حیدر طبا طبائی
قاہرہ کے تحریر اسکوائر کے بعد لندن کی سڑکوں پر مصری عوام سرگرم عمل ہیں۔ تیونس میں زین العابدین بن علی کے بعد پورے مشرق و سطیٰ میں ارتعاش سا آگیا ہے۔ محکوموں، مظلوموں اور مجبوروں کو لگا کہ ان کی تقدیر اپنے ہاتھ میں ہے۔ مصر میں اس عوامی بیداری کا ہدف اول بنا دنیابھر کے ڈکٹیٹروں کی طرح حسنی مبارک۔ وہ اس زعم میں مبتلا رہا کہ مصر اس کی مٹھی میں ہے اور کوئی توانا حزب اختلاف منظم ہی نہیں ہو پائی۔ اخوان المسلمین کو سالہا سال سے ریاستی جبر وتشدد کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔ اخوان المسلمین میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ سربلند کر کے انقلاب کا نعرہ بلند کرسکے۔ مبارک کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نفری رکھنے والی سیاہ پوش مصری پولس میری وفادار ہے جو کسی بھی شورش کو کچلنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ تقریباً اتنے ہی افراد پر مشتمل فوج بھی کسی بھی یلغار کے سامنے دیوار بننے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ مصری فوج کے سربراہ جنرل محمد طنطاری بھی مبارک کے ہمدم دیرینہ ہیں۔ مبارک مصری فضائیہ کا چیف رہا ہے اور ایئر چیف مارشل کی حیثیت سے ریٹائر ہوا،ا س کو بری فوج کی طرح مصری ایئر فورس کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کو ان فوجی آمروں نے کنیز کا درجہ دے رکھا ہے۔ مصر کی خوشحال اشرافیہ کے مفادات مصری سرکار سے وابستہ ہیں۔ یہ پر فریب خوش گمانیوں کا وہ آشوب ہے، جو آخری دن تک خود پرست اور بدمست حکمرانوں کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔
اب پرعزم عوامی مظاہروں نے پولس کے حوصلے پست کردئے ہیں۔ لندن اور امریکہ میں مصری عوام کا قہر و غضب دیکھ کر اب مغربی آقا اپنے چہیتے حکمرانوں پر اپنے مفادات کا پچارا نہیں پھیرتے۔ مصر میں اب فکر دامن گیر ہے۔ آمریت کے بعد اب حقیقی جمہوریت کی بساط بچھنا شروع ہوچکی ہے۔ آج فلسطین کی حماس کی طرح مصر کی اخوان المسلمین سیاسی عمل کا توانا پرزہ بن گئی ہے۔ اب اگر ایسا ہی ہے تو مغرب(امریکہ سمیت) سب کو جان لینا چاہیے کہ اب عالم عرب یا اسلامی ممالک پر ان کی بالادستی شدید خطرے سے دو چار ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں ایک قسم کی فرقہ وارانہ جنگ کے آثار نمایاں ہیں۔ لندن سے دس میل کے فاصلے پر لوٹن شہر ہے، اس میں مسلمان خاص طور سے پاکستانی بہت زیادہ ہیں۔ چونکہ لوٹن ایک صنعتی شہر ہے، اس لیے لیبر طبقہ بہت ہے۔ یہاں مساجد بہت زیادہ ہیں۔ یہاں گزشتہ دنوں برٹش نیشنل پارٹی(بی این پی) نے کوئی تین ہزار افراد پر مشتمل ایک جلوس نکالا اور شہر بھر میں گھوم گھوم کر ایشین کے خلاف نعرے لگائے۔ اس میں انگلش ڈیفنس لیگ اور دوسری سفید فام تنظیموں کی جانب سے سخت مظاہرہ ہوا۔ ایک شخص کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا گیا، جب کہ 14 پولس یونٹ کے ایک ہزار سے زیادہ مسلح کمان کے جوان موجود تھے۔ اس روز کی سیکورٹی پر سرکار کا 8 لاکھ پونڈ کا خرچ آیا۔ دو گوروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ نعرے اس طرح سے لگ رہے تھے کہ اے برطانیہ کے لوگو! اپنی شاہراہوں کو مسلم بمباروں سے پاک کرو۔ اب اس ملک میں مساجد نہیں بننے دیںگے۔ ان مظاہروں کو دیکھنے جو پاکستانی جمع تھے، ان پر مظاہرے کے درمیان سے کئی کریکر بھی پھینکے گئے۔ ان باتوں کا برا اثر یہ پڑتا ہے کہ جو لڑکے یہاں پیدا ہوئے ہیں، وہ گوروں کے خلاف مسلح ہو کر جم کر لڑتے ہیں۔ لندن اور دوسرے شہروں کی مساجد کا آنکھوں دیکھا حال مختصر سا بیان کردوں کہ ہر مسجد میں قرآن کریم پڑھانے کے الگ کئی کمرے ہیں، ایک یا دو چھوٹے چھوٹے ہال ہیں جو صرف جمناسٹک اور ورزش کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان میں خفیہ طور پر جنگی مشقیں بھی کرائی جاتی ہیں۔ اکثر مساجد میں سویمنگ پول بھی بنے ہوئے ہیں۔ ان مسجد نما اڈوں کو لوگ پسند نہیں کرتے ہیں۔ اللہ کے گھر میں جمناسٹک یا پیراکی کا کیا کام ہے؟
پارلیمنٹ میں ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ آئندہ وزرا پوپ کے دورے پر امدادی رقم کے خرچ کی وضاحت کریں۔ کامنز کمیٹی نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ایڈفنڈ سے 1.85 ملین پونڈ کیوں کر خرچ کردئے گئے؟ اب اور سبز وعدے کیسے پورے ہوںگے؟
اب نئی پارلیمنٹ کے پارلیمنٹری کمشنر نے ایک ایک کر کے ہرغبن کا حساب طلب کیا ہے۔ سابق لیبر ایم پی کو ہزاروں پونڈ واپس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتھونی رائٹ کو کہا گیا ہے کہ وہ معافی بھی مانگیں اور غلط کلیم کے 3050 پونڈ فوراً سرکاری خزانے میں واپس کریں۔ لندن کے ایک ایسٹ بورن کے علاقے میں ایک پاکستانی کاشف بیگ نے اپنی 27 سالہ بیوی شہلا کو  محض شک کی بنیاد پر کار کے اندر چاقو گھونپ گھونپ کر مار ڈالا۔ کاشف نے گرفتاری کے بعد بیوی کو آوارہ بتایا، جب کہ تمام اہل محلہ نے شہلا کو نیک خاتون بتایا ہے۔ کاشف کو جیل بھیج کر قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
لندن کے کمپین فار بیٹر ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسی ’’اخراجات میں کمی کے باعث‘‘ برطانیہ کے بہت سے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کم ہوجانے کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس طرح سے کم آمدنی والے جوان و بزرگ لوگوں کو سخت پریشانی لاحق ہوسکتی ہے۔
برطانیہ میں قائم مسلمانوں کی فلاحی تنظیم ایڈ کی جانب سے اس سال سردی سے پریشان حال لوگوں کو دس ہزار پونڈ نقد اور دیگر چیزوں سے مدد کی گئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے دو روز پہلے ایک جذباتی بیان دیا تھا کہ اب برطانیہ میں کثیرالجہتی ثقافت ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے اس بیان سے مسلم تنظیمیں سخت ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیان سے انتہا پسند تنظیمیں فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام بطور مذہب اور اسلامی انتہا پسندی کے سیاسی نظریے میں فرق ملحوظ رکھا جانا چاہیے، جب کہ مضبوط مذہبی عقائد کو انتہاپسندی سے نتھی کرنا درست نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ برطانیہ میں ہر شہری کو اپنی آزادی کا دفاع کرنے کے لیے چوکس رہنا ہوگا۔حکمراں فقط مسائل بیان کرتے ہیں، ان کے حل نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here