میں ساحر ہوں

Share Article

dami00آزادی کے بعد ممبئی فلم انڈسٹری ایک لحاظ سے اردو شاعروں کی جائے پناہ بن گئی۔ بڑی تعداد میں اردو شعرا نے اس مایا نگری کا رخ کیا اور کامیابی کے جھنڈے بھی گاڑے۔ مجروح، شکیل، ساحر، جاں نثار اختر، راجہ مہدی علی خاں، آنند بخشی، راجندر کرشن، گلزار، حسرت جے پوری، شمیم جے پوری، احمد وصی، ندا فاضلی، ایس ایچ بہاری، شیون رضوی وغیرہ نے فلمی گیتوں کو اردو رنگ و آہنگ سے اس طرح لبریز کردیا کہ ہندی ادب کا پس منظر رکھنے والے شاعروں مثلاً شیلندر، پردیپ، یوگیش، بھرت ویاس، نیرج وغیرہ نے بھی اپنے گیتوں کو اردو مزاج کے قریب رکھا۔ شکیل بدایونی اور ساحر لدھیانوی نے بھگتی رس میں ڈوبے لازوال بھجن بھی تخلیق کیے۔ ان بھجنوں میں بھی اردو زبان کی چاشنی برقرار رکھی۔
مگر اکیسویں صدی کے آتے آتے فلمی نغمہ نگاری کا منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا۔ پرانے شاعر اور اردو زبان سے واقف افراد رفتہ رفتہ دنیا سے رخصت ہونے لگے۔ اس کا زبردست اثر فلمی نغموں پر پڑا۔ موجودہ صدی میں ایسا لگتا ہے کہ نغموں سے وابستہ تمام فنکاروں کی انفرادیت کھوسی گئی ہے۔ نہ شاعر کی پہچان رہی ہے اور نہ ہی موسیقار کی۔ حتیٰ کہ گلوکار بھی اپنی انفرادیت کی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہیں۔
مجروح سلطان پوری، شکیل بدایونی، کیفی اعظمی اور ساحر لدھیانوی کی ادبی حیثیت بھی کافی مستحکم ہے۔ ان لوگو ںنے فلمی دنیا کو ایک سے بڑھ کر ایک مقبول اور معیاری نغمے دیے جن کی مقبولیت کو وقت دھندلا نہیں سکا ہے۔ مجروح نہ جانے کیوں اپنے فلمی نغموں کو ناقابل اعتنا سمجھتے رہے اور انہیں اپنے شعری مجموعہ میں شامل کرنے سے احتراز کیا جبکہ شکیل اور کیفی نے اپنے بہترین نغموں کو شعری مجموعوں میں جگہ دی۔ ساحر کے نزدیک ان کی فلمی شاعری ادبی تخلیق کا درجہ رکھتی تھی اس لیے دونوں میں تفریق کا معاملہ نہیں بن سکا۔
ساحر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے مزاج میں سرکشی تھی لیکن شاعری میں خودپرستی نہیںملتی۔ انہوں نے اپنی پوری شاعری میں اپنا تخلص بھی استعمال نہیں کیا۔ اردو میں شاعرانہ تعلّی کی ایک روایت رہی ہے مگر ساحر کے یہاں اس سے انحراف ملتا ہے۔
حال ہی میں کتاب ’’میں ساحر ہوں…‘‘ ساحد لدھیانوی کی سوانح عمری ہے جسے خودنوشت کا اسلوب دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ساحر کے انتقال کے چونتیس سال کے بعد منظرعام پر آئی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ساحر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ یہ ان کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔ اس کے دو مصنف چندر ورما اور ڈاکٹر سلمان عابد ہیں۔ کتاب میں آپ بیتی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ پہلے صفحہ سے لے کر آخری صفحہ تک ساحر ہی ساحر ہیں جو اپنی رودادِ زندگی بیان کر رہے ہیں۔ 33 ابواب پر مشتمل اس کتاب میں ساحر خود اپنے بارے میں وہ سب کچھ بتاتے ہیں جسے قاری جاننا اور پڑھنا چاہتا ہے، مثلاً بچپن، ماں اور باپ کے حالات اور ان کی ناچاقی، تعلیم، اسکول اور کالج کا زمانہ، دوست احباب اور معاشقے، ادبی زندگی کا آغاز، لاہور اور امریتا پریتم سے ملاقات، تقسیم ہند کا اثر، لاہور چھوڑنے کا فیصلہ، بمبئی کی فلمی دنیا سے وابستہ ہونے کا ارادہ، بمبئی کے شب و روز اور جدوجہد، کامیابی اور پھر ان کی شرطیں، فلم سازوں، موسیقاروں، گلوکاروں اور گلوکارائوں سے تعلقات، انعامات، زندگی کے آخری ایام وغیرہ وغیرہ۔
ساحر کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی جرأت مندی تھی۔ 1969 میں غالب صدی کے موقع پر اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی موجودگی میں بمبئی کے ایک مشاعرہ میں ساحر نے جو ’غالب‘ پر نظم پڑھی وہ ان کی جرأت مندی کی زندہ مثال ہے۔ انہوں نے اس نظم میں اردو زبان کے حوالے سے اپنے سارے محسوسات سخت لفظوں میں بیان کردیے تھے۔ پوری نظم پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ کچھ اشعار دیکھتے چلتے ہیں:
اکیس برس گزرے آزادیٔ کامل کو
تب جا کے کہیں ہم کو غالب کا خیال آیا
اردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتا
یہ جشن، یہ ہنگامہ خدمت ہے کہ سازش ہے
آزادیٔ کامل کا اعلان ہوا جس دن
معتوب زباں ٹھہری، غدار زباں ٹھہری
غالب جسے کہتے ہیں اردو ہی کا شاعر تھا
اردو پر ستم ڈھاکر غالب پہ کرم کیوں ہے
’بہ قلم خود‘ کے تحت مصنّفین لکھتے ہیں: ’’ہم نے ساحر پر لکھی تقریباً ان تمام کتابوں کو پڑھا ہے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ کس نے کتنی سچائی سے اور کتنی گہرائی سے کام لیا ہے۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس بھی ہے کہ ساحر پر اب تک لکھی گئی کتابوں میں تحقیق کا عنصر بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ یا تو لکھنے والوں نے ساحر کی زندگی کا گہرا مطالعہ نہیں کیا یا ان سے جو کچھ بن پڑا وہ لکھ دیا۔ ہم نے ہندوستانی جامعات کے تحت کی گئی تحقیق پر بھی نظر عمیق صرف کی ہے مگر ہنوز ہمیں وہ عنصر نہیں ملا جسے ہم واقعی تحقیق کا اعلیٰ معیاری عنصر کہہ سکیں جو ساحر کے مزاج، علوئے فکر سے مطابقت رکھنے والا ہوسکے۔ یہ جامعات کی تحقیق اسناد کے حصول کے لیے تو شاید مناسب رہے ہوں تو رہے ہوں مگر ساحر کی زندگی اور ان کے کارناموں کا وہ احاطہ کر نہیں پاتیں جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ساحر کی شخصی زندگی، شعری زندگی، فلمی زندگی اور شخصیت، ان کے شعری ذہن اور ان کی شاعری میں چھپے پیام اور فلسفہ پر ایک تحقیقی کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور گزرے آٹھ برس کی مسلسل تحقیق کے بعد ہم یہ کتاب ’میں ساحر ہوں‘ آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔۔۔ یہ کتاب ہم نے ساحر لدھیانوی جینیس گلوبل ریسرچ کونسل (رجسٹرڈ) کے لیے لکھی ہے۔‘‘
مگر آٹھ سال کی تحقیقِ مسلسل کے باوجود دو مقام پر تاریخی حقائق کے اعتبار سے چوک ہوگئی ہے۔ صفحہ 197 پر لکھتے ہیں: ’’سُدھا نے بہت ہی مشہور قوالی ’یہ عشق عشق ہے‘ فلم ’برسات کی رات‘ کے لیے گاکر اپنی ہمہ گیر صلاحیت کا لوہا منوالیا۔ یہ قوالی مسلسل 29 گھنٹوں تک ریکارڈ ہوتی رہی جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ تھی۔ بعد میں یہ اس قدر مشہور ہوئی کہ سُدھا کو اس وقت ہندوستان کے صدر مسٹر گیانی ذیل سنگھ جی نے کلابھوشن انعام سے بھی نوازا۔‘‘ فلم ’برسات کی رات‘ 1960 میں ریلیز ہوئی تھی اور گیانی ذیل سنگھ ہندوستان کے صدر جمہوریہ 1982 سے 1987 تک رہے یعنی وہ فلم کے ریلیز کے 22 سال بعد صدر جمہوریہ بنے۔ ایسی صورت میں گیانی ذیل سنگھ صدر جمہوریہ کی حیثیت سے سُدھا ملہوترا کو کلابھوشن ایوارڈ کیسے دے سکتے ہیں؟
اسی طرح صفحہ 273 پر لکھتے ہیں: ’’میری زندگی کے حسین لمحات میں سے ایک وہ وقت تھا جب جناب آئی کے گجرال صاحب جو کہ ان دنوں ہندوستان کے وزیر اعظم تھے، نے مجھے اپنے ہاتھوں سے پدم شری سے نوازا (1971)۔‘‘ (باقی صفحہ: 58)
ساحر کے انتقال کے 17 سال بعد آئی کے گجرال ہندوستان کے وزیر اعظم بنے اور اپریل 1997 سے مارچ 1998 تک وزیر اعظم رہے۔ ایسی صورت میں آئی کے گجرال کا بحیثیت وزیر اعظم پدم شری سے ساحر کو نوازنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ اور پھر ’پدم‘ انعامات صدر جمہوریہ کے ہاتھوں دیے جاتے ہیں۔ امید ہے کہ مصنّفین ان تاریخی غلطیوں کی تصحیح آئندہ ایڈیشن میں کرلیں گے۔
ان غلطیوں کے باوجود مجموعی اعتبار سے کتاب شاندار ہے۔ آپ بیتی کے اسلوب میں ساحر کی پوری شخصیت کو ابھارا گیا۔ کتاب کو جابجا ساحر کے کلام سے اس طرح مزین کیا گیا ہے گویا انہوں نے اپنی زندگی کے اسی موڑ پر یہ شعر کہے ہوں یا یہ نظم لکھی ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *