کشمیر کو 2016 سے سبق لینے کی ضرورت

Share Article

damiپرانا سال ، جس کو رخصت ہوئے ،محض چند دن ہی ہوئے ہیں، اپنے پیچھے اموات ، اندھے پن، مایوسی، دل شکستگی او رمجبوریوں کی ایک لمبی داستان چھوڑ گیا ہے۔ اس سال کے دوران کشمیر چونکہ ایک شورش کی گرفت میں رہا، ہمارے قلب و اذہان پر وارداتوں کا اس قدر غلبہ رہا کہ بسا اوقات دماغوں تک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ جس طرح سے برہان وانی کی اچانک موت کے بعد 8 جوالائی کو یہاں کے حالات تہہ و بالا ہوگئے، اس سے اکثر لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ صورت حال راتوں رات پیدا نہ ہوئی بلکہ اس کے لیے کئی دہائیاں قبل بیج بوئے جاتے رہے ہیں لیکن جس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے مقامی پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ مل کریہاں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا، یہ صور ت حال بھی یہاںاکثر لوگوں کے لیے کوئی نئی یا عجیب و غریب بات نہیں تھی۔ مارچ 2015 میں جب پی ڈی پی کے سرپرست مرحوم مفتی محمد سعید نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے ہاتھ ملایا، ان کا واحد دعویٰ یہ تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اس صورت میں جموں حکومت سے باہر رہ جاتا اور اس سے ریاست کی وحدت کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ حالانکہ ان کی وفات کے بعد ان کی صاحبزادی محبوبہ مفتی پہلے کئی ماہ تک حکومت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کرتی رہیں لیکن بالآخر انھیں بھی اسی لائن پر چلنا پڑا۔
حالانکہ خود مرحوم مفتی نے دس ماہ تک حکومت کی، اس دوران بھی کچھ زیادہ نہیں بدلا او رجس جموں صوبے کو انھوںنے ساتھ لے کر چلنے کی نیت باندھی تھی، وہ کشمیر سے مزید دور ہوتا چلا گیا۔ شاید اس دوران خود وزیر اعظم مودی اور جموں کے عوام دونوں نے مفتی کی دو صوبوں کو جوڑنے کی خواہش او ر کوشش کا کوائی معقول جواب نہیں دیا اور یہ دو اہم صوبے بجائے نزدیک آنے کے ، ایک دوسرے سے دورہی ہوتے چلے گئے۔ بلکہ مفتی سعید کی خواہش کے برعکس بی جے پی نے اپنے طے شدہ پارٹی ایجنڈے پر عمل کرنے اور ریاست کو توڑنے کی کوششیں جاری رکھیں، عدالتوں کا رخ کیا اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو چیلنج کیا، بی جے پی کی جانب سے کئی متنازعہ تجویزیں رکھی گئیں، جن میں سابق فوجیوں کے لیے علیحدہ کالونیاں تعمیر کرنا، کشمیری پنڈتوں کے لیے الگ بستیاں بسانااور مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کے لیے ریاستی باشندہ ہونے کی اسناد جاری کرنا وغیرہ۔ وہ’ ایجنڈا آف الائنس‘ پر عمل کرنے کی بجائے اپنے پارٹی ایجنڈے پر عمل کرنے پر بضد رہے، جو کہ ان کے اتحاد کی وجہ بنا تھا۔ ’ایجنڈا آف الائنس‘ میں شامل صرف ان ہی تین موضوعات پر توجہ دی گئی، جن کا تعلق جموں یا غیر مسلموں کے حق میں جاتا تھا یعنی شرنارتھیوں کو باشندۂ ریاست بنانا، پنڈتوں کے لیے علیحدہ کالونیاں تعمیر کرنا او رپاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کرنے والوں کو بسانا۔
محبوبہ کو درپیش چیلنج
اب جبکہ ایک طو یل اور شدید طوفان کے بعد کشمیر دھیرے دھیرے نارملسی کی جانب لوٹ رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ماحول کو قائم کس طرح سے رکھا جائے؟ یہ خواب عوام کو حالات بگاڑنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے صرف اور صرف سیاسی مسائل کو تسلیم کرنے اور انھیں حل کرنے سے ہی شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔ حالانکہ علیحدگی پسندوں کا نظریہ ان کے نظریے سے کافی دور او رمختلف ہے لیکن پی ڈی پی اور این سی ، دونوں نے اسے غیر محسوس طریقے سے اپنا رکھا ہے او روہ اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال بھی کررہی ہیں۔ ایک طرف جہاں نیشنل کانفرنس اپنے ’اندرونی خود مختاری‘ کے موقف پر قائم ہے، دوسری جانب پی ڈی پی بھی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے باوجود اپنے بنیادی موقف ’سیلف رول‘ سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آرہی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ’ایجنڈا آف الائنس‘ میں بہت ساری ایسی باتیںشامل ہیں، جن کو سامنے رکھ کر دونوں جماعتوں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ کشمیر کے سیاسی مسائل کو کس طرح سے حل کیا جائے۔ ان میںحریت لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز، ریاست میں نافذ خصوصی قوانین کا خاتمہ اور فوجی انخلاء ایسے تین بڑ ے نکات ہیں، جن پر بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان اقتدار سنبھالنے سے قبل باہمی طور پر اتفاق ہوا ہے۔ اس حوالے سے پی ڈی پی کا یہ جواز کافی نہیں کہ جو حالات 8 جولائی کے بعد پیدا ہوئے، ان میں اس حوالے سے کوئی پیش رفت ممکن نہ تھی بلکہ ایک معقول سوال ان سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ اس تاریخ سے قبل اس ضمن میں کون سی اور کتنی پیش رفت ہوئی تھی؟ اس کے برعکس بی جے پی نے ہر وہ کام کیا، جس سے سری نگر اور نئی دہلی کے درمیان مزید فاصلے پیدا ہوئے۔ محبوبہ مفتی کا سال نو کا ایجنڈا اسی ا’ایجنڈا آف الائنس’‘ کو آگے بڑھانا ہونا چاہیے، جس کے نفاذ کے لیے گزشتہ چھ ماہ میں بہت سناگیا۔
مشترکہ حریت میںقیاد ت کا مسئلہ
یہ ایک سر اسر ناانصافی ہوگی کہ اگر مشترکہ حریت قیادت کو سابق چھ ماہ میں ہونے والی سبھی باتوں کے لیے ذمہ دار قرار دیا جائے۔ ہم نے ان سے مسلسل ہڑتالوں کے بارے میں استفسار کیا، گوکہ جواب دیر سے ہی ملالیکن انھیں اس بات کا احساس ضرورہوا لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وادی میں ایسے حالات بن گئے جس نے انھیں اس حوالے سے بے بس کردیا تھا۔ اس حوالہ سے 2017 میں ان کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ وہ پھر ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں، جن سے انھیں گزشتہ برس جیسی صورت حال سے دوچار ہونا پڑے۔ عوام نے بلا چوں و چراان کی کالوں اور پروگراموں پر لبیک کہا ہے اور ان پر عمل بھی کیا ہے۔ اس سال ان کی توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ وہ ایک ایسا نظام یا پروگرام تشکیل دیں جو خود کو عذاب میں مبتلا کرنے والا نہ ہو۔ احتجاج کرنے کے حق کو اس طرح سے استعمال کرنا ہوگا، جس سے کسی بے گناہ کی موت واقع نہ ہو یا کسی بے گناہ کو بغیر معقول وجوہات کے جیل میں ٹھونسنے کا موقع نہ ملے۔
نئی دہلی میں بی جے پی حکومت کی طرف سے حریت والوں کو خاطر میں نہ لانے کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے یہ مسائل اور بھی مشکل ہوجاتے ہیں۔ انھیں غیر مؤثر بنانے کی کوششوں کا نتیجہ انھیں ایک ایسی صورت حال کی طرف دھکیلنے کی صورت میںنکل سکتا ہے کہ جو عوام کے لیے باعث تکلیف ہوگی۔ مشترکہ حریت قیادت کو مذاکرات سے دور نہیں بھاگنا چاہیے اور جس طرح سے انھوں نے وادی کا دورہ کرنے والے پرائیویٹ گروپ، جس کی قیادت سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کررہے تھے، کے ساتھ بات کی۔ انھیں سرکار کی جانب سے آنے والی کسی دعوت کا بھی اسی طرح سے معقول جواب دینا چاہیے۔ سب نے دیکھا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ تھا اور اس طرح سے دنیا کو ایک پیغام بھی ملا کہ حریت قیادت کو مذاکرات سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ جہاں تک دلی والوں کا سوال ہے، وہ مارچ کے مہینے تک کشمیریوں کو نظرانداز کرنے کا سلسلہ کسی بھی قیمت پر جاری رکھیں گے تاآنکہ بھارت کی پانچ اہم ریاستوں میںانتخابات کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔ لہٰذا بجائے اس کے کہ اس دوران ایجی ٹیشن کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ذریعہ بنایا جائے، کشمیری قیادت کو چاہیے کہ وہ سیاسی امور پر توجہ مرکوز کرے۔
سول سوسائٹی
جب تک حکومت، حریت او رحزب اختلاف اپنی اپنی سمت میںرواں ہوجائیں ، مقامی سول سوسائٹی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بعض مشکل نکات پر باہمی اتفاق پیدا کرنے کی سمت میںپہل کرے۔ حالانکہ لفظ ’سول سوسائٹی‘ کو یہاں اکثر منفی انداز میں ہی استعمال کیا گیا ہے لیکن یہ اتنی اثردار پہلے کبھی نہ تھی جتنی کہ گزشتہ چند برسوں میں بنی ہے۔ ایسے بعض مسائل جن کی وجہ سے کشمیر میںماضی میں تضاد رہا ہے ، گو سول سوسائٹی نے بہتر انداز میں اٹھایا ہے اور اب ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے رائے عامہ یا اتفاق کیسے پیدا کیا جائے۔ ایسا بمشکل ہی کوئی مسئلہ ہوگا، جس کا تعلق سیاست کے ساتھ نہیں ہوگا۔ لہٰذا تنازعات اور مشکل اوقات میں سول سوسائٹی کو ایک درمیانہ دار کی حیثیت سے کام کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے او ربحث و مباحثے کے لیے جگہ ہموار کرنا اس کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے۔
کشمیری سماج کی ایک بات بہت بری بات یہ ہے کہ یہ خود کو تذبذب کے ایسے جالوں میں لپیٹ لیتاہے ، جو ان عناصر کی جانب سے بنے جارہے ہوتے ہیں، جن کے اپنے حقیر مفادات اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں او ران ہی حالات میں سول سوسائٹی کی مداخلت انتہائی ضروری بن جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ برسوںکے دوران کشمیر کی سول سوسائٹی نے ایسا کیا ہے اور حالیہ شورش سمیت ایسے کئی معاملات مثلاً شرنارتھیوں اور جائیداد کی منتقلی سے متعلق قانون کے حوالے سے، جس میں کہ ریاست کے خصوصی درجے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، میں سول سوسائٹی کی بروقت مداخلت سے ایسے حساس معاملات کو سمجھنے میں کافی مدد ملی ہے۔
ان کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی غیر موجودگی میں ایسے مسائل مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں او رتنازعات میں مزید شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ اب جبکہ ہم ایک نئے سال میں داخل ہوچکے ہیں۔ اس بات پر سوچنے کی بجائے کہ گزشتہ سال میں سیاست پر کس کا غلبہ تھا، یہ بات صاف ہے کہ زخم اتنی جلدی مندمل نہیں ہوپائیں گے لیکن عوام ایک ایسے مستقبل کی ضرور آس لگائے بیٹھے ہیں، جو انھیںایک باعزت زندگی دینے کی وعدہ بند ہو۔ یہ خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہوگا، یہ دیکھنا ان لوگوں کا کام ہے ، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میںہماری ترجمانی کرتے ہیں۔ قائدین کوچاہیے کہ وہ اس سمت میں رہنمائی کریں اور عوام کو ایک باوقار اور باعزت زندگی فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *