غیر مسلم بھی اس بل سے فائدہ ہوگا

Share Article

وصی احمد نعمانی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)
انسدادفرقہ وارانہ اور نشان زد تشدد ( رسائی برائے انصاف و تلافی نقصان) بل 2011 میں بے شمار ریلیف اور آسانیاں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان دفعات کے مطالعہ سے یہ گمان ہوتا ہے کہ اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کے لیے اب تک وضع کیے گئے قوانین اور ایکٹ میں سے موجودہ بل سب سے زیادہ وسیع اور سود مند ہے، لیکن جتنی اچھی دفعات اس بل میں نئے اور پرانے ایکٹوں سے شامل کی گئی  ہیں وہ BJP اور اس کی ہم نوا تنظیموں کی جی جان سے مخالفت کے لیے کافی ہیں۔اگر یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خیریت سے پاس ہوکر قانون یا ایکٹ کی شکل لے لیتا ہے تو ایک اہم کارنامہ ہوگا۔مرکزی سرکار اور اس کی ہم نوا شرکاء جماعتوں کو ، اس بل کو بہت سی دفعات کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے فائدے کے لیے اس بل کو ’’شیڈولڈ کاسٹ اورشیڈولڈ ٹرائبز (پریونشن آف ایٹراسیٹیز) ایکٹ 1989 کے ہم پلہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، کیونکہ اس ایکٹ 1989 نے، SC/ST کی جان ومال، عزت و آبرو، وقار اور شان کی زبردست حفاظت کی ہے۔ اس لیے انسداد فرقہ وارانہ اورنشان زد بل 2011 سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب کی دفعہ در حقیقت مسلمانوں کی جان ومال، عزت و آبرو، شان وعظمت کی حفاظت کا احساس مرکزی حکومت کو ہے۔اسی طرح پروٹکشن آف سول رائٹز ایکٹ 1955 کے ذریعہ چھوا چھوت کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے ایک نہایت مؤثر قدم اٹھا کر دلتوں اور اچھوت کہے جانے والے بھائیوں کی جان و مال ، عزت و جاہ کی حفاظت کی ہے۔ان دونوں ایکٹوں کی شان اور دبدبہ اس  مجموعہ بل ’’ انسداد فرقہ وارانہ اور نشان زد تشدد‘‘  میں نظر آتا ہے۔’’ مجموعہ ‘‘  بل اس لیے کہ بے شمار ملکی اوربین الاقوامی قوانین کی انگنت دفعات کو جسمانی طور پر یا ہو بہو اٹھا کر اس بل 2011 کا حصہ بنا کر نیا بل تجویز کردیا گیا ہے، لیکن اس کومؤثر اور عملی طور پر طاقتور بنانے کے لیے کوئی خاص دفعات کی شمولیت نہیں کی گئی ہے۔مثال کے طور پر اس مجوزہ بل میں ’’ کمیشن آف انکوائریز ایکٹ‘‘ کی دفعات کو شامل کرکے ’’ قومی اتھارٹی‘‘ دنگا فساد اور اس سے متعلق کارروائی کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ جبکہ’’ کمیشن آف انکوائری ایکٹ ‘‘ بذات خود بے معنی، بے سود سعیِ لا حاصل ایکٹ ہے۔اسی طرح تعزیرات ہند کی دفعات اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کو بنیاد بنا کر مدّعی یا مظلوم کے بیان کو عدالت میں درج کرانے کی بات کہی گئی ہے۔اس سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ ان دفعات کی موجودگی متعلقہ ایکٹوں میں ہونے کے باوجود کوئی کارکردگی قابل قدر انجام نہیں دی جا سکتی ہے۔یا پھر یہ کہ ان دفعات کو شامل کرکے نئے بل بنانے سے کوئی خاص مقصد حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوگی، کیونکہ قانون تو پہلے سے ہی موجود ہے مگر اطلاق نہیں ہونے کی وجہ سے بے سود ہے۔ مثال کے طور پر مجوزہ بل کی دفعہ 72 میں ’’ قومی اتھارٹی‘‘ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ تفتیش کرے گی اور تمام اختیارات جو ’’ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1952 ‘‘ کے تحت دستیاب ہیں اس کا استعمال کرے گی۔ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ اس انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت کسی بھی کمیشن کو کچھ اختیار حاصل نہیں ہے سوائے  اس کے کہ جس معاملہ کی انکوائری کوئی کمیشن کر رہا ہے، وہ حالات و واقعات کے ڈاٹاز اور مواد اکٹھا کرکے متعلقہ حکومت کے سامنے پیش کردے، اور بس۔ کمیشنوں کو اس ایکٹ کے تحت یہ بھی احتیار نہیں ہے کہ ملزم یا مجرم کی سزا یا ان کے خلاف جرمانہ تک عاید کرے، کیونکہ
1)      کسی بھی کمیشن کی رپورٹ حکومت کو پابند نہیں کرے گی۔ حکومت اس رپورٹ کو ماننے کے لیے مجبور یا پابند نہیں ہے۔
2 )      یہ رپورٹ بذات خود کوئی ایکشن نہیں ہے جس سے حکومت مجبور ہو کر کمیشن کی رپورٹ کو مانے ۔
3 )      یہ کسی طرح بھی جوڈیشل انکوائری نہیں ہے جس کا ماننا حکومت کا فرض ہوتا ہے۔
4)          انکوائری کمیشن کی رپورٹ کسی بھی عدالت میں قابل قبول نہیں ہے ، اس لیے اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
5 )      اگر کسی ملزم یا مجرم کے خلاف ثبوت ہے تو بھی اسے کمیشن آف انکوائری سزا نہیں دے سکتا ہے، کیونکہ رپورٹ حکومت کے لیے صرف ایک اطلاع نامہ ہے۔  حکم نامہ نہیں یا عدالتی فیصلہ نہیں ہے۔
6 )      یہ رپورٹ غلطی کرنے والے حکام کی پشت پناہی کرتی ہے۔ یہ ایک ’’ پناہ گاہ ‘‘ ہے، ان حکومتوں کے لیے جو کچھ بھی نہیں کرنا چاہتی ہیں۔ اور ایسی رپورٹ کو بنیاد بنا کر وقت گزارنا چاہتی ہیں۔
7 )      اس رپورٹ کی کوئی بھی قانونی حیثیت فوجداری یا دیوانی عدالتوں میں نہیں ہے۔
مذکورہ بالا نکات کو مشہور اندرا گاندھی قتل مقدمہ میں  یا کیہر سنگھ بنام حکومت دلی1988-A-I,R-S.C-1883 ۔ اسی طرح مشہور مقدمہ اسٹیٹ آف کرناٹکا بنام یونین آف انڈیا AIR 1978SC-68 اور رام کرشن ڈالمیا بنام جسٹس ایس آر تندولکرAIR’1958 S.C.538 ۔پھر اسی طرح ٹی ٹی انٹونی بنام کیرالا AIR .S.C.2000 میں دستوری بینچ نے کہا ہے کہ فوجداری یا دیوانی عدالتیں کمیشن آف انکوائری کی فائنڈنگ یا نظریات کو قبول کرنے کے لیے یا ماننے کے لیے پابند نہیںہے، کیونکہ کمیشن آف انکوائری کو جوڈیشل اختیارات دستیاب نہیں ہیں، اس ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت یکجا کیے گئے ثبوت عدالتوں میں قابل قبول ہی نہیں ہیں جبکہ موجودہ مجوزہ بل میں بہت سے اختیارات ’’ قومی اتھارٹی‘‘ کو دیے گئے ہیں۔ تمام معاملوں کی تفتیش کرنے کا اختیار تو ہے ،لیکن خود کوئی ایکشن کسی ملزم یا مجرم کے خلاف لے، اس کا اختیار اس اتھارٹی کو نہیں ہے۔ اگرچہ دفعہ 72  میں قومی اتھارٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ متعلقہ صوبہ کے ہائی کورٹ کے جج سے معاملہ کی تفتیش کرائے اور یہ انکوائری واقعہ ہونے کے 90 دن کے اندر شروع ہوجانی چاہیے، مگر اس سے ہونا کیا ہے۔شری کرشنا کمیشن رپورٹ جو 1992 ممبئی فساد کے متعلق ہے، جسٹس کرشنا ممبئی ہائی کورٹ کے سیٹنگ جج تھے، انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ شیوسینا کے اہلکار مجرم ہیں لیکن آج تک کوئی کارروائی اس رپورٹ پر نہیں ہوئی، کیونکہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1952 کے تحت دی گئی کوئی رپورٹ بھی قانونی طاقت نہیں رکھتی ہے، تو اسی ایکٹ کے تحت تمام اختیارات ’’ قومی اتھارٹی‘‘ کو بھی دیدیں تو اس سے فائدہ کیا،جب تک خود قومی اتھارٹی کو مجرمین کو سزا دینے کا اختیار حاصل نہ ہو۔ اس لیے قومی اتھارٹی کو پیرو کار یا سفارش کار نہیں بلکہ با اختیار ادارہ جسے خود سزا دینے کا اختیار ہو بنانا چاہیے۔
البتہ دفعہ 72(S) میںیہ بات ضرور کہی گئی ہے کہ اگر قومی اتھارٹی اس نتیجہ پرپہنچتی  ہے کہ کسی پبلک سروینٹ نے فرض نا شناسی کا ارتکاب کیا ہے تو ’’ وہ ڈائریکشن دے گی کہ ذمہ دار افسر کے خلاف دفعہ 154 ضابطہ فوجداری کے تحت اطلاع کو درج کرے۔ اس طرح تھوڑی سی طاقت ضرور دی گئی ہے۔مگر وہ اطلاع درج کرنے کے لیے ہے،سزا دینے کے لیے نہیں۔اسی طرح دفعہ 164 ضابطہ فوجداری کے تحت عدالتوں میں ملزمان یا مجرمین کا اقبالیہ بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔دفعہ 164(4) میں کوئی بھی بیان درج کیا جاتا ہے۔اس دفعہ کو ہو بہو اٹھاکر مجوزہ بل میں شامل کردیا گیا ہے مگر ذیلی دفعہ ’’5 ‘‘ کا اضافہ کرکے مظلومین یا گواہ کو راحت دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر ضروری سمجھا جائے تو ’’ قومی اتھارٹی‘‘ کو مظلومین یا گواہ اپنا بیان بھیج کر کارروائی کی درخواست کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ بات کہی جا سکتی  ہے کہ اگر چہ یہ بل دیگر بہت سے بین الاقوامی اور ملکی قوانین کا ایک مجموعہ ہے مگر چندنئی دفعات اور یا ذیلی ’’ شق‘‘ کی وجہ سے اس بل کو فائدہ مند بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ ان دفعات کا اطلاق نیک نیتی اور ستھرے من سے بے لوث ہوکر کرنے کی طاقت ہو اور یہ لگے کہ صرف انتخابی منشور کے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ دستوری تقاضہ کے تحت ملک میں امن و سلامتی کی بحالی کے لیے بل پیش کیا جارہا ہے۔ دفعہ ’’ 20 ‘‘ کے ذریعہ مرکزی سرکار کو نہایت اہم اختیارات عطا کیے گئے ہیںکہ ’’ منظم فرقہ وارانہ اور نشان زد تشدد کا وقوع پذیر ہونا ‘‘ Internal Disturbance ‘‘ کی تعریف میں آئے گا اور آرٹیکل 355 دستور ہند کے تحت دستیاب اختیارات کا استعمال کرکے ، آرٹیکل 356 کے لوازمات کی ’’پورتی‘‘ کرنے کے بعد صوبائی سرکار کو برخاست کر سکتی ہے یا اس ضمن میں اقدام کر سکتی ہے، جیسا کہ گجرات اور مہاراشٹر میں ’’اندرونی خلفشار‘‘ پیدا ہوئے، مگر مرکز کوخود بخود اختیار حاصل نہیں ہونے کی وجہ سے گجرات اور مہاراشٹر کی شیوسینا کی سرکار کے خلاف کوئی قانونی قدم برخاست کرنے کے لیے نہیں اٹھایا جاسکا۔اس طرح یہ دفعہ 20 اہم دفعہ ہے، کیونکہ آرٹیکل 355 کے مطابق مرکزی حکومت کا فرض منصبی ہے کہ وہ صوبوں کی باہری حملوں اور اندرونی خلفشار یا اندورونی لاقانونیت سے حفاظت کرے، اور یہ آرٹیکل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ تمام صوبائی حکومتیں دستور ہند کے تقاضوں کے تحت چلائی جائیں۔
اگر مرکزی حکومت ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہے تو صدر جمہوریہ آرٹیکل 356 کے تحت گورنر سے رپورٹ لے کر یا اگر دستوری مشینری فیل ہوگئی ہے تو صوبائی حکومت کو برخاست کردے گا۔ یا تمام قانونی اختیارات پارلیمنٹ کو ٹرانسفر کردے گا ، اس طرح دفعہ بیس کی وجہ سے نئے بل نے اپنا ایک ’’نیا روپ‘‘ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب تک فسادات ہونے یا کرانے کے معاملے میں ضلع کلکٹر، SSP اور دیگر بڑے حکام کا اہم رول ہوتا ہے۔یہ کنٹرول کرنا چاہیں تو فوراً کنٹرول ہوجاتا ہے۔فساد کو بڑھانا چاہیں یا شروع کرانا چاہیں تو ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوتا بلکہ جو کچھ وہ لوگ چاہتے ہیں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس لیے مجوزہ بل میں ضلع حکام کی کارکردگی پر کافی دھیان دیا گیا ہے ۔ دفعہ ’’41 ‘‘ کے تحت ضلع کلکٹر یا پولیس کمشنر کی کی ذمہ داری ہوگی کہ بغیر کسی تاخیر کے ’’ٹارگیٹیڈ‘‘ حملہ یا نشان زد تشدد کے برپا ہونے ، پھوٹنے یا ان کا خدشہ ہونے پر قومی اتھارٹی کو مطلع کرے اور اس کے سد باب کے لیے ضروری اقدام کرے۔ اگر فساد ہوگیا اور لوگ کیمپوں میں پناہ لینے کے لیے مجبور کردیے گئے تو دفعہ 61 کے تحت ہر ایک پولیس افسر جو عہدہ میں DCP کے عہدہ سے کم نہیں ہوگا وہ ریلیف کیمپ میں 7 دن کے اندر جاکر تفتیش کرے گا کہ  کیوں ان لوگوں کو ریلیف کیمپ میں آکر پناہ لینی پڑی اور اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپ  میں رہنا پڑا۔ ان سب کا بیان اسی گروپ کے دو معززلوگوں کی موجودگی میں درج کرے گا اور ان سب کے دستخط حاصل کرے گا۔اگر متاثرہ ’’ خاتون‘‘ ہے یا ’’ بچہ‘‘ ہے تو ایسی حالت میں بیان خاتون DCP ریکارڈ کرے گی۔اگر ان میں سے کسی کا جنسی یاصنفی استحصال ہوا ہے تو ہر حال میں ایسے کیس کی تفتیش خاتون پولیس آفیسر ہی کرے گی۔اگر مدعی یا رپٹ کرنے والی یا مضروب یا مظلوم خاتون ہے تو تفتیش کرنے والے آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسی مضروب یا مظلوم خواتین کا بیان عدالت میں مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 ضابطہ فوجداری میں ریکارڈ کرائے۔ ایسی حالت میں عدالت میں اس کا بیان دفعہ 161 ضابطہ فوجداری میں پولیس کے سامنے نہیں ہوگا یعنی اس مضروب یا مظلوم خاتون کا بیان حلف کی بنیاد پر کردیا جائے گا اور اس کے بیان کی حیثیت ’’ شہادت‘‘ کی ہوگی۔یہ ایک ایسی دفعہ ہے جس سے خاتون کی حفاظت اور عزت کو مزید محفوظ رکھنا ہے۔دفعہ 164(4) کے تحت عدالت میں دیا گیا بیان ثبوت کا درجہ رکھنے کی وجہ سے مظلوم یا مضروب خواتین کی عزت و ناموس کی مزید حفاظت ہوسکے گی۔
دفعہ 65 کی شمولیت سے اس بل میں مزید نیاپن پیدا ہوگیا ہے۔اگر کسی طرح  سے چوٹ پہنچی ہے تو بغیر کسی تاخیر کے رجسٹرڈ دو ڈاکٹروں کے ذریعہ ڈاکٹری معائنہ انجام دیا جائے گا۔ جنسی استحصال کی حالت میں دو ڈاکٹروں میں سے لازمی طور پرایک ڈاکٹر عورت ہوگی۔ موت کی صورت میں تین رجسٹرڈ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک بورڈ  ’’ پوسٹ مارٹم ‘‘ کرے گا ، جس میں ایک ڈاکٹر لازمی طور پر خاتون ہوگی۔ اگر خواہش ظاہر کی گئی تو پوسٹ مارٹم کے وقت مہلوک کا ایک رشتہ دار موجود ہوگا۔ اور تمام کارروائی کی فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی بھی ہوگی۔جس سے کہ کسی طرح کی نا انصافی کا خدشہ پیدا نہ ہو۔ اس دفعہ ’’65 ‘‘ کے اطلاق سے آسانی یہ ہوگی کہ حالات کے پیش نظر سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کی خدمات ضروری نہیں ہوگی بلکہ کوئی بھی دو رجسٹرڈ ڈاکٹر یا تین رجسٹرڈ ڈاکٹر کا پینل اس اہم فریضہ کو انجام دے گا ، اس طرح سرکاری اسپتالوں کے خوف اور وہاں کی مکدّر فضا سے مضروب،مہلوک کے وارثین کو چھٹکارا مل سکے گا۔
دفعہ 68 کے تحت نئے اقدام کا التزام کیا گیا ہے کہ ، اگر فساد ہوگیا ہے تو علاقہ میں موجود تمام سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کو ہدایت جاری کی جائے گی کہ وہ تمام میڈیکل رپورٹ اور ریکارڈ کو لازمی طور پر محفوظ کرے۔اسی طرح تمام ٹیلی کمیونی کیشن شعبوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ تمام ریکارڈ کو محفوظ کرے تاکہ ان سب کا حوالہ ضرورت کے مطابق لیا جا سکے اور مقدموں کی تفتیش کے لیے ان ریکارڈ کی مدد لی جاسکے۔
اسی طرح دفعہ 78 کے تحت فسادات سے متعلق تمام مقدموں کی پیروی کے لیے مخصوص پینل وکیلوں کا مرتب کیا جائے گا ،جس میں لازمی طور پر وکیلوں یا پی پی کی تعداد کی ایک تہائی حصہ میں مذہبی ،لسانی اقلیتی گروپ اورSC/STگروپ سے  تعلق رکھنے والے وکلاء ہوں گے۔ ان سب کا تقرر عوام کی جانب سے تحریری مشوروں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کسی کی مشکوک کارکردگی یا نیت کی بنیاد پر ان کو پینل میں شامل نہیں کیا جائے گا ۔ اگر کسی وکیل نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف کبھی کوئی آواز اٹھائی ہو تو وہ پینل میں شامل نہیں کیا جا سکے گا۔ اگر خصوصی وکیل نامزد ہونے کے بعد کوئی شکایت ملی تو اس کا نام پینل سے خارج کردیا جائے گا۔اس طرح ایک فعال، قابل اور بل کے اغراض و مقاصد سے اتفاق رکھنے والے وکیلوں کی ٹیم تیار کی جاسکے گی۔
دفعہ 36 کے تحت متعلقہ صوبہ کی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ مضروب،مظلوم، مدعی ، گواہ کی جانی ، مالی حفاظت کرے تاکہ اس کے خلاف حملہ، تشدد، سختی ، لالچ کا خطرہ نہ ہو۔ گواہ کی عزت ، وقار آبرو کا دھیان رکھنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
بنیادی پناہ گاہ یا ریلیف کیمپ میں دفعہ 93 کے تحت عورتوں ، لڑکیوں ، بچیوں کے پردہ کا خیال کرنا ہوگا،24گھنٹہ سیکورٹی کا اہتمام کرنا ہوگا،طاقت بخش، مذہبی ،مناسب کھانا پانی کا اہتمام ، کلچرل و تہذیب کے مطابق لباس ، کپڑا کا انتظام میڈیکل ، ضروری خدمات، ایمر جنسی سروس، صفائی ستھرائی کا لحاظ رکھنا ہوگا ۔ نفسیاتی ، ٹرامائی خدمات، بچوں کے لیے تعلیمی سہولت،بے سہارا بچوں ، عورتوں ، ضعیفوں کی خاص دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ پاسپورٹ، ضرور ی کاغذات کی دستیابی، امتحانات کی سہولت دینی ہوگی۔ دفعہ 104 کے تحت ایڈیشنل معاوضہ کا انتظام کرنا ہوگا۔ جیسے پبلک ملکیت یا پرائیوٹ ملکیت کے نقصان کی بھرپائی، کسی انسانی جان کی تلافی، چوٹ یا شدید طور پر زخم کی تلافی کے طور پر معاوضہ، اخلاقی ، عزت و آبرو کے نقصان کی صورت میں معاوضہ ، ذہنی طور پر چوٹ ، کاروبار کا نقصان، نوکری یا روزی روٹی چھن جانے سے نقصان کی تلافی ۔ نوکری کا موقع ہاتھ سے جانے کا نقصان، پولیس یا افسران کے غلط عمل، ایکشن کے نتیجہ میں پیدا شدہ نقصان کا معاوضہ، قانونی صلاح و مشورہ، مقدمہ کی پیروی کا خرچہ وغیرہ سرکار کی طرف سے ان سب کی بھرپائی کرنے کا التزام ہے ۔ اس طرح اس بل کے ذریعہ ایمانداری سے مظلومین کی آواز پر دھیان دھرنے کا پورا اور پختہ انتظام کرنے کا جذبہ آشکار ہوتا ہے۔
اس بل کا جو ایک طرہ امتیاز ہے وہ دفعہ 90 کے تحت دستیاب ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ ریلیف یا معاوضہ صرف مذہبی ، لسانی اقلیتوں یاشیڈولڈ کاسٹ، شیڈولڈ ٹرائبز کو ہی دستیاب نہیں ہوگا بلکہ غیر مذہبی لسانی اقلیتوں، غیرشیڈولڈ کاسٹ ، شیڈولڈ ٹرائبز کو بھی ملے گا۔یعنی دنگا فساد یا منصوبہ بند منظم ٹارگیٹیڈ تشدد کی وجہ سے یہ بھی اگر متاثر ہوتے ہیں یا ان کی جان و مال ، عزت و آبرو وغیرہ کا نقصان ہوا ہے تو اس بل کے تحت ان کو بھی معاوضہ ملے گا۔ اس طرح یہ بل نہایت وسیع ، باوزن، با اختیار ہے۔ مگر یہ صرف اعادہ ہے پرانے قوانین کا۔اس لیے نیت اور صاف من کے بغیر یہ ایک اور سیاسی صحیفہ نہ بن کر رہ جائے، اس کا خدشہ ہے۔خدا کرے ہمارا ملک امن و امن کا گہوارہ  بنے۔
n n n

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *