مہاراشٹر کیا ملا دس برس بعد زمینی حقوق قانون سے ؟

Share Article

damiمہاراشٹر کے پال گھر ضلع کے کلکٹر کے دفتر کے سامنے 1500 درج فہرست قبائل کے کسانوںنے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت زمین پر اپنا حق حاصل کرنے کے لیے مخالفت کا ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ان کسانوںنے کلکٹر کے دفتر کے سامنے لمبی لائن بنا کر ستیہ گرہ کی شروعات کی۔ ان کسانوں نے سال2013 میںآر ٹی آئی (ستیہ گرہ) کا استعمال کرکے فاریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) 2006 کے تحت ملنے والے اپنے حقوق کی جانکاری حاصل کی تھی۔ ان جانکاریوں میں انھیں پتہ چلا تھا کہ ایف آر اے کے تحت جو زمین انھیںملی ہے، وہ ان کی جوت کی زمین سے بہت کم ہے۔ شکایت کے بعد الاٹ کی گئی زمین کی دوبارہ پیمائش 60 دن کے اندر کرنی تھی لیکن کسانوںکا کہنا ہے کہ تین سال تک انتظار کرنے کے بعد بھی وہ 60 دن پورے نہیں ہوئے۔ ان کسانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بار بار یاد دہانی کے بعد بھی سرکار اس طرف کوئی قدم نہیںاٹھا رہی ہے، تو اب لائن میںکھڑے ہو کر ہم نے ستیہ گرہ شروع کیا ہے۔
اس ستیہ گرہ میں شامل ہونے والے کسانوںمیںسے بہت سے افراد 2013 میں منعقد آر ٹی آئی ستیہ گرہ میںشامل تھے۔ آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل جانکاریوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری مشینری آر ٹی آئی کے پروویژن کی کیسے دھجیاں اڑاتی ہے۔ دراصل محکمہ جنگلات نے بغیر کسی جانچ کے کم زمین دینے کے سفارش کردی تھی، جسے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹی اور سب ڈویژن لیول کمیٹیوں نے درخواست گزار کو مطلع کیے بغیر تسلیم کرلیا تھا،جبکہ گرام سبھا کی رضامندی کے بغیر کسی کو زمین الاٹ نہیںہوسکتی تھی۔ آر ٹی آئی ستیہ گرہ کے بعدریاستی سی آئی سی نے یہ حکم دیا تھا کہ ایف آر اے کے تحت الاٹ کی گئی زمین کی سبھی جانکاریاں ضلع افسر کی ویب سائٹ پر ڈالی جائیں۔ بہرحال 2013 میںداخل اپیل کے بعد بھی ابھی اس معاملے میںکوئی سماعت نہیںہوئی ہے اور قبائل کو اپنے حقوق کے لیے، جو انھیںبغیر کسی لاگ لپیٹ کے مل جانا چاہیے، اس کے لیے انھیںجدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ۔
دراصل یہ صورت حال صرف مہاراشٹر کے پال گھر ضلع کی ہی نہیں ہے، ایف آر اے کے عمل درآمد کے معاملے میں ملک کے دوسرے حصوںکا بھی یہی حال ہے، بلکہ وہاںتو صورت حال اور بھی خراب ہے۔ ایف آر اے کو منظور ہوئے دس سال گزرچکے ہیں۔کسی منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے دس سال کا وقت بہت لمبا ہوتا ہے۔ یہاںتو معاملہ آئینی ہے لیکن اس کے باوجود سماج کے سب سے زیادہ محروم طبقہ کے تئیںسرکاروںکا رویہ نہ صرف بہت ہی خراب ، ٹال مٹول کرنے والا یا سرے سے نظر انداز کرنے والا ہے، بلکہ نفرت انگیز ہے۔ سرکاروںنے ایف آر اے کو کمزور کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیا ہے۔
ایف آر اے کے منظور ہونے کے دس سال بعد جنگل میںرہنے والے قبائل کی فلاح و بہبودکے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری اداروںکے ایک گروپ (سی اے ایف آر ایل اے) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میںجو نتیجے ظاہر کیے ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاریںسماج کے سب سے محروم طبقوںکے لیے بڑے بڑے وعدے کرتی ہیں، قانون بھی منظور کر دیتی ہیںاور خود ہی ان قوانین کی دھجیاںبھی اڑا دیتی ہیں۔ درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی بنواسی (جنگلات کے حقوق کی منظوری) ایکٹ 2006 یا ایف آر ا ے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ جس قانون کو منظور ہوئے دس سال گزر چکے ہیں، اس پر ابھی صرف تین فیصد ہی عمل درآمدکیا جاسکا ہے۔ حالانکہ بیچ بیچ میںسرکاریںاس کے عمل درآمد پر اپنی پیٹھ تھپتھپا لیتی ہیں۔
بہرحال ایف آر اے کے تحت کم سے کم متوقع جنگلی علاقہ (پانچ نارتھ ایسٹ ریاستوں اور جموںو کشمیر کو چھوڑ کر) تقریباً 85.6 ملین ایکڑ (34.6 ملین ہیکٹیئر ) ہے، جس پر کمیونٹی فاریسٹ ریسورسیز (سی ایف آر) کا حق مل سکتا ہے۔ ان جنگلاتی علاقوںکے 1.70 لاکھ گاؤں میںرہنے والے تقریباً 20 کروڑ درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی ونواسیوں (او ٹی ایف ڈی) کے حق کو منظوری دینے کی توقع ہے۔ لیکن سی ایف آر ایل اے کی رپورٹ کے مطابق ایف آر اے کے منظور ہونے کے دس سال بعد بھی جنگل میںرہنے والے لوگوںکے حقوق نہیںدیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ 20 کروڑ درج فہرست قبائل کے لوگوں میںسے لگ بھگ 19 کروڑ لوگوںکے حقوق کا احترام ابھی نہیںکیا گیاہے۔ ظاہر ہے اس حالت کے لیے جہاں مرکزی سرکار اور اس ایکٹ پر عمل درآمد کے لیے وزارت ذمہ دارہے، وہیںریاستی سرکاریںبھی اس میںکم ذمہ دار نہیںہیں۔ایک طرف جہاں اوڈیشہ، گجرات،مہاراشٹراورکیرل جیسی ریاستیںاس ایکٹ کے عمل میںآگے رہی ہیں، وہیں آسام ، بہار، گوا،ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ سب سے پیچھے ہیں۔
ایف آراے پر عمل درآمد میں سب سے آگے کی ریاستوںکی صورت حال کیا ہے، ا س کا اندازہ مہاراشٹر کے پال گھر ضلع میںچل رہے آندولن سے چل سکتا ہے۔ یہاں آندولن چلانے والے درج فہرست قبائل کے کسانوںکے دعوے کو سچ مان لیا جائے، تومہاراشٹر میں محکمہ جنگلات کے افسروںنے منمانے ڈھنگ سے او رگرام سبھا کے ویریفکیشن کے بغیر ہی قبائلی کسانوںکو کم زمین دینے کی سفارش کر دی تھی، جبکہ ایف آر اے کے تحت اس معاملے میںگرام سبھاکی رضامندی ضروری ہے۔ اب جب مہاراشٹر کا یہ حال ہے، تو جن ریاستوںمیںکچھ نہیںہوا، وہاںکا کہنا ہی کیا ہے۔بہرحال اس خراب سرکاری رویہ کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کے آفس کو بھی مداخلت کرنا پڑی اور نومبر 2016 میںسات ریاستوںکو یہ حکم دیاکہ صدیوںسے جنگلوں میں رہنے والے درج فہرست قبائل کے حقوق انھیںواپس دلانے میںجلدی کریں۔ یہ ریاستیںہیں آسام، ہماچل پردیش، تامل ناڈو،اتر پردیش، اتراکھنڈ اور جھارکھنڈ۔
دراصل ایک لمبی لڑائی کے بعد صدیوںسے نظر اندازی کے شکار اور اپنے حقوق سے محروم جنگلوں میںرہنے والے لوگوںکے حقوق کو بحال کرنے اور ان علاقوںمیںنکسل واد کے اثر کو کم کرنے کے لیے جنگلات کے تحفظ کو دھیان میںرکھتے ہوئے فوری طور پر یوجنا آیوگ کی سفارش پر فاریسٹ رائٹس ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔لیکن اس کے عمل درآمدپر جس رفتار سے کام ہورہا ہے،اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ درج فہرست قبائل اور جنگل میںرہنے والے لوگوںکو اپناحق حاصل کرنے کے لیے ابھی اور جدوجہد کرنی پڑے گی۔ کیونکہ شاید سرکار کو ان کی سدھ لینے کا وقت نہیں ہے۔ حالانکہ مرکزی سرکار نے اس علاقہ کے لیے ایک الگ وزارت قائم کررکھی ہے،لیکن وہ اب تک پھسڈی ثابت ہوئی ہے۔ سرکاروںنے نہ صرف ایف آر اے کو لاگو کرنے میںتاخیر سے کام لیا ہے بلکہ اسے کمزور کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔
فاریسٹ رائٹس ایکٹ کیا ہے؟
درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی ونواسی (ریکوگنیشن آف فاریسٹ رائٹس)ایکٹ 2006 یا فاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 جنگل میںرہنے والے لوگوںکی ایک لمبی لڑائی کے بعد دسمبر 2006 میںمنظور کیا گیا۔ یہ قانون لاکھوںلوگوںکے جنگل کے وسائل اور جنگل کے علاقے پر ان حقوق کو یقینی بناتا ہے، جن حقوق سے کالونیل لاء نے یہاںبسنے والے لوگوں کو سیکڑوںسالوںسے محروم رکھا تھا۔ یہ قانون پورے ہندوستان میںجنگل کی زمین اور جنگلاتی وسائل پرانفرادی اوراجتماعی حق دیتا ہے۔ دراصل یہ قانون یکم جنوری 2008 کو لاگو ہوا تھا، جو جنگل میںرہنے والے لوگوںکی تاریخی ناانصافی کو ختم کرنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ فاریسٹ رائٹس ایکٹ کی منظوری کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ اس لوکل سیلف گورننس کو مضبوطی ملے گی، لوگوںکی روزی کا مسئلہ بہت حد تک حل ہوگا، جس سے غریبی کے خاتمہ میںمدد ملے گی۔ قدرتی وسائل کے تحفظ میںمدد ملے گی اور جو جنگلی علاقے تشدد زدہ ہیں، وہاںتشدد میںکمی آئے گی۔ اس قانون کے دوسرے اہم پہلو یہ ہیںکہ یہ ذاتی جائیداد کے ساتھ ساتھ اجتماعی جائیداد کا نظم بھی کرتا ہے، اجتماعی ون لگانے ، حفاظت کرنے اور ان کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ بے گھر لوگوںکے حقوق او رجنگلی علاقہ میںترقیاتی کاموں سے متعلق حق دیتا ہے، جس میں گرام سبھا کا اہم کردار ہوتا ہے۔لیکن گزشتہ دس سالوںمیں اس قانون کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ ان کوششوںمیںسال 2016 میں گرام سبھا کے کلاز کے بغیر کیمپا بل کا منظور ہونا او رگرام سبھا کو لے کر مرکزی سرکار کی دو وزارتوںکی خط و کتابت کا لیک ہونا اہم ہے۔
قانون کو کمزور کرنے کی کوشش
فاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ 1980 کے ایک قانون کے مطابق صنعتوں، کارخانوں وغیرہ کے لیے کاٹے گئے جنگلوں کے بدلے نئے پیڑ لگانے اور کمزور ہورہے جنگل کو گھنا بنانے کے لیے جنگل کی زمین کا استعمال کرنے والی کمپنیوںاور اداروںکو معاوضہ دینا پڑتا ہے۔سال 2002 میںفاریسٹ پروٹیکشن ایکٹ 1980 کو لاگو کرنے کے بارے میںداخل ایک عرضی پرسماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ اس مد میںجمع فنڈ خرچ نہیںہورہا ہے یا پھر بہت کم خرچ ہورہا ہے۔ اس تبصرے کے مدنظر اس وقت کی یوپی اے سرکار نے سال 2008 میںکیمپا بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی جسے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایف آر اے کے تحت گرام سبھا کو دیے گئے حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے نامنظور کردیا تھا۔ بہرحال موجودہ مرکزی سرکار نے کیمپا بل 2015 میںپیش کیا تھا، جسے لوک سبھانے پہلے ہی منظور کیا تھا،لیکن چونکہ راجیہ سبھامیںاین ڈی اے سرکار کے پاس اکثریت نہیں ہے اور کانگریس بشمول سبھی اپوزیشن پارٹیاں، اس بل میںایف آراے کے تحت گرام سبھاکو دیے گئے حقوق کے مطابق گرام سبھا کی رضامندی کے کلاز کو شامل کرنا چاہتی تھیں۔ اس بارے میںکانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے ترمیمی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن وزیر برائے ماحولیات انل مادھودیو کی اس یقین دہانی کے بعد کہ اس میںاپوزیشن کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کو اس ایکٹ کے تحت بنانے والے قانون میںشامل کرلیا جائے گا۔اس بل میںگرام سبھاکے کلاز کو داخل کرنے کے لیے جنگلات کے دائرہ اختیار میںکام کرنے والے ملک بھر کی 45سول سوسائٹی کے اداروںنے راجیہ سبھاکوایک میمو رنڈم بھی دیا تھا۔ ان کاکہنا تھا کہ اس میںفاریسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کے اس پروویژن کوبے اثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس میںدرج فہرست قبائلاور روایتی طور پر جنگل میںرہنے والے لوگوںکا جنگل پر حق یقینی کیاگیاہے ۔ کیمپا بل میںگرام سبھا کا کلاز داخل نہیںکرنے کے پیچھے ایف آر اے کے تحت جنگل کے علاقے میںرہنے والے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میںرہنے والے لوگوںکے جنگل پر حقوق کو مانا گیا ہے۔
دو وزارتوںکے درمیان خط و کتابت
’چوتھی دنیا‘ نے اپنے 20 جون 2016 کے شمارہ میںایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی، جس میںاین ڈی اے سرکار کے دو وزیروںکے درمیان ہوئی خط و کتابت کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ کیسے سرکار ایف آر اے کے تحت آدیواسیوں او رجنگل میںرہنے والے لوگوںکے حق کو چھیننا چاہتی ہے۔ یہ خط و کتابت جون 2015 اور دسمبر 2015 کے بیچ ہوئی تھی۔ ان خطوں میں قبائلی معاملوں کی وزارت اورماحولیات،جنگلات اورموسمیاتی تبدیلی وزارت کے افسروںکے بیچ ہوئی تھی۔ان خطوں میں قبائلی معاملوںکی وزارت نے اپنارخ واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگل کی زمین کو کسی پروجیکٹ کے لیے الاٹ کرنے سے قبل ایف آراے کے تحت اس علاقہ کے گرام سبھا کی رضامندی لازمی ہے۔ جبکہ وزارت ماحولیات اس گرام سبھاکی رضامندی کے کلاز ہٹانے کے بات کررہی تھی۔ ایف آر اے کی رضا مندی والے کلاز کو لے کر ان دو وزارتوںکے بیچ کی رسہ کشی کے دوران مرکزی سرکار نے کیمپا بل پیش کیا تھا اور اس بل میں گرام سبھاکی رضامندی کا کلاز شامل نہیںکیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *