سنتوش بھارتیہ 
ایک بڑا ہی مشہور شعر ہے ’بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا‘۔ کچھ ایسا ہی ماحول بنا، جب 29 اکتوبر کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں فرقہ واریت کے خلاف 14 سیاسی پارٹیوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں بار بار کہا گیا کہ 17 سیاسی پارٹیاں ہیں اور وہیں پر یہ اعلان ہوا کہ 14 سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں۔ تین پارٹیوں کا فرق اور وہ بھی منتظمین کے منھ سے ہی بار بار اس تضاد کا ظاہر ہونا آخر تک نہیں سمجھ پایا کہ اس میٹنگ میں 14 پارٹیاں تھیں یا 17 پارٹیاں تھیں۔ میٹنگ کا بنیادی ایشو فرقہ واریت تھا۔ فرقہ واریت کی مخالفت کرنے کا عہد وہاں موجود سب نے لیا، لیکن یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آج فرقہ واریت کی شکل کیسی ہے۔ میٹنگ میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک لفظ کا استعمال کیا ’فاشزم‘۔ فاشزم اور فرقہ واریت میں فرق ہے، لیکن وہاں موجود عوام کو فرقہ واریت اور فاشزم کا فرق اور اس کے معنی کسی نے نہیں بتائے۔ یہ بھی سوال اٹھا کہ فرقہ واریت کی مخالفت آخر کریں تو کیسے کریں۔ اس پر میٹنگ میں کسی نے اپنا نظریہ نہیں رکھا۔ کیا فرقہ واریت کی مخالفت الیکشن کے ذریعے کی جاسکتی ہے یا فرقہ واریت کی مخالفت کسی دوسرے ذریعہ سے بھی کی جا سکتی ہے؟ جو عقل مند لیڈر وہاں موجود تھے، انہوں نے اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ سب سے اہم بات، لیفٹسٹ لیڈروں کے علاوہ کسی نے نریندر مودی کا نام نہیں لیا۔ جب فرقہ واریت اور فاشزم کی بات ہو رہی ہے، تو اس کی علامت کون ہے، یہ بھی تو واضح ہونا چاہیے۔ آپسی بات چیت میں یہ سارے لیڈر بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کا نام لیتے ہیں، لیکن اسٹیج پر کسی نے نام نہیں لیا۔ ملائم سنگھ یادو نے تو کہا کہ جب کوئی نام نہیں لے رہا ہے، تو میں کیوں لوں۔ ملائم سنگھ جی سے یہ امید تھی کہ وہ جلیبی نہیں بنائیں گے اور سیدھے سیدھے فرقہ واریت کے لیے ذمہ دار طاقتوں اور ان کے لیڈروں کا نام لیں گے، لیکن وہ بھی کنی کاٹ گئے۔
دراصل، فرقہ واریت مطلق (Absolute) لفظ نہیں ہے، نسبتی (Relative) لفظ ہے۔ فرقہ واریت تجریدی (Abstract) نہیں ہے، مادّی (Tangible) ہے۔ فرقہ واریت کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ لیکن صرف فرقہ واریت کی بات کرنا اور اس کا اثر کیا ہو رہا ہے، اس کی بات نہ کرنا فرقہ واریت کے خلاف لڑائی کو کمزور کرنا ہے۔ فرقہ واریت کی وجہ سے ملک کو کیا کیا بھگتنا پڑ سکتا ہے اور فرقہ وارانہ طاقتوں کو کیسے قابو میں کیا جا سکتا ہے، اس کی بات اس میٹنگ میں نہیں ہوئی۔ شاید میٹنگ میں تقریر کرنے آئے سارے لیڈر یہ سمجھتے رہے کہ جیسا وہ سمجھتے ہیں، ویسا ہی عوام سمجھتے ہیں اور لیڈروں کی یہی غلط فہمی انہیں عوام سے دور کر دیتی ہے۔ بابو لال مرانڈی کی تقریر اخباروں میں کہیں نقل نہیں ہوئی، لیکن بابو لال مرانڈی نے ایک بڑی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فرقہ واریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں غریبی ہے، بھوک ہے، بیکاری ہے۔ ان کے خلاف اگر کوئی حکمت عملی بنتی ہے، تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ صرف فرقہ واریت پر بحث کرکے کیا ان مشکلوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے؟ ہمارا ماننا ہے کہ بابو لال مرانڈی کچھ حد تک صحیح ہیں، لیکن بابو لال مرانڈی جب بولنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ہال میں صرف 250-300 لوگ تھے، کیوں کہ اس ہال میں فرقہ واریت کی مخالفت کرنے والے لوگ نہیں آئے تھے، بلکہ پارٹیوں کے لوگ آئے تھے۔ ملائم سنگھ کی حمایت کرنے والے لوگ ٹوپیاں لگائے ہوئے بیٹھے تھے، جس سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ سماجوادی پارٹی کے حامی بڑی تعداد میں یا کہیں کہ سب سے بڑی تعداد میں ہال میں موجود تھے۔ اس لیے شری دیوے گوڑا کے بعد جب دوسرے نمائندوں کو تقریر کرنے کے لیے بلائے جانے کی بات ہونے لگی، تو ملائم سنگھ جی کے حامی شور مچانے لگے کہ پہلے ملائم سنگھ جی سے تقریر کرائی کرائی جائے۔ ملائم سنگھ جی نے تقریر کی۔ اچھی تقریر کی۔لیکن وہ تقریر بھی لوگوں کے من میں جوش نہیں پیدا کر پائی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی کی بھی تقریر نے موجود کارکنوں کے درمیان جوش نہیں پیدا کیا۔ ہاں، لیڈروں کے حامیوں نے بیچ بیچ میں اپنے اپنے لیڈروں کا نام لے کر، نعرے لگا کر جوش ضرور ظاہر کیے۔ نتیش کمار زندہ باد، شرد یادو – کے سی تیاگی زندہ باد، ملائم سنگھ یادو زندہ باد، اس طرح کے نعرے وہاں لگ رہے تھے۔ سب سے تہذیب یافتہ لیفٹ پارٹیوں کے کارکن رہے۔ ان کی تعداد کم بھی تھی، لیکن وہ ڈسپلن میں رہے۔
اس میٹنگ کا کوئی نتیجہ ملک کے سامنے نہیں نکلا۔ دراصل لوگوں کے من میں یہ خواہش تھی کہ جتنی بھی پارٹیاں غیر کانگریس اور غیر بی جے پی آئیڈیالوجی کی ہیں، وہ کم از کم ایسا اشارہ دیں گی کہ وہ آپس میں کسی نہ کسی طرح کا تال میل کریں اور مل کر الیکشن لڑیں، تاکہ فرقہ واریت کی مخالفت کے نام پر ہی سہی ، کم از کم کوئی اتحاد ہوتا تو دکھائی دے۔ لیکن سب سے پہلے نتیش کمار نے یہ کہہ کر کہ ابھی کوئی اتحاد ممکن نہیں ہے اور وہ اتحاد جو ہو سکتی ہو، اس کی کوشش کرنی چاہیے، بتا دیا کہ اب کوئی بھی آکر یہ نہیں کہنے والا ہے کہ یہاں جو موجود لوگ ہیں، انہیں ایک مورچہ بنانا چاہیے۔ اسی لیے جب باقی لیڈروں نے، جن میں لیفٹسٹ لیڈر بھی شامل تھے، یہ کہا کہ اس میٹنگ سے کسی مورچہ کی امید نہیں رکھنی چاہیے، تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ فرقہ واریت کی مخالفت میں یہ میٹنگ بلائی کیوں گئی؟ اچھا ہوتا کہ فرقہ واریت کی مخالفت میں جو تجویز میٹنگ میں رکھی گئی، اس کے لیے اتنا تام جھام کیے بغیر ان پارٹیوں کے دستخط کے ساتھ اسے اخباروں میں دے دیا جاتا۔ یہ تجویز بھی ایسی نہیں ہے، جو لوگوں کو کوئی سمت دے سکے۔
دماغ میں سوال کلبلا رہا ہے کہ آخر یہ ہوا کیوں؟ تو ایسا لگتا ہے کہ یہ میٹنگ بغیر کسی ہوم ورک کے، بغیر کسی متعینہ سمت کے صرف اس لیے ہوئی، تاکہ ملک میں ایک پیغام جائے کہ ہماری پارٹیوں کا بھی کوئی وجود ہے۔ نتیش کمار سے لوگ سننا چاہتے تھے نریندر مودی کی تقریروں کا جواب، لیکن نتیش کمار نے ایک ہلکے ذکر کے علاوہ نریندر مودی کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہاں پر ڈی پی ترپاٹھی تھے، جو کہ این سی پی کے رکن پارلیمنٹ اور جنرل سکریٹری ہیں، انہوں نے صاف کہا کہ ہم فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہیں، بھلے ہی ہم سرکار میں شامل ہیں، لیکن ہم کسی مورچہ میں شامل نہیں ہونے والے۔ ظاہر ہے، مہاراشٹر میں وہ کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہے ہیں، تو یہاں کسی مورچہ میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں؟
اب جب کہ انتخابات سر پر ہیں، تو ایسی میٹنگوں کا کوئی مطلب ہے نہیں۔ یا تو پہلے آپس میں بات چیت ہوگئی ہوتی، ایک پروگرام طے ہو گیا ہوتا اور اس پروگرام کو ماننے والے لوگ کم از کم یہ عہد دوہراتے کہ ہم اگلے ایک ماہ میں کوئی نہ کوئی ڈھانچہ تیار کر لیں گے، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ اور بات اس لیے نہیں ہوئی، کیوں کہ کوئی بات کرنا نہیں چاہتا۔ اگر ملائم سنگھ جی اس میں پہل کرتے، تو ضرور تیسرے مورچہ کو لے کر کوئی تصویر ابھر سکتی تھی، لیکن ملائم سنگھ ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات انہیں کانگریس کے ساتھ لڑنا ہے یا اکیلے لڑنا ہے۔ کانگریس بار بار کہہ رہی ہے کہ وہ کسی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گی، لیکن لوگ ہیں کہ کانگریس کو لے کر فلرس بھیج رہے ہیں۔ ایسے فلرس بھیجنے والوں میں نتیش کمار بھی ہیں اور ملائم سنگھ یادو بھی۔ لیفٹ پارٹیاں کانگریس کی مخالفت اس لیے بھی نہیں کر رہی ہیں، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ 2014 کے انتخابات میں کانگریس کا ساتھ اگر پھر سے دینا پڑا، تو انہیں اس صورتِ حال کو لے کر تھوڑی پریشانی ہو سکتی ہے۔
بہرحال، یہ قواعد بالکل بیکا رتھی۔ اس کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ مجھے تو اس قواعد کا مقصد بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ جو لوگ فرقہ واریت کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ بلا واسطہ مخالفت کرتے ہیں یا بالواسطہ مخالفت کرتے ہیں۔ یہ میٹنگ بلا واسطہ مخالفت کی تھی۔ بلا واسطہ مخالفت کا طریقہ کیسے مخالفت کریں، کیوں مخالفت کریں اور لوک سبھا میں اس مخالفت کی حقیقی شکل کیا ہو، جب انتخابات آئیں تو فرقہ واریت مخالف طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہوں یا فرقہ واریت کے خلاف ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلیں، یہ سوال 29 اکتوبر سے پہلے بھی منھ کھولے کھڑا تھا اور آج بھی کھڑا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here