یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر کو لے کر تمام قواعد شروع ہوگئے۔ ’اینٹی رومیو اسکوائڈ‘ کی تشکیل سے لے کر ایس پی کے دفتروں میں الگ سے ایف آئی آر سیل کھولے جانے اور پولیس افسروں اور اہلکاروں کو سخت ہدایتیں دینے کا دور شروع ہوگیا۔ابتدا میں اس کا اثر بھی ہوا ،لیکن بی جے پی سے جڑی تنظیموں کے لوگوں پر چڑھا اقتدار کا بخار، لاء اینڈ آرڈر کو درست کرنے کی یوگی کی کوششوں پر پانی پھیر نے لگا ۔
سہارن پور اور آگرہ جیسے کئی واقعات نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف تنظیم ہے تو دوسری طرف ذمہ داری۔قانون کے ترازو پر تنظیم اور ذمہ داری کے دو پلڑوں کا توازن بنانا یوگی کی پیشانی پر بل دے رہا ہے۔ خاص طور پر سہارن پور کے ایس ایس پی لو کمار کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں ہوئے پُر تشدد حملے نے یوگی سرکار کو کافی شرمسار کیا ہے۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ اس حملے کی قیادت بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ہی کرر ہے تھے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب سے ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں، وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ریاست کا لاء اینڈ آرڈر ان کی پہلی ترجیحات میں شامل ہے۔لہٰذا لاء اینڈ آرڈر کو نہ تو کمزور ہونے دیا جائے گا اور نہ لاء اینڈ آرڈر کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا۔ اترپردیش میں قانون کا راج قائم کرنا ،بی جے پی کا ہدف ہے۔ یوگی نے اعلان کر رکھا ہے کہ تھانے کی باگ ڈور اسے دی جائے گی جو نتیجہ دے گا۔ چاہے وہ سب انسپکٹر ہو یا انسپکٹر ۔یوگی نے پولیس انسپکٹر جنرل اور پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ تھانوں پر وفاداری، لگن اور سخت محنت سے کام کرنے والے پولیس افسروں کو تعینات کیا جائے جو لاء اینڈ آرڈر پر کنٹرول رکھ سکیں۔ گورکھپور کے اجلاس میں بھی وزیر اعلیٰ یوگی نے بڑی تلخی سے کہا کہ جنہیں لاء اینڈ آرڈر پر بھروسہ نہیں ،وہ ریاست چھوڑ کر چلے جائیں۔
سہارنپور اور آگرہ کے واقعات
یوگی کی منشا ،ان کی ہدایتوں اور بیانوں کے برعکس ہم سہارن پور اور آگرہ کے دو واقعات سامنے رکھتے ہیں۔پہلے سہارن پور کا واقعہ دیکھتے چلیں۔ گزشتہ 14اپریل کو امبیڈکر جینتی کے موقع پر سہارن پور کے دودھلی گائوں کے دلتوں نے ایک شوبھا یاترا نکالی تھی۔ اس پر گائوں کے ہی مسلم طبقے کے لوگوں نے حملہ بول دیا۔ بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر کی جھانکی لے کر چل رہے لوگوں پر زبردست پتھرائو کیا گیا۔ پتھرائو میں سہارن پور کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال اور ایس ایس پی لو کمار سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے۔ خونی تشدد پر آمادہ حملہ آوروں کے بیچ سے کسی طرح لوگوں کو محفوظ باہر نکالا جا سکا۔
اس بھاری پتھربازی کے واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی قیادت میں مذکورہ بھیڑ نے ایس ایس پی لو کمار کے بنگلے پر دھاوا بول دیا اور وہاں ر زبردست توڑ پھوڑ مچائی ۔ایس ایس پی کے خاندان کو کسی طرح گئو شالے میں چھپ کر جان بچانی پڑی۔ سہارن پور میں گزشتہ کچھ وقت سے لگاتار دلتوں کو مشتعل کرنے والے واقعات ہو رہے تھے۔ دیوبند کے ایک گائوں میں کچھ ہی دن کے دوران دوسری بار امبیڈکر کے مجسمے کو توڑنے کا واقعہ ہوا۔ سہارن پور کے اس وقت کے ایس ایس پی لو کمار کا کہنا ہے کہ شوبھا یاترا کی اجازت انتظامیہ نے نہیں دی تھی۔ اس کے باوجود شوبھا یاترا نکالی گئی۔ اسی دوران ایک گروپ نے پتھرائو شروع کر دیا۔ شوبھا یاترا کو روکنے اور اس کے فاصلے میں کاٹ چھانٹ کئے جانے سے ناراض ہوئی بھیڑ نے ایس ایس پی کی رہائش گاہ پر حملہ بول دیا۔ بھیڑ نے سی سی ٹی وی کیمرے اور کرسیاں توڑ ڈالیں، ایس ایس پی کی نیم پلیٹ اکھاڑ دی اور پتھرائو کرنے والے طبقے کے گائوں کے راستے سے ہی یاترا نکالنے پر اڑے رہے۔ سہارن پور کے تھانہ جنک پوری حلقے کا گائوں دودھلی کافی وقت سے حساس مانا جاتا ہے۔
دس سال پہلے بھی اس گائوں میں سنت روی داس جینتی پر شوبھا یاترا نکالنے کو لے کر دو طبقوں میں پُرتشدد تنازع ہو چکا ہے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ مقامی بی جے پی رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال شرما کی قیادت میں بھیڑ ان کے گھر میں گھس گئی اور رکن پارلیمنٹ نے انہیں نوکری سے نکلوانے کی دھمکی دی۔ حملے کے وقت ان کے رشتہ دار اور خاندان کے ممبر اپنے ہی گھر میں خوف کی حالت میں تھے۔ میرے خاندان نے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔میرے بچے بہت ڈرے ہوئے تھے۔ ایس ایس پی کی بیوی شکتی کمار نے کہا کہ’ میں نے اپنے دونوں بچوں کی آنکھوں میں خوف دیکھا ہے۔ سب سے زیادہ محفوظ مانی جانے والی ایس ایس پی کی کوٹھی پر ڈھائی گھنٹے تک جو منظر میں نے دیکھا، اس سے میں خود سہم گئی ہوں‘۔
دوسری طرف رکن پارلیمنٹ لکھن پال نے کہا کہ ایس ایس پی اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اپنا قصور مجھ پر ڈال کرخود بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایس ایس پی لو کمار نے ماحول خراب کیا اور تشدد کے دوران موقع سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ پولیس نے مجھ پر غلط ایف آئی آر درج کی ہے۔ کارروائی پتھر بازوں پر ہونی چاہئے تھی۔ موقع سے بھاگ کھڑے ہوئے ایس ایس پی اب خود ساختہ کہانیاں سنا رہے ہیں۔ وہ خاندان کو ڈھال کی شکل میں استعمال کرکے اپنی ناکامیاں چھپا رہے ہیں۔رکن پارلیمنٹ نے بے ساختہ کہا کہ ان کے گھر پر کوئی حملہ نہیں کیا گیاتھا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ سہارن پور کے کلکٹر شفاقت کمال اور ایس ایس پی لو کمار بابا صاحب امبیڈکر میں عقیدت نہیں رکھتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے نیتا گری زیادہ کی اور ڈیوٹی کم۔ رکن پارلیمنٹ کا الزام ہے کہ اس علاقے میں کشمیر کی طرح پتھر باز پنپ رہے ہیں اور پولیس کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔
بی جے پی کے ہی رکن پارلیمنٹ اور ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ستیہ پال سنگھ نے اس واقعہ پر کہا کہ سہارن پور جیسے واقعہ کا پولیس کے حوصلے پر منفی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں 15 سال بعد بی جے پی کی سرکار بنی ہے۔ خراب لاء اینڈ آرڈر کو ایشو بنا کر ہی پارٹی اقتدار میں آئی ہے۔ایسے میں پارٹی کے ہر کارکن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے پارٹی اور سرکار بدنام ہو۔
ادھر آگرہ میں بھی بجرنگ دل کے کارکنوں نے پولیس پر حملہ بول کر یوگی سرکار کے لاء اینڈ آرڈر کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے پولیس پر حملہ کر کے ایک داروغہ کی پستول بھی چھین لی۔ بجرنگ دل کے مذکورہ کارکنوں نے فتح پور سکری کے صدر تھانے کے حوالات میں بند پانچ لوگوں کوچھڑانے کے لئے پولیس پر حملہ بولا تھا۔ حملہآوروں نے پولیس کی پٹائی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک داروغہ کی سرکاری پستول بھی چھین لی۔
گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب گورکھپور میں تھے تو ان کے اجلاس میں اسٹیج پر مافیا کے طور پر معروف امر منی ترپاٹھی کا بیٹا امن منی ترپاٹھی بھی موجود تھا۔ اس سے بھی یوگی کی کافی کِرکی ہوئی۔ امن منی اپنی بیوی سارہ سنگھ کے قتل کے الزام میں جیل میں تھا۔ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ چل رہی ہے۔ امن منی کے والد امر منی ترپاٹھی اور ماں مدھو منی ترپاٹھی شاعرہ مدھو میتا شکلا قتل واردات میں عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔
سماج مخالف عناصر پر لگام
اسمبلی انتخابات میں اترپردیش کا خراب لاء اینڈ آرڈر اہم انتخابی ایشو تھا۔ اس سے سماج وادی پارٹی کو بھاری نقصان ہوا اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کا راستہ کھلا۔ پانچ بار رکن پارلیمنٹ رہ چکے یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے سے لوگوں کی امیدیں بڑھیں، کیونکہ عوام کے دل میں یوگی کی شبیہ ’نو نان سینس ایڈمنسٹریٹر ‘کی رہی ہے۔ یوگی نے گورکھپور میں قانون کا راج قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہیں 90 19کی دہائی کے افراتفری والے گورکھپور کو قانون پسند شہر میں بدلنے کا سہریٰ ان ہی کے سر جاتا ہے۔ لہٰذا یو پی کا لاء اینڈ آرڈر یوگی کے لئے چیلنج کی طرح ہے۔
اکھلیش سرکار نے اپنے دور حکومت میں لاء اینڈ آرڈر کے معاملے میں جرائم پیشوں اور غنڈوں کے آگے ہتھیار ڈال دیا تھا۔ غنڈوں نے ریاست میں متوازی حکومت قائم کر رکھی تھی اور حکومت کا شیرازہ بکھیر دیا تھا۔ اس کا نتیجہ انتخاب میں سامنے آگیا۔ اکھلیش سرکار نے ریاست میں جرائم کو کم دکھانے کے لئے بھی اعداو شمار کی بازیگری کی تھی۔ زیادہ تر بڑے جرائم درج ہی نہیں کئے گئے یا انہیں ایف آئی آر کے بجائے سسپیشن میں درج کر کے نمٹا دیا گیا، جس سے وہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی ) کے دائرے میں نہ آ پائیں۔این سی آر بی نے 2015 میں اتر پردیش کے جرائم کے اعدادو شمار میں اس گڑبری کو اجاگر کیا۔
این سی آر بی میں ریاست کے سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں’’ انڈین پینیل کوڈ آئی پی سی ‘‘ کے تحت 112 معاملے ہی درج تھے جبکہ اس دوران دہلی میں یہ اعداد و شمار 917 تھے۔ جب سسپیشن کے اعدادو شمار دیکھے گئے تب اصلیت کا پتہ چلا۔ دونوں اعدادو شمار کو ملا کر اترپردیش میں بڑے جرائم کے اعدادو شمار 1293 پر پہنچ گئے۔ یعنی آئی پی سی کے تحت درج اعدادو شمار کے مقابلے دس گنا زیادہ جرائم یوپی میں ہوئے۔ اکھلیش دور میں فسادات، اغوا ، پھروتی، عصمت دری اور قتل جیسے معاملے بڑھے لیکن حکومت اس سے لگاتار انکار کرتی رہی۔ یہاں تک کہ سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں نے بلند شہر میں ماں اور بیٹی کی اجتماعی عصمت دری کو سیاسی سازش قرار دینے کا شرمناک بیان دے دیا تھا۔ گائتری پرجاپتی جیسے بد عنوان، عصمت دری کرنے والے اور قتل کے ملزم وزیر کو تحفظ دینے کی وجہ سے بھی اکھلیش سرکار کی شبیہ خراب ہوئی۔
انہی خامیوں نے بی جے پی کو موقع دیا۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ بنے یوگی آدتیہ ناتھ لاء اینڈ آرڈر کو درست کرنے کو لے کر فعال تو ہیں، لیکن پولیس انتظامیہ کا کمزور ڈھانچہ ٹھیک کرنے میں سرکار کو کافی مشقت کرنی پڑے گی۔ پولیس پر حملے ، آگ زنی ، سرکاری جائیداد کا نقصان اور افسروں کو مارنے پیٹنے اور دھمکانے کے واقعات سرکار کو بحران میں ڈال رہی ہیں۔ بھاری جیت سے ہندوتوادی تنظیموں میں پیدا ہو ئے گرو بھی یوگی کی راہ کو مشکل بنائیں گے۔ ایسا لگ رہا ہے۔
پولیس کو درست کرنے کے نئے نسخے
لاء اینڈ آرڈر سدھارنے کے لئے وزیر اعلیٰ یوگی آدیہ ناتھ نے کئی بااثر عمل شروع کئے ہیں۔ نئے فیصلے کے مطابق اب ہر تھانیدار کو ہر مہینے ایک امتحان پاس کرنا ہوگا۔ اس امتحان میں کوئی پیپر نہیں ہوگا، لیکن ایک سو پورے نمبر کا یہ امتحان تھانیدار کی قابلیت ثابت کرے گا۔ اس امتحان میں زیادہ نمبر پانے والوں کو ضلعی سطح پر ایوارڈ ملے گا، وہیں فیل ہونے والوں کی لائن میں واپسی ہوگی۔ تھانیداروں کے امتحان لئے جانے کا سلسلہ بھی یوگی کی کرم بھومی گورکھپور سے ہی شروع کیا جارہا ہے ۔ کچھ وقت پہلے تک ضلعی سطح پر تھانوں کی گریڈنگ ہوا کرتی تھی۔سال بھر کے درج مقدمے ، گرفتاری، ملتوی مقدمات کا نمٹارا ،نشہ آور مواد کی ضبطی سمیت جرائم کی تعداد کی بنیاد پر یہ گریڈنگ کی جاتی تھی لیکن مارکس کی بنیاد پر تھانیداروں کے کام کاج کا اندازہ کرنے کا عمل اب شروع ہونے جارہا ہے۔
اس عمل کے تحت اب ہر مہینے ضلعی سطح پر اس کی جانچ کی جائے گی۔ کمزور تھانیدار کی پہچان کے لئے شروع کئے گئے اس طریقہ کار میں جانچ پڑتال کے دوران کیس ڈائری کی پوزیشن، سیٹل منٹ آف آئیڈیا،بدمعاشوں کی گرفتاری ، جرائم کنٹرول ، عوام سے سلوک کی جانچ ہوگی ، اس کے علاوہ تھانیداروں کو ایک ایویلیوشن فارم بھی دیا جائیگا، جسے بھر کر وہ ایس پی کو دیںگے۔ اس کا موازنہ کیا جائے گا۔ اس ایویلیوشن کے عمل میں تھانوں کے رکھ رکھائو اور صفائی پر 20 نمبر ، تھانے پر آنے والے شکایت کنندہ کے لئے راحت رسائی پر 10 نمبر ، تھانوں کے رجسٹر ، دستاویزوں کے رکھ رکھائو پر 10 نمبر ، تھانوں کے کام کی جانچ اور کارروائی کی جانچ پڑتال پر 10نمبر، انہیبیٹوری کارروائی کی شفاف تفصیل پر 10نمبر، مختلف جرائم میں کی گئی کارروائی اور ان کے بیورا پر 10 نمبر ،ملتوی معاملات کی پروگریسیو اور اس کے آن لائن ریکارڈ پر 10 نمبر، انعام کا اعلان جن مجرموں پر ہوا ہے،ان کی گرفتاری پر 5 نمبر ، مافیائوں پر کارروائی پر 10 نمبر اور تجاوزات ہٹانے سے لے کر ٹریفک سدھارنے کے کام پر 5 نمبر مقرر کئے گئے ہیں۔
کیسے رکیں گے جرائم؟
اتر پردیش میں بی جے پی تقریباً 15 سال بعد اقتدار میں واپس آئی ہے۔ بی جے پی کے انتخابی نعروں میں یہ نعرہ بھی شامل تھا کہ ’ نہ غنڈہ راج، نہ بھرشٹا چار ‘ لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی سرکار کے ان ابتدائی دو مہینے میں جرائم کہیں تھمتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ حاانکہ یوگی لاء ایند آرڈر کو لے کر کافی سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ ان دو مہینوں میں پولیس تھانوں یا چوکیوں پر حملے کی 20وارداتیں درج ہوئیں۔ حملوں میں پولیس تھانوں کے اندر گھس کر پولیس اہلکاروں کو پیٹا گیا۔ حملوں میں نصف درجن لوگوں کی موت بھی ہوئی۔ اس درمیان چار ہزار سے زیادہ مختلف قسم کے جرائم ہوئے، جن میں دو سو قتل، تقریبا تین سو عصمت دری، وارانسی میں 10کروڑ کی لوٹ، الٰہ آباد میں 16 لاکھ کی لوٹ جیسی بڑی وارداتیں شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here