مکافات عمل

Share Article

عفاف اظہر
پاکستان میں انسانی حقوق کی مقتدر ترین تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ دنوں اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ میں تنظیم نے ملک میں دہشت گردی، ڈرون حملوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں انسانی جانوں کے زیاں کے بارے میں اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔اس رپورٹ میں دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔ دہشت گردی کے موضو ع کو آج تک ہر کسی نے اپنے اپنے مفاد میں ایک محدود نظر ہی سے دیکھا ہے۔ کہیں اسے مذہب سے جوڑ کر نزلہ مذھب پر گرا دیا جاتا ہے تو کہیں الزام سیاست پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کبھی ڈرون حملوں سے دہشت کو کچلنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو کبھی مدرسوں کو نیست و نابود کر دینے کی نصیحت۔الغرض دہشت گردی کے ضمن میں بھی ہمیشہ کی طرح ہمارا مخصوص وطیرہ کہ سارا قصوروار دوسرے کو ٹھرا کر اپنا پلو جھاڑ لینا ہی رہا ہے۔ ایک سولہ سالہ لڑکا بارود سے لیس مسجد میں داخل ہوتا ہے اور بم نہ پھٹنے پر زخمی ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے اور ہوش آنے پر خود کو جنت میں نہ پا کر پریشان ہو جاتا ہے تو یہ خبر میڈیا کیلئے سرخی اور دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ کوئی اس نوجوان کو بیمار سوچ کا حامل بتاتا ہے تو کوئی انتہا پسند عناصر اور حکمران طبقہ کا قصور نکالتا ہے، کوئی ڈرون حملوں پر غصہ نکالتا ہے تو کوئی اسے نوجوان نسل کی برین واشنگ قرار دیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ اگر ڈرون حملے بند بھی ہو جائیں تو کیا یہ ضمانت ہے کہ دہشت گردی ختم ہو جائے گی؟ اگر مدرسوں کو بند بھی کر دیا جائے، امریکا کو بھگا دیا جائے ہندوستان کو چپ کروا دیا جائے ، اسرائیل کو بھی دھمکا دیا جائے تو کیا ہمارے معاشرے میں دہشت گردوں کی پیداوار میں کمی پیدا ہو جائے گی ؟ اگر ملک کے تمام سیاستدانوں، نوابوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے تو یہ ہمارا معاشرہ دہشت سے پاک ہو جائے گا اس بات کی کیا ضمانت ہے ؟ نہیں ہرگز کوئی بھی ضمانت نہیں بلکہ یہ فقط ہماری خام خیالی ہی ہے اور پھردہشت گرد تو دھماکوں کے ساتھ ویسے ہی خود کو ختم کر لیتے ہیں، انھیں ختم کرنے کے لئے ڈرون یا فوج کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے ؟ دہشت گردی کی وجوہات کو بنا جانے ڈرون یا فوج سے ختم کرنے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے گویا کہ ایک تناور درخت کی جڑوں کی بجائے بار بار شا خوں کو کاٹنے کا عمل ہو جو اس درخت کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید جلا بخشتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ صنعت و ٹیکنالوجی آج اپنے عروج پر ہے، سائنس و طبیعات کے علوم نقط انتہا پر ہیں ،آج کا انسان چاند پر پہنچ چکا ہے تو کئی اور کائناتیں بھی ڈھونڈ نکالی ہیں اور ایجادا توں کی بھرمار ہے، ایک طرف انسانی دماغ ہے کہ کائنات کے سر بستہ رازوں سے سرگوشیاں کرنے میں مصروف عرش کی بلندیوں تک جا پہنچا ہے تو دوسری طرف اسی انسان کی شخصیت ہے کہ گمنامی کی پستیوں میں گرتی ہی چلی جا رہی ہے۔ انسانی دماغ جتنی تیزی سے بلندیوں کی جانب محو پرواز ہے اتنی ہی تیزی سے انسانی شخصیت ذلت کی گہرائیوں میں دفن ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اور یہ دہشت گردی بھی پستیوں کی اسی انتہا کا نام ہے۔دہشت گردی ایک ہی بیج سے حاصل کی گئی دو مختلف اقسام کی فصل کا نام ہے۔ ایک چھوٹے پیمانے کی اور دوسری بڑے پیمانے کی۔ دہشت گردی کی ابتدائ�  ہمیشہ چھوٹے پیمانے پر ہوتی ہے اسکا بیج ہمیشہ گھریلو سطح سے پروان چڑھتا اور جڑیں معاشرتی ماحول سے تقویت پکڑتی ہیں اور پھر عالمی سطح تک جا کر بڑے پیمانے پر خود کو منوا لیتی ہے۔ یعنی کہ ہمارے گھریلو ماحول اور انتہا پسندی پر مشتمل روایات کا حامل معاشرہ ہی تو وہ زرخیز زمین ہے جو انتہا پسندانہ دماغوں کی پیداوار میں سب سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کا بذات خود کوئی وجود نہیں۔ یہ صرف اور صرف ایک بیمار سوچ اور مسخ شدہ شخصیات کا دوسرا نام ہے جو کسی بھی معاشرے میں پروان چڑھ سکتی ہیں اور نہ ہی اس کا تعلق تعلیم کے ہونے یا نہ ہونے سے ہے ورنہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل ٹورانٹو کا ایک ا علی تعلیم یافتہ خوبصورت و ہونہار نوجوان پال برناڈو اٹھائیس نوجوان دوشیزاؤں کو جسمانی و جنسی تشد د سے ہلاک کرنے کا مرتکب نہ ہوتا اور کرنل ویلیم رسل جیسا پرکشش شخصیت کے مالک اہم اور حساس عہدے پر فائز شخص کی وہ خفیہ زندگی جس میں متعدد خواتین کا جنسی روابط کے بعد بہیمانہ قتل کا پردہ اٹھتے ہی یہاں پر ہر آنکھ یوں ششدر نہ ہوئی ہوتی ؟ پچھلے ہی برس گرے ہونڈز کی ایک مسافروں سے بھری بس میں فلپینی نوجوان کے ساتھ بیٹھے مسافر کو مار کر اسکا گوشت کھانے پر وہ ہفتوں بھر کی  سنسنی اور ایک دہشت کا عالم اور پھر نہ ہی دوسری عالمی جنگ عظیم کا جنگی مجرم ہٹلر کوئی مسلمان تھا، آئرش ریپبلکن فوج بھی مسلمانوں کی نہیں تھی اور تو اور قدیم آسٹریلوی باشندوں کے بچے ماؤں سے چھین کر جبری مذہب تبدیل کرنے میں بھی مسلمانوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ دہشت گردوں کا تعلق کسی ایک ملک مذہب یا نسل سے نہیں بلکہ یہ دہشت گردی آج عالمی طور پر ایک سنگین انسانی المیہ بن چکی ہے ۔
یہاں تلخ اور قابل ذکر حقیقت تو یہ ہے کہ پال برناڈو ، کرنل ویلیم رسل ، آدم خور فلپینی نوجوان کے ساتھ ساتھ اور بہت سے دوسرے ایسے دہشت ناک جرائم میں ملوث افراد حتیٰ کہ ہٹلر بھی بظاہر مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والے ان تمام ذہنی بیماروں کی زندگیوں کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ان سب کو اپنے بچپن میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا شدید سامنا رہا ہے۔ ہاں مگر ہمارے ہاں ایسی بیمار ذہنیت کی سوچ اور مسخ شدہ وجودوں کا اتنی بڑی مقدار میں پایا جانا ایک لمحہ فکریہ ضرور ہے۔
ہم نے آج تک نوجوان خود کش بمباروں کو انتہائی بے رحمی اور بے دردی سے پھٹتے اور پھاڑتے دیکھا ہے لیکن کبھی انکی مسخ شدہ شخصیت اور بیمار سوچ پر پڑا یہ بیدردی اور بے رحمی کا نقاب الٹنے کی ذرا کوشش تو کیجیے کہ درپردہ ہاتھ حکمرانوں یا مذہبی رہنماؤں کے نہیں ہمیں اپنے ہی نظر آئیں گے۔ ظالم چہرہ امریکا ہندوستان یا اسرائیل کا نہیں بلکہ اپنے اسی معاشرے کی غیر انسانی روایات کا دکھائی دے گا۔ جی ہاں جس معاشرے میں غیرت کے بے غیرت تصور کی قانون بھی رکھوالی کرے ، عزت اور پگڑیوں کے نام پر انسانی جانوں کی بلی چڑھانے پر فخر محسوس کیا جائے۔ بدلے اور تاوان میں صنف نازک کو بھیڑ بکریوں کی طرح استعمال کیا جائے۔ جس معاشرے میں بنت حوا کی تحقیر و تذلیل کرنے کو ہی ابن آدم اپنی مردانگی سمجھتا ہو۔ جس معاشرے میں وجود زن ایک جنسی کھلونے سے بڑھ کر کوئی بھی حیثیت نہ رکھتا ہو ، ذرا سوچیے تو کہ ایسی ظالمانہ روایات کی پاسبانی پر مجبور اپنے انسانی حقوق سے محروم تحقیر آمیز زندگیاں گز ارتی ان دختران قوم کے بطن سے پیدا ہونے والی نسل کیا فرشتوں کی ہو گی ؟ جن معصوم بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولتے ہی بچپن نہیں بلکہ اپنے ارد گرد مسائل کا امبارلگا دیکھا ہو ، ماں باپ کا پیار نہیں مار پیٹ دیکھی ہو ، ذہنی سکون و طمانیت کی ٹھنڈی ہوائیں نہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی تشدد سے بھرپور فضا ئیں ہی دیکھی ہوں اور وہ معصوم جانیں جن سے ممتا کا پیار جہیز کے لالچ نے چھین لیا ہو یا پھر اس عزت و غیرت کے تصور نے دبوچ لیا ؟ جن کا بچپن ماں باپ کے پیار کے سکھ سے محروم روایتوں کی تپتی دھوپ میں جلا ھو۔ تو وہ گھریلو بے سکونی کا شکار معاشرتی احساس کمتریوں کی ماری ہوئی یہ ہماری نسل ظالم بے رحم اور دہشت گرد نہیں بنے گی تو اور کیا بنے گی ؟ جن کے دامن میں انگارے ہی انگارے ہوں وہ آپ کو پھول کیوں کر پیش کریں گے ؟ کہ یہ تو مکافات عمل ہے جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے وہی تو وہ لوٹا رہے ہیں۔ جیسے کہ ساحر لدھیانوی نے کہا۔دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میںجو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *