محفوظ اسقاط حمل کا حق

Share Article

damiمیڈیکل ٹرمینیشن آف پرگیننسی( ایم ٹی پی ) قانون میں لمبے وقت سے جن اصلاحات کی مانگ کی جارہی ہے، انہیں کرنے کا وقت اب آگیا ہے۔حال کے دنوں میں سپریم کورٹ میں کئی ایسے معاملے پہنچے ہیں جن میں 20 ہفتے سے زیادہ کے حمل کا اسقاط کرنے کی منظوری مانگی گئی ہے۔اس سے صاف ہے کہ قانونی طریقے سے اسقاط حمل کرنے سے متعلق 1971 کے قانون میں اصلاحات کی کتنی ضرورت ہے۔یہ معاملے سپریم کورٹ تک اس لئے پہنچ رہے ہیں کیونکہ 20ہفتے سے زیادہ کا حمل ہونے پر اسقاط حمل کی اجازت صرف تب ہوتی ہے، جب ماں کی جان کو خطرہ ہو۔ جنین میں اگر کوئی دشواری ہو یا اسے کسی سنگین بیماری کا خطرہ ہو تب بھی قانون اسے ماں کے لئے خطرہ نہیں مانتا ۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ پیٹ میں پل رہے جنین میں سنگین دشواری کا اندازہ 20 ہفتہ کے بعد ہی لگتا ہے۔ اس صورت میں اسقاط حمل کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے اور عدالت کو ڈاکٹروں کی صلاح پر کیس کی بنیاد پر فیصلہ دینا ہوتا ہے۔
اس قانون میں مجوزہ ترمیم 2014 سے ہی التوا میں لٹکا ہوا ہے۔ ترمیم کرکے یہ پروویژن کیا جانا ہے کہ اسقاط حمل کبھی بھی کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ پیدا ہونے والے بچے کو کوئی سنگین مسئلہ ہونے کا خدشہ ہو یا ماں کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔سنگین دشواریوں کی ایک لسٹ بنانے کی تجویز بھی ہے۔ اگر یہ ترمیم پاس ہو جاتی ہے تو اس معاملے میں عدالت کا دروزہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کیونکہ تب اسقاط حمل کسی قانونی ہیلتھ اسٹاف کی صلاح پر کیا جاسکے گا۔
مجوزہ ترمیم میں قانونی ہیلتھ اسٹاف کے دائرے میں آیوروید، یونانی، سرٹیفائڈ اور ہومیوپیتھک ڈاکٹروں اور نرس و دیگر ایسے ہیلتھ اسٹاف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایلو پیتھی کے ڈاکٹر اس تجویز کی یہ کہہ کر مخالفت کررہے ہیں کہ ایسا کرنے سے کئی طرح کی میڈیکل گڑبڑیاں ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ سرکار انہیں اسقاط حمل کرنے کا حق، ضروری جانچ اور سرٹیفکیٹ کے بعد ہی دے گی۔ کئی تجزیات نے یہ ثابت کیا ہے کہ متوسط سطح کے ہیلتھ اسٹاف ایسی جانچ کے بعد کامیابی سے کام کرپاتے ہیں۔
اگر یہ تجویز پیش ہو جاتی ہے تو اس سے اسقاط حمل اور اس سے متعلق دیکھ ریکھ کی سہولیات تک لوگوں کی پہنچ بڑھ جائے گی۔ لیکن یہ سدھار ہوا میں نہیں ہونی چاہئے۔ اوسطاً ہر روز 10 عورتیں ہندوستان میں غیر محفوظ اسقاط حمل کی وجہ سے جان گنواتی ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ ہندوستان میں دو تہائی اسقاط حمل غیر محفوظ طریقے سے بغیر کنٹرول والے غیر قانونی اسپتالوں میں ہوتے ہیں ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ،جیسے صحیح اسپتال تک لوگوں کی پہنچ نہ ہونے یا قانونی ڈاکٹروں کے ذریعہ سروس دینے سے انکار کرنا وغیرہ اس کی وجوہات میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی سماجی وجوہات بھی ہیں۔ساتھ ہی بیداری کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ان دشواریوں کی وجہ سے عورتیں غیر محفوظ اسقاط حمل کا متبادل چننے کو مجبور ہیں۔ اسقاط حمل میں استعمال کی جانے والی دوائیںجیسے میفے پرسٹون اور میسو پروسٹول کا استعمال بغیر کسی ڈاکٹری صلاح کے کر لیتی ہیں۔ ہندوستان ان گنے چنے ملکوں میں ہے، جہاں 46 سال پہلے اوقاط حمل کو قانونی حیثیت ملنے کے باوجود محفوظ اسقاط حمل کی سہولیات تک لوگوں کی پہنچ نہیں ہو پائی ہے۔ اگر اس سے متعلق قانون میں ترمیم کرکے اس کی توسیع کی جاتی ہے تو ایسے پروویژن بھی کئے جانے چاہئے، جس سے محفوظ اسقاط حمل سہولیات تک لوگوں کی پہنچ قائم ہو سکے۔
1971 میں یہ قانون آبادی کنٹرول اورغیر محفوظ اسقاط حمل کی وجہ سے جان گنوا رہی عورتوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے لاگو کیا گیا تھا۔ مجوزہ ترامیم سے اس وقت نظر انداز نکات ،جیسے عورتوں کی آزادی اور فیصلے لینے کے اختیار کا تحفظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ترامیم کے بعد 12 ہفتے پہلے تک اسقاط حمل اپنی خواہش کے مطابق کرایا جاسکتا ہے۔ حاملہ عورت کے مسئلے اور جنین کے مسائل کو دیکھتے ہوئے اسقاط حمل کی جو 20ہفتے کی حد تھی، اسے بڑھا کر 24ہفتے کیا جانا ہے۔ ایک اور قابل ستائش بدلائو زیر تجویز ہے کہ اب مانع حمل کے کام نہیں کرنے کی بنیاد پر اسقاط حمل کرنے کے لئے شادی شدہ ہونے کی حالت کی جانکاری دینا لازمی نہیں ہوگا۔ 1971 کے بعد سے اب تک سماجی اور میڈیکل سیکٹر میں کافی بدلائو ہوئے ہیں۔ اس لئے اس وقت کا قانون بھی بنیاد بنا نہیںرہ سکتا ۔
یہ ترمیم صحیح سمت میں صحیح کوشش ضرور ہے، لیکن کئی سوالوں کا حل اس کے بعد بھی کرنا ہوگا۔ کئی عورتوں کو مانع حمل کے استعمال کی بھی جانکاری نہیں ہے اور کئی ایک کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ اسقاط حمل کا قانونی حق ان کے پاس ہے۔ اس سمت میں عورتوں کو بیدار کرنے میں ہیلتھ اسٹاف کا اہم کردار ہے۔ اسقاط حمل کی سہولت اور معانع حمل تک پہنچ عوامی صحت سے جڑے مسئلے ہیں اور ان کا حل اسی سطح پر ہونا چاہئے ۔ عورتوں کو اپنے اختیارات کے معاملے میں آزاد مان کر انہیں اپنے جسم، سیکسولیٹی اور تناسل وغیرہ کے بارے میں فیصلہ لینے کا اختیار ہونا چاہئے ۔
مجوزہ ترامیم والے قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون بنانے والے اور عام لوگ اسقاط حمل پر کھل کر بات چیت کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *