نیٹ سے اردو خارج اردو کے ساتھ سوتیلا پن کا ثبوت

Share Article

damiمئی کے ماہ میں نیٹ کا ٹیسٹ ہونے والا ہے ۔نیٹ کے ذریعہ 52 ہزار 305 ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس سیٹ پر میڈیکل سے دلچسپی رکھنے والے طلباء کا داخلہ ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ملک کے کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے لئے نیٹ میں کوالیفائی کرنا ضروری ہوتا ہے۔
2013 سے پہلے نیٹ ٹیسٹ میں دیگر زبانوں کے ساتھ اردو میں بھی جواب دینے کا آپشن ہوتا تھا لیکن 2013 میں مہاراشٹر حکومت نے سب سے پہلے اردو کا آپشن ختم کردیا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی۔عرضی کے جواب میں حکومت نے اپنا یہ موقف رکھا کہ اس کے ساتھ کچھ ٹیکنیکل دشواریاں ہیں، اس لئے وہ نیٹ میں اردو شامل نہیں کرسکی ۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر حکومت کو کوئی ٹیکنیکل دشواری ہے تو وہ اردو ٹیسٹ کا انعقاد الگ سے کراسکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد یہ سمجھا جارہا تھا کہ آنے والے تعلیمی سالوں میں حکومت اردو کو نیٹ کے ٹیسٹ میں لازمی طورپر شامل کرے گی لیکن تعلیمی سال 2017-18 کے نیٹ ٹیسٹ میں اردو کو خارج کردینے سے حکومت کا اردو کے ساتھ سوتیلے پن کا رویہ کھل کر سامنے آگیاہے۔ وزرات صحت اور فیملی ویلفیئر نے تعلیمی سال 2017-18کے نیٹ کے انٹرنس ٹیسٹ کے لیے10 قومی زبانوں کو شامل کیا ہے ، لیکن اس میں اردو کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ 2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق اردو زبان ہندوستان میں زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں چھٹے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں رہنے والی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اردو میڈیم سے ہے۔ملک کی کئی ریاستوں میں اردو دوسری سرکاری زبانوں میں شامل ہے اور اس زبان میں ایک لاکھ سے زائد طلباء انٹرمیڈیٹ امتحان دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں 40سے زائد اور مہاراشٹر میں 156اردو میڈیم جونیئر کالج موجود ہیں ۔صرف مہاراشٹر اور تلنگانہ میں تقریبا 20 ہزار بچے سائنس کی تعلیم اردو میڈیم سے حاصل کرتے ہیں۔ لیکن وزرات صحت کی طرف سے اردو کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ ان طلباء کے مستقبل کو تاریک کررہا ہے۔
نیٹ 2017 کیلئے پہلے 8زبانوں ہندی‘ انگریزی‘ بنگالی‘ گجراتی ‘ مراٹھی‘ تامل، آسامی اور تلگو کونیٹ میں شامل کیا گیا تھا لیکن بعد میں دبائو کو دیکھتے ہوئے مزید 2زبانوں کو اس میں شامل کرلیا گیا ۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اردو ان دس زبانوں کہیں بھی شامل نہیں ہے۔مرکزی سرکار نے عدالت میں تکنیکی پریشانیوں کا حوالہ دے کر اردو میں امتحان نہ لئے جانے کی وجہ بتانے کی کوشش کی ہے جبکہ درج فہرست میں آٹھویں نمبر پر بولی جانے والی ہندوستانی زبان کنڑ صوبائی سرکار کی درخواست کے بعد شامل کرلی گئی ہے۔ مہاراشٹر اور تلنگانہ سرکاروں نے بھی اسی وقت درخواست دی تھی جب کرناٹک سرکار نے درخواست کی تھی مگر ایک کی مان لی گئی اور دوسرے کو نظر انداز کردیا گیا ،یہ سیدھے طور پر جانب داری کا ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں مرکزی حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ وزارت نے تمام ریاستوں سے نیٹ میں پسندیدہ زبانوں کو شامل کرنے کا مشورہ مانگا تھا۔ ان ریاستوں سے جن زبانوں کے لئے مشورے آئے، انہیں نیٹ میں شامل کرلیا گیا ۔حالانکہ تلنگانہ کی ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر اردو کو نیٹ میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی مگر اس پر توجہ نہیں دی گئی تھی جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر اردو کو نیٹ سے خارج کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ حکومت کے اس فیصلے سے ہزاروں بچوںکا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے مشہور طلباء تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا ( ایس آئی او ) نے کورٹ میں ایک عرضی داخل کی اور کورٹ سے اردو زبان کو نیٹ میں شامل کرنے کی فوری طور پر درخواست کی۔3 مارچ2017 کو سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے جس میں جسٹس کورین جوزیف اور آر بنومتھی شامل ہیں،میڈیکل کونسل آف انڈیاکو سوال نامہ جاری کیا، جس میں پوچھا گیا کہ آخر اردو زبان کو نیٹ میں شامل کیوں نہیں گیا، جب کہ اردو زبان ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں شامل ہے۔
ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ راویندر گریہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں کورٹ نے اپنا موقف واضح کردیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے 2013 میں حکومت کو یہ حکم نامہ جاری کیا تھا کہ نیٹ ٹیسٹ میں اردو زبان کو بھی شامل کیا جائے، لیکن حکومت نے اب تک اس پر عمل نہیں کیا۔یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ اردو بولنے والی اس بڑی تعداد کا خیال رکھتے ہوئے اردو کو نیٹ میں شامل کرلے۔
ایس آئی او کے قومی صدر نہاس مالا نے گزشتہ دنوں پریس کلب میں ایس آئی او کی جانب سے منعقد ایک کانفرنس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار ہر مرتبہ معاملے کو کسی نہ کسی بہانے ٹال دیتی ہے اور کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے بہانے بازی کرتی ہے۔اس موقع پر فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے کورڈینیٹر انعام الرحمن نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی اردو کے ساتھ سوتیلا پن برتا جارہا ہے اور اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ آج نیٹ سے اردو کو منصوبہ بند طریقے سے خارج کردیا گیا ہے۔مردم شماری میں آٹھویں نمبر پر بولی جانے والی زبان کو نیٹ میں شامل کیا گیا ہے مگر چھٹے نمبر پر شامل اردو کو خارج کردیا گیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند کے نیشنل سکریٹری انعام اللہ فلاحی نے کہا کہ مغربی بنگال، مہاراشٹر اور تلنگانہ میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جہاں اردو میں تعلیم دی جاتی ہے،کئی یونیورسٹیوں کا ذریعہ تعلیم بھی اردو ہے۔ایسے میں نیٹ سے اردو کا ہٹانا ان تمام بچوں کو میڈیکل سے دور رکھنے کی کوشش ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش اور دہلی جیسی ریاستوں میں بھی بڑے پیمانے پر اردو بولی اور پڑھی جاتی ہے۔ لیکن یہاں کی حکومتوں نے اس طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ ان ریاستی حکومتوں کے علاوہ وہ تمام ریاستیں جہاں اردو بولنے اور لکھنے پڑھنے والے افراد موجود ہیں، انہیں اس سلسلے میں آگے بڑھ کر نیٹ میں اردو کو شامل کرنے کی طرف پیش رفت کرنی چاہئے اور عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو پابند کرنے کی کوشش تیز کرنی چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *