گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں سائرہ بانو نام کی ایک خاتون نے عرضی دی اور عدالت سے مطالبہ کیا کہ تعدد ازدواج، تین طلاق اورحلالہ جیسے قانون کو ختم کردیا جائے۔ عدالت ان جیسے قوانین کوسماجی مساوات کے پیش نظر ختم کرنا چاہتی ہے،لیکن معاملہ چونکہ مذہبی ہے ،اس لئے عدالت نے مسلم پرسنل لاء بورڈ سے اپنا موقف رکھنے کو کہا ۔ بورڈ نے 65صفحات پر مشتمل ایک حلف نامہ عدالت میں داخل کیا ہے،اس حلف نامہ کی کاپی کو’’ چوتھی دنیا ‘‘نے اپنے ذرائع سے حاصل کیا اور اس کو پڑھا تو بہت سے حقائق سامنے آئے ۔ اس مضمون میں حلف نامہ کے اہم حقائق و نقاط اور دیگر پہلوئوں پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔
وسیم احمد
3ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء میں سپریم کورٹ کی مداخلت کا مسئلہ عرصہ سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔سپریم کورٹ کچھ مسئلوں میں سماجی مساوات کی بنیاد پر مداخلت چاہتا ہے جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈاس کی سخت مخالفت کررہاہے۔ 1980 کی دہائی کے وسط میں سب سے پہلے یہ مسئلہ اس وقت اٹھا تھا جب اندور کی ایک 62سالہ خاتون شاہ بانونے طلاق ہونے کے بعد نان و نفقہ کے لئے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔سپریم کورٹ نے نان و نفقہ کا فیصلہ اس کے حق میں کردیا تھا جو کہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف تھا۔ اس وقت کی راجیوگاندھی زیرقیادت کانگریس حکومت نے مسلم علماء کی موثر نمائندگی کے باعث مسلم خواتین ’’طلاق کی صورت میں تحفظ کے حقوق ‘‘ ایکٹ 1986 منظور کراتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر کردیا تھا۔ اب دوبارہ اسی طرح کا ایک مسئلہ کاشی پور، اترا کھنڈ کی 35 سالہ سائرہ بانو نام کی ایک مسلم خاتون کے ذریعہ تعدد ازدواج کے خلاف پٹیشن داخل کرنے سے اٹھا۔
پٹیشن میں مسلم پرسنل لاء کے تحت خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز، ایک طرفہ طلاق اور بیوی رہتے ہوئے مسلم مردوں کی دوسری شادی کے معاملے پر انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میںسائرہ بانو نے کہا کہ’’ ہماری شادی 2002 میں ہوئی تھی۔ میرے شوہر نے مجھے تین طلاق اکتوبر 2015 میں دی تھی، اس کی وجہ سے مجھے ذہنی اور جسمانی تشدد جھیلنی پڑی‘‘۔اس پٹیشن کے مد نظر ایک بینچ بنایا گیاتھا جس کی قیادت چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کررہے ہیں ۔اس بینچ نے مسلم پر سنل لاء بورڈ سے یہ کہا ہے کہ ملک کے آرٹیکل 44 میں ہر طبقے کو مساوات کا درجہ دیا گیا ہے لیکن تین طلاق اس مساوات کو ختم کررہا ہے، لہٰذا سماجی مساوات کے پیش نظر تین طلاق کو ختم کئے جانے کے تعلق سے بورڈ اپنا حلف نامہ بینچ میں داخل کرے۔بینچ کے اس سوال کے جواب میں بورڈ کے وکیل اعجاز مقبول نے 65 صفحات پر مشتمل ایک حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا ہے ۔ اس حلف نامہ کو تیار کرنے میں سینئر وکیل یوسف حاتم مچھالہ اور حذیفہ اے احمد بھی شامل ہیں۔اس حلف نامہ میں بورڈ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 44 کا حوالہ دیتے ہوئے کورٹ نے جوطبقاتی مساوات اور یکساں سول کوڈ کی بات کہی ہے تو یہ ایک رہنما اصول ہے ،لیکن اس کو جبراً نافذ کرنے کی توضیح نہیں ہے جبکہ آرٹیکل 25-26 اور29 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے ۔اس آرٹیکل کے بموجب سپریم کورٹ کو مذہبی معاملوں میں دخل اندازی کا حق حاصل نہیں ہے۔بورڈ نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ مسلمانوں کے شرعی قوانین قرآن و حدیث پر مبنی ہیں لہٰذا اس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس میں ترمیم کرتا ہے تو یہ آرٹیکل 25-26 اور 29 کی خلاف ورزی ہوگی۔چونکہ سپریم کورٹ کو مذہبی معاملوں میں ترمیم کا حق حاصل نہیں ہے،لہٰذا سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ سائرہ بانو کے اس مقدمہ کو ختم کردے۔
بینچ نے تین طلاق کے نفاذ کی صورت میں خواتین کی حق تلفی اور سماجی مساوات کی خلاف ورزی کی جس تشویش کا اظہار کیا ہے، اس سلسلے میں بورڈ نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ عرضی گزار نے اپنی عرضی میں جو یہ الزام لگایا ہے کہ تین طلاق کا حق ہونے کی وجہ سے مرد کو من مانی کا موقع مل جاتاہے تو یہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیش کی گئی بات ہے۔ اسلام میں طلاق کو ہمیشہ قابل مذمت عمل قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ اس بات پر توجہ دی جاتی ہے کہ میاں بیوی اس وقت تک شادی شدہ زندگی کو برقرار رکھیں جب تک کہ ممکن ہو۔ جہاں تک مردوںکو طلاق کا حق دیئے جانے کی بات ہے تو مسلم پرسنل لاء مسلم خواتین کو بھی مناسب حقوق فراہم کرتا ہے اور اسے خلع کا حق دیتا ہے۔جس طرح ایک مرد نباہ نہ ہونے کی صورت میں عورت کو طلاق دے سکتا ہے تو اسی طرح ایک عورت نباہ نہ ہونے کی صورت میں خلع کراکر مرد سے علاحدگی اختیار کرسکتی ہے۔چونکہ مرد کی بہ نسبت عورت فطری اعتبار سے جلد باز ہوتی ہے اس لئے طلاق کا حق صرف مرد کو دیا گیا ہے ۔البتہ کوئی عورت اپنے مرد سے مطمئن نہیں ہے تو خلع کے ذریعہ علاحدگی اختیار کرسکتی ہے۔
حلف نامہ میں ایک سے زائد شادی کرنے پر پابندی لگانے کی جو بات کہی گئی ہے تو اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام میں ایک سے زائد شادی کی اجازت دی گئی ہے مگراس کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے ۔رہی بات ایک سے زائد شادی کرنے کی تو یہ رواج ملک کے کئی طبقوںمیں رائج ہے ،صرف مسلم طبقے کو نشانہ بنانا حقیقت کے خلاف ہوگا۔ اس کی تائید میں عدالت کے سامنے کئی رپورٹیں بھی پیش کی گئی ہیں، خاص طور سے 1991 کی ورلڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا جس کے مطابق قبائلیوں ، بودھوں اور ہندوئوں میں ایک سے زائد شادیوں کا فیصد بالترتیب 15.25،7.97،اور 5.80 ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح سب سے کم صرف 5.73فیصد ہے۔جہاں تک اسلام میں ایک سے زائد شادی کی بات ہے تو عورت کے فائدے کو نظر میں رکھتے ہوئے اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں بتایاہے کہ اسلام میں طلاق کو ہمیشہ قابل مذمت عمل قرار دیا گیا اور اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
حلف نامہ میں جن نقاط پر روشنی ڈالی گئی ہے ان میں ایک اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ ڈومسٹک وائلنس ایکٹ 2005 کے تحت کسی بھی عورت کی سیکورٹی کے پیش نظر’ لیو اِن ریلیشن‘ کی اجازت دی گئی ہے جس کے تحت ایک عورت تحفظ کی خاطر کسی بھی شادی شدہ اجنبی مرد کے ساتھ رہ سکتی ہے ،تو پھر ایک بیوی ، دوسری بیوی کے رہتے ہوئے مرد کے نکاح میں کیوں نہیں رہ سکتی ۔ جبکہ ’لیو ان ریلیشن‘ کی بہ نسبت بیوی بن کر رہنے کی صورت میں ایک مرد اس کو زیادہ تحفظ اور وقار فراہم کرسکتا ہے۔
جوابی حلف نامہ میں مختلف دلائل پیش کرنے کے بعد بورڈ نے عدالت کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ تین طلاق کے خلاف جو حلف نامہ داخل کیا گیا ہے اس میں یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ مسلم مرد کو طلاق دینے اور عدت کے بعد نان و نفقہ ادا نہ کرنے کا یکطرفہ اختیار حاصل ہے ،یہ تصور فرضی باتوں پر مبنی ہے اس لئے پٹیشن پوری طرح سے غلط فہمیوں پر مبنی ہے، اس لئے اسے مسترد کردیا جانا چاہئے۔بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ شرعی اصول کوئی انسان کا بنایا ہوا قانون نہیں ہے جسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکے، یہ اسلام سے جڑے بنیادی اصول ہیں۔
بہر کیف متعدد مکتبہ فکر اور علمائے کرام سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ گرچہ وہ کچھ مسئلوں میں آپسی اختلاف رکھتے ہیں ،خاص طور پر تین طلاق کی معتبریت پر اہل حدیث کو سخت اعتراض ہے کہ یکطرفہ طور پر فیصلہ کرکے حلف نامہ عدالت کو بھیج دیا گیاہے۔بورڈ کے اس عمل سے مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کافی ناراض نظر آئے لیکن اجمالی طور پر سب کا یہ ماننا ہے کہ مذہبی معاملوں کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ مذہبی اداروں کے ذریعہ ہونا چاہئے۔کیونکہ مذہبی آزادی کا اختیار ہمیں ملک کے قانون نے دیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here