مسلمانوں کے لیے سیاسی روڈ میپ بنانے کا موقع

Share Article

damiخاص طور پر یوپی الیکشن کے نتائج کے تناظر میں مسلم سیاست پر بحث و مباحثہ ایک نئے دور میںداخل ہوچکا ہے۔ یوپی میں73 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زائد ہے، جبکہ 70 حلقے ایسے ہیںجہاں مسلمانوں کی آبادی 20 سے 30 فیصد ہے جبکہ 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق پوری ریاست میںمسلمانوں کی مجموعی آبادی 19 فیصد ہے۔ اس بار جہاںبی ایس پی نے 99 مسلمانوںکوٹکٹ دیے تھے، وہیںسماجوادی پارٹی نے 56 کو میدان میں اتارا،اس کے علاوہ اویسی کی مجلس سے 35 امیدوار تھے،ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی نے بھی اوٹ پٹانگ حرکیتیںکیں، جبکہ دوسری طرف بی جے پی نے سرے سے مسلمانوںکو نظرانداز کیا۔
میڈیا میںجب بی جے پی کے نمائندوں سے سوال کیا گیا کہ پارٹی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو میدان میںکیوںنہیںاتارا، تو انھوںنے مبہم ساجواب دیا۔ دراصل انھیںمسلم امیدوارکی ضرورت ہی نہیں تھی چنانچہ ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیںدیا گیا۔سماجوادی پارٹی نے کانگریس سے تو اتحاد کیا، جس کے برے دن چل رہے ہیں او ریوپی میںاس کی کوئی پکڑ بھی نہیں ہے، لیکن ایس پی اور بی ایس پی میں اتحاد کے تئیںذرا سرگرمی دیکھنے کو نہیںملی۔ دراصل ان دونوں پارٹیوںکے سربراہ اس زعم میںتھے کہ ان کی جیت ہوگی، ان کا سارا زور مسلم ووٹ بینک کو محفوظ کرنے پررہا اور اس کے نتیجے میں وہ خود اپنے اصل ووٹ سے بھی محروم ہوگئے۔ بی جے پی نے گھر گھر جاکر ہندوؤں کے ذہن میںیہ خیال پیوست کیا کہ سماجوادی پارٹی مسلم نواز ہے جبکہ مایاوتی صوبے کی ترقی و خوشحالی کی بجائے مال اکٹھاکرنے اور ہاتھی کی مورتیاںبنوانے میںمصروف رہتی ہیں۔ معاملہ اس وقت مزید گمبھیر ہوگیا ، جب خود پی ایم مسٹر مودی نے عوامی ریلی میںشمشان اور قبرستان، دیوالی و عید جیسے نفرت انگیز بیانیے کے ذریعہ ہندو ووٹس کو زیادہ سے زیادہ ہتھیانے کی پالیسی اختیار کی۔ دوسری طرف امت شاہ،یوگی آدتیہ ناتھ جیسے لوگ بھی اسی قسم کی بولیاں بول کر ہندوؤں کو مذہبی خطوط پر اکٹھاکرنے میںکامیاب ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اونچی برادری کے علاوہ دلت اور پسماندہ طبقات کے ووٹ بھی بی جے پی کی جھولی میںجاگرے۔
مودی یا ان کی پارٹی کے دوسرے لوگ یہ کہہ رہے ہیںکہ ترقی کے ایجنڈے پر انھیںکامیابی ملی ہے، جبکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ کامیابی ترقی سے زیادہ ہندو بنام مسلم کی سیاست کی دین ہے۔ یہ بات خود بڑے بڑے ہندو صحافی، سیاسی تجزیہ کار اور وہ لوگ لکھ رہے ہیں، جنھوںنے اس پورے الیکشن میںیوپی کے دور دراز خطوںمیںجاکر زمینی حقائق کا جائزہ لیا، نیتاؤںکی ریلیوںمیںشریک رہے اور ان کے بھاشنوں کو سنا ہے۔
مسلم ووٹوںکے لیے ایس پی اور بی ایس پی کی آپسی کی مارا ماری کے نتیجے میںسب سے زیادہ نقصان خود مسلمانوںکو ہوا کہ80سے زیادہ سیٹوںپر مسلمانوںکومسلمانوںہی کی وجہ سے شکست ہوئی۔ آزادی کے بعد جہاں2012 میںسب سے زیادہ 69 مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوئے تھے، وہیں اس بارسب سے کم24 منتخب ہوئے۔ بعض سیٹوںپر اویسی کے امیدوار بھی شکست کا سبب بنے اور مسلم امیدواروں کو محض چند سو یا ہزار دو ہزار ووٹوںسے شکست کاسامنا کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ان نتائج کے لیے کس کو ذمے دار قرار دیا جائے؟
بی جے پی کے ٹاپ کے لیڈر بھی اگرچہ یہ کہتے نظر آرہے ہیںکہ مسلمانوںنے بھی انھیںووٹ دیا ہے،مگر یہ حقیقت ہرگز نہیںہے اور خود انھیںبھی اس کا احساس ہے، وہ بس بات کوٹالنے کے لیے ایسا کہہ رہے ہیں۔ مسلمانوںنے تو ان ہی پارٹیوںکو ووٹ دیا ہے، جو رات دن جمہوریت اور سیکولرزم کی دہائیاںدیتی ہیںاور منافقتوں کی بدترین مثال قائم کرنے کے باوجود انتخابی سیاست میں مسلمانوں کا استحصال کرتی رہتی ہیں۔ آپ سبھی پارٹیوںکو حاصل ہونے والے ووٹ فیصد سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان نام نہادسیکولر پارٹیوں کو جو ووٹ ملے ہیں، ان کا دو تہائی سے بھی زیادہ حصہ مسلمانوںکا ہی ہے،ورنہ جتنی سیٹیں ان کو ابھی ملی ہیں، وہ بھی نہ مل پاتیں۔بیشتر ان سیٹوں پر جہاں ایس پی کے امیدوار تھے،وہیں بی ایس پی نے بھی مسلم امیدوار کو ہی اتارا تھا۔ان ہی میںبعض جگہ ایم آئی ایم بھی گھس گئی۔
ان مقامات پر مسلمان رائے دہندگان کے لیے بڑامسئلہ تھا کہ وہ کس کو ووٹ دیں، یہ مسئلہ تب اور بھی پیچیدہ ہوگیا، جب چند جبہ برداروںنے اپنے اپنے مفاد کے مطابق ب بی ایس پی یا ایس پی کو ووٹ دینے کی اپیلیں کردیں۔حالانکہ ان کی اپیلوںکاکیا اثر ہونا تھا، لیکن یہ ضرور ہوا کہ ہندو ووٹرس ایک جٹ ہوتے گئے اسی طرح اویسی کے امیدوار دو چار سیٹوںپر ہی ایس پی یابی ایس پی امیدوار کی شکست کا براہ راست سبب بنے، لیکن جگہ جگہ ان کی جو ’’ایمان افروز‘‘ تقریریں ہوئیں،ان کا مسلمانوںپر تو کوئی اثر نہ پڑا،لیکن ہندوؤںپر ضرور ہوا۔ اس الیکشن کے یہ بعض افسوسناک پہلو ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف ایس پی و بی ایس پی کا سپڑہ صاف ہوگیا، بلکہ یوپی اسمبلی میں مجموعی طور پر مسلمانوںکی نمائندگی تاریخ کی سب سے کم تعداد تک پہنچ گئی۔
ملت کے بعض دردمند مفکرین چاہے کچھ بھی کہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان میںخالص مسلم بنیاد پرسیاست کا کامیاب ہونا تقریباً ناممکن ہے،کیونکہ 20 فیصد اور 80 فیصد کا کیا مقابلہ ہوسکتا ہے؟ البتہ مسلم سیاست کے کامیاب ہونے کی صورت یہ ہے جس پر وقتاً فوقتاً بعض لوگ لکھتے اور بولتے بھی رہتے ہیں کہ پارٹی سے قطع نظر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مسلم امیدواروںکو پارلیمنٹ اور اسمبلی تک پہنچانے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یہ یقین رکھیے کہ مخصوص نظریات کو ڈھوتے رہنا ہمارے حلقے کے بعض سیاسی یا مذہبی گھرانوںکے لیے منافع بخش تو ہوسکتا ہے لیکن اجتماعی طور پر مسلمانوںکے لیے ہرگز ہرگز نفع بخش نہیں ہے، ستر سالوںسے ہم یہی دیکھتے آرہے ہیں۔
ایک عرصہ تک عام مسلمانوںکا سیاسی ذہن کانگریسی رہاہے اور آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کم از کم ساٹھ سال تو کانگریس نے اس ملک پر حکومت کی ہی ہے، جبکہ دوسری جانب افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوںکے خلاف فسادات،فرضی انکاؤنٹرس،مذہبی مقامات کی تباہی،مسلم نوجوانوںکوپابند سلاسل کرنے،معاشی و علمی میدان میںانھیںپسماندہ کرنے اورنہ جانے کن کن شکلوںمیںسب سے زیادہ سازش کانگریس کے ادوار حکومت میںہی ہوئی ہے۔ سماجوادی پارٹی یا بی ایس پی یا دوسری سیکولر پارٹیوںکا حال بھی مختلف نہیںہے۔ لہٰذا کسی ایک پارٹی کی لاش کو ڈھوتے رہنے یا کسی پارٹی کے نظریات اور آئیڈیا لوجی سے خوف زدہ ہونے کی بجائے مسلمانوںکو یہی پالیسی اختیار کرنی چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مسلم نمائندوںکو ایوان میںبھیجیں۔
2014 میںلوک سبھاالیکشن کے بعد اب یوپی الیکشن کے نتائج کے تناظر میںدوبارہ جہاںیہ ثابت ہوا ہے کہ مسلم ووٹ بینک کے بغیر بھی بی جے پی آگے اور بہت آگے جاسکتی ہے، وہیںمسلم قیادت کی بے چہرگی، بے وقعتی اور ناکارہ پن کھل کر سامنے آیا ہے، اس کی توجیہ یوںبھی کرسکتے ہیں کہ قدرت کی جانب سے مسلمانوںکو اپناکوئی واضح سیاسی روڈ میپ بنانے کا موقع ملا ہے۔ سیکولرزم یا کسی خاص پارٹی کے چرمراتے ہوئے ڈھانچے کو ڈھوتے رہناصرف مسلمانوںکی ذمے داری نہیں ہے۔ مسلمانوںکے حق میںبی جے پی یا کانگریس اور دیگر سیکولر سمجھی جانے والی پارٹیوںمیںصرف طریقہ کار کا فرق ہے۔ نتیجے کے اعتبار سے سب برابر ہیںکہ انھیںخاص مسلمانوںکی ترقی یا خوشحالی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *