پاکستانی حکومت عدلیہ آمنے سامنے

Share Article

شفیق عالم
سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میںپاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اگر ایک سال اوربر سر اقتدار رہتی ہے تویہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی منتخب حکومت ہوگی جس نے اپنی معینہ مدت پوری کی ہو۔بحر حال اولیّت کی فہرست میں گیلانی کا نا م اس وقت شامل ہو گیا جب سپریم کورٹ نے 13فروری2012کو ان پر قومی مفاہمتی آرڈنینس یعنی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کر تے ہو ئے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے خلاف بد عنوانی کے مقدموں کو دوبارہ کھولنے کے لئے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی وجہ سے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی سا ت رکنی بنچ نے فرد جرم عائد کردی۔ اوروہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بن گئے جن پر کسی عدالت نے توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہو۔

متنازعہ این آر او قانون سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں 5  اکتوبر 2007 کو لا یا گیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت 1 جنوری 1986 اور 12  اکتوبر 1999کے درمیان سیاست رہنماوں ، سیاسی کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف درج بد عنوانی ، غبن ، منی لانڈرنگ، قتل وغیرہ کے تمام مقدمات واپس لے لئے گئے تھے۔ اس آرڈیننس کاسب سے زیادو فائدہ آصف علی زرداری کو ہوا تھا۔لیکن سپریم کورٹ نے 16 دسمبر 2009 کو اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیتے ہو ئے مسترد کر دیا تھا اور  صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے پھر سے کھولنے کے لئے دسمبر 2009  سے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت پردباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔

 

تاہم ان سے قبل بھی سپریم کورٹ نے دو سا بق وزراء اعظم ذوا لفقار علی بھٹو اور نواز شر یف کوتوہین عدالت کے سلسلے میں نوٹس جاری کئے تھے لیکن ان پر مزید کاروائی نہیں ہوئی تھی۔
متنازعہ این آر او قانون سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں 5  اکتوبر 2007کو لا یا گیا تھا۔ اس آرڈیننس کے تحت 1جنوری 1986 اور 12  اکتوبر 1999کے درمیان سیاسی رہنماؤں ، سیاسی کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف درج بد عنوانی ، غبن ، منی لانڈرنگ، قتل وغیرہ کے تمام مقدمات واپس لے لئے گئے تھے۔ اس آرڈیننس کاسب سے زیادو فائدہ آصف علی زرداری کو ہوا تھا۔لیکن سپریم کورٹ نے 16 دسمبر2009کو اس آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دیتے ہو ئے مسترد کر دیا تھا اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے پھر سے کھولنے کے لئے دسمبر 2009  سے ہی پیپلز پارٹی کی حکومت پردباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔جبکہ حکومت یہ کہہ کر اس حکم پر عمل درآمد کرنے سے گریز کرتی رہی تھی کہ صدرکواندرون ملک اور بیرون ملک قانون کا پورا تحفظ حاصل ہے۔چنانچہ ان پر مقدمہ نہیں چلایا جاسکتاہے۔ اور یہی موجودہ سیاسی بحران کی وجہ ہے۔ دراصل یہ پورا معاملہ آئین کے تجزیہ کاہے۔ سپریم کورٹ یہ خیا ل کر تی ہے کہ آئین کے تجزئے کا خصوصی اختیاراسے ہی حا صل ہے جبکہ حکومت پارلیمنٹ کو جمہوریت کے دوسرے تمام اداروں میں سب سے بالاتر خیال کرتی ہے اور ملک کے سربراہ کے نا طے صدر جمہوریہ کو قانونی کاروائی سے مستثنیٰ خیال کرتی ہے۔ بعض سیا سی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ خود کو ایک الگ پاور بلاک کی شکل میں قایم کرنا چاہتی ہے ،جس کی وجہ سے جمہوریت کے دو ادارے (ایک منتخب اور دوسراغیر منتخب )برسرپیکار ہیں ۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیاکسی شخص کوخواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدہ پر فائز کیوں نہ ہو قانون سے بالا تر سمجھا جا سکتا ہے؟ صدر زرداری پر بدعنوانی کے سنگین الزامات لگائے گئے تھے ۔پاکستان میں انھیںMr 10 percentکے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ یہ خطاب انھیں انکی مرحوم بیگم بےنظیر بھٹو کے دور اقتدار میں ملاتھا۔ جنوری 1998 میں نیویارک ٹائم میں شائع ایک بڑی رپورٹ میںمسٹر زرداری کی ایک بڑی دھاندلی کا خلاصہ ہوا تھا۔ جس کے مطابق ان پر ایک فرانسیسی کمپنی سے 2 ارب ڈالر کے دفاعی سودے میں2کروڑ ڈالر رشوت لینے کا الزام تھا۔اگر یہ الزام صحیح ہے تو اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ عوام کے پیسے کی کس قدر لوٹ پاکستان میں ہوئی ہوگی۔اور تحریک انصاف پاکستان کے چیرمین عمران خان یہ کہنے میں با لکل حق بجانب ہیں کہ’ اگر وزیر اعظم بڑے چوروں کی چوری چھپاسکتے ہیں تو پھر چھوٹے چوروں کا کیا قصور ہے‘۔ ظاہر ہے یہ ان لوگوں کے سا تھ سخت ناانصافی ہو گی جنھیں چوری کے چھوٹے چھوٹے الزمات میں مجرم قرار دیا گیاہو گا۔اور اگر یہ الزامات غلط ہیں، جیسا کہ برسراقتدار جماعت کے لو گ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ سارے الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں ،تو پھرصدر زرداری کو عدالت میں بے قصور ثابت کر نے میں عار کیو ں ہے؟ اگر کسی ملک کا سربراہ اپنے ہی ملک کی عدلیہ پر یقین نہیں کرے گا تو وہ عوام کو اس پر عمل کرنے کو کیسے کہہ سکتا ہے۔ ظاہر ہے عدلیہ جمہوریت کے سب سے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے اس سے کمزور کرکے جمہوریت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔عدالت اور حکومت کے اس ٹکراؤ میں اپوزیشن عدالت کے ساتھ کھڑا نظر آرہا ہے۔مسلم لیگ(نواز)کے لیڈر نواز شریف نے کہا کہ ’حکومت نے خود کا اور قوم کا تماشہ بنا دیا ہے۔اور سپریم کورٹ پر ایک ناجائزبہتان لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ’ قوم کا لوٹا ہو ا پیسہ واپس لایا جائے۔اور سپریم کورٹ بھی یہی چاہتی ہے کہ ملک کا پیسہ واپس لایا جائے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب حکومت سوئس حکام کو خط لکھے‘۔دوسری جانب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی لند ن سے جاری اپنے بیان میں حکومت سے ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے اسے عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کا مشورہ دیاہے ۔ان تمام بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کے سا تھ سا تھ حکومت کی حلیف جماعتوں نے بھی عدالت سے سیدھے ٹکراؤ کے بجائے اس کے احترام پر زیا دہ زور دیا ہے۔
لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظرپاکستا نی وزیر اعظم نے عدالت کی حکم عدولی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ برسراقتدار پاکستان پیپلز پارٹی صدر آصف علی زرداری کا ہرطرح سے بچاؤ کرے گی۔وزیر اعظمگیلانی نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ سوئیس حکومت کو خط لکھنے کے بجائے جیل جانا پسند کریں گے۔ انھوں نے ابھی تک اپنے تیور نرم نہیں کئے ہیں۔ ایک ٹی وی انٹر ویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے تو انھو ں نے واضح طور پر کہا کہ اگر انکو سزا ہوگئی تو اپنے موجودہ عہدے اور نیشنل اسمبلی کی رکنیت کے خود بخود نااہل ہو جائیں گے۔اس لئے مستعفی ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتاـ۔ انکے اسی تیور کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (نواز) کے صدر نواز شریف نے کہا کہ’ کرپشن کے کیس میں اگر کوئی سیاسی شہید ہونا چاہے تو یہ اسکی مرضی ہے ، اسے شہید کا درجہ نہیں دیا جا سکتا‘۔ وہیںدوسری طرف تحریک انصا ف پاکستان کے چیرمین عمران خان نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’ وزیر اعظم لوٹ کا پیسہ پچانے کی کوشش کر رہے ہیںـ‘۔ نواز شریف 1999کے جنرل پرویز مشرف کے تختہ پلٹ کے بعد اپنی کھوئی ہوئی سیا سی زمین تلاش کررہے ہیں، جبکہعمر ان خان اپنے لئے نئی سیاسی زمین تیار کرنے کے لئے کوشاںہیں،ساتھ ہی انکی حالیہ ریلیوں میں امڈی غیرمعمولی بھیڑکی وجہ سے انکی خود اعتمادی کافی بڑھ گئی ہے۔حالیہ رپورٹوں کے مطابق وہ فوج کے پسندیدہ امیدوار بھی بن گئے ہیں۔اور انھیںسابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بھی حمائت حاصل ہے۔ظاہر ہے کہ ان دونوں کو پہلے سے ہی مختلف تنازعات میں مبتلا گیلانی حکومت کے خلاف ایک اہم مدعا ہاتھ آگیا ہے۔اور وہ حزب اختلاف کی دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ وزیراعظم کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں فوج کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی حکومت اپنے متنازعہ میمو میں اس خوف کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ ان کی منتخب حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کر رہی ہے۔
یہ رپورٹیں بھی آرہی ہیں کہ حکومت کی حلیف جماعتوں اور پیپلز پارٹی کے اندر بھی کچھ لوگ ایسے ہیںجنھوںنے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ عدالت سے تصادم کے بجائے مفاہمت کا رویہ اختیار کرے۔ سا تھ ہی یہ بھی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ صدر اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے خود کومعاف کر سکتے ہیں ، جیسا کہ انھوںنے اپنے چند قریبی ساتھیوں کے سلسلے میں کیاہے۔ لیکن اگر گیلانی ایک مختصر مدت کے لئے ہی سہی اگر عدالت کے ذریعہ نااہل قرار دے دیے جاتے ہیں تواس فیصلے کو زرداری بھی مسترد نہیں کرسکتے۔اورایسا کرنے سے عوام میں یہ پیغام بھی جائے گا کہ خود کو بچانے کے لئے موجودہ حکومت کسی بھی حد تک جاسکتی ہے جو نہ موجودہحکومت کے حق میں ہے اور نہ ہی ملک میں قدم جمانے کی جدوجہد کررہی جمہوریت کے حق میں۔ چونکہ پاکستا ن میںجمہوریت بڑی جد وجہد کے بعد آئی ہے لہٰذا موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حا لات پیدا نہ کرے جس کی وجہ سے جمہوریت مخالف اداروں کو ایک مثال بنا کر ایک بار پھر جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کا موقع مل جائے۔g

Share Article

One thought on “پاکستانی حکومت عدلیہ آمنے سامنے

  • March 19, 2012 at 11:51 am
    Permalink

    ppp govt ne hmesha pakistan ko 5ota hai.2hokedas 7e le kar sadar tak sab haramkhor r chor hein.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *