وسیم راشد 
مسلمانوں کی فلاح و بہبودگی کے حکومت کے دعوے بار بار کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ایک طرف تو مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ کی بنیاد پر بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سبھی دفعات پر کام ہو چکا ہے اور جب اس کی اصلیت میں جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ نہ تو تعلیمی سطح پر اور نہ ہی روزگار اور سرکاری نوکریوں کی سطح پر کوئی بھی کام کیا گیا ہے اور پھر بار بار یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ سرکاری اداروں میں ، پولس محکمہ میں، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں اور دوسرے بڑے سرکاری اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے ،لیکن یہ نمائندگی اب اور بھی کم ہو جائے گی ،کیونکہ یو پی ایس سی سے عربی فارسی کو ہی باہر کر دیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عربی، فارسی اور پالی سمیت کئی زبانوں کی اپنی تاریخی اہمیت ہے۔ آج بھی کورٹ کچہری کی زبان میں فارسی کے بے شمار الفاظ شامل ہیں ۔ ظاہر ہے ایک لمبے عرصہ تک فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی ۔ مغلوں کے ٹائم میں سارے کام ہی فارسی میں ہوا کرتے تھے۔ آج بھی گھروں کے اگر پرانے دستاویز نکالے جائیں تو بھی سارے اہم کاغذات فارسی میں ہی ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں شروع سے ہی عربی ، فارسی کو یو پی ایس سی امتحانات میں شامل کیا گیا تھا اور آج جتنے بھی مسلمان آئی اے ایس ہیں ان میں بہت بڑی تعداد عربی، فارسی سے آئی اے ایس امتحان پاس کرنے والوں کی ہے۔ کچھ نام جو مجھے یاد ہیں ان میں جاوید عثمانی یو پی سے، عامر سبحانی، بہار سے اور کشمیر سے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل بھی فارسی سے ہی آئی ے ایس پاس کئے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے دوسرے بھی مضامین رہے ہوں گے لیکن فارسی ان کے خاص مضمون رہے۔اسی طرح دوسرے مسلم نوجوان بھی ہوں گے۔ مدارس کی تعداد ہندوستان میں آج بھی بہت زیادہ ہے اور مدرسوں میں اردو، عربی ، فارسی کی تعلیم ہی زیادہ دی جاتی ہے۔ یوں کہئے کہ اسکولوں ،کالجوں، یونیورسٹیوں کا چلن تو آج کوئی 40,50سال سے عام ہوا ہے۔ ورنہ ہندوستان کے ہر مذاہب کے لوگ مدرسوں اور پاٹھ شالائوں میں ہی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ آج بھی ان مدرسوں کو یوں تو جدید تعلیم اور ٹکنالوجی سے جوڑا گیا ہے مگراب بھی مدرسوں میں پہلے عربی ہی پڑھائی جاتی ہے اور جب بچہ قرآن پڑھ کر رسم الخط سیکھ جاتا ہے تو ہی اسے آگے دوسری باتوں کی طرف لایا جاتا ہے۔
حکومت ایک طرف تو مدراس کو ماڈرن بنانے کی بات کر رہی ہے اور بار بار اقلیتوں کو مین اسٹریم میں لانے کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف عربی اور فارسی کو یوں پی ایس سی سے باہر کر کے ان کے لئے سول سروس کے راستے بند کر رہی ہے۔ کیا پورا ملک انگریزی جانتا ہے؟ کیا پورے ملک کی معاشی حالت اور اقتصادی حالت ایک جیسی ہے؟ یہ وہ ملک ہے جس کی آج بھی 77فیصد آبادی گائووں میں بستی ہے اور گائووں سے جو بھی بچے تعلیم حاصل کر کے شہروں کا رخ کرتے ہیں ، وہ اپنی مادری زبان میں ہی ماہر ہوتے ہیں اور آگے بھی وہی زبان ان کو ترقی دلاتی ہے۔ اس وقت ہندوستان کے کسی بھی بڑے سے بڑے انسٹی ٹیوٹ میں چلے جایئے تقریباً ہر شعبہ میں آپ کو ایسے لوگ زیادہ ملیں گے جن کا پس منظر گائوں کارہا ہے۔ اگر مدرسے سے کوئی شخص عربی ، فارسی پڑھ کر نکلتا ہے تو ظاہر ہے اس کی ان زبانوں پر قدرت ہوتی ہے ، وہ انگریزی کے ساتھ ساتھ ان زبانوں کو بھی امتحان کا ایک پرچہ منتخب کرتا ہے اور یہیں پر اس کی جیت ہوتی ہے۔ ہندوستان کے جب 60سے 70فیصد نوجوان ایسی جگہ سے پڑھ کر نکلتے ہیں، جہاں انگریزی ثانوی زبان ہوتی ہے تو وہ یو پی ایس سی امتحان میں اولیت ایسی زبان کو دیتے ہیں جس پر ان کو عبور ہوتا ہے۔ ایسے مسلم نوجوان جن کی انگریزی کمزور ہوگی ، وہ اب کہاں جائیں گے؟ عربی فارسی کو اگر غیر ملکی زبان کہہ کر نکال دیا جائے تو پھر حکومت سے ایک سوال یہ کرنا لازم ہو جاتا ہے کہ انگریزی بھی تو غیر ملکی زبان ہے۔ ایس ایچ اختر جو کہ عربی ٹیچرز اور اسکالر ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری ہیں ، کا کہنا ہے کہ یہ بہت ہی برا فیصلہ ہے کیونکہ اس فیصلہ سے مسلم نوجوان جو کمزور مالی اور اقتصادی حالت سے جو جھ کر آتے ہیں اور جن کا بیک گرائونڈ فارسی، عربی کا ہوتا ہے ، وہ یو پی ایس سی امتحان دینے سے محروم رہ جائیں گے اور اس طرح ہندوستان کی سول سروسیز میں مسلمانوں کی نمائندگی اور بھی کم ہو جائے گی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ ایم اے قدیر کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ زبانیں ہندوستان کا حصہ ہیں۔ ہندوستان کی تہذیب کا عکاس ہیں ، انہیں یو پی ایس سی سے ختم کر دینے کا فیصلہ افسوس ناک ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ایسی قدیم روایتی زبانوں کو غیر ملکی کہہ کر خارج کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ یہ وہ زبانیں ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو ہماری تہذیب و ثقافت سے جوڑ تی ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے وہ طلباء ایک دم صدمے میں ہیں، جو مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں عربی ، فارسی مضمون لے کر پڑھ رہے ہیں اور جن کا ٹارگیٹ آگے آنے والے یو پی ایس سی امتحان میں ایک مضمون لے کر مقابلہ جاتی امتحان میں بیٹھنا تھا۔ ظاہر ہے یہ ایسی زبانیں ہیں جن میں حساب جیسے مضمون کی طرح ہی
پورے پورے نمبر مل جاتے ہیں۔ اس وقت نہ صرف ہندوستان کے لاکھوں مدارس میں عربی اور فارسی پڑھائی جا رہی ہے بلکہ ملک کی تقریباً 20یونیورسٹیوں میں بھی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورسوں میں یہ زبانیں پڑھائی جا رہی ہیں۔ پٹنہ میں مولانا مظہر الحق عربک اینڈ پرشین یونیورسٹی ہے، جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء ان دونوں زبانوں سے فارغ ہو کر نکلتے ہیں۔ ان کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔ کولکاتہ کی عالیہ یونیورسٹی میں بھی اسی طرح عربی اور فارسی زبانوں کو بحیثیت مضمون پڑھایا جاتا ہے یعنی ان سب کا مستقبل بھی دائوں پر ہے۔
یوں تو سبھی اہم شخصیات نے اس فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ راجیہ سبھا کے ایم پی محمد ادیب نے کہا ہے کہ انھوں نے وزیرا عظم سے بات کی ہے۔اسی طرح پروفیسر اختر الواسع، پروفیسر شریف حسین قاسمی، عربک اسکالر پروفیسر زبیر احمدفاروقی ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی کے صدر پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر خالد حامدی وغیرہ سبھی نے حکومت کے اس قدم کو جابرانہ بتایا ہے۔ مگر ایک سوال کسی نے بھی نہیں اٹھایا اور وہ یہ ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات میں مادری زبان میں تعلیم کی بات کہی گئی ہے اور ظاہر ہے مسلمانوں کی مادری زبان اردو ہے، مگر وہ جس زبان کو بچپن سے ہی عقدت و احترام سے پڑھتے ہیں، وہ عربک ہے۔ قرآن پڑھتے پڑھتے ہی انہیں یہ زبان آسانی سے پڑھنی، لکھنی آ جاتی ہے۔ پھر اسی زبان کو کیسے مقابلہ جاتی امتحان سے نکالا جا سکتا ہے اور پھر مسلمانوں کو مین اسٹریم میں لانے کی بات کیوں کہی جاتی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ زبان جو صرف 200سال پہلے ہی ہندوستان میں آئی، وہ تو اپنی زبان بن جائے اور جو زبانیں 800سال سے اس ملک کی تہذیب و ثقافت کا حصہ رہی ہیں،انہیں باہر نکال دیا جائے۔
یہ سب مسلمانوں کو آگے بڑھانے کی نہیں، انہیں مین اسٹریم میں لانے کی نہیں بلکہ انہیں مین اسٹریم سے باہر نکالنے کی سازش ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی ادارے اور سبھی مسلم تنظیموں کے سربراہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں ، ابھی دہلی کی تین اہم یونیورسٹیوں کے طلباء نے مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ یوپی ایس سی کے چیئر مین نے ان تینوں یونیورسٹیوں کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا مگر ان اراکین نے میمورنڈم کمیشن کے جوائنٹ سکریٹری دے دیا ہے ۔یہاں ہمیں یہ کہنا ہے کہ صرف طلباء کے مظاہرہ سے کام نہیں چلے گا، ایک بار پھر مسلم طلباء کے مستقبل کے لئے یہ لڑائی سب کو مل کر لڑنی ہوگی اور اگر نہیں تو پھر تیار ہو جایئے کہ آپ اپنے ملک کی کسی بھی بڑی سروس میں مقام حاصل نہیں کر پائیں گے، جو ہمارے بچے آئی اے ایس ، آئی پی ایس، آئی آر ایس بننے کے خواب دیکھتے ہیں، ان کے خواب چکنا چور ہو جائیںگے۔چلئے آیئے ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here