ظلم بڑھتا ہے تو آوازیں اٹھتی ہیں

Share Article

damiسوال ہے کہ کشمیر کے عوام آنے والے دو تین مہینوں میں کیا کریں گے؟ آرام کریں گے یا دھیرے دھیرے ایسے ہی چلتا رہے گا۔ اس کے پیچھے دو طرح کے خیال ہیں۔ پہلا تھکان محسوس کرنا۔ ہم آخر انسان ہیں۔ مشین بھی تھک جاتی ہے تو اسے آرام کرنے دیا جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو بھی آرام کرنے کے لیے وقت دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد سوال آتا ہے سروائیول کا۔ زندگی کا سوال ہے، تعلیم کا سوال ہے، دیگر دوسری باتیں ہیں۔ یہ عوام سے جڑی باتیں ہیں۔ میں لیڈر شپ کی بات نہیںکررہا ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ گزشتہ 4-6 مہینے میں لوگوں نے بہت زیادہ قربانیاں دیں۔ ایک تو پرانی قربانی ہے۔ وہ تو تاریخ بن گئی ہے، جو لکھی جاتی ہے۔ میں اس کی بات نہیںکررہا۔ ابھی اگلے دو تین سال تک سب آپ کو ٹھیک ٹھاک دیکھنے کو ملے گا۔ آپ اعداد و شمار پیش کریں گے کہ بھارت کی کسی بھی ریاست سے سب سے زیادہ ٹورسٹ کشمیر آئے، سات لاکھ ٹورسٹ آئے اور اچانک ایک دن آپ دیکھیں گے کہ لوگوں نے آج کے جیسا ہی موومنٹ شروع کردیا ہے۔ یہ کشمیر کے عوام ہی ہیں،جو ہم جیسے لیڈروں کو آگے آنے کے لیے پُش کرتے ہیں۔ اس بار بھی عوام ہی اپنے آپ سڑکوں پر آئے۔ انھوںنے ہمیں آگے آنے کے لیے پُش کیا۔ اس کے بعد گیلانی صاحب نے کلینڈر جاری کرنا شروع کیا۔ پہلے تو یہ تھا کہ برہان کی گلی میں شاید تین چار دن تک تحریک ہوجاتی تھی، لیکن عوام کی جوآواز سالوں سے دب رہی تھی، 2010 کے بعد سے ، اس کے بعد انھوں نے جو دو تین ایشوز خود اٹھائے، اس نے لوگوں کو اتنا زیادہ مشتعل کردیا۔
تین مہینے بعد، یہاں سردیوں کے بعد،یہ پھر سے نارمل سی دیکھی جاسکتی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ لوگ کام کررہے ہیں، بچے اسکول جارہے ہیں، ٹورسٹ آرہے ہیں۔ لیکن ایک بار پھر ہم امید کررہے ہیں کہ آگے کہیں اس سے بھی خطرناک حالات نہ دیکھنے کو ملیں۔ دہلی کی لیڈر شپ اور تھنک ٹینک کا بدقسمتی سے اس بار کا اپروچ الگ رہا۔ لوگوںپر پریشر ڈالا گیا، کرش کیا گیا اور سمجھ لیا کہ معاملہ ختم۔ یہ کیا تھا، شارٹ ٹرم اسٹریٹجی۔ لیڈر شپ کو لانگ ٹرم اسٹریٹجی پر غور کرنا ہوگا۔ کسی قوم نے آج تک مسلسل ہڑتال کرکے آزادی نہیں لی ہے۔یہ حقیقت ہے،یہ ہم جانتے ہیں ۔ یہ زندگی کی حقیقت ہے۔ اسے ماننا ہوگا۔ کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیںکہ کسی قوم نے دنیا میں اس کے ذریعہ آزادی لی ہو؟ کیا آزادی گھر بیٹھ کے، بچوں کو گھر بٹھا کر، دکانیں بند رکھ کر ملی ہے؟ یہ بات لیڈر شپ بھی جانتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس پروٹیسٹ کے سوائے اور کوئی متبادل ہے ہی نہیں۔ پوری لیڈر شپ ہاؤس اریسٹ یا جیل میں ہے۔ میں اپنے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق سے بھی نہیں مل سکتا۔ میں کیسے اسٹریٹجی بنا سکتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میرے دماغ میںان سے دو باتیں الگ ہوں جنھیںمیں ڈسکس کرنا چاہوں، کیسے کرسکتا ہوں۔ ہمارے تو رابطے ہی کاٹ دیے گئے ہیں۔ سب کو الگ الگ کردیا ہے۔ ہماری لیڈر شپ کو ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کا بھی موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ عوام کے بیچ بھی بھرم کی صورت حال ہے۔
ہر مسئلے کا حل ہے۔ بھارت اور پاکستان کے بیچ ایک طرح کی جنگ ہی چل رہی ہے۔ یہاں وہاں دونوں جگہ کے سپاہی مررہے ہیں۔ پھر بھی دروازے بند نہیںہوتے۔ سرتاج عزیز امرتسر آئے۔ ڈی جی ایم نے وہاںہاٹ لائن پر بات کی۔ کشمیر مسئلے میںبدقسمتی یہ ہے کہ پچھلی بار جو بات چیت ہوئی، اس کے بعد کوئی سنجیدہ بات چیت ہوئی ہی نہیں۔ 2010 میںتحریک چلی تھی ۔ اس کے بعد پولیٹیشنز(سیاستدانوں) نے یہ میسج دیا ہندوستان کے لوگوںکو کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ تھا، ہم نے اسے ختم کردیا۔ ملی ٹنٹس کو مار دیا۔ 200-150 ملی ٹنٹس بچے ہیں۔ یہ صحیح بات نہیں تھی۔ مطلب آپ نے حریت وغیرہ کو ایریلیونٹ بنا دیا کہ ان سے کیا بات کرنا ہے۔ یہ لوگ ہوتے کون ہیں؟ چھوڑ دو ان کو ۔ یہ لوگ خود اپنی موت مریں گے۔ لیکن یہ سچ نہیںتھا،ظاہر ہے۔
پولیٹیشینز کی نظر گراؤنڈ سچوئیشن پر نہیں ہے۔ اے سی روم میںبیٹھ کر آپ کیا جان سکتے ہیں۔ جیسا انھیںاِن پُٹ ملے گا، ویسا ہی وہ کریں گے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کوئی آئی نہیںآج تک۔ یہاں سے کچھ سجیشنس (مشورے) گئے۔ اس کا کچھ نہیں ہوا۔ انٹرلاکیوٹر زآئے تھے۔ ان کے آنے جانے کا خرچہ سب کچھ ہوم منسٹری اٹھاتی تھی۔ ان کی تجاویز پر کچھ نہیں ہوا۔ اس سچوئیشن میںکیا کرسکتے ہیں۔ کیا امید کرسکتے ہیں؟
ہمارے لڑکوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ لیکن کس نے ملی ٹنٹ بننے کے لیے مجبور کیا؟ حالات نے مجبور کیا ہے۔ حریت سے پہلے میںملی ٹنٹ چیف تھا۔ میں1989 میں سرحد پار گیا ہوں۔ افغانستان سے ٹریننگ لے کرآیا اور 1997 میںگرفتار ہوا۔ 8 سال میں انڈر گراؤنڈ رہا۔ لیکن کس نے مجھے بندوق اٹھانے کے لیے مجبور کیا۔ میں لاء گریجویٹ ہوں ۔میںسینئر وکیل ہوں۔ میں نے وہاں سے پڑھائی کی ہے، جہاں سے عمر عبداللہ نے پڑھائی کی ہے۔ نمبر وَن مشنری اسکول تھا۔ میںنے، عمر عبداللہ، میر واعظ عمر فاروق، امیتابھ مٹو نے پڑھائی کی ہے وہاںسے، جو کہ ٹاپ پر ہیں اس وقت سیاست میں۔ حالات نے مجھے مجبور کیا 1989میں۔ یاسین، اشفاق مجید اور ہم دوست تھے، ہم سب اسٹوڈینٹ لیڈر زتھے، پیس فل اسٹوڈینٹ ایجی ٹیشن کررہے تھے۔ یہ سب کی زندگی میں ہوتا ہے، آپ اپنے رائٹس کے لیے پروٹیسٹ کرتے ہیں۔ جب آپ کے ساتھ زیادتی ہوگی تو آپ پروٹیسٹ کریں گے۔ میں قیادت کررہا تھا کشمیریونیورسٹی اسٹوڈینٹس یونین کی۔ جو بھی اس وقت کا یوتھ تھا، تقریباً سب ملی ٹنٹ بن گئے۔ اسی طرح کے مظالم آج ہورہے ہیں۔ اسی طرح کے لاک اَپ ہیں۔ آج کل انٹروگیشن سینٹر بن گیا ہے۔ کچھ ایف آئی آر سچ، کچھ جھوٹ۔ پولیس اسٹیشن ، کورٹ کا چکر اور آخیر میںبری ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا۔ آخیر میں بری ہونے کے بعد ہم نے اپنا نام بدل لیا۔میں آفتاب گیلانی شاہ سے شاہد الاسلام بن گیا۔ افغانستان سے ٹریننگ کرکے آگیا۔ اسی طرح کا معاملہ آج آپ برہان وانی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ویسا ہی ہوا تھا۔ ایک دن پولیس والوں نے پیٹا اس کے کزن کو اور دوست کو او ربولا کہ سگریٹ لاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کا بدلہ لوںگا۔ جب ظلم بڑھتا ہے تو آوازیں اٹھتی ہیں۔ کس بھی شکل میں یہ آوازیںاٹھ سکتی ہیں بندوق کی گولی کی آواز میںاٹھے یا پُرامن نعرے بازی کی شکل میں اٹھے یا پتھر بازی کی شکل میں اٹھے۔ اسی طرح کا کام 2010 میں ہوا تھا۔ 12 ہزار سے زیادہ یوتھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سرکار اور ایڈمنسٹریشن تشددکو بڑھاتے ہیں۔ ہم لوگ تشدد کے لیے پریچ (تبلیغ) نہیں کرتے۔ میں نے بھی بندوق اٹھائی تھی۔ لیکن پھر میں نے بندوق رکھ دی۔ میں بات کررہا ہوں 1990 کی۔ لیکن آج کی تاریخ میں ہم تشدد کے لیے نہیں کہتے کسی کو۔ میں اپنے بچوںکو گھر کے اندر حفاظت میں رکھ رہا ہوں۔ باہر نہیںنکلنے دیتا ہوں۔ پھر میں کیسے کسی اور کو تشدد کے لیے کہوں گا۔ یہ غلط فہمی ہے ان کو۔ میر واعظ صاحب تو پریچر ہیں۔ ان کا ویڈیو ہے۔ ایک لفظ بھی آپ کو نہیںملے گا وائیلنس کا۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈسپلن بہت اہم ہے۔ ہم کیسے ہندوستان کو ڈرا سکتے ہیں، یہ تو ایک بڑا ملک ہے۔ میں 18 سال میر واعظ صاحب کے ساتھ رہا ہوں۔ میں نے ان کو 1998 میںجوائن کیا۔ جب میںجیل سے رہا ہوا تب میںنے دو مہینے کے بعد میر واعظ صاحب سے بات چیت کی۔ مجھے اخبار ان کا کلوز ایڈ (قریبی ساتھی) لکھتے تھے ۔ پولیس والے پہلے مجھے بند کرتے تھے تب عمر صاحب کو بند کرتے تھے۔ پریکٹیکلی پہلے چیئر مین بند ہونا چاہیے پھر اس کا میڈیا ایڈوائزر یا پولیٹکل ایڈوائزربند ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ ہے۔ میں حیران رہ جاتا ہوں کبھی کبھار کہ کیا یہ وہی عمر صاحب ہیں ؟جو آدمی جینوئن ہوتا ہے نہ وہ جنگ سے گزرتا ہے۔ ایسے لوگوں نے اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھی ہوتی ہیں۔ اس لیے آپ کسی ریٹائرڈ جنرل کو جنگ کی وکالت کرتے نہیں دیکھیں گے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ میںبھی جنرل رہا ہوں۔ آٹھ سال فیلڈ میں رہا ہوں بندوق لے کر۔ میںتو زیادہ پرو- ڈائیلاگ ہوں کیونکہ میں نے خود اپنے ساتھیوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آج عمر صاحب کا اتنا ہارڈ اسٹینڈ ہے، میں خود کبھی کبھار جب فون پر بات کرتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ میںکہتا ہوںکہ کیا میری اسسمنٹ غلط ہے۔ مجھ سے کسی صحافی نے فون کرکے پوچھا کہ عمر صاحب کے ساتھ تو آپ زیادہ رہے ہیں، ان کے بارے میںآپ کی کیا رائے ہے؟ میںنے کہا کہ میں ان میںدوسرا گیلانی دیکھ رہا ہوں۔
اس وقت تو پولیس کا ایک نیا بزنس شروع ہوگیا ہے۔ مثال کے طور پر کسی لڑکے کو اٹھالیا۔ کسی ایریا سے 4-5 لڑکے اٹھالیے۔ اس کے بعد ان کے چندے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کی تو چاندی ہے۔ بیس بیس ہزار ریٹ لگایا۔ دوسرے دن چھوڑ دیا۔
اس پورے مسئلے میںسول سوسائٹی کا رول ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پھر سے ٹرسٹ ڈیفسٹ (اعتماد کی کمی) کا مدعا آجاتا ہے۔ یہاں ڈیلی گیشنس آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ وہ چاہیںتو چیزوں کو پُش کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے۔ جتنے ماڈریٹ میر واعظ صاحب یا یاسین ملک ہیں، اسے سب نے دیکھا ہے۔ ہمیںاڈوانی حریت کہا جاتا تھا۔ یہ ٹیگ لے کر ہم سالوں تک گھومے ہیںیہاں۔ ایسا اس لیے، کیونکہ ہم نے بات چیت کے کوشش کی۔ آج آپ کہتے ہیںکہ ہم ڈائیلاگ کے حامی نہیںہیں۔ ہم نے ڈائیلاگ کے لیے جانیں دیں۔ میرے اوپر دو اٹیک ہوئے۔ ہمارے سینئر لیڈر فضل قریشی کے سر پر حملہ ہوا۔ عمر صاحب کے چاچا مولوی مشتاقکو گولی مار دی گئی۔ بلال لون کے والد کو مارا گیا کیونکہ وہ بات چیت کے حامی تھے۔ ہماری اپنی ہسٹری ہے۔ ہماری قربانیاںہیں۔ ہم نے تو ڈائیلاگ کے لیے گولیاں کھائی ہیں۔ کس نے گولی ماری، پتہ نہیں۔ یہ بندوقیں کہاں سے چلتی ہیں، کہاں سے گولیاںآتی ہیں، کیونکہ گولی پر کسی کا نام نہیںلکھا ہوا ہے، پتہ نہیں۔ وہ سامنے والا جو چلاتا ہے، وہ یہ نہیںکہتا کہ میںآپ کو کیوںمارتا ہوں،لیکن ڈائیلاگ پروسیس چل رہا تھا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسا کرنے والے لوگ اینیمی آف پیس (امن کے دشمن) ہیں۔ یہ کسی بھی جگہ کے ہوسکتے ہیں، بھارت کی سائد کے یا پاکستان کی سائڈ کے، کہیںکے بھی ہوسکتے ہیں۔
میرے یہاں پر چالیس گھرہیں۔ چالیس میںسے تین لبرل ہیں، تین پرو – ڈائیلاگ والے ہیں، تین انڈین فیور والے ہیں، تین پاکستان کے فیور والے بھی ہیں، تین آزادی کے فیور والے بھی ہیں۔ تو یہ ہمارا بٹا ہوا سماج ہے۔ ڈائیلاگ کے لیے اتنی قربانی کے بعد بھی رزلٹ بگ زیرو رہا۔ وزرائے داخلہ اڈوانی صاحب اور چدمبرم صاحب سے کئی بار بات چیت کے بعد بھی کچھ حاصل نہیںہوا۔ سب بیکار چلا گیا۔ سول سوسائٹی کے سارے ممبر جو آئے، ان میں سے کچھ ہمارے اچھے دوست بنے، ہماری رلیشن جاری رہی، ہے، لیکن کوئی کچھ کر ہی نہیںسکا۔ یہی مسئلہ ہے۔
میںیاسین ملک کو بلیم نہیںکرتا ہوں۔ انھوں نے اپنی ملی ٹنٹ آرگنائزیشن کو پالیٹکل آرگنائزیشن بنایا۔ سیز فائر کیا۔ آج وہ کسی سول سوسائٹی سے ملنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے کلوز (قریبی) ہوا کرتے تھے کلدیپ نیر، تپن گھوش۔ آگے کیا ہوا، کیا وہ (سول سوسائٹی کے ممبرز) ہیلپ لیس تھے، کچھ کر نہیں سکے۔ میرا کہنا ہے کہ اعتماد کی کمی کہاںسے آئی؟ آج ہم ایک ایسی حالت میںپہنچ گئے ہیںجہاں کوئی میٹنگ پوائنٹ نہیںہے۔ اسٹیٹ اور لیڈر شپ نے ہارڈ اسٹینڈ لیا ہے۔ میں اس کے لیے نئی دہلی کو بلیم کروںگا، جو ان کے ساتھ ہے، جیسے این سی اور پی ڈی پی، ہم ان کو بھی بلیم کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ پالیٹکل ایکٹوسٹس کو سہنا ہی پڑے گا۔ انھیں کتنی دیر تک باندھ کر رکھیںگے۔ پانچ مہینے تو ہوگئے۔ اگلے پانچ چھ مہینے تو سردیوں میں آرام سے چائے پیتے پیتے گھر میں رہتے ہوئے گزر جائیں گے۔ اس کے بعد آپ کو پالیٹکل لیڈز کو ریلیز کرنا ہی ہے۔ پالیٹکل لیڈرز زیادہ دن تک بند نہیںرہتے۔ میںنے کوئی کرائم نہیںکیا ہے۔ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں ہے۔ پہلے کیا تھا کہ ڈرائیور کی جگہ پولیٹکل لیڈر تھے، اب وہاں خالی ہے تو اس سیٹ پر کون بیٹھے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *