نوٹوں پر پابندی کے اثرات سے سیاسی رہنما بھی محفوظ نہیں

Share Article

_92617103_f670c477-ce38-426b-bbd5-8e5ffeb442acبی جے پی کے رہنما ہری کرشن ان کا جگر فیل ہو گیا ہے اور نوٹ پر پابندی کے سبب آپریشن کے لیے پیسوں کا انتظام نہیں ہو پارہا ہے۔مرکز میں مودی کی حکومت نے اس ماہ 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کر دی تھی جس کا اثر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اب اہم عہدوں پر فائز سیاسی رہنماؤں پر بھی پڑ رہا ہے۔
مدھیہ پردیش میں حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک رہنما ہری کرشن گپتا، جو لدھورا نگر میں پارٹی صدر بھی ہیں، ان دنوں سخت بیماری میں مبتلا ہیں۔
ان کا جگر کام نہیں کر رہا اور ان کے علاج پر تقریباً 19 لاکھ روپے خرچ ہونے ہیں، اس لیے خاندان نے 11 لاکھ روپے جمع کر لیے تھے اور باقی کی رقم اپنا مکان اونے پونے فروخت کر کے پورا کرنے والے تھے۔
ہری کرشن کے مکان کے باہر علاج کے لیے مکان فروخت کرنے کا بورڈ لگا ہے جس پر لکھا ہے کہ یہ کم سے کم قیت پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔لیکن نوٹوں پر پابندی عائد ہونے کے سبب ہسپتال ان سے پرانے روپے نہیں لے رہا اور ان کا مکان خریدنے والے شخص نے بھی اب مکان لینے سے انکار کر دیا ہے۔
ہری کرشن گپتا کے بیٹے امت گپتا نے بتایا: ‘دہلی کے ایک ہسپتال نے پرانے نوٹ لینے سے انکار کر دیا اور مکان کا جو گاہک تھا اس نے بھی انکار کر دیا کہ موجودہ حالات میں وہ مکان لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
ہری کرشن گپتا گذشتہ چار ماہ سے بستر پر پڑے ہیں۔ 48 سالہ گپتا کو ڈاکٹروں نے دو ماہ پہلے جلد از جلد جگر ٹرانسپلاٹ کروانے کے لیے کہا تھا۔ لیکن پیسوں کے انتظام میں تاخیر ہوئی جس کے بعد 13 نومبر کو آپریشن کی تاریخ طے ہوئی تھی جسے پرانے نوٹوں کی وجہ سے نہیں کیا جا سکا۔
گپتا کے بھائی ہری موہن انھیں اپنا جگر عطیہ کرنے والے ہیں۔ ہری موہن بتاتے ہیں: ‘ہری کرشن کی حالت یہ ہے کہ ان کا وزن اب محض 40 کلو رہ گیا ہے۔ میرا جگر ان سے میچ ہو گیا ہے لیکن اب وہی روپیوں کا مسئلہ آ گیا۔
خاندان اب بھوپال کے ہسپتال میں علاج کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کے لوگوں نے ان سے کنارہ کشی کر لی ہے۔ نوٹوں کی تبدیلی کے لیے انھوں نے بہت سے بی جے پی کے لیڈروں سے رابطہ کیا لیکن کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔
دہلی کے جس بی ایل کپور ہسپتال میں ہری کرشن گپتا کا آپریشن ہونا تھا اس ہسپتال کی انتظآمیہ سے منسلک ایک شخص نے بتایا کہ اب ہسپتال میں کسی کام کے لیے بھی پرانے نوٹ نہیں لیے جا رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *