لندن نامہ

Share Article

حیدر طبا طبائی، لندن ،یوکے
برطانوی بادشاہت یوروپ بھر میں مہنگی ترین بادشاہت ہے۔ صرف ملکہ برطانیہ کے اخراجات41.5ملین سالانہ اور نارویجین بادشاہت پر23.9ملین پونڈ کا خرچہ آتاہے۔ ملکہ یوروپ کی رائل فیملی میں مہنگی ترین ہیں۔ یہ رپورٹ یونیورسٹی آف برسلز نے شائع کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ٹیکس دہندگان ملکہ کے اخراجات کے لئے دوسروں سے زائد ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود گزشتہ بیس برسوں سے ملکہ کی سول پے منٹ لسٹ منجمد ہے۔ گزشتہ ماہ مخلوط حکومت کے وزراء نے ملکہ کے سول پے منٹ کو مزید ایک سال کے لئے منجمد کردیا ہے۔
اب ڈچ بادشاہت کی بات سن لیں وہ سالانہ 33.8ملین پونڈ اپنے آپ پر خرچ کرتی ہے۔ ناروے کی بادشاہت سالانہ23.9ملین اور بلجیم کا بادشاہ11.7ملین پونڈخرچ کرتاہے۔ اب بھی برطانوی ملکہ عالیہ کے اخراجات چار گنا زیادہ ہیں۔ اگر ملکہ کی سیکورٹی رائل تقریبات آرمڈ فورس کی شرکت کو جوڑا جائے تو برٹش بادشاہت پر سالانہ 180ملین پونڈ کا خرچہ آتا ہے۔
برطانیہ کی مخلوط حکومت کو گونا گوں مشکلات کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں غیر یوروپی تارکین وطن کی تعداد کم کرنے، ایمرجنسی بجٹ کے ذریعہ مختلف شعبوں کے اخراجات میں کٹوتی کرنے اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح میں ڈھائی فیصدکے اضافے نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور وزیر دفاع ڈاکٹر فوکس کے مابین ایک جرنیل کے ریٹائرمنٹ کے اعلان پر تنازعہ کھڑا کردیاہے۔ملک میں157عدالتوں کی بندش،پارلیمنٹ کے علاوہ ہاؤس آف لارڈ کے ارکان کے پارلیمانی اخراجات کے حوالے سے نئی تجاویز و نئے قوانین، عراق جنگ میں برطانوی حکومت کی جانب سے قائم سرجان چل کوٹ کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی وغیرہ۔ مندرجہ بالاتمام سرگرمیوں کی وجہ سے برطانوی مخلوط حکومت کی نیّا ہچکولے کھارہی ہے
برطانیہ بھر میں جرائم میں اب تک 13جوان قتل کئے جاچکے ہیں۔ ایشین آبادی والے علاقے نارووڈ میں ایک 15سالہ لڑکے کو چاقو سے گود کر مارڈالا گیا۔ گزشتہ سال لندن میں 14نوجوان قتل ہوئے تھے، جن میں سے 10جوانوں کو تیز دھار چاقو سے مارا گیا تھا۔جب کہ ایک شخص کو پستول کی گولی سے ماراگیا اوربقیہ تین کو مختلف طریقوں سے مارا گیا۔ اصل میں 2008سے جرائم میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے۔ اس سال 30 نوجوان مختلف جگہوں پر لندن میں قتل کردئے گئے۔
15سالہ لڑکے کی ہلاکت پر پولس نے اس کی اصل شناخت نہیں بتائی ہے۔ اگر ہندوستانی یا پاکستانی ہے تو فساد پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یکم جون کو 17سالہ سیمول اوگرینروکی لاش پیکھم کے علاقے جوویٹ اسٹریٹ میں جلی ہوئی ملی تھی، لیکن پہلے گولیوں سے اس کو بھون دیا گیا تھا۔8؍مئی کو 19سالہ پولش بلڈ مارسن بلازویسکی کو منری بری پارک ٹیوب اسٹیشن کے باہر چاقوسے حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ساؤتھ ایسٹ لندن میں 5؍ مئی کو 16سالہ نکولس پیٹرسن کو چاقوسے حملہ کرکے ہلاک کیا گیا۔ گزشتہ ماہ یعنی جون میں 17سالہ طالب علم چارلی رائٹ کو گرین واچ میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا اور 18؍اپریل کو ویسلی اسٹرلنگ کو چاقو سے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ایک لڑکی ، جس کا نام اگنس سینا تھا ، کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلادیا گیا۔3؍اپریل کو 18سالہ ایزمرزا جوپاکستانی لڑکی تھی ، چاقو سے مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس طرح کی واردات میں برابر اضافہ ہورہا ہے۔ اب تو راتوں کو لندن کی ویران جگہوں پر جانے سے پولس نے منع کررکھا ہے۔
گزشتہ روز اشوک آن ٹرن جو لندن سے سومیل کے فاصلے پر ہے، ایک 30سالہ پاکستانی نوجوان بنام اسرار الٰہی کو گھر جاتے ہوئے ایک سفید فام شرابی ٹولے نے بیئر کی بوتلیں مارمار کرموت کے گھاٹ اتارڈالا۔ اسرار الٰہی تین بچوں کا باپ تھا اور کسی کمپنی میں بزنس انسپکٹر تھا۔
ادھر پولس تک کے اخراجات میں کٹوتی کی جارہی ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے انتباہ دیا ہے کہ اخراجات میں کٹوتی سے دہشت گردی کے خطرات بڑھ جائیںگے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے نائب کمینز جان یائس نے کہا ہے کہ القاعدہ کے خلاف کاموں میں سست رفتاری سے القاعدہ و طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوجائے گا۔برطانیہ کی بڑی پنشن اسکیموں کو 100بلین پونڈ تک فنڈ میں کمی کا سامنا ہے۔ دوسری طرف اعتراض یہ ہے کہ حکومت تمام روپیہ جنگوں پر صرف کررہی ہے جوبرطانیہ صرف اپنے اتحادیوں کی مدد میں صرف کررہا ہے ان جنگوں کا بجٹ ظاہر نہیں کیا جارہا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں بہت واضح موقف اپنانا ہوگا۔ ولیم ہیگ جو وزیر خارجہ ہیں ، نے کہا ہے کہ عالمی اثرورسوخ میں اضافہ نہ کیا گیا تو برطانیہ کو تنزلی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
افغانستان کا مکمل کنٹرول2014تک خود افغان فورسز کے حوالے کرنے کا شیڈول بنایا جا چکا ہے۔ توقع ہے کہ 2015تک برطانوی افواج بغداد اور کابل سے واپس لوٹ آئیںگی۔
اب برطانیہ بھر میں مسلمان خواتین پر برقع پہننے پر پابندی عائد کرنے کی گونج ہاؤس آف کامن میں سنائی دے رہی ہے۔ یہ بل برٹش سماج میں ہلچل پیداکردے گا۔بل ٹوری ایم پی نے پیش کیا ، جن کا نام ہے فلپ ہیلوبون۔ فلپ نے یہ بھی کہا ہے کہ پبلک مقامات پر چہرے کو ڈھانپنا غیر مناسب ہے جو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ برقع صرف پاکستان و افغانستان کی خواتین پہن کر باہر آتی ہیں ورنہ سعودی عرب ہو یا ایران سب لوگ سرپر اسکارف پہن کر گھوما کرتے ہیں۔ لیکن عام مسلمان جو برقع نہیں بھی زیب تن کرتا ، وہ بھی ،کوئی مہم چلی تو حکومت کے خلاف ٹوٹ پڑے گا۔
مخلوط حکومت کی جانب سے ایک نئی ویب سائٹ کا آغاز ہوا کہ برطانوی شہری کسی بھی قانون کی منسوخی کی سفارش کرسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کہا یہ گیا ہے کہ شہریوں کو انفرادی آزادی کے تحفظ کی مکمل آزادی ہے۔ لیکن درپردہ یہ جلوس اور جلسوں کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔
2008میں پاکستانی نژاد رنگزیب اور حبیب احمد کو صرف دہشت گردی کروانے و منصوبہ بندی کے شک میں عمر قید ہوئی تھی ۔اب ان کواس سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ اب برطانوی اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں میں جو وسط جولائی سے دس ستمبر تک ہوتی ہیں، بچوں کو لے کر چھٹیاں گزارنے بیرون ملک جانا مشکل ہورہا ہے۔ ٹیکس بڑھ گئے آمدنی کم کردی گئی ہے۔ اس سے برٹش سماج میں پھر جرائم بڑھ سکتے ہیں۔ اب برطانیہ کی مشکلیں ہیںکہ بڑھتی ہی جارہی ہیں۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *