سہولیات کے بغیر کیسے بنے گا ملک لیس کیش

Share Article

damiنئے سال کی ابتدا آپ جس خواب کے ساتھ کی ہو ، ایک خواب ہے جس کے لئے سرکاری اپیل ہے کہ اسے پورا کرنے میں آپ کی حصہ داری لازمی ہے۔ وہ خواب ہے ڈیجیٹل اور کیش لیس انڈیا کا۔ کل تک جیب دیکھ کر خریداری کرنے والے کنزیومر کو آج پیمنٹ سے پہلے نیٹ ورک اور انٹر نیٹ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ہندوستان میں انٹر نیٹ کا استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 35فیصد سے بھی کم ہے۔ حالانکہ سرکار بغیر انٹر نیٹ کے ٹرانزیکشن کی سہولت فراہم ہونے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن حال کے دنوں میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن میںبڑھتی دھوکہ بازی کو دیکھتے ہوئے سرکار کے دعوے والے وسائل کے تحفظ پر سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔
پنجاب کے جوگندر دلی میں آٹو چلاتے ہیں۔7 جنوری کو کناٹ پلیس میں ان کے آٹو پر3 لوگ سوار ہوئے ،انہیں اکشر دھام جانا تھا۔ پہنچنے پر کرائے کے 250 روپے کے لئے ان لوگوں کے پاس کیش نہیں تھا، تو انہوں نے پے ٹی ایم کیا۔ ان کے موبائل پر ٹرانزیکشن سکیس فل کا میسیج آیا، پیسے کٹ گئے لیکن وہ جوگندر کے پے ٹی ایم اکائونٹ تک نہیں پہنچے۔ نیٹ ورک کی خامی کی وجہ سے جوگندر اور وہ تینوں مسافر اکشر دھام کے باہر ایک گھنٹے تک کھڑ ے رہے ، لیکن تب بھیپیسے منتقل نہیں ہوئے ۔ ان کی طرف سے یہ دلیل دی جارہی تھی کہ ہمارے اکائونٹ سے تو پیسے کٹ گئے، اب ہماری کوئی غلطی تو ہے نہیں۔
پے ٹی ایم کسٹومر کیئر سروس میں بات کرنے پر بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور آخر میں جوگندر کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔حال کے دنوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ صرف میٹرو شہروں کے مسائل ہیں۔ چھوٹے شہروں اور گائوں میں تو ڈیجیٹل انڈیا کی صورت حال اور بھی قابل رحم ہے۔ اتر پردیش کے دیوریا کے باشندہ دویندر ناتھ تیواری نے کیس لیش ہندوستان کی گاڑی کو رفتار دینے کے لئے کئی پیمنٹ کیش لیس کیا۔ دیوریا کے وی مارٹ سے خریدے گئے کمبل کے لئے انہوں نے بینک آف انڈیا کے ڈیبٹ کارڈ سے پی او ایبس مشین کے ذریعہ 3940 روپے کی ادائیگی کی۔دویندر کے بینک کھاتے سے تو پیسے کٹ گئے،لیکن پی او ایس مشین نے پیمنٹ ڈکلائن کا میسیج دکھا دیا۔ پی او ایس مشین میں ایک بار اور کارڈ سوائپ کیا گیا، پھر سے اتنے ہی پیسے کٹے، لیکن پھر پیمنٹ ڈکلائن کا میسیج ۔ بینک آف انڈیا کے کسٹومر کیئر کو فون کرنے پر تقریباً آدھے گھنٹے تک کال ہولڈ پر رہا، لیکن کسی سے بات ہی نہیں ہو پائی۔ دویندر اب بھی اپنے پیسوں کو پانے کا راستہ دیکھ رہے ہیں۔
آئے دن ایسے کئی معاملے سامنے آرہے ہیں، جس میں لوگوں کی محنت کی کمائی ہوئی رقم کیش لیس انڈیا کے بھینٹ چڑھتی جارہی ہے۔کیش لیس انڈیا میں حصہ داری جس طرح سے پریشانیاں لے کر آر ہی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے جیب میں بغیر کیش رکھے کیش لیس ٹرانزیکشن کوٹرائی کرنا ایک جوکھم بھرا قدم ہو سکتاہے۔ اب بات یہ ہے کہ کیش لیس ٹرانزیکشن کے وقت اگر متبادل کی شکل میں کیش رکھنا پڑے تو پھر یہ کس طرح کا کیش لیس؟
کیش لیس کی راہ میں رکاوٹ
انڈین انٹرنیٹ مارکیٹ میں بھلے ہی موبائل کمپنیوں نے 4جی کا شور مچا رکھا ہے،لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہاں آج بھی اوسط انٹر نیٹ اسپیڈ 2جی کے مساوی ہی ہے۔ فیس بک کے ذریعہ حال ہی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والے کنزیومروں میں سے صرف 13 فیصد ہی اصلی 3جی اور 4جی کا استعمال کرپارہے ہیں۔ آئی سٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس 2016 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ اسپیڈ رینکنگ میں ہندوستان کا مقام 138واں ہے۔ موبائل نیٹ ورک کی صورت حال بھی کم قابل رحم نہیں ہے۔ موبائل سے آن لائن ترانجیکشن کے بعد نیٹ ورک ایریا میں آنے کے لئے ہاتھ اوپر کرکے موبائل ہلاتے منظر آج بھی ہمارے یہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حال کا ایک تجزیہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں آن لائن ٹرانزیکشن کے وقت پیج لوڈ ہونے میں لگنے والا اوسطاً وقت 5.5 سکنڈ ہے، جبکہ چین میں یہ وقت 2.6 سکنڈ ہے۔ حقیقت پر غور کریں تو ان اعدادو شمار کی سچائی میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ہے۔ حالانکہ مسئلہ یہیں پر ختم نہیں ہوتا ہے۔مذکورہ دو مثالیں بتانے کے لئے کافی ہیں کہ آن لائن ٹرانزیکشن کے ساتھ کس طرح کے مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ حال یہ ہے کہ ان مسائل کے حل کے لئے ذمہ دار ادارے بھی اپنا کام نہیں کر رہے ہیں۔
کیش لیس انڈیا کے خواب میں انہیں بھی شامل کیاجارہاہے جنہوں نے آج تک بینک بھی نہیں دیکھا۔ موبائل بینکنگ یا پی او ایس مشین تو دور کی بات ہے۔ 20دسمبر 2016 کو آن لائن ٹرانزیکشن کی ٹریننگ کے لئے سرکاری افسران چھتیس گڑھ کے نکسل متاثرہ علاقہ بالود پہنچے تھے۔ 9لاکھ کی آبادی میں 5لاکھ بی پی ایل والا بالود ضلع ملک کا وہ حصہ ہے،جہاں کی ایک بڑی آبادی دو وقت کی روٹی کی جگاڑ بھی بہ مشکل کر پاتی ہے۔ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ملک کے 93فیصد دیہی علاقے بینکوں کی پہنچ سے دور ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہاں بینک نہیں ہے وہاں آن لائن بینک کیسے پہنچیں گے۔
سرکار سب جانتی ہے
فروری 2016 میں راجیہ سبھا میں دیئے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر برائے اطلاعات روی شنکر پرساد نے بتایا تھا کہ اپریل سے دسمبر 2015 کے درمیان بینکنگ فراڈ کے 12,000 معاملے درج کئے گئے۔ حال میں آئی ایسوچیم کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 2017 میں موبائل پیمنٹ سے ٹھگی کے معاملوں میں 67 فیصد اضافہ کا خدشہ ہے۔گزشتہ کچھ سالوں میں ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر کرائم کے اعدادو شمار میں ہو رہے بے تحاشہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے ہم اس خدشے کو مسترد بھی نہیں کرسکتے ۔
نیشنل کرائم برانچ کے مطابق 2013 میں سائبر کرائم کے 4,356 معاملے درج ہوئے تھے،وہیں 2014 میں یہ اعدادو شمار بڑھ کر 7,021 ہو گئے۔ سی ای آر ٹی -آئی این کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں 2015 میں ہر طرح کے سائبر کرائم کے 49,455معاملے درج ہوئے تھے۔ خوفناک اعدادو شمار کی یہ فہرست ہی کیش لیس انڈیا کی راہ کے سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔
عوام کہاں جائیں؟
آر بی آئی کے ایک اعدادو شمار کے مطابق 2015-16 میںبینکوں نے اے ٹی ایم ، ڈیبیٹ اور کریڈٹ کارڈس سے جڑے فراڈ کے 11,997 معاملے درج کرائے۔ ایسی ٹھگی کا شکار ہوئے لوگوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے، جو اب بھی اپنے پیسوں کو پانے کے لئے در در بھٹک رہے ہیں۔ بینک ایسے معاملوں میںاپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑتے دیر نہیں لگتی۔ نتیجتاً معاملہ طویل عدالتی سرگرمی کے بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔کہنے کو تو ملک میں سائبر تھانے بھی ہیںلیکن پورے ملک کو ملا کر ان کی تعداد صرف 40 ہے۔ وہ بھی آدھے سے بھی کم ریاستوں میں ۔ بڑھتے سائبرکرائم کو دیکھتے ہوئے 2006 میں سائبر اپیلیٹ ٹرائبونل بھی قائم کیاگیا لیکن ایسے معاملوں کے بارے میں اس ٹرائبونل کی کارکردگی کو اس بات سے سمجھا جاسکتاہے کہ 30جون 2011 کے بعد سے اس میں جج ہی نہیں ہیں۔ یعنی گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں اس ٹرائبونل نے سائبر جرائم کے کسی معاملے کیسنوائی ہی نہیں کی۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آن لائن بینکنگ کی ٹھگی کے بعد عدالت سے امید لگانے والے عوام اب کہاں جائیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *