کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی کے اُلٹے نتائج

Share Article

وادی کشمیر میںحکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز کو آئے دن بند کردینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صرف گزشتہ چار سال کے دوران یہاں حکومت نے’’ امن و قانون‘‘ بنائے رکھنے کے نام پر31مرتبہ انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی تھی۔لیکن ابھی حال میں پہلی بار حکومت نے فیس بُک،وہاٹس اپ، ٹویٹر ،سکائپ اور یو ٹیوب جیسی مشہور سائٹوں سمیت عوامی رابطے کی 22ویب سائٹوں کو ایک ماہ کے لئے بند کردینے کا اعلان کیا۔ ریاستی سرکار نے یہ پابندی 25اپریل کو ایک تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے نافذ کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکار نے سوشل میڈیا پر ایک ایسے وقت پابندی لگا ئی ہے، جب یہاں پہلے لگ بھگ ایک ماہ سے 3Gاور4Gانٹریٹ بند ہے۔ فی الوقت وادی میں صرف 2Gانٹرنیٹ سہولت دستیاب ہے۔
جموں وکشمیر سرکار نے سوشل میڈیا پر یہ پابندی 132سال پرانے قانون انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کے تحت لگائی ہے۔انگریزوں کے دور کے اس قانون رو سے حکومت ٹیلی گراف پیغامات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے پر روک لگاسکتی تھی۔ اب وادی کے ماہرین قانو ن میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس قانون کے تحت جدید ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے یا نہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کی رو سے انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہی نہیں جاسکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے ایک ایسے وقت وادی میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہے جب سپریم کورٹ نے صرف ہفتہ بھر پہلے ہی انٹرنیٹ سہولت کو شہریوں کا ’’بنیادی حق‘‘ قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس دیپک مشرا کی قیادت میں ایک بینچ نے ایک کیس کی شنوائی کے دوران یہ فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ سہولت اظہار رائے کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔لہٰذا حکومت کسی بھی صورت میں شہریوں کی انٹرنیٹ سہولت چھین نہیں سکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ سال 2015ء میں اقوام متحدہ نے انٹرنیٹ سہولت کو انسانی حقوق میں شامل کردیا ہے۔بھارت میں کیرل پہلی اسٹیٹ ہے ، جس نے اپنے شہریوں کے لئے انٹرنیٹ کو بنیادی حق تسلیم کیا ہے۔
عام کشمیریوں میں انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے جبکہ متعدد صحافیوں نے سماجی رابطے کی وئب سائٹیں بند ہوجانے سے ذرا دیر پہلے فیس بک پر اپنے ’’آخری پیغام ‘‘ میں حکومت کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں تنقید کی۔نوجوان صحافی گوہر گیلانی نے لکھا:’’ لڑکیوں اور لڑکوں کی جانب سے آزادی کے حق میں احتجاج سے بھوکھلاہٹ کا شکار ہوئی پی ڈی پی ۔ بی جے پی حکومت ایک ماہ کے لئے 22سوشل میڈیا وئب سائٹس بند کررہی ہے…دُنیا کی سب سے ’بڑی جمہوریت‘ کشمیر کا سچ باہر آنے سے خوفزدہ ہے، اسی لئے اس نے سوشل میڈیا کو ایک ماہ کے لئے بند کیا۔ جنگی جرائم کو چھپایا جارہا ہے۔‘‘معروف خاتون صحافی ہریندر بھاوجاانٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی کا ان الفاظ میں طنز کیا: ’’ کشمیر میں ای ۔کرفیو( الیکٹرانک کرفیو) نافذ۔ سوشل میڈیا پر پابندی۔ اب آگے کیا کروگے؟ ٹی وی چینلوں پر بھی پابندی لگائو تاکہ وادی سے کوئی خبر باہر نہ آئے۔‘‘ایک کشمیری نوجوان ارشاد نبی نے اپنے فیس بک کے پیچ پر لکھا،’’ بھارتی حکومت نے کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگادی۔ اب آپ ہمارے پوسٹس کشمیر کے ہر کونے اور ہر علاقے میں دیواروں پر پڑھیں گے۔اب ہر جگہ ہماری ٹائم لائن ہوگی۔‘‘ایک اور نوجوان حاذق قادری نے لکھاکہ ’’ پچھلے سال کرفیو نافذ کیا گیا، ہم غذائی اجناس اور دیگر چیزوں کے بغیر رہے۔ انٹرنیٹ کو بند کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم اسکے بغیر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ امن و قانون بنائے رکھنے کے نام پر انٹرنیٹ بند کرنے کے باوجود فی الوقت وادی میں نہ کہیں امن ہے اور نہ قانون نافذ نظر آتا ہے۔بلکہ حالات ہر گزرنے والے دن کے ساتھ بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ انٹر نیٹ بند ہوجانے کے نتیجے میں حکومت کے لئے جو نیا چیلنج شروع ہوگیا ہے ، وہ افواہ بازی کو روکنا ہے۔ کئی بار فورسز سے منسوب جبر و تشدد کی جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ چونکہ عوام کے پاس خبروں کی تصدیق کے لئے انٹر نیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے، اس لئے یہ جھوٹی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کی عدم موجودگی کی وجہ سے حکومت بھی بر وقت ان افواہوںکی تردیدنہیں کرپاتی ہے۔19اپریل کو وادی بھر میں اچانک یہ افواہ پھیل گئی کہ ضلع پلوامہ میں سیکورٹی فورسز نے سٹوڈنٹس کی اندھا دھند مار پیٹ کرکے 100طلباء کو شدید زخمی کردیا ، جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔ یہ افواہ پھیلتے ہی وادی کے دیگر علاقوں کے سکولوں اور کالجوں کے سٹوڈنٹس سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز پر پتھرائو شروع کیا۔ دن بھر جھڑپیں جاری رہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ پلوامہ میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔جس دن سرینگر پارلیمانی الیکشن ہورہے تھے، وادی میں افواہ پھیل گئی کہ مرکزی سرکار نے محبوبہ مفتی کی حکومت ڈس مس کردی ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ جھوٹ ہے۔15اپریل کو جب انتخابی نتائج سامنے آئے اور فاروق عبداللہ بطور ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ، تو اچانک یہ افواہ پھیل گئی کہ فاروق عبداللہ نے اپنی جیت کی خبر سننے کے فوراً بعد ہی فورسز کی ذیادتیوں پر بطور احتجاج پارلیمنٹ سیٹ سے مستعفی ہوجانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ افواہ بھی لگ بھگ دن بھر جاری رہی ۔21اپریل کو سرینگر میںافواہ پھیل گئی کہ چند دن قبل سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں اقرا نام کی جو لڑکی زخمی ہوگئی تھی، وہ دم توڑ بیٹھی ہے۔ یہ افواہ پھیلتے ہی سرینگر کے ڈائون ٹائون میں مختلف جگہوں پر نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو شروع کردیا۔
اسی طرح کی مختلف جھوٹی افواہیں تو یہاں تھوک کے حساب سے دن بھر گردش کرتی رہتی ہیں۔ دراصل انٹریٹ پر پابندی عائد کرکے حکومت نے خود افواہوں کے بازار کھول دیئے ہیں۔ کیونکہ جب آزاد اور مستند ذرائع تک عوام کی رسائی بند کی جاتی ہے تو وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پہلے لوگ کوئی بھی خبر سننے کے بعد یہاں کے بڑے اخبارات کی ویب سائٹس چیک کرکے دیکھ لیتے تھے کہ ان اخبارات نے یہ خبر اپ لوڈ کی ہے یا نہیں۔جب کوئی خبر بڑے اخبارات کی وئب سائٹس پر نہیں ملتی تھی تو لوگ سمجھ جاتے تھے کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔ لیکن اب خبر کی تصدیق کا کوئی فوری طریقہ کار نہیں ہے۔
2016میں وادی بھر میں احتجاجی لہر چھڑنے کے بعد حکومت نے تقریباً پانچ ماہ تک موبائل انٹر نیٹ سروسز بند کری تھی۔ آج بھی بعض پولیس افسران نجی گفتگو میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ 2016میںحالات حد سے زیادہ خراب ہوجانے کی جو متعدد وجوہات تھیں، ان میں ایک وجہ یہ بھی رہی کہ عوام کو حق اطلاعات سے محروم رکھا گیا۔ یعنی انٹرنیٹ بند کرکے انفارمیشن تک اُن کی رسائی چھین لی گئی۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایاکہ ’’ 2016میں ہر لمحہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے عوام پر ظلم و جبر کرنے کی سچی جھوٹی کہانیاں گردش کرتی رہتی تھیں۔ ہمارے پاس بھی لوگوں تک اصل حالات پہنچانے کا بھر وقت کوئی ذریع نہیں تھا۔ ان افواہوں کی وجہ سے لوگ مشتعل ہوجاتے تھے۔فورسز کے خلاف عوامی غم و غصہ برقرار رہتا تھا، نتیجے کے طور پر حالات چھ ماہ تک ٹھیک ہی نہیں ہو پائے۔‘‘
انٹر نیٹ پر پابندی کے جو دوسرے نتائج ان دنوں وادی میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ خود پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی بھی عوام تک رسائی بند ہوگئی ہے۔پہلے یہ پارٹیاں اپنے پریس ریلیز کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھی جاری کرتی تھیں ، لیکن اب ایسا نہیں کر تی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے کارکنوں کے ساتھ وہاٹس اپ کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے لیکن اب وہ رابطہ ختم ہوگیا ہے۔ ہم انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے میٹنگوں کا انعقاد بھی نہیں کرپاتے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ عام طور سے ٹویٹر پر متحرک رہتے تھے اور اسی ذریعے سے اپنے خیالات عوام تک پہنچاتے تھے۔ لیکن اب وہ ایسا نہیں پائیں گے۔اننت ناگ پارلیمانی سیٹ کے لئے 25مئی کو انتخابات ہورہے ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں حالات خراب رہنے کی وجہ سے سیاسی لیڈران اور کارکنان سماجی رابطے کی وئب سائٹوں کے ذریعے ہی انتخابی مہم چلارہے تھے، جو اب بند ہوچکی ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایاکہ’’ ہم عجیب کشمکش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ الیکشن مہم چلانے کے لئے کھلے عام اپنے حلقہ انتخاب میں بھی نہیں جاپارہے ہیں اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے بھی عوام تک اپنی بات نہیں پہنچا پارہے ہیں۔‘‘
انٹر نیٹ بند ہوجانے کے نتیجے میں صحافیوں کو بھی کچھ کم مشکلات کا سامنا نہیں کرناپڑ رہا ہے۔ اخباری دفاتر میں کام کاج بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ مختلف اضلاع میں کام کرنے والے نمائندے اپنی تحریری رپورٹیں دفتر نہیں بھیج پاتے ہیں۔ دلی کے اخبارات کے لئے کام کرنے والے صحافیوں کو بھی اسی طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انٹرنیٹ پر پابندی کے نتیجے میں ٹیلی کام کمپنیاں بھی مسلسل خسارے سے دوچار ہورہی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2016میں انٹرنیٹ پر پابندی کے نتیجے میں جموں کشمیر میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 180کروڑ روپے کا نقصان اٹھا ناپڑا تھا۔ٹیلی کام ریگولرٹری اتھارٹی آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 31دسمبر2016تک جموں کشمیر میںایک کروڑ، 12 لاکھ،72 ہزار ، 751) موبائل فون صارفین رجسٹر ڈتھے۔ ظاہر ہے کہ اتنی تعداد میں صارفین کی انٹرنیٹ سروس بند ہوجانے کا نقصان براہ راست ٹیلی کام کمپنیوں کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انٹرنیٹ پابندی کا غالباً سب سے زیادہ نقصان ریاست میں آئی ٹی شعبے کو ہورہا ہے۔ گزشتہ سال بھی ہزاروں نوجوان حالات خراب ہوجانے اور انٹر نیٹ بند ہوجانے کی وجہ سے اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔اب پھر سے وہی سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ وہ تاجر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، جن کے بزنس کا تعلق براہ راست انٹرنیٹ سے جڑا ہے۔ یہاں فی الوقت آن لائن شاپنگ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کوریئر کمپنیوں کا کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے بجلی ، پانی اور دیگر چیزوں کی بلیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔سٹوڈنٹس کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ وہ اپنے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی وئب سائٹس تک رسائی سے محروم ہیں۔ غرض انٹر نیٹ پر پابندی نے کشمیر کو عملاًدہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مشتاق احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی کی وجہ سے تاجروں کو ہورہے نقصان کی بھر پائی کرے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ جب یہ ( حکومت ) انٹر نیٹ پر پابندی عائد کرتی ہے تو انہیں اُن لوگوں کو معاوضہ بھی دینا چاہیے، جنہیں اسکی وجہ سے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امن قائم کرنے کی خاطرانٹرنیٹ کو بند کرچکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر انٹرنیٹ بند کرنے سے امن قائم ہوجاتا تو گزشتہ چار سال میں 31بار ایسا کرنے سے یہاں امن قائم کیوں نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے حالات سدھارنے اور یہاں حقیقی امن قائم کرنے کیلئے انٹرنیٹ بند کرنا نہیں بلکہ بات چیت کے دروازے کھول دینے ضروری ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *