کشمیریوں کو سب سے بڑا دھوکہ میڈیا اور سیاست دانوں سے ہورہا ہے

Share Article

damiہندوستان کے عوام کو سمجھنا چاہئے کہ کتنی زیادتیاں ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ہورہی ہیں۔یہاں 15 ہزار کے قریب نوجوانوں کو زخمی کیا گیا،4000 ایسے جوان ہیں،جن کو پیلیٹ لگا ہے۔ ان میں سے تقریبا ً 1100 کے آس پاس ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں پیلیٹ لگا ہے۔ تقریباً 300 ایسے ہیں جن کی دونوں آنکھوں میں پیلیٹ لگا ہے۔ آفیسر تو کہتے ہیں کہ 7,500 لیکن 10 ہزار نوجوانوں کو یہاں گرفتار کیا گیاہے۔ 97 کے قریب معصوموں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیاگیا ہے۔ ان حالات میں یہاں کی بیوروکریسی اور یہاں کے حکمراں، یہاں سے بھاگنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے ہیں۔ یہ دبے کچلے کشمیریوں کے تئیں ان کی بے رحمی ہے۔ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں اگر اس طرح سے تشدد ہوا ہوتا، تو اخلاقی بنیاد پر اس حکمراں نے، اس پارٹی نے ریزائن کیا ہوتا۔ کشمیر ہندوستان کی سرحدی ریاست ہے، حساس ریاست ہے۔ اسے وزارت داخلہ چلا رہی ہے۔ یہ یو پی ، بہار اور بنگال نہیں ہے۔ ہندوستان میں ڈیموکریسی ہو سکتی ہے۔ ہندوستان ایک ڈیموکریٹک ملک ہو سکتاہے لیکن وہ لکھن پور کے اُس پار ہے۔ اِدھر اتنا خون خرابہ ہوا، کوئی جوابدہ ہی نہیں ہے، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ میں یہ پیغام ہندوستان کے عوام تک پہنچانا چاہوں گا کہ ریاست جموں و کشمیر کے جو لوگ ہیں، وہ ہندوستان کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ جو ہندوستان کے حکمراں ہیں، جنہوں نے زیادتیاں کی ہیں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ، ہم ان کے خلاف ہیں۔ ہم خون خرابے کے خلاف ہیں۔ ہمیں آئی ایس آئی ایس کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ میں یہ کہناچاہوں گا کہ کشمیر میں کوئی آئی ایس آئی ایس نہیں ہے۔ ویسے آئی ایس آئی ایس کسی کا نہیں ہے، نہ مسلمانوں کا ہے، نہ کشمیریوں کا ہے، نہ اسلام کا ہے، کسی کا نہیں ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ہم مذہبی جنون والے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ یہاں چین کے بھی جھنڈے لہرائے گئے، آزاد کشمیر کے جھنڈے لہرائے گئے، خود مختاری کے جھنڈے لہرائے گئے، اس کو آپ کیوں نہیں دیکھتے ہیں۔ہندوستانی میڈیا کو یہاں صرف پاکستان کے جھنڈے ہی نظر آتے ہیں۔ ہم جمہوری طریقے سے سیاسی لڑائی لڑ رہے ہیں، اپنے بنیادی حق کے لئے۔ اسے آپ انتہا پسندی کا نام دیں، تو یہ ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔ اس کو آپ کراس بارڈر ایجی ٹیشن یا موومنٹ کا نام دیں، یہ ہمارے ساتھ زیادتی ہے۔ ہندوستان کے حکمراں اور میڈیا وہاں کے لوگوں کو سچائی نہیں بتاتے ۔
بدقسمتی سے کشمیریوں کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ میڈیا اور سیاست دانوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ کشمیری حکمراں ایجنٹ ہیں، وہ ہمارے خون خرابے میں ہندوستان کی سرکار کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ پی ڈی پی نے اپنے مینی فیسٹو میں کہا تھا کہ آر ایس ایس آرہا ہے، بی جے پی آرہی ہے، تو ہمیں ان کے خلاف ہونا چاہئے۔ لیکن انتخاب کے بعد وہ بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ یہ تو دھوکہ ہے ۔ اسی طرح سے نیشنل کانفرنس نے بھی اس وقت این ڈی اے کے ساتھ گٹھ بندھن کیا تھا۔ وہ بھی کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ تھا۔ محبوبہ جی نے کہا کہ پروٹیسٹ کرنے والے صرف 5 فیصد لوگ ہیں۔ اگر باقی لوگ ہندوستان کے ساتھ ہیں، تو ہندوستان کو خوشی محسوس کرنی چاہئے۔ جموں و کشمیر میں انتخاب کے بعد سشما سوراج جی نے بھی یونائٹیڈ نیشنز میں کہا تھا کہ یہ ہندوستان کی حمایت میں ووٹ ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر انہیں ریفرنڈم کرانا چاہئے۔ اگر لوگ ان کو سپورٹ کریں گے تو اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔آپ دنیابھر کے لوگوں کو ایک آبزرور کے طور پر بلاکر غیر جانبدار اور دھاندلی سے پاک ریفرنڈم کرا لیجئے۔ ہم اسے مانیں گے۔حریت یا آزادی پسند جو لوگ ہیں وہ ڈنڈا لے کر نہیں ہیں۔
جب ہم کشمیر کی بات کرتے ہیں، تو ہم جغرافیائی طور سے اس کشمیر کی بات کرتے ہیں جو 1947 کے پہلے تھا۔ جس کا ایک حصہ آج پاکستان کے قبضے میں ہے۔ جب میں ہندوستان سے کہتا ہوں کہ یہاں سے اپنی فوجیں نکالیں تو ہم صرف ہندوستان سے نہیں کہتے، ہم پاکستان سے بھی کہتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر سے ان کو بھی فوج نکالنی ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا والے یہاں آئیں، کشمیریوں سے بات کریں، حریت سے بات کریں۔ ہمارا صحیح پوائنٹ آف ویو وہاں پہنچائیں تو ہمیں خوشی ہوگی۔ ہم تو آج کل ہندوستان کے کسی اخبار والے سے نہیں ملتے، لیکن سنتوش بھارتیہ جی سے سبھی حریت والے ملنا کیوں پسند کرتے ہیں،کیونکہ سنتوش بھارتیہ چار بار کشمیر آئے ہیں اور پیک آف ایجی ٹیشن میں یہاں کے لوگوں کے ساتھ ان کا پوائنٹ آف ویو پیش کرنے کی کوشش کی ہیں۔
حال یہ ہے کہ ہندوستان اپنی ہر کمی کو کشمیر سے جوڑ رہا ہے۔ ڈیمونیٹائزیشن وہاں ہوا، کرنسی ہندوستان میں بدلی جارہی ہے اور پاریکر صاحب کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں حالات اس سے ٹھیک ہوں گے۔1000- 500 لے کر کوئی اپنی جان پر نہیں کھیل سکتا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آئے، تو کیا وہ لاکھوں لوگ پاکستانی ایجنٹ ہیں۔ میں پاریکر صاحب سے پوچھنا چاہوں گا، ہندوستان کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے پوچھنا چاہوں گا کہ اگر 80لاکھ کی آبادی میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی ایجنٹ ہیں تو آپ کشمیر میں کیا کررہے ہیں؟آپ کی 7لاکھ فوجیں کیا کررہی ہیں کشمیر میں ؟آپ نے پوری سیز فائر لائن پر باڑ لگائی ہے اور آپ پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں کراس بارڈر ٹیریزم ہے، جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔ آپ کو ماننا ہوگا کہ کشمیر میں بہت زیادتیاں ہوئیںگزشتہ 70 سالوں میں۔زیادتیاں تب بھی ہوئیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ ہندوستان میں جاٹ آندولن چلا، جس میں اسٹیٹ پراپرٹی کو 30 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ کتنے لوگ مارے گئے۔ گجرات میں پٹیل آندولن ہوا۔ ان سب میں آپ نے گولی نہیں چلائی، پیلیٹ نہیں چلایا ، کشمیر میں ہی کیوں؟تبھی تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کے جیسا سلوک کیا جارہاہے۔ آپ ہمیں ہندوستان کا صحیح حصہ نہیں سمجھتے ہیں۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ لوگ اب تنگ آچکے ہیں ہندوستان کی اس دھوکہ باز لیڈرشپ سے، ہندوستان کے ان ایجنٹوں سے۔ لوگ اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں۔کشمیر 4-3 نیو کلیئر پاورس سے گھرا ہوا ہے۔ہندوستان، پاکستان اور چین سبھی نیو کلیئر پاورس ہیں۔ ان حالات میں حریت کے لیڈر جیو پالٹیکلس کو دیکھ رہے ہیں۔ کشمیر جو ابھی سینڈ ویچ ہورہا ہے ہندوستان، پاکستان اور چین کے بیچ میں، ہم اس سے نکلنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے جنگ کی تباہی دیکھی ہے، سیاسی عدم استحکام کا دکھ سہا ہے ہم نے۔ اسی لئے لوگوں نے چار مہینے ایسی ہڑتال کی ۔ہندوستان سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان انہیں پیسہ دے رہا ہے ۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون سا راستہ ہے جس سے پاکستان سے پیسہ آرہا ہے؟لوگوں کے جو بنیادی سیاسی حقوق ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق ہیں ، ان کو روندا جارہا ہے۔ لوگوں کے پیٹ کے اوپر مونگ دلا جارہا ہے۔ ہندوستان تو بہت بڑا ملک ہے۔ ان کی فوج کے پاس تو نظم و ضبط ہونا چاہئے۔کون سا حق ہے ہندوستان کو، حقوق انسانی کے مطابق یا ہندوستان کے قانون کے مطابق کہ وہ کسی بستی میں جاکر وہاں گھر کی جائیدار کو لوٹے، توڑ پھوڑ کرے۔ لوگ اپنے بنیادی حقوق کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی جائیداد کو لوٹ رہے ہیں، معصوموں کا خون بہا رہے ہیں۔ کون ان کی آنکھوں کی بینائی واپس دے گا؟میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے اخبار والے آئے ، ایک آزاد ٹیم آجائیں، سول سوسائٹی گروپ آئے ، حریت والوں سے نہ ملیں ، لوگوں سے ملیں اور دیکھیں کہ کیسے ہندوستانی فوج نے اربوں کا نقصان کیا ہے۔ ہندوستان کی فوج میں بھی اب بد عنوانی آگئی ہے، بارڈرس پر بھی خریدا جارہا ہے ان کے لوگوں کو۔ اس میں وہ لوگ بھی ہیں جو کارگل کے دور کے کفن چور ہیں۔
آپ نے کشمیریوں کو کتنا ٹارچر کیا، یہاں فوج بھی رہی ہے، فوج سڑکوں پر رہی ہے، بی ایس ایف بھی رہی ہے، سی آر پی ایف تو ہے ہی۔ وہ کشمیر کے سینٹی منٹ کو ختم نہیں کر سکے۔ کچھ حقائق دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جنہیں آپ بدل نہیں سکتے۔ طاقت سے آپ کچھ وقت تک کچھ ٹھیک کر سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے نہیں۔پورا کشمیر 80 لاکھ کی آبادی ، 90 دنوں تک کرفیو میں رہا۔ لیکن کیا ہوا؟جموں ،پیر پنجال، کارگل ، لداخ جسے آپ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں، وہاں کے لوگ بھی سڑکوں پر آئے اور کہا کہ ہم اس سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کا حل چاہتے ہیں۔ جس طرح ویتنام نے امریکہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اسی طرح سے ادھر بھی ہوگا۔ تبھی یہ ہندوستان کے عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ وہاں کی بڑی آبادی ایسی ہے جو ستائے گئے بے قصور لوگوں کے حق میں بولے گی۔ہم ان لوگوں تک اپنی آواز پہنچاناچاہتے ہیں۔ دلی میں اسی لئے حریت کانفرنس نے اپنی آفس کھولا تھا۔ ہم نے سوچا تھا کہ ہم ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھائیں گے۔لیکن ہندوستان کی حکومت نے اس کو بھی بند کردیا ۔ حریت لیڈر شپ جب بھی کہیں جانا چاہتی ہے ،ان پر پتھرائو کیا جاتا ہے ، حملے کئے جاتے ہیں۔ تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہندوستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، جمہوری ملک ہے یا انتہا پسند ؟ ہندوستان کے لوگوں کو یہ طے کرنا ہے۔ اگر وہ جمہوری ملک ہے تو اسے کشمیری لیڈر شپ کو سننا پڑے گا۔ آج کس کی آواز سنی جا رہی ہے کشمیر میں، بندوق کی تو نہیں سنی جارہی ہے، آج لوگوں کی بات سنی جارہی ہے ۔ ہمیں تو یہ بھی نہیںمعلوم ہے کہ کون لیڈر ہے، ہم کہہ رہے ہیں کہ مسئلے کو حل کیا جائے۔ تب برصغیر میں امن قائم ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کیا جنگ لڑیں گے آپ؟ آپ نے تین جنگیں لڑیں لیکن فیصلہ نہیں ہوا۔ آج آپ دونوں ایٹمی پاور ہیں، تو جنگ کریں گے آپ؟ جھوٹ بول رہے ہیں آپ عوام سے ۔ ہم تو جنگ نہیں چاہتے۔ ہندوستان کی 65-60 فیصد آبادی آج بھی غریبی لائن سے نیچے ہے۔ ہمارے دل تو ان کے لئے بھی دھڑکتے ہیں، کیوں نہیں دھڑکیں گے؟ان کے لئے پانی نہیں ہے، بجلی نہیں ہے، تعلیم نہیں ہے۔ یہی حالت پاکستان کی بھی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہاں سات لاکھ فوجوں پر جو خرچہ ہورہاہے، اس کو تھوڑا کم کرکے آپ تعلیم پر کریں، آپ ہمیں کیا سبق دیں گے؟کشمیر میں کوئی عدم مساوات نہیں ہے۔میری بیوی خود پڑھی لکھی ہیں، پڑھا رہی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے بالمقابل کشمیر میں خواتین کا تعلیمی اوسط بھی اچھا ہے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہماری بچیاں اسکول نہ جائیں۔ آپ نے تو یہاں پوری طرح سے میڈیا پر بین لگا دیا، انٹر نیٹ پر بین لگا دیا لیکن ہمیں فکر ہے۔ پھر بھی ہمارے بچے جارہے ہیں پڑھنے۔
ہم بھی چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کریں۔ہم ہندوستان کی ترقی چاہتے ہیں،ہم پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ چین کے ساتھ بھی اپنے مسئلے کا حل ڈھونڈیں ، بات آگے بڑھائیں، تب جاکر اس پورے سائوتھ ایشیا میں امن قائم ہوگا۔ تاریخی اور حقائق کے نظریئے سے ان معاملوں کو حل کرنا ہوگا۔ حالانکہ یہاں پاکستان حامی لوگوں کی ایک اچھی تعداد ہے لیکن اکثریت آزادی چاہتی ہے، خود مختاری یا ڈیمیلی ٹرائزیشن چاہتی ہے ۔ تب لازم ہے کہ اگر ہم امن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہوگا۔ آبادی اور ایریا کے حساب سے دنیا میں سب سے زیادہ عسکریت والی کوئی جگہ ہے تو وہ کشمیر ہے۔ آپ دیکھیں ہندوستان میں کیا ہورہا ہے؟ انتہا پسندی بڑھ رہی ہے، اسے بھلے آپ کوئی مذہبی نام دے دیں، اسلامی انتہا پسندی یا ہندو انتہا پسندی ۔ ہندوستانی سماج انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہاہے۔ کہیں کوئی بات کرتا ہے، کہیں کوئی دھرنا آندولن کرنا چاہتا ہے ،چاہے وہ بالی ووڈ سے ہو، چاہے جنتر منتر پر ہو،چاہے ہندوستان کی یونیورسٹی میں بچے ہوں، سب کو دیش دروہی کہہ دیتے ہیں۔ ہندوستان کی یونیورسٹیز کے پروفیسر ، ہندوستان کی سول سوسائٹی ، ہندوستان کے پالیٹیشین ، اگر یہ سب کسی دوسرے ملک کے ایجنٹ ہیں تو پھر ہندوستان کا خدا ہی مالک ہے۔ اگر یہ سارے ہی دوسرے ملک کے ایجنٹ ہیں تو پھر ہندوستان کا خدا ہی حافظ ہے۔
کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ اس کو سیاسی طریقے سے ہی حل کرنے کی اہلیت اور صلاحیت ہونی چاہئے ۔ کشمیر کو لاء اینڈ آرڈر اور پاکستانی پریزم کے نظریئے سے دیکھنے کی عادت بدلنی ہوگی۔ ہم دنیا کے جیو پالٹیکس کو بھی سمجھتے ہیں، ہندوستان اور پاکستان کی مجبوری کو بھی سمجھتے ہیں ۔لیکن ہندوستان اور پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات کی قدر کریں۔یہ ایک کمپلیکس مسئلہ ہے۔،لیکن آج تک دنیا کے کئی بڑے کمپلیکس مسائل کا حل ہوا ہے۔ 20ویں صدی میں ہوا، 21 صدی میں بھی ہوا۔ 21 ویں صدی میں سائوتھ سوڈان آزاد ہوا۔ ہمارے ساتھ تو دھوکہ ہوا ہے۔ ہندوستان کے فرسٹ پرائم منسٹر پنڈت جواہر لال نہرو نے یہاں جن حقوق کا وعدہ کیا تھا، وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ سرحدیں 21 ویں صدی میں نہیں بدل سکتی ہیں،لیکن سائوتھ سوڈان میں تو یہ ہوا۔ اسکاٹ لینڈ کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے ۔ڈیموکریسی تو یہی ہوتی ہے کہ آپ لوگوں کی رائے کا احترام کریں۔ کشمیر ایشو کو یونائٹیڈ نیشنز میں لے کر کون گیا؟میں تو نہیں گیا، حریت تو نہیں گئی، ہندوستان لے گیا اس ایشو کو یونائٹیڈ نیشنز میں۔ آپ کہتے ہیں کہ 70سال ہو گئے۔ وقت بدلنے سے اگریمنٹ نہیں بدلتے، اگر ایسا ہے، تو برصغیر کی تقسیم پر بھی پھر سے سوچا جاسکتا ہے۔یہ سوال وہاں بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ سمجھوتے تب بدل سکتے ہیں، جب دونوں پارٹیاں اس کو مانیں کہ ہم اس پر پھر سے سوچیں گے۔ ہندوستان نے ایک خود مختاری دی تھی کشمیر کو ۔کیا ہوا اس کا ؟ہماری آئینی گارنٹی کو کس نے چھینا؟
بنیادی طور سے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی ہندوستان کے پاس پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت والے وزیر اعظم ہیں۔ جب وہ فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں تو آگے کون فیصلہ کر سکتاہے؟نریندر مودی کے پاس ایک ذمہ داری ہے، کیونکہ عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے۔ مودی جی اپنا گلوبل رول نبھانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس ایک موقع ہے۔اس کے لئے انہیں سب سے پہلے اپنے اندر سیاسی قوت ارادی پیدا کرنی ہوگی۔ خود میں ایک کنفیڈنس پیدا کرنی ہوگی کہ میں اس مسئلے کو ایڈریس کروں گا کشمیر آکر، وہ ہمیں لالی پاپ دکھائیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیر آکر تو انہیں سیاسی حل کی بات کرنی ہوگی۔ انہیں پالٹیکل ایشو کو ایڈریس کرنا ہوگا۔مجھے اس دن بڑی حیران ہوئی جب ہندوستان کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کشمیر آئے ۔پریس کانفرنس تو انہیں کرنا چاہئے تھا۔ لگ رہا تھا کہ وہاں وزیر داخلہ نہیں ہیں، یہ ایڈریس تو وہاں کا وزیر اعلیٰ کررہا ہے۔ کشمیر کی سرکار نے ہندوستان اور ہندو ستان کے وزیر داخلہ کو بے عزت کیا۔ نہیں کرنا چاہئے تھا اس طرح سے۔ تبھی تو میں کہتا ہوں کہ ہندوستان میں سیاسی قوت ارادی کی ضرورت ہے۔وہ قبول کریں کہ کشمیر ایک حقیقت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *