریج کمی ہوئی تھی تاہم اب خطرناک سطح تک اس میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر کے سات ملین افراد ہندوستانی حکومت کے جابرانہ طریقوں سے خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں جو خوفناک غلطی ہے ۔ چدمبرم کی کتاب’’بے خوف اپوزیشن‘‘پر کشمیر کے حالات ،برہان وانی کے انکاونٹر کے واقعہ پر بھی مباحث کئے گئے۔
چدمبرم نے واضح کیا کہ 2010میں اس وقت کشمیر کے بگڑے ہوئے حالات پر عمر عبداللہ اور انہوں نے خود مرکزی حکومت سے یہ خواہش کی تھی کہ وہ اپنے لائحہ عمل میں تبدیلی لائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کسی کومخالف ملک کہا جارہا ہے جس سے لوگوں میں خوف کی لہر دیکھی جارہی ہے۔طلبہ، مصنفین،میڈیا گھرانے اور ٹریڈ یونینیں بھی خوف محسوس کر رہے ہیں اور کوئی بھی اظہار خیال سے ڈر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آزادی سے مراد وہ ہے جس میں عوام خوفزدہ نہ ہوں ۔ انہوں نے دو ٹو ک انداز میں کہا کہ فوجی سربراہ بپن راوت کا یہ بیان کہ دفاعی کاروائی میں مداخلت کرنے والے کسی کو بھی مخالف ملک سمجھاجائے گا ، سے کشمیر کی صورتحال پراثر پڑے گا۔ راوت نے اس سلسلہ میں حد پار کردی ہے۔ نوٹ بندی پر انہوں نے کہا کہ اس سے معیشت میں گراوٹ ہوئی ہے اور معیشت کی ترقی رک گئی ہے۔مسٹر چدمبرم نے ممبئی بلدیہ کے انتخابات میں جہاں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے،اس پر کہا کہ نوٹ بندی پر بی جے پی کو ووٹ حاصل نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر کوئی انتخابات لڑے نہیں گئے ۔اگر ایسا ہوتا تو اس کے عجیب عواقب ہوتے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *