حیدرطباطبائی
دو ہزار دس رخصت ہوچکا ہے۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کا آخری سورج افق مغرب میں غروب ہوچکا ہے۔ اس سلسلہ ہائے روز و شب کا نام وقت ہے۔ وقت کے اس سیل بے پناہ کو زمانہ بھی کہاجاتا ہے، جس کی صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپکتے رہتے ہیں اور انسان اپنی تسبیح روز و شب کا دانا دانا شمار کرتا رہتا ہے اور وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح ہولے ہولے سرکتا رہتا ہے۔ بلاشبہ جو لمحہ ہماری گرفت سے نکل کر ماضی کے سمندر میں غرق ہوگیا وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ ہم، لمحۂ موجود ہی کی لوح پر اپنی تقدیر کا نوشتہ رقم کر رہے ہیں۔
آج لندن کا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہے۔ آفتاب عالم تاب بہت دنوں سے نظر نہیں آیا، کبھی روئی کے گالوں کی مانند برف باری کبھی رم جھم بارش کا تار سا بندھا ہے۔  برطانوی حکومت نے سال نو کا تحفہ یہ دیا ہے کہ VATمیں 2.5فیصد اضافہ کردیا گیا، جس سے ریٹیل فروخت میں کمی کا امکان ہوگیا۔ 2011کی پہلی سہ ماہی میں VATکی شرح میں اضافے کی وجہ سے خریداریوں میں 2.2ارب پونڈ کی کمی متوقع ہے۔ صارفین ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے 324پونڈ فی کس کم خرچ کریںگے اور بچت مہم کی وجہ سے فروخت بری طرح متاثر ہوگی۔ خاص کر ہندوستانی تجار ت پر برا اثر پڑے گا۔ کرانے، سبزی فروشی اور میوہ فروشی کی دکانیں اکثر ہندوستانی لوگوں کی ہیں جن میں گھاٹا ہوا تو عام لوگوں کی زندگی متاثر ہوگی۔
ہوم آفس نے اعلان کیا ہے کہ مشتبہ افراد کی گھروں میں نظربندی کے کنٹرول آرڈر اب ختم کردئے جائیںگے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں الیکٹرانک ٹیک اور ہوم کرفیوز ختم کردئے جانے کا امکان ہے۔ مکمل فیصلہ ابھی صادر نہیں ہوا ہے۔
سال نو پر مانچسٹر میں پاکستانی نژاد 48سالہ شخص ابرارالحق کا قتل ہوگیا۔ دو سفید فام نوجوان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ مقتول اپنی بیٹی کے گھر پر بجلی ٹھیک کرنے گیا تھا کہ گلی میں چھپے ہوئے دو سفید فاموں نے لاتوں گھونسوں سے مار ڈالا جن کی عمر بھی 18سے 20سال تک ہے۔ پولس نے تفتیش شروع کردی ہے۔ انہی لڑائی جھگڑوں میں لندن و ایڈنبرا میں زیادہ تر لوگ برفیلے ماحول میں سال نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے رقص کر رہے تھے تو سرکار کی جانب سے آتش بازی کا شاندار مظاہرہ جاری تھا۔ لندن میں رنگ و نور کی برسات کا سماں تھا۔ لندن کی ایمبولنس سروس نے مصروف ترین رات گزاری۔ کنٹرول روم کے عملے نے نصف شب کے بعد ہر منٹ پر اوسطاً گیارہ کالز وصول کیں۔
بتایا گیا ہے کہ ملکہ نے روزانہ ایک سرکاری ذمہ داری نبھائی جب کہ پرنس آف ویلز سب سے زیادہ مصروف رہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود ملکۂ برطانیہ نے 2010میں روزانہ کوئی نہ کوئی سرکاری کام کیا۔ 2010میں ملکہ نے جن کی عمر 84برس ہوچکی ہے 387دورے کئے۔ 2009کی افتتاحی تقاریب میں شرکت کی، وہ اپنے شوہر ڈیوک آف اڈنبرا کے ہمراہ 5روزہ ابو ظہبی کے دورے پر گئیں جو ان کا یہ دوسرا دورۂ ابو ظہبی تھا۔ ملکہ امریکہ، کناڈا اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ بھی گئیں۔ ڈیوک آف اڈنبرا ان کے ہمراہ رہے، لیکن پرنس آف ویلز چارلس نے اور بھی زیادہ سرگرمی دکھائی۔ پرنس نے 2010میں دہلی میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کی۔ پرنس نے 45غیرممالک کا دورہ کیا۔ پرنس ہیری بھی سرکاری کاموں میں سرگرم عمل رہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وزارت خارجہ شاہی خاندان کو لکھ کر بھیجا کرتا ہے کہ آپ کے فلاں ملک کے دورے سے برطانیہ کے روابط پر اچھا اثر پڑے گا اور یہ لوگ فوراً تیار ہوجاتے ہیں۔ برطانیہ میں جو خاموش شہنشاہی برقرار ہے، اس میں خاندان شاہی کی سرگرمیاں بہت پسند کی جاتی ہیں۔
برطانیہ کے سیکنڈ ہینڈ کار مارکیٹ میں استحکام آیا ہے اور فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف جولائی تا ستمبر 2010میں 1.8ملین کاریں فروخت ہوئیں۔ برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے کوئی واردات انجام کو پہنچائے بغیر کبھی ختم نہیں کی جاتی، فائل ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔ ملزم کو مجرم بنانا ہی اسکاٹ لینڈ کا کام ہے۔ اکثر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، لیکن اسکاٹ لینڈ یارڈ ان کا تعاقب کرتی رہتی ہے۔ ایسا ہی ایک 20سالہ حسین لڑکے کے قتل کے سلسلہ میں ہوا، جس کو 1974میں کالج جاتے ہوئے ایک جھاڑی میں لے جا کر قتل کردیا گیاتھا۔ اب جان کلنٹن کو گرفتار کر کے از سر نو تحقیقات ہورہی ہے۔
سال نو پر ایک اور قصہ یہ پیش آیا کہ ویسٹ سیسکس کی جیل میں اچانک زندانیوں نے آگ لگادی۔ ہنگامہ آرائی میں بہت توڑ پھوڑ ہوئی۔ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اسپیشلسٹ آفیسر کو طلب کرلیا گیا ہے۔ قیدیوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑدئے، لیکن اس ہنگامہ آرائی میں کوئی قیدی یا افسر زخمی نہیں ہوا۔ قیدیوں کی مانگ کیا ہے، اس پر غور کیا جارہا ہے۔ رائل کالج آف مڈوائف نے اس سال سے خواتین کے لیے ان کے گھروں پر ہی زچگی کی حمایت کردی ہے، کیوں کہ ہسپتالوں میں اکثر جگہ نہیں ہوتی ہے اور مریضہ کو تکلیف ہوتی ہے۔ اب تک برطانیہ میں 2.4فیصد خواتین اپنے گھروں پر ہی زچگی کا عمل انجام دیتی ہیں۔ اب صرف چند پیچیدہ خواتین کے کیسوں کو ہی اسپتال آنے دیا جائے گا، ورنہ ایک فون پر مڈوائف اور دوسری نرس گھر جا کر زچگی کا عمل انجام دیں گی۔
لندن اور ویلز میں 200سے زیادہ سڑکیں ایسی ہیں جن پر بنے ہوئے ہر بنگلے کی قیمت پانچ ملین پونڈ یا ساڑھے چار ملین پونڈ ہے۔ زیادہ تر ایسے مکانات میں چوریاں بھی ہوتی ہیں، حالانکہ ان گھروں میں چہار جانب کیمرے نصب ہوتے ہیں اور چور کے داخل ہوتے ہی ایک الارم بج جاتا ہے۔ یہ الارم بیک وقت نزدیکی پولس اسٹیشن پر بھی بجنے لگتا ہے، لیکن چوروں نے اس کی بھی تکنیک نکال لی ہے۔
برطانیہ میں مرنے کے بعد اپنے اعضا ڈونیٹ کرنے کے لیے اس وقت 27فیصد لوگ رجسٹرڈ ہیں۔ اب اس کو مزید بڑھانے کے لیے جو کوئی نیا برطانوی، ڈرائیونگ لائسنس کی درخواست دے گا، اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ نے بعد از مرگ کوئی چیز ڈونیٹ کی ہے۔ اگر نہیں کی ہے تو کیا ارادہ ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here