ووٹ بینک پالیسی

میگھناد دیسائی
جب کسی خاتون کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے، اس کی عصمت دری کی جاتی ہے یا اس کا قتل کیا جاتا ہے، تو اس کے لیے ایف آئی آر درج کرانے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ایف آئی آر درج کرانے کے علاوہ ملزم کو گرفتار کرنے میں، اس پر مقدمہ چلانے میں اور مجرم قرار دینے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ اس دوران اسے ضمانت مل جاتی ہے اور اس پر چلنے والے والے مقدمے کا وقت بھی اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ آشیش نندی نے ہمارے سماج میں پنپتی ہوئی بدعنوانی کے بارے میں ایک جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ طبقے کے لوگ بدعنوانی کر کے بھی بچ جاتے ہیںاور ایس سی / ایس ٹی کے لوگ اس سے کم ہی بچ پاتے ہیں۔ اس کے لیے انھیں طعنے بھی دیے جارہے ہیں۔ انھوں نے یہ بیان عوامی مقام پر دیااور جے پورلٹریچر فیسٹیول میں کسی نے ان کے خیالات کی تردید نہیں کی۔ جب آشیش نندی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، تو جے پور لٹریچر فیسٹیول کے ایک کنوینر سنجے رائے کو نوٹس بھیجا گیا اور آشیش نندی کو جے پور بلایا گیا۔ اس سے ہندوستانی سیاست کا چہرہ نظر آتا ہے کہ کس طرح لوگوں کے بیچ پھوٹ ڈال کر سیاسی روٹی سینکی جاتی ہے۔ یہاں جب کسی بھی گروپ کو لگتا ہے کہ کسی کے بیان سے اس کے فرقے کی بے عزتی ہورہی ہے، اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، تو اس کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، لیکن جب بڑے جرم ہوتے ہیں، تو اس طرف کسی کا دھیان بھی  نہیںجاتا ہے۔ یہ منڈل کمیشن کا ہی کرشمہ ہے۔ ذات کی بنیاد پر پہچان کا مطلب محض ووٹ بینک کی سیاست کرنا ہے۔ منڈل کمیشن کے دائرے سے باہر کی ذاتوں کو اس طرح کے معاملے سے ذات کی بنیاد پر اپنی پہچان کو اور مضبوط کرنے اور مبینہ بے عزتی کے لیے ہنگامہ کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
پولس کو بھی ووٹ بینک کی اس سیاست کا علم ہے، کیونکہ اس کے آقا کہتے ہیں کہ جب اس طرح کے معاملے سامنے آئیں، تو ان پر تیزی سے کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ ایسے معاملے ان کے سیاسی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ اگست میں ممبئی کے آزاد میدان میں جو واقعہ رونما ہوا، اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ کوکراجھار میں ہوئے فساد کی مخالفت میں آئے تھے، جہاں بوڈو اور مسلمانوں کے ساتھ تشدد ہوا تھا، لیکن آزاد میدان میں پولس کے ساتھ بھیڑ میں آئے لوگوں نے فساد کیا، خاتون پولس کے ساتھ بد تمیزی کی گئی، لیکن ان کے اوپر کارروائی نہیں کی گئی، کیونکہ یہ لوگ ایک بڑے ووٹ بینک ہیں۔ ایک خاتون پولس نے اپنی شاعری میں اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ خاتون پولس کے ساتھ تشدد کرنے والے لوگوں کو سزانہیں ملی۔ آزادیِ اظہار کو فراموش کر دیا گیا۔
کمال ہاسن کی نئی فلم ’وشو روپم ‘ کو فلم سینسر بورڈ نے پاس کر دیا، لیکن مسلم تنظیموں کی دھمکی کے سبب تمل ناڈو، کرناٹک اور آندھرا پردیش نے اس پر روک لگادی، جب کہ دھمکی دینے والے زیادہ تر لوگوں نے فلم دیکھی تک نہیں تھی۔ چنئی ہائی کورٹ نے فلم کو منظوری دے دی، لیکن بعد میں اس نے اپنا من بدل لیا۔ اب کمل ہاسن کو ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی فلم میں کچھ کاٹ چھانٹ کرنی پڑی ہے۔ کیا ہم لوگ فنکاروں کو یہ پیغام دے رہے ہیںکہ بھیڑ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ فنکاروں کو کیا دکھانا چاہیے اور کیا نہیں۔ ہندوستان کا آئین شہریوں کے اختیارات اور قانون کی حکمرانی کی پاکیزگی کے نظریے پر منحصر ہے۔ کسی بھی شہری کو اپنی بات کہنے کا اختیا رہے اور کسی کو بھی کسی کے نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے اور اس پر حجت کر سکتا ہے، لیکن کسی کو بھی دوسرے لوگوں کو دھمکی دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ سرکار کو لاء اینڈ آرڈر بحال کرنا ہوتا ہے، لیکن اس کے بدلے سرکار بھیڑ سے ڈر کر اسے ہی قانون بنانے کا اختیار دے دیتی ہے۔ کئی مثالیں ایسی ہیں، جو سرکار کے اس رویے کو ثابت کرتی ہیں۔ کہیں رام سینا بنگلور کے پب میں جانے والی لڑکیوں کی پٹائی کرتی ہے، تو کہیں جاٹ لوگ پس ماندہ طبقے میں شامل ہونے کے لیے تحریک چلاتے ہیں اور ریل کی پٹریاں توڑتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سیکولرزم کی غلط تعریف بتاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مذہب کے نام پر الگ الگ ریاستوں کے بیچ فرق ہے۔ نہرو نے اسے سمجھا تھا اور اس پر چلے بھی تھے، لیکن اندرا گاندھی نے ایک الگ شروعات کی۔ انھوںنے سیکولرزم کو ووٹ بینک کی بنیاد بنادیا۔ کانگریس کے لیے مسلم ووٹ بینک بنانے کے لیے انھوںنے دوسری پارٹیوں، خاص طور سے جن سنگھ کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ مسلمانوں کو کانگریس کی حمایت سے کچھ نہیں ملا،جیسا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے۔ وہ لوگ پس ماندگی کا شکار ہوتے رہے، جب کہ ان کی پارٹی کے لیڈر افطار پارٹی مناتے رہے۔ ان کی پس ماندگی ان کے لیڈروں کے لیے ضروری تھی، کیونکہ اسی کے سبب ان لوگوں پر عام مسلمانوںکا انحصار قائم رہ سکتا تھااور اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ مسلم ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ کچھ ترقی کے ماڈل کا ہے، جسے نہرو اور اندرا گاندھی نے نافذ کیا۔ سوشلزم کا مطلب اعلیٰ طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کو ملازمت دینا ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی صنعتیں کچھ گنے چنے لوگوں کو روزگارمہیا کراسکتی ہیں، جب کہ زیادہ تر لوگوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں ہی روزگار ملتا ہے۔ ایسے میں کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بنائے جانے والے قانون سے ان اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے حقوق کی ہی حفاظت ہو سکتی ہے، نہ کہ ان لوگوں کی جو پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں اور غریب کے غریب ہی بنے ہوئے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اگرآپ ملازمت چاہتے ہیں، تو اس کے لیے تعلیم کی نہیں، بلکہ سیاست کی ضرورت ہے۔ اس لیے جب 1989 میں اقتدارپر سے کانگریس کا اثر ختم ہوا، تو منڈل کمیشن نے ایس سی / ایس ٹی کے ساتھ او بی سی کو بھی ریزرویشن کے ذریعے بابو بنانے کا موقع دیا۔ یہ اختیار بعد کے نسلی گروہ کے ذریعے قائم رکھا گیا اور اس کی بنیاد پر یہ گروپ سیاست پر گرفت قائم کرنے میں بھی کامیاب رہا۔ کیا یہ امید کی جائے کہ کوئی تباہی کے اس رجحان کے خلاف کھڑا ہوگا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *