یوسف انصاری

حال ہی میں پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر محمد ایوب پر ہوئے جان لیوا حملے نے ملک کی سماجی آزادی پر کئی طرح کے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اتر پردیش حکومت اور پولیس بھلے ہی اس کو ایک حادثہ قرار دے لیکن پہلی نظر میں ہی یہ حادثہ ڈاکٹر ایوب کو نپٹانے کی سازش لگتی ہے۔ حملہ اس طرح کیا گیا کہ یہ محض ایک حادثہ لگے۔بہر حال یہ حادثہ ہو یا پھر حملہ، اس کی وجہ سے ڈاکٹر ایوب کو کم سے کم تین مہینے کے لیے پوری طرح آرام پر جانا پڑا ہے۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب  صوبے میں انتخابی بساط بچھ رہی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں انتخاب کے مد نظر اپنے پر تول رہی ہیں۔ نئی نئی تنظیمیں اور نئی نئی پارٹیاں وجود میں آرہی ہیں۔ ایسے میں پیس پارٹی کو ڈاکٹر ایوب کے صحت مند ہونے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔وہ اپنی پارٹی کے صدر ہونے کے ساتھ واحد چہرہ بھی ہیں۔ڈاکٹر ایوب اور پیس پارٹی ایک دوسرے کا سایا بن کر ابھرے ہیں۔ایسے وقت میں ڈاکٹر ایوب کا اسپتال کے بستر  پر ہونا پارٹی کے انتخابی مہم پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دراصل پچھلے تین برس میں ڈاکٹر ایوب نے کڑی محنت اور پورے صوبے کا دورہ کرکے صوبے کی سیاست میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ نام کمایا ہے اور پارٹی کو اس مقام پر لاکر کھڑا کیا کہ آر ایل ڈی نے اس کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے اور کانگریس اس کے ساتھ اتحاد کرنے کو ترستی رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی میں پیس پارٹی کو لے کر عجیب سی بے چینی ہے۔ صوبہ کی وزیر اعلیٰ مایا وتی اور سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو اندر ہی اندر ڈرے ہوئے ہیں۔دونوں کو ڈر ہے کہ اگر مسلم ووٹ پیس پارٹی کو گیا تو ان کی لٹیا ڈوب جائے گی۔ بی ایس پی اور ایس پی کے کارکنان عوام کے درمیان یہ مشہور کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ ڈاکٹر ایوب کو گورکھپور کے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ اور سنگھ پریوار سے پیسہ مل رہا ہے۔کانگریس بھی اس پروپیگنڈے کو ہوا دے رہی ہے۔ اس کے پیچھے اصلی مقصد پیس پارٹی کے پیچھے تیزی سے مائل ہوتے مسلمانوں کو روکنا ہے۔ دراصل پیس پارٹی کے پیچھے، خاص کر پچھڑے مسلمانوں کے ساتھ ہی دلتوں اور ہندو پچھڑوں کا بھی ایک طبقہ تیزی سے جڑ رہا ہے۔اس اتحاد کے ساتھ پیس پارٹی صوبے میں ایک نئے متبادل کی شکل میں ابھر رہی ہے۔تمام پارٹیاں جانتی ہیں کہ اگر مسلمان پیس پارٹی کے پیچھے چل پڑے تو پیس پارٹی صوبے میں بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ مایاوتی کا اپنے بل پر دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب چکنا چور ہوکر بکھر جائے گا۔ملائم سنگھ یادو اقتدار میں آنے سے چوکے تو ان کا و ہی حشر ہوگا جو بہار میں لالو پرساد یادو کا ہوا ہے۔اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین دوبارہ حاصل کرنے میں جٹی کانگریس کے لیے اگلے اسمبلی انتخاب میں اتر پردیش سیاسی قبرستان ثابت ہو سکتا ہے۔
در اصل یہ تمام پارٹیاں بی جے پی کا ڈر دکھا کر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں۔ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی ایسی پارٹی صوبے میںاپنا وجود بنا رہی ہے جس کا صدر ایک مسلمان ہو اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ہندو سماج کے دبے کچلے طبقے کے حق میں بات کر رہی ہو۔ابھی تک ایسی جتنی بھی پارٹیاں بنیں جن کے صدر مسلمان ہیں، انہوں نے صرف جذباتی مدعوں پر مسلمانوں کو متحد ہونے کا نعرہ دیا ۔ انتخاب میں ان کا کردار صرف اتنا رہا کہ کوئی سماجوادی پارٹی سے پیسے لے کر بی ایس پی کے امیدواروں کو ہرا رہا ہے تو کوئی بی جے پی سے پیسے لے کر دوسری پارٹیوں کے مسلم ووٹ کاٹ رہا ہے۔ کسی نے کانگریس سے پیسہ لے کر  اس کے حق میں امیدوار بیٹھا دیے تو کہیں دوسری پارٹی کو ہرانے کے لیے کانگریس کی پسند کا امیدوار کھڑا کرا دیا۔ پچھلے کئی سال سے سیاست میں یہ کھیل چل رہا ہے ۔ نتیجہ یہ رہا کہ یہ تمام پارٹیاں محض ووٹ کٹوا پارٹی بن کر رہ گئیں۔ پیس پارٹی نے یہ دھارا بدل دی۔ پہلی بار صرف مسلم اتحاد کی بات کرنے کے باوجود کسی نے پچھڑوں ،انتہائی پچھڑوں کے ساتھ دلتوں اور مہا دلتوں کے مدعے کو لیا اور ایسے مدعے کو سیاسی مرکز میں لانے کی کوشش کی۔ اسی لیے ڈاکٹر ایوب سب کی آنکھ کا تنکا بن گئے ہیں۔پیس پارٹی نے امبیڈکر اور کانشی رام کی وراثت پر یہ نعرہ دے کر اپنا حق جتایا ہے کہ ’’کانشی رام کا مشن ادھورا، پیس پارٹی کرے گی پورا‘‘۔ اس نعرے کے بعد بی ایس پی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
پیس پارٹی کو لے کرسماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کا ڈر جائز بھی ہے۔ در اصل اپنے قیام کے بعد سے ہی پیس پارٹی نے اپنی شہرت میں لگاتار اضافہ کیاہے۔ پیس پارٹی فروری 2008 میں وجود میں آئی۔ قریب ایک سال بعد 2009 میں ہوئے لوک سبھا انتخاب میں اس نے 20 سیٹوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ پہلے ہی انتخاب میں پیس پارٹی نے شاندار مظاہرہ کر کے سب کو چونکادیا حالانکہ اس نے کوئی سیٹ نہیں جیتی ،لیکن اسے ایک فیصد ووٹ ملے۔ صوبے میں ووٹ پانے کے حساب سے وہ چھٹے نمبر پر رہی۔لوک سبھا کی خلیل آباد سیٹ پر اس کا امیدوار دوسرے نمبر پر رہا۔ پانچ سیٹوں پر اسے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے اور دس سیٹوں پر پچاس ہزار سے زیادہ یا اس سے تھوڑا کم ووٹ ملے۔لوک سبھا انتخاب کے بعد صوبے میں کئی سیٹوں پر ہوئے اسمبلی وسط مدتی انتخاب میں بھی کئی سیٹوں پر اس نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی سے زیادہ بہتر مظاہرہ کیا۔ ڈومریا گنج میں جہاں وہ تیسرے نمبر پر رہی تو لکھیم پور اسمبلی سیٹ پردوسرے نمبر پر۔ پچھلے سال اکتوبر میں صوبے میں ہوئے پنچایتی انتخاب میں کافی عمدہ مظاہرہ کیا۔ تقریباً 80 ضلع پنچایت ممبر،پیس پارٹی کے کارکنان منتخب ہوئے ہیں۔سب سے بڑی کامیابی پیس پارٹی کو مئو میں ضلع پنچایت صدر کا انتخاب جیت کر ملی۔
پیس پارٹی صوبے میں ہونے والے 2012 میں آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے جی جان سے جٹی ہوئی ہے۔اجیت سنگھ کی نگرانی والی آٹھ سیاسی جماعتوں کے اتحاد  میں وہ بھی شامل ہے۔اگر یہ اتحاد قائم رہا تو پیس پارٹی صوبے کی 250 سیٹوں پر انتخاب لڑے گی۔اگر اتحاد ٹوٹا تو وہ اکیلے ہی 350 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گی۔ظاہر ہے ایسے میں پیس پارٹی صوبے میں کئی سیاسی پارٹیوں کا توازن بگاڑ سکتی ہے۔صوبے میں پہلے سے ہی ایس پی، بی ایس پی، بی جے پی اور کانگریس کی شکل میں چوطرفہ مقابلہ ہے۔ ہر اسمبلی سیٹ پر اوسطاً تقریبا ڈھائی لاکھ ووٹ ہیں۔ پچھلے اسمبلی انتخاب میں چوطرفہ مقابلے میں زیادہ تر سیٹوں پر 50 ہزار ووٹوں پر فیصلہ ہو گیا۔اگلے انتخاب میں پیس پارٹی کی موجودگی سے زیادہ تر سیٹوں پر پنج طرفہ مقابلہ ہوگا۔ایسے حالات میں 10-20 ہزار ووٹوں کا ادھر ادھر ہونا سب کا کھیل بگاڑ سکتا ہے۔ چونکہ پیس پارٹی سب کا کھیل بگاڑنے کی طاقت رکھتی ہے، اس لیے اس کے صدر سب کے نشانے پر ہیں۔ شک کی سوئی سب کی طرف گھومتی ہے۔ ایسے میں اس معاملے میںجلد سی بی آئی جانچ ضروری ہو جاتی ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
بہر حال، ڈاکٹر ایوب اس حادثے میں زخمی ہوئے ہوں یا پھر ان پر جا ن لیوا حملہ ہوا ہو، اس کی وجہ سے وہ اور ان کی پیس پارٹی سرخیوں میں آ گئی ہے۔ پورے صوبے میں پیس پارٹی کے کارکنان ضلعی سطح پر دھرنے کی تیار ی میں جٹ گئے ہیں۔ڈاکٹر ایوب کو زیڈدرجے کی سیکورٹی دینے کی مانگ ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو لگنے لگا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر ایوب تمام پارٹیوں کے لیے چیلنج  بن گئے ہیں لہٰذا انہیں نپٹانے  کی سازش ہو سکتی ہے۔ اس حادثے سے پیس پارٹی کو مسلما نوں کی ہمدردی مل سکتی ہے۔لیکن ڈاکٹر ایوب کے تین مہینے بستر پر رہنے سے پارٹی کے سامنے کئی طرح کی چنوتیاں کھڑی ہو گئی ہیں۔ پارٹی سے جڑے بڑے لیڈر مانتے ہیں کہ فی الحال ان کی پارٹی کا دارو مدارڈاکٹر ایوب پر ہی ہے ۔ پارٹی میں ان کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ ایسے میں پیس پارٹی کو ایک ایسے متبادل کارکن کی سخت ضرورت ہے جس کی عوام میں شناخت ہو اور جو اپنے افکار و خیالات کے ذریعہ پارٹی کی نمائندگی کر سکے اور پارٹی کو آگے لے جا سکے، ورنہ عین انتخاب سے پہلے پارٹی میں نمائندگی کی کمی  ڈاکٹر ایوب کی تمام محنتوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here