damiکشمیر اب چھپا ہوا معاملہ نہیں رہا۔ ہم بھی وہی جانتے ہیں جو دلی ،ممبئی میں رہنے والا ایک نیشنلسٹ جانتا ہے۔ اصل میں ہم کئی بار خود ہی سیاست کے چکر میں اپنا کیس خراب کرلیتے ہیں۔ کون ایسا شخص ہوگا جوقومی مفاد میں نہیں سوچے گا۔ گزشتہ دو برسوں سے جو ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ پنڈت نہرو نے ملک خراب کر دیا۔ پنڈت نہرو جیسی شخصیت نہیں ہوتی تو آج آپ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں نہیں ہوتے۔ ہر وقت کاغذی گھوڑے ہی کام نہیں کرتے، کہیں دوستی کام کرتی ہے، کہیں محبت کام کرتی ہے، کہیں دہشت کام کرتی ہے۔ یہ ساری چیزیں چلانی پڑتی ہیں۔ شیخ عبداللہ جیسا دور رس سیاسی ماہر نہیں ہوتا، تو شاید حالات کچھ اور ہوتے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کم عقل یا بیوقوف تھے۔ ان کو کشمیر کے لوگوں کی معاشی حالت کا پتہ تھا۔ اس وقت ہمارے معاشی حالات بھی بہت خراب تھے، وسائل نہیں تھے۔ اس حالت میں کشمیر کو کہاں لے جایا جائے،ہندوستان کے ساتھ، پاکستان کے ساتھ یا آزاد۔ اسے لے کر شیخ عبد اللہ نے بہت سمجھداری والا فیصلہ کیا۔ کشمیر آزاد رہ نہیں سکتا تھا کیونکہ وسائل نہیں تھے۔ اصل ایشو تھا لوگوں کو زندہ رکھنا ۔انہوں نے پاکستان کی طرف نظر ڈالی ، تو دیکھا کہ وہاں انسان ، انسان کو ہی کھا رہا تھے، پھر وہ ہمارے عوام کو کیا دیتے۔ ہندوستان کی طرف نظر ڈالی تو یہاں پنجاب کو دیکھا، جہاں بھاری مقدار میں اناج پیدا ہو رہے تھے۔ اپنے لوگوں کا گزر بسر کرنے کے لئے ہندوستان کا ساتھ ضروری تھا۔ یہ کہنا کہ یہ 70برسوں میں فلاں نے صورت حال خراب کر دی، پوری طرح سے غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔
تحریک میں عام لوگ پس گئے
آپ کب تک گزشتہ 70 سالوں کے فیصلوں پر سوال اٹھائیںگے۔ ابھی تو ہندوستان کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے عالمی منظر میں ۔ ہم جموں سے الگ ہیں اور ملک کی دیگر ریاستوں سے بھی الگ ہیں۔ وہاں اوپین اسٹیٹ ہیں، وہاں پنجاب کا آدمی ہریانہ، ہریانہ کا آدمی دلی، دلی کا آدمی راجستھان ، راجستھان کا آدمی گجرات ، گجرات کا آدمی ممبئی میں آرام سے رہتا ہوا مل سکتا ہے،لیکن یہاں تو گزشتہ 70برسوں سے آدمی کو کنوئیں کا مینڈک بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ 6-5 مہینے کی تحریک سے حریت نے فائدہ اٹھانے کی سوچی، لیکن ان کو بھی کچھ نہیں ملا۔ پانچ مہینے حریت والوں نے کیلنڈر اس لئے چلایا کیونکہ وہ برہان وانی سے اکتا گئے تھے۔انہیں لگ رہا تھا کہ برہان کی شکل میں نئی جنریشن کا ایک لیڈر آگیا ہے۔ جب وہ آئوٹ پوسٹ ہوا، تو انہوں نے خود کو بچانے کے لئے کہ کہیں ہمیں مار نہ دے،شام کو کیلنڈر نکالنا شروع کر دیا۔ یہ ملی بھگت ہے ڈی جی پی کے ساتھ ان کی۔ صبح ان کو کہیں نکلنا ہوتا ہے تو وہ ڈی جی پی کو کہتے ہیں کہ یار ہمیں ہائوس اریسٹ کر لو۔ پانچ مہینے سے وہ انڈین آرمی کے ساتھ خود کو ہائوس اریسٹ کئے ہوئے ہیں۔ وہ خود باہر نہیں نکلنا چاہتے۔ کیسے نکلیں، لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔یہ جو پانچ مہینے چلا، اس کی تیاری پہلے سے تھی۔ حریت کو سمجھنا چاہئے کہ بڑی مشکل سے دس برسوں کے بعد ہمارا یہ سیزن آیا ہے۔ ہمارے بال بچے بھوکے مر رہے ہیں، سیاحت تو ختم ہوگئی۔ آپ بندوق شو کریں گے تو ٹورسٹ کیسے آئیں گے؟کوئی مرنے تھوڑے ہی آئے گا؟ کشمیریوں نے فریاد لگائی کہ ہمیں بچا لو، سیزن ہے۔لیکن جب انہیں نہیں منا پائے تو کہا کہ ٹھیک ہے تم چلائو کتنے کیلنڈر چلانا ہے، اب تو ہمارا سیزن ڈوب گیا۔ بیچ میں ایک مہینے پہلے حریت والوں نے بلایا تھا لوگوں کو ری شیڈولنگ کے لئے کہ آپ بتائو کہ آپ کی کیا منشا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اب تو ہمارا سیزن بیٹھ چکا ہے۔ اب ہمارے پاس اس وقت کون آرہا ہے۔آپ کرو اگر آپ کو آزادی ملتی ہے، تو ہم ایک جھٹکا اور جھیلیں گے۔
کشمیر میں لوگوں کو سرکاری اسکیموں کے فائدوں سے بھی دور کیا جارہاہے۔ نریگا جسے ہندوستانی سرکار نے شروع کیا تھا، وہ تو بند کر دیا گیا اور اس کا نوبل کلچر ہی چینج کر دیا۔ اسی لئے اس بار یہ موومنٹ رورل کشمیر میں چلی ہے۔ سری نگر، اننت ناگ یاجو چھوٹے قصبے ہیں، انہوں نے اس کو اڈاپٹ نہیں کیا۔ آنگن باڑی ہندوستانی سرکار کا پروجیکٹ ہے۔ ہمارے یہاں قریب 30 سے زیادہ آنگن باڑی سینٹر چل رہے ہیں اور اس میں 60ہزار ملازمین ہیں۔ وہ جمہوریت کی دہائی لے کر آتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ جناب ہماری تنخواہیں بڑھائیے۔ ان لڑکیوں کے اوپر انہوں نے مرچی ،پانی پھکوا دیا۔ وہی لڑکیاں بعد میں دختران ملت بن کر سڑکوں پر اتر آئیں۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ یہ اسٹیٹ اچھے طریقے سے پھلے پھولے ۔اس کی نئی نسل کا مستقبل سنورے اور تمام لوگ مل جل کر ایک ساتھ رہیں۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ یشونت سنہا یہاں آئے اور ریاستی سرکار ان کو تمام جگہ پر بندوبست کرکے گھما رہی تھی۔ 1993 میں دلی سے ایک گریٹ سوشل ورکر آیا تھا، اس نے ایک پہلی کوشش کی کہ اس نے ملک بھر سے 180 انڈر ٹیکنگ صحافیوں اور وکیلوں کو یہاں کے مختلف خطوں کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے لئے بلایا اور مجھے بھی اس نے کہا کہ آپ کو میرے ساتھ آنا ہوگا۔ میں اس کے کہنے پر آگیا۔ 31اکتوبر کو ہم نے سری نگر ایئر پورٹ پر لینڈ کیا۔ انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ ہمیں سیکورٹی نہیں چاہئے لیکن ریاستی سرکار کہاں مانتی ہے۔ حالات بہت خراب تھے اس وقت۔ انہوں نے سیکورٹی دی اور ہمیں ہوٹل دلایا گیا۔ اتفاق سے اس دن 31 اکتوبر تھا۔ اندرا گاندھی کی برسی تھی۔ اس میں ایک دو لوگ کانگریس کے رہے ہوں گے، جو اندرا جی کو اظہار عقیدت بھی نہیں دے پائے۔ شام کو کھانا کھانے کے بعد کسی نے ٹیبل پر فوٹو لگائی اور بولا جو صبح اظہار عقیدت نہیں دے پائے ،وہ اب دے سکتے ہیں۔
کشمیر میں اڑی سے لے کر بارہ مولا، ٹیٹوال سے لے کر کیرنگ، پھر کیرنگ سے گراس تک سبھی خطے پھلوں کی پیداوار میں اول نمبر پر آتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی اسی پر بسر ہوتی ہے۔ ہزاروں لاکھوں ٹن پھل پیدا ہوتا ہے۔ یہ لوگ سیب کے پیڑوں کی اتنی ہی دیکھ بھال کرتے ہیں جتنی کہ اپنے بچوں کی کرتے ہیں۔یہ سیب دلی ، ممبئی ، کولکاتا، پنجاب وغیرہ جگہوں پر بھیجے جاتے ہیں۔ اب جب ٹرانسپورٹ ہی نہیں ہے، تو یہ پھل پوٹیوں میں رکھے رکھے سڑ جارہے ہیں۔ منڈی میں انہیں اسٹوریج کے لئے جگہ بھی نہیں ملتی ہے۔یہ لوگ ہزار روپے پیٹی کی توقع کے ساتھ منڈی جاتے ہیں لیکن انہیں وہ بھائو نہیں مل پاتا اور ان کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیںجس کے بعد وہ سیدھے ہندوستان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ہم نے کئی بار ہندوستانی سرکار سے اپیل کی کہ آپ کی جتنی بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں، ان میں کم سے کم پانچ فیصد تک کشمیریوں کو جگہ دیجئے، جس سے وہ اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے وہ ہماری سرکار نے ایک اُورسیز ڈپارٹمنٹ بھی بنایا تھا۔ یہاں اس کے نام پر فراڈ بہت ہوتے ہیں۔ یہاں سے بڑے برے ٹھیکہ دار لالچ دے کر لڑکوں کو لے جاتے ہیں،لیکن وہاں جاکر انہیں کچھ نہیں ملتا اور انہیں رو دھو کر واپس آنا پڑتا ہے۔
بی جے پی کے وعدے
بی جے پی نے وعدے پورے نہیں کئے۔ جب تک پنڈت جواہر لال نہرو تھے، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی تھے، تب تک کشمیر کو دیگر ریاستوں سے الگ دیکھا جاتا تھا۔ اب تو کہاں کہاں موازنہ ہورہا ہے۔پی او کے، بلوچستان، گلگستان، اس سے تو اور کہانیاں بنتی ہیں۔ بارڈر پر اتنی فائرنگ ہورہی ہے۔ اتنا نقصان 1972 سے لے کر 2014 تک نہیں ہوا تھا، جتنا 2014 سے اب تک ہوا۔ آپ نے ہی لوک سبھا انتخابات کے وقت بڑے بڑے وعدے کئے تھے کہ ہم آئیں گے تو سرحد پر یہ کر دیںگے، وہ کردیں گے۔ آپ نے کہا تھا کہ کانگریس والے تو بریانی پاس چلاتے تھے۔ آپ مجھے ووٹ دو ،میں ایک کے بدلے 100 سر دوں گا۔ ووٹ لینے کے لئے اتنا آگے نہیں جایا جاتا ہے کہ آپ سنبھال ہی نہ پائو۔ آپ نے ان کے ساتھ سرکار بنائی اور سارے ایلی منٹس کو ایک ساتھ ناراض کر دیا۔ میرے جیسے چھوٹے سیاسی کارکن کو اس وقت یہ پتہ تھا کہ مفتی صاحب سب کچھ کریں گے،لیکن یہ نہیں کریںگے۔وہ انگیج کریںگے،وہ ٹیسٹنگ کریںگے، کیونکہ ایک سیکٹر میں بی جے پی کو سپورٹ ملا ہے، لیکن وہ سیدھے طورپر نہیں بولیں گے کہ یہ میں نہیں کروں گا۔ آخر کار ان کو اپنی زمین کا احساس رہے گا کہ یہ مجھے سوٹ نہیں کرے گا، کوئی اور بہانہ لیں گے این سی کانگریس بھی ان کو سوٹ نہیں کرتی، نہ کرنا چاہئے۔ اب ذاکر نائک کے مدعے کو لے لیجئے، وہ وہابی ہے۔ ذاکر نائک کا یہاں کوئی طبقہ نہیں ہے۔میرے خیال سے کشمیر میں دو فیصد بھی ایسے لوگ نہیں ہیں۔ لیکن ایک مسلم ہونے کے ناطے جو جارحانہ رخ اس پر اپنایا گیا، اس کا اثر یہاں بھی نظر آیا۔ پی ڈی پی اور بی جے پی نے لوگوں کو سرکار کے گٹھ بندھن پر کئی دنوں تک لوگوں کو تنائو میں رکھا۔ میں نے نریندر مودی سے دلی میں کہا کہ مودی صاحب مجھے دو چیزیں صاف کر دیجئے کہ برہان وانی کیا تھا۔ اس کے مرنے کے8 دن بعد محبوبہ مفتی بیان دیتی ہیں کہ مجھے پولیس اور ایجنسیوں سے جو جانکاری ملی ،اس کے مطابق ہماری ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کو یہ جانکاری نہیں تھی کہ یہاں انکائونٹر ہو رہا ہے۔ یہی بیان بی جے پی کے نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ دوسرے دن جموں میں دے رہے تھے۔
واجپئی کا دور
واجپئی جی کے وقت میں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے سیکورٹی فورسز سے کہہ دیا تھا کہ ہماری طرف سے پہلی گولی نہیں چلنی چاہئے۔ بقرعید کا دن قربانی کا ایک عظیم دن ہوتا ہے۔ ہم 6مہینے کے لئے بہت ذلیل ہوئے اور بہت تباہی ہو چکی تھی۔ کہا گیا کہ ہم بھی اپیل کریں گے۔دو برسوں کے اندر کوئی نہ کوئی طریقہ نکال کر اس مشن کو آگے لے کر جایا جائے گا ۔ ہم نے کہا کہ یہ موقع ہے کہ آپ اپیل کریں، کچھ جانیں بچ جائیں گی، ہمارے جوان بھی بچ جائیںگے۔ جن بیچاروں کو رات دن پتہ نہیں ہوتا ہے کہ کب کہاں دوڑنا ہے۔ آپ اتنا کر لیں گے تو کیا فرق پڑتاہے۔ اتنا بڑا ملک ہے، یہ آپ کے اپنے لوگ ہیں۔ میں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ بھلے ہی کمزور ہیں، لیکن بہت ذہین ہیں۔ غریب ضرور ہیں لیکن سیاسی طور پر بہت ہوشیار ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کب کیا کرنا ہے۔ ہم نے کہا کہ آپ ادھر سے ہی پہلوان کی طرح کشتی کرنے آتے ہو کشمیرکے لوگوں کے ساتھ۔ آپ یہ تو احساس دے دو کہ یہ میرے اپنے لوگ ہیں۔ زبان سے تو صاف رہو۔ پھر اگر ایکشن میں کہیں آپ کو لوہا ٹکرانا ہے، تو وہ الگ بات ہے لیکن زبان پر تو اٹل رہو ۔ ہم نے کئی بار کہا کہ یہ جو آپ کہتے ہو کہ کشمیر کے ساتھ ہمارا الحاق ہے، یہ کاغذی ثبوت نہیں ہے۔ وہ نہرو خاندان کے ذریعہ اس سوسائٹی کو دیا ہوا ہے۔
اگر ایک سنگنل لیدر شیخ عبد اللہ جیسا ہوتا اور ہندوستان میں اندرا گاندھی جیسی لیڈر ہوتیں، تو آج آپ کو یہ صورت حال نہ دیکھنی پڑتی۔ مسئلہ نہ تو آزادی ہے، نہ پاکستان ہے اور ہندوستان۔ اگر کوئی ذاتی طور سے کشمیر کے ایک کروڑ لوگوں سے پوچھیں، تو پتہ چلے گا کہ وہ ہندوستان کے حق میں جائیں گے ۔ کشمیر کے لوگ تمام چیزوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اگر 2002 میں یہ پی ڈی پی نہ بنی ہوتی، نیشنل کانفرنس آگئی تھی دھیرے دھیرے ٹرینڈ میں۔ پی ڈی پی اڈوانی کی دَین تھی۔ آپ شیخ عبد اللہ کو ملی ٹینسی سے لائے اور سرکار دے دی۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ اگر آپ کو مینڈیٹ ملتا ہے تو آپ انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ انتخاب کے ذریعہ آپ میدان میں آئیں۔ 370 ہمیں پروٹیکشن کی شکل میں ملا تھا۔ اسکے لئے الزام بھی زیادہ تر کانگریس پر ہی لگتے ہیں۔لیکن اسے اگر آپ دیکھیں گے کہ یہی پوائنٹ شیخ عبد اللہ نے اٹھایا تھا، جب نہرو نے اسپیشل اسٹیٹس کے تحت ان کو ایک سیفٹی دی تھی۔ جب 1975 کا اگریمنٹ ہوا، اس وقت بھی یہ صورت حال سامنے آئی کہ اس کا یہ ویلیو نہیں رہا جو اس وقت تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here