کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ صرف طاقت کا مظاہرہ ہے

Share Article

damiہم نے اعلان کیا تھا کہ کشمیر کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں اور ان سے جڑے لوگ، دلی سے آئے پارلیمانی وفد سے نہیں ملیں گے۔کوئی ان سے نہیں ملا۔ ہمارے پاس جب وہ آگئے تو ہم نے یہ سوچا کہ جب ہمارے کہنے پر کسی نے بھی ان کے ساتھ ملنا گوارہ نہیں کیا، تو ہمیں ملنے کا کیا جواز ہے۔ اس لئے ہم نے ان سے بات نہیں کی۔ لیکن اس کے بعد یشونت سنہا صاحب وغیرہ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے طور سے آئے ہیں، حکومت کی طرف سے نہیں۔ ہم نے اپنا کرایہ دیا ہے، اپنی طرف سے دیا ہے۔ صرف اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں درد محسوس ہو رہا ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر ہمیں دکھ ہورہاہے۔ اس بنیاد پر ہم نے ان سے بات کی۔ اب بھی اگر اسی طرح کی سوچ کے ساتھ کچھ اور لوگ یہاں آئیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہاں قتل و غارت ہو رہی ہے، تو ہم ان سے بات چیت کریں گے۔ یہاں جو سب سے بڑا المیہ ہے، جسے اس دور میں ہمیں دیکھناپڑ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور بچوں کی آنکھوں کی روشنی ختم کردی گئی ہے ۔ انشاء 11 سال کی لڑکی ہے۔ پیلیٹ گن کے حملے میں اس کی آنکھیں چلی گئی ہیں۔ اب اسے پتہ نہیں ہے کہ دن ہے یا رات ۔ اس کی طرح بہت سی لڑکیاں اور جوان اور بھی ہیں جو آنکھوں سے محروم ہو چکے ہیں ۔یہ بہت بڑی ٹریجڈی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ابھی تک اس طرح کا واقعہ کہیں اور نہیں ہوا ہے، جہاں اپنے ہی لوگوں کی آنکھیں لے لی گئی ہوں، لیکن ہندوستان کی حکومت اور ہندوستان کی سیاسی قیادت سنگدلی کا بہت زیادہ مظاہرہ کررہی ہے۔ان کے سینوں میں دل نہیں ہے، انہیں محسوس نہیں ہورہا ہے کہ ہمارا دکھ کیا ہے۔ وہ ہمارا دُکھ محسوس نہیں کرتے۔ ان کا دل، دل کے بجائے پتھر ہے۔ یہ تاریخ کی ایک بہت بڑی ٹریجڈی ہے۔اس درد کو سمجھتے ہوئے جو لوگ بھی آئیں، ہم ان کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہاں آنے کے بعد وہ ہندوستان میں جاکر پھر کیا کریں گے، کیا بیان دیں گے، ان سے اس بارے میں تو کوئی توقع تو نہیں رکھی جاسکتی ۔ہمیں نہیں معلوم کہ وہ یہاں سے جاکر کوئی انقلاب لا سکیں گے یا وہاں جا کر کوئی تبدیلی لا سکیں گے یا حکومت کے دائرے میں کوئی ایسی تبدیلی لا سکیں ۔لیکن جہاں تک ان کے جذبے کا تعلق ہے، جہاں تک ان کے دکھ محسوس کرنے کا تعلق ہے اور جہاں تک یہاں کے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کا تعلق ہے، اس نسبت سے ہمیں ان سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جہاں تک بات چیت کے سلسلے کو شروع کرنے کا سوال ہے تو بات چیت کے لئے پروسیس تو شروع ہوتے رہے ہیں،لیکن بہر حال دیکھنا یہ ہے ان کا مائنڈ سیٹ کیا ہے؟
جہاں تک باہر سے آئے لوگوں سے ملنے جلنے کا سوال ہے، سول سوسائٹی کے لوگوں سے ملنے کا سوال ہے تو سب سے پہلے تو یہاں کی صورت حال کے بارے میں آپ کو صحیح معلومات ہونی چاہئے۔ یہاں کی صورت حال یہ ہے کہ ہم کو گھر کی چہار دیواری سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، ہمارے پاس کوئی آئے تو، اس کو بھی اندر آنے نہیں دیتے۔ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ ہمیں جموں جانے کا کوئی موقع دیا جائے،کوئی اس کی امید نہیں ہے کہ ہم کو جموں کے لوگوں کے ساتھ ملنے کا موقع دیا جائے۔ 2006 میں مَیں جموں گیا تھا تو میں نے وہاں لوگوں کے ساتھ تعلقات بنائے۔ مسلمانوں کے ساتھ بھی اور غیر مسلموں کے ساتھ بھی ۔میری وہاں موجودگی کی وجہ سے ایک انقلابی صورت حال پیدا ہو گئی تھی۔پھر 2007 میں یہی امید لے کر میں جموں گیا۔ 2006میں وہاں بہت اچھا کام ہوا تھا ۔لوگوں کے ساتھ ملاقات ہوئی،لوگوں نے میری بات سنی اور اپنے جو مسائل تھے، ہمارے سامنے رکھے۔ بہت اچھا ماحول بنا تھا وہاں۔لیکن 2007 میں جب میں گیاتو جانے کے وقت سے لے کر 27دنوں تک ،مجھے بند رکھا گیا ،نہ نماز پڑھنے کا موقع دیا گیا، نہ جمعہ کی نماز پڑھنے کا موقع دیا گیا یہاں تک کہ عید کی نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی پولیس نے۔ 27دنوں کے بعد میں واپس دلی چلا گیا۔ اس کے بعد سے جموں جانے کا کوئی موقع نہیں ملا مجھے۔ ہمارے کچھ دوست ہیں وہاں، سرّاف صاحب ، ارون جوشی وغیرہ ہیں۔ ان کے ہمارے بڑے اچھے تعلقات ہیں۔ان کی بیٹیوں کی شادیاں تھیں۔ انہوں نے ہمیں دعوت دی، لیکن پھر خود ہی انہوں نے کہا کہ یہاں کا ماحول خراب ہے، آپ نہ آئیں،ہم معافی مانگتے ہیں۔ وہاں جو بجرنگ دل کے لوگ ہیں، شیو سینا کے لوگ ہیں یا پروین توگڑیا جیسے لوگ ہیں، انہوں نے جب سنا کہ گیلانی یہاں آنے والے ہیں تو انہوں نے ان پر دبائو ڈالا تھا کہ ہم کو یہاں نہیں آنے دے۔ ایسی صورت حال میں آپ یہ کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ جموں کے لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات ہوں۔ میں 15 سال اسمبلی میں رہا ہوں اور 6مہینے کے لئے ہم برابر جموں میں رہتے تھے۔ وہاں ہمارے بہت تعلقات ہیں غیر مسلم بھائیوں سے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا طرزِ عمل کیا ہے، ہم کس طرح پیش آتے ہیں اور ہماری پالیسی کیا ہے؟ہماری آئیڈیالوجی کیا ہے؟بہر حال انسان کا احترام ہمارے دلوں اور رگوں میں موجود ہے۔ جو بھی انسان ہو، چاہے کسی بھی زبان سے،کسی بھی مذہب سے ،کسی بھی وطن سے تعلق رکھتا ہو، لیکن بحیثیت انسان اس کا احترام ہونا چاہئے۔یہ احترام ہمارے رگوں میں خون کی طرح ہے۔ اس نسبت سے وہاں ہمارے بڑے دوست ہیں۔ لیکن ہمیں جانے نہیں دیتے۔ حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ ہم لوگوں کو وہاں جانے کا موقع نہیں دیا جائے ۔جہاں تک ہمارے بچوں کی سیاست میں آنے یا ہماری وراثت سنبھالنے کا سوال ہے تو میں یہ صاف کر دوں کہ ہمارے بچوں کی وابستگی اسی آئیڈیالوجی سے ہے جس کے ذریعہ ہم اس غلامی کے خلاف لڑائی کررہے ہیں، وہ اسے تسلیم کرتے ہیں،یہ میرے لئے بڑی خوشی کی بات ہے،لیکن پالٹیکس میں وہ ایکٹیو نہیں ہیں۔ یہ ان کے اختیار میں ہے کہ وہ پالٹیکس میں آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
ہڑتال کو لے کر حریت لیڈروں کی ابھی ایک میٹنگ ہوئی تھی، اس میں ہم نے سارے اسٹیک ہولڈرز کو بلایا تھا۔ یہ جاننے کے لئے کہ ہڑتال کو لے کر ان کی منشا کیا ہے؟ تقریباً 200لوگوں کو بلایا تھا،جو خاص خاص لوگ تھے،لیکن 300 سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے۔ سب کو بات کرنے کا موقع دیا گیا۔ ان سے بات چیت کر کے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کیا ہڑتال کو ابھی جاری رکھنا ہے۔ اس میٹنگ میں اس بات پر بھی غور ہوا کہ ایسی صورت میں جب ہمارے لوگوں نے اتنی قربانیاں دی ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ ہڑتال جاری رکھنی چاہئے تاکہ ہم ان کا حق ادا کرسکیں اور لوگوں کے دلوں میں جو دکھ ہے، جو غم ہے جو صدمہ ہے ،اس پر مرہم لگا سکیں۔ ان لوگوں کو ہم نے یہ احساس دلایا کہ دل میں ابھی جو زخم ہے وہ ابھی تک تازہ ہے۔ ہڑتال جاری رکھنے کے فیصلے کے پیچھے یہ پہلی وجہ تھی۔ اس میٹنگ میں ہم سب کی باتیں سنتے رہے۔ آخر کار ہم نے اپنی بات کی۔ سب کا شکریہ ادا کیا۔ ہم نے لوگوں سے کہا کہ ہمہندوستان کے فوجی قبضے میں ہیں ۔اس قبضے سے ہم نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ہندوستان کو یاد دلاتے رہنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر کے عوام سے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، چاہے سکھ ہو یا کرسچن ، چاہے بودھ ہو، سے جو وعدہ کیا تھا،اسے پورا کرے۔ ہمیں اپنے حق ( سیلف ڈیٹرمنیشن) کے استعمال کا موقع دیا جائے، جیسا کہ ہم سے ہندوستان نے وعدہ کیا تھا۔ سب سے پہلے لال چوک پر شیخ عبدا للہ نے کہا کہ ہم اپنی فوجیں واپس بلائیں گے اور جموں وکشمیر کے عوام کو مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیںگے ۔پھر اگست 1952 میں جواہر لال نہرو نے کہا کہ ہم نے جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، انہیں کے ساتھ نہیں بلکہ پا کستان کے لوگوں کے ساتھ بھی ہے اور عالمی برادری کے ساتھ بھی، وہ وعدہ ہم پورا کریں گے ۔پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی جبری قبضے کے روادار نہیں ہیں اور نہ ہی جبری شادی کا میں روادار ہوں۔یہ ان کے الفاظ ہیں۔
نہرو 1948 میں کشمیر مسئلے کو یو این لے گئے۔ وہاں جو بحث ہوئی، اس میں ان کا کہناتھا کہ جموں و کشمیر ہمارا ہے، ہمارا حصہ ہے اور جو قبائلی یہاں آگئے ہیں، ان کو نکالا جائے اور جموں و کشمیر کو کنٹرول کرنے کا ہمیں موقع دیا جائے۔ وہاں جب بحث ہوئی تو پاکستان نے بھی اپنا اسٹینڈ پیش کیا۔ لیکن وہاں یہ طے ہوا کہ نہیں’جموں و کشمیر از ناٹ اے پارٹ آف انڈیا۔ دس ول بی ڈسپیوٹیڈ ٹیریٹری اینڈ دی پیپل آف جموں اینڈ کشمیر شد بیگیوین دی رائٹ آف سیلف ڈیٹرمنیشن، سو دیٹ دے ویل ڈیسائڈ ویدر دے وانٹ ٹو اسٹے وِد انڈیا اُور گو وِد پاکستان اور ریمن انڈیپنڈینٹ‘۔ اس پر بھارت نے دستخط کئے ہیں، تسلیم کیا ہے۔ پاکستان نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اور عالمی برادری اس کی گواہ ہے۔
بھارت سرکار نے ان قراردادوں پر دستخط کئے ہیں، ہم تبھی سے ان کی امپلی منٹیشن کے لئے بول رہے ہیں، لڑ رہے ہیں۔ لیکن بھارت نے طاقت کے بل پر ہمیں ڈرانے کی کوشش کی اور7 194
سے لے کر آج تک آپ دیکھیں گے کہ لاکھوں قربانیاں دی جاچکی ہیں۔اکتوبر 1947 میں صرف جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا اور مسلمانوں کو پاکستان جانے کو مجبور کر دیا گیا اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ سردیوںمیں سرکار سری نگر سے جموں چلی جاتی ہے۔ ابھی سارا دربار جموں چلا گیا ہے۔ ویسے تو ان کے یہاں رہتے بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ان کے یہاں رہتے ہوئے بھی لوگوں پر جو گولیاں چلیں، اسے روکنے کیلئے حکومت نے کوئی انتظام نہیں کیا۔جب کوئی پتھر چلاتا ہے تو اس کے بدلے میں گولیاں چلانے کا کیا مطلب ہے؟آج بھی یہاں (کشمیر ) مظالم ہو رہے ہیں۔ آج بھی یہاں راتوں میں کریک ڈائون ہوتے ہیں، گھروں میں گھسا جاتا ہے، دروازے توڑے جاتے ہیں، خواتین کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی ہیں، جوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور جیلوں میں بھیجا جاتا ہے اور سب سے سنسیٹیو(حساس ) بات تو یہ ہے کہ انہیں جموں کے جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ وہاں ان کے ساتھ زیادہ سختیاں ہوتی ہیں۔ جموں کا جو ایڈمنسٹریشن ہے، وہ بہت ہی بائسڈ ہے۔ہمارے جوانوں کے ساتھ ان کی بہت زیادہ دشمنی ہے۔ وہاں جو قیدی ہوتے ہیں، الگ الگ جرم کے، وہ بھی ہمارے جوانوں کو تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ سرکار اس میں ہماری کوئی مدد نہیں کر پاتی ہے۔ کشمیر پر ہندوستان کا جو قبضہ ہے، وہ صرف طاقت کا مظاہرہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *