ڈاکٹر اسلم جمشید پوری
ا…م…می…
ایک دلدوز چیخ فضا میں بلندہوئی۔ جیسے کوئی نیزہ لگنے سے چیختاہے یا کوئی نئی عمر کا بکرا ذبح ہورہاہو اوراس کے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی ہوں۔
چیخ کی آواز سن کر اس کا دل بیٹھ گیاتھا۔ وہ ہزاروں میں بھی اپنے بیٹے کی آواز پہچان سکتی تھی۔ چیخ اس کے بڑے بیٹے داور کی تھی۔ اس کے ہاتھ رک گئے۔ وہ نیچے باتھ روم میں اپنے چھوٹے بیٹے یاور جس کی عمر تقریباً سال بھر تھی، کو نہلارہی تھی۔ سب کچھ چھوڑ کر وہ بے تحاشا سیڑھیوں کی طرف لپکی۔ ایک ساتھ کئی کئی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ اوپر چھت کی طرف بھاگ رہی تھی۔ کئی بار اس کی لمبی شلوار کا ڈھیلا پائینچہ اس کے تلوئوں میں دب کر الجھ گیا، وہ گرتی پڑتی چھت پر جاپہنچی…
چھت کا منظر دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔
داور کی گردن سے خون کا فوارہ چھوٹ رہاتھا… اس کے حلق سے ذبح ہوتے ہوئے مرغ کی سی آوازیں نکل رہی تھیں۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہاتھا… پاس ہی بدحواس سا خاور کھڑاتھا۔
’’ارے میرے لعل…‘‘
کہتی ہوئی وہ داور کی طرف دوڑی۔
ْْْْْْْ……….
شمع کی شادی کو دس سال ہوگئے تھے۔ وہ سلطان کے ساتھ بہت خوش تھی۔ سلطان کمپنی میں سپروائزر تھے۔ بارہ، پندرہ سال کی سروس میں وہ بمشکل تمام ایک چھوٹا سامکان تعمیر کراپائے تھے۔ یوں تو آزادنگر میں زمینوں اورمکانوں کی قیمت آسمان پر تھی اورآزادنگر میں تو یوں بھی اب پلاٹ تھے ہی نہیں۔ جب سے ملک کی فضا میں فرقہ پرستی کازہر پھیلا ہے۔ لوگ اپنے اپنے خیموں میں سمٹنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں آبادی کا polarisationہواہے۔ لوگ اپنے اپنے مذہب کی آبادی میں آبادہوتے گئے۔ آزاد بستی، جمشیدپورشہر کاایک خاص علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی کثیرآبادی آبادہے۔ شہرسنگ و آہن کے لوگ امن وسکون سے رہتے آئے تھے لیکن 64اور79کے فسادات نے یہاں کی آبادی کو کچھ ایسی نظر سے دیکھا کہ سب کچھ تہس نہس ہوگیا۔ مسلمانوں نے غیرمحفوظ علاقوں سے ہجرت کرکے آزادبستی کے آس پاس کے علاقے کو آباد کرنا شروع کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پچیس، تیس برسوں ہی میں باون گھوڑا، بگان شاہی، مردہ گھاٹی میدان، جواہرنگر، پرولیاروڈ، کپالی، چونابستی، عطرلائن، ملت نگر، کبیر نگر، ٹی خان میدان سے ہوتا ہوا یہ علاقہ سورن ریکھا ندی تک جا پہنچا اور دوسری طرف چانڈل کی سرحدوں تک جہاں سے پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتاہے۔
سلطان نے بڑی بھاگ دوڑ کے بعد کبیر نگر میں ایک، کٹھا زمین لے کر مکان بنوایاتھا۔ مکان کیا تھا۔ دوکمرے، کچن اور باتھ روم… کچن اور باتھ روم کے اوپر سے چھت کی سیڑھیاں… مکان ابھی ادھورا ہی تھا۔ لیکن اپنا مکان اپنا ہی ہوتاہے وہ خواہ بڑا ہویا چھوٹا، پورابنا یا ادھورا… یہی سبب تھا کہ سلطان اور شمع ادھورے مکان میں ہی منتقل ہوگئے تھے۔ چھت کے اوپر بائونڈری وال نہیں ہوئی تھی… سلطان نے شمع کو سمجھادیاتھا۔
’’دیکھوشمع! داور اور خاور کاخیال رکھنا چھت پر نہ جائیں۔‘‘
اللہ نے شمع کو تین بیٹے عطا کیے تھے۔ داور آٹھ سال کے ہورہے تھے اور خاور چھٹے برس کی سرحدپار کررہے تھے۔ یاور ابھی نوماہ ہی کے تھے…یاور کی پیدائش پرشمع نے اللہ کا بہت شکر اداکیاتھا۔ اسے خوشی تھی کہ سلطان کا گھر جواب تک بیٹوں سے محروم تھا، اب ایسا بارآورہوا کہ جتنے سجدۂ شکرکرو کم ہیں۔
سلطان کے تین بھائی تھے مگر کسی کے بیٹا نہیں تھا۔ کسی کے ایک، تو کسی کے دو۔ دو بیٹیاں ہی تھیں۔ شمع کے پہلے بچے کی پیدائش پر گھر کا ماحول کشیدہ تھا۔ سلطان کی والدہ بہت فکر مند تھیں۔ انہیں گھر کا وارث چاہیے تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہیں شمع بھی دوسری بہوئوں کی طرح انہیں مایوس نہ کردے۔ خودشمع کا حال براتھا۔ ایک طرف غیرحالت، دوسری طرف مرحلے سے گزرنے کا خوف اور تیسری طرف سب کی خواہش دعائوں کی شکل اختیار کرچکی تھی…
’’اولاد نرینہ دینا میرے مولیٰ۔‘‘
وہ کئی طرفہ حملے کاشکار تھی۔ اسے اب سمجھ میں آرہاتھا کہ اس کانام کتنا بامعنی ہے۔ اسے تو ہمیشہ دوسروں کے لیے جلنا ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، لیکن جان پر کھیل کر، تخلیق کے کرب سے گزرکر اس نے جواولاد پیدا کی، اس کی جنس کا پتہ لگا کر سب خوش تھے۔
دائی نے خبردی۔
’’مبارک ہو، بیٹاہوا ہے۔‘‘
سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑگئی۔
’’شمع جیتی رہو… تم نے ہمارے خاندان کا وارث پیداکیاہے۔‘‘
شمع کی ساس پھولے نہیں سمارہی تھی۔
سلطان کی خوشی کی انتہانہیں تھی۔ بظاہر سلطان کے دونوں بھائی، ان کی بیبیاں، سلطان کی بہن… سب خوش تھے۔ لیکن ان کے چہرے کی عارضی خوشی اورمصنوعی مسکراہٹ کو شمع نے بھانپ لیاتھا۔ ان کو شمع سے یہ امید نہیں تھی… وہ سمجھ رہے تھے کہ بیٹی ہوگی۔ شمع کو خوش ہوناچاہیے تھا۔ مگر بجائے خوشی کے وہ غصے میں تھی۔ اس ماں کی، کسی کو فکر نہیں تھی۔ جو اتنی تکالیف اور مشکلات کے بعد اولاد پیدا کرتی ہے۔ گویااس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسے گھر والوں کی ذہنیت پر غصہ تھا۔ سب کو بیٹا ہی چاہیے تھا۔ عورت کا مقدر یہی ہے۔ شمع کی طرح وہ روشن ہوکر دوسروں کو اجالے بانٹتی ہے اورخود چراغ تلے اندھیرے کے مصداق ہمیشہ اندھیرے میں رہتی ہے۔
’’بھابھی بہت بہت مبارک!!‘‘
سلطان کی بہن چہک رہی تھی۔ اس نے داور کو گود میں اٹھاتے ہوئے پیار کیا۔ سلطان کی والدہ پوتے کی خوشی میں مٹھائیاں بٹواری تھیں۔پورے گھر میں خوشیاں محورقص تھیں۔
ْْْْْْْ……….
شمع نے یکے بعددیگرے دوبیٹوں کوجنم دیا۔ داور اورخاور… دوسال چھوٹے بڑے، دونوںبھائی سب کی آنکھوں کاتارا تھے… خوبصورت گول مٹول… خاور دوسال چھوٹے ضرور تھے مگرماشاء اللہ صحت کے معاملے میں داور سے کہیں آگے تھے۔ جب خاور4سال کے تھے داور کے برابر لگتے تھے۔ دونوں بھائیوں کی جوڑی مشہور تھی… بڑے ہوکر دونوں اسکول جانے لگے۔
شمع اورسلطان کی زندگی ہموار راہوں پرگامزن تھی، سلطان ٹیسکومیں ٹھیکیدارکے تحت سپروائزرکاکام کرتے تھے۔ بس کسی طرح گھر چل رہاتھا۔ تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑ کر شمع اورسلطان نے کبیرنگر میں مکان بنوایاتھا۔ مکان بننے کے بعد وہ آزاد بستی کے آبائی مکان سے کبیرنگر منتقل ہوگئے تھے… اس دوران سلطان کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیاتھا۔ اب سب بھائی تاش کے پتوں کی طرح بکھرچکے تھے۔
ْْْْْْْ……….
شمع اپنے دوبیٹوں میں ہی خوش تھی۔ ہر وقت خدا کی بارگاہ میں ان کی سلامتی اور صحت کے لیے دعا کرتی رہتی۔ اچانک ایک دن شمع کو احساس ہوا کہ احتیاط کے باوجود ان سے کچھ گڑبڑہوگئی ہے۔ دراصل انسان کتنے ہی جتن کرلے۔ لاکھ تراکیب استعمال کرلے، لیکن قدرت کا قانون کبھی نہیں بدلتا۔ اللہ جب کسی کے بطن سے سے کسی بچے کو پیدا کرنا چاہتاہے تو وہ پیدا فرمادیتاہے… دنیاکا کوئی طریقہ اسے روک نہیں سکتا۔ یہی شمع کے ساتھ ہوا۔ شمع تیسرے بچے کی بھی ماں بنی۔ یاور کی پیدائش ، شمع کے لیے خدا کاعطیہ خاص تھی۔ یاوراپنے دونوں بھائیوں سے زیادہ خوبصورت تھا۔
داوراورخاور خود بھی کھیلتے اور یاور کو بھی کھلاتے رہتے… داور اورخاور خاصے ذہین تھے۔ نت نئی شرارتیں، ان کامشغلہ تھیں… دونوں مل کرکھیلتے نئی نئی ترکیبیںنکالتے…کھلونوں کی انجینئرنگ کرتے۔ کرکٹ کھیلتے۔ کیرم کی گوٹیوں پر لڑتے… اسکول جانے لگے تھے… واپسی پران کے کپڑے اتنے گندے ہوتے گویاکہیں زمین پر لوٹ کرآئے ہوں۔ دونوں اسکول میں بھی خوب کھیلتے تھے۔ جس دن اسکول کی چھٹی ہوتی سمجھوگھر کی آفت آنے والی ہے۔ کب کون سی شرارت کریں گے کچھ پتہ نہیں۔ مہمانوں کے جوتے، چپل ادھر ادھر کردینا… سوغاتوں اور تحفوں کو چھپادینا۔ ایک دوسرے کو پکڑنے کے لیے ’’پکڑم پکڑائی‘‘ کھیلتے تو سارا گھر سرپر اٹھا لیتے… گھر ہی میں کرکٹ شروع ہوجاتا۔ کبھی کچھ ٹوٹتا۔ کبھی کچھ پھوٹتاپتنگ اڑانا توآتانہیں تھا، دھاگے میں کاغذ باندھے، کبھی کمرے میں کبھی باہر سڑک پر دوڑلگاتے۔ شمع ان کی حرکتوں سے نالاں اورخوش بھی تھی۔ وہ ان کی لمبی عمر کی دعائیں مانگاکرتی۔
ْْْْْْْ……….
ایک دن اسکول کی چھٹی تھی۔ دونوں دیر تک سوتے رہے۔ سلطان کام پر چلے گئے۔ شمع کا دل عجیب ساہورہاتھا۔ طبیعت میں کسلمندی تھی۔ باہرموسم بھی پل پل بدل رہاتھا۔ اس نے داور اورخاور دونوں کو جگایا۔ ضروریات سے فارغ ہوکر دونوں نے ناشتہ کیااور شمع کے کہنے پر ہوم ورک لے کر بیٹھ گئے۔ شمع گھر کے کام کاج نپٹا کے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئی۔ اس نے گرم پانی میں ٹھنڈا پانی ملایا اور پلاسٹک کے بڑے سے خوبصورت ٹب میں یاور کو کھڑا کرکے نہلانے لگی۔
ادھر دونوں بھائیوں نے جب دیکھا کہ امی، باتھ روم میں جاچکی ہیں، تو دونوں نے خاموشی سے کتابیں ایک طرف رکھیں اورآہستہ آہستہ چھت پر چلے گئے۔ چھت پر پہنچ کر دونوں بہت خوش ہوئے۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل تھے۔ کبھی کبھی دھوپ بھی بادلوں کے اندر سے باہر آجاتی… دونوں بھائی کچھ دیر یوں ہی موسم سے لطف اندوز ہوتے رہے پھر داور نے خاور سے اچھلتے ہوئے کہا۔
’’خاور… ایک آئیڈیا دماغ میں آیاہے۔‘‘
’’کیاہے بھائی…؟‘‘
’’کیوں ناآج ہم لوگ ابوکی طرح داڑھی بنائیں؟‘‘
’’ہاں…ہاں… بڑا زبردست آئیڈیاہے۔‘‘
خاورسیڑھیوں سے نیچے گیا اورتھوڑی دیر بعد ابو کی شیونگ کٹ لے آیا۔
’’بھئی واہ مزاآگیا… ارے خاور دیکھ اس میں چھوٹی سی قینچی ہے۔‘‘
’’صابن والاٹیوب بھی ہے۔‘‘
’’لائو میں تمہارے صابن لگائوں؟‘‘
خاور نے ٹیوب کو زور سے دبایا۔ سفیدسامرہم نکل کر چھت پر گرگیا گویا کسی مرغی نے بیٹ کردی ہو۔ خاور نے جلدی سے اپنی شہادت کی انگلی سے اٹھاکر داور کے چکنے گال پر لگادیا۔ پھر جلدی سے برش نکال کر، پورے چہرے اور گردن پر پھیرنے لگا۔
’’ارے کب تک جھاگ بناتارہے گا۔ جلدی کر ریزرچلا…‘‘
داورنے بے چین ہوتے ہوئے خاور سے کہا…
خاور نے ریزرلیا… اتفاق سے ریزر میں بلیڈلگاہواتھا۔ لگتاہے سلطان جلدی میں بلیڈ نکالنا بھول گئے تھے۔ خاور کاکام بن گیا تھا۔ داور کھڑا تھا۔ اس کے گال اور گردن پر صابن کے جھاگ تھے۔ خاور کے ہاتھ میں ریزر تھا۔
’’جلدی کرنا… کوئی آگیا تو سارا کھیل بگڑجائے گا۔‘‘
داورکی بات پر، خاور نے ہمت کرکے ریزر داہنے ہاتھ میں لیااور بائیں ہاتھ سے داور کی ٹھوڑی پکڑلی… وہ ٹھوڑی کے نیچے سے صابن صاف کرنے کی تیاری کررہاتھا… کبھی ریزر کو سیدھا کرلیتا، کبھی ٹیڑھا۔
’’یارجلدی کر…‘‘
داور کی ڈانٹ سے خاور میں توانائی آگئی تھی… خاورنے ریزرلے کر الٹے ہاتھ سے تھوڑی اٹھائی۔ ریزرنیچے کی طرف کھینچا۔
تھوڑا صابن صاف ہوگیا۔ داورکو گدگدی سی محسوس ہوئی۔
’’ارے جلدی جلدی کرنا…‘‘
داور نے پھرڈانٹا۔ اس بارخاور نے تیزدبائو کے ساتھ ریزر گردن پر چلایا۔
’’ا…م…می…‘‘
دلدوزچیخ کے ساتھ داور دہاڑیں مارنے لگا۔ اس کی گردن کی رگ کٹ گئی تھی۔ خون کا فوارہ ابلنے لگا… پل کے پل میں داور نیچے چھت کے فرش پر تڑپنے لگا۔ اس کی چیخوں نے فضا کو دہلادیاتھا۔ ماں تو، ماںہوتی ہے۔ ہزاروں کوس دور بھی اولاد تکلیف میں ہو، آواز دے رہی ہو، تو ماں اسے پہچان لیتی ہے۔ اولاد کے درد وکرب کو سمجھ جاتی ہے۔ پہلی چیخ پر شمع ایک ساتھ کئی کئی سیڑھیاں پھلانگتی، چھت کی طرف دوڑپڑی… چھت کا منظر دیکھ کر اس کے اوسان خطاہوگئے۔ نیچے داور تڑپ رہاتھا۔ خون کا فوارہ اس کی گردن سے پھوٹ رہاتھا۔ چاروں طرف خون ہی خون تھا۔ ایک طرف ریزرہاتھ میں لیے بدحواس سا، ڈر اور حیرت کی مورتی بنا خاور کھڑاتھا۔ جیسے ہی اس نے شمع کو اپنی طرف آتے دیکھا خوف اور ڈر کی کیفیت میں وہ چیخا…
’’امی…میں نے کچھ نہیں کیا…‘‘
’’امی…‘‘
شمع اسے پکڑنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی، وہ دیکھ رہی تھی کہ خاور مستقل پیچھے ہٹ رہاہے اور اس کی پشت کی طرف چھت کی چاردیواری نہیں تھی۔
’’رک جائو…خاور…‘‘
وہ اپنی پوری قوت سے چیخی۔
’’نہیں… امی…‘‘
’’دھڑام!‘‘
ایک دلدوز چیخ فضا میں بلند ہوئی اور خاور چھت سے نیچے اس جانب جاگرا جدھر پختہ سڑک تھی۔
’’ارے میرابیٹا…‘‘
شمع بہت زور سے چیخی… اس کی دنیا اجڑچکی تھی۔ ایک طرف داور خون میں لت پت، اب ساکت ہوگیاتھا، دوسری طرف سڑک پر خاور کاجسم تڑپ کر ٹھنڈا ہوگیاتھا۔ اسے ایسا محسوس ہوا گویا کسی نے سینے سے اس کا دل نکال لیاہو…وہ طوفان میں شجر تنہا کی مانند رہ گئی تھی۔ اس کی زندگی کو کسی کی نظر لگ گئی تھی۔ اس میں اب زندہ رہنے کی تاب نہیں تھی۔ اس سے قبل کہ وہ غش کھاکر گرتی اچانک اسے یاور کی یادآئی… نہ جانے کہاں سے اس کے مردہ جسم میں توانائی پیداہوگئی۔ وہ گرتی پڑتی، دیوانوں کی طرح سیڑھیوں کی طرف بھاگی… سیڑھیاں کود کر وہ آناً فاناً باتھ روم میں داخل ہوئی… ہاتھ روم کا منظر قیامت خیز تھا… نظروں میں تاب نہ تھی… پانی بھرے ٹب میں یاور کامردہ جسم تیررہاتھا… اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ شمع کی لوتیز بھڑک کر خاموش ہوگئی تھی… اس کے جگر پارے، پارہ پارہ ہوچکے تھے… خود اس کا دل دھڑکنا بھول گیا… وہ باتھ روم کے دروازے پر ہی غش کھاکر گرگئی…
ہفتوں اس کا علاج چلتارہا۔ ایک دن صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو صبح کی نئی کرن اس کے چہرے پر پڑرہی تھی… سامنے سلطان کھڑے تھے… وہ کہہ رہے تھے۔
’’شمع، جیسی خدا کی مرضی… ہم تو، کٹھ پتلی ہیں۔ ہماری ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
’’نہیں!!!‘‘
شمع اس قدر زور سے چیخی کہ اسپتال کے کونے کونے میں آواز کا ارتعاش پھیل گیا۔ ایسا لگا گویا شمع کی چیخ میں داور اور خاور کی چیخیں یاور کی بے زبانی اور کائنات کا درد پوری قوت سے شامل ہوگیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here