سنتوش بھارتیہ
بہت ساری چیزیں امریکہ میں بنتی ہیں، امریکہ میں کھلتی ہیں، تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کس طرح کے جال میں کبھی پھنس چکے تھے، اِن دنوں پھنس رہے ہیں یا آگے پھنسنے والے ہیں۔ ہمارے ملک کی معزز ہستیاں، جو لوگوں کی رائے بناتی ہیں، جن میں جسٹس راجندر سچر، دلیپ پڈگاؤنکر، عمر کے آخری پڑاؤ پر کھڑے مشہور ایڈیٹر، رائٹر اور سماجی کارکن کلدیپ نیر صاحب اور گوتم نو لکھا شامل ہیں جنہوں نے رورل جرنلزم اور نظریاتی صحافت میں نام کمایا تھا اور ان کے ساتھ بہت سارے لوگ ایک سازش میں پھنسے نظر آ رہے ہیں، جس کا انکشاف امریکہ میں ہوا۔ آئی ایس آئی ہندوستان میں ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتی ہے جو سیکولر ہوں، بے خوف ہوں، ساتھ ہی جن کی بات پر ملک کا ایک بڑا طبقہ اعتماد بھی رکھتا ہو۔ اکثر وہ اس تلاش میں کامیاب ہو جاتی ہے اور انہیں اس طرح منظم کرتی ہے کہ جو شکار ہو جاتے ہیں، انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ انجانے میں ملک کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ کشمیر ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہندوستان میں دو رائے ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے ہر قیمت پر ہندوستان سے جوڑ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں فوج کی جتنی بھی مدد لینی پڑے، لینی چاہیے۔ دوسری رائے ان لوگوں کی ہے جن کا کہنا ہے کہ کشمیر ہمارا ہے، لیکن کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیے، وہاں سے فوج کی تعداد کم ہونی چاہیے، ترقی کے کام ہونے چاہئیں اور زیادتیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کشمیر کے لوگوں کو بھی ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح ترقی کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ پہلی رائے سے اتفاق رکھنے والے لوگ انتہاپسند ہیں اور وہ آئی ایس آئی کے کام کے نہیں ہیں۔ اس کے کام کے لوگ دوسری طرح کے ہیں۔ اس نے ساری دنیا میں سیمینار کرنے کا منصوبہ بنایا اور ان لوگوں کو تلاش کیا، جو ایسے سیمینار کر سکیں۔ ایسے لوگوں کو چھانٹ چھانٹ کر مدعو کیا، جو دوسری رائے سے اتفاق رکھتے ہیں اور کشمیر کو لے کر مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ساری دنیا میں گئے، لیکن انہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ جہاں وہ جا رہے ہیں، وہاں کے لیے انہیں ایگزیکٹیو کلاس کی ٹکٹیں کون دے رہا ہے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کون ٹھہرا رہا ہے؟ جو تنظیم سیمینار کرا رہی ہے، کیا اُس کا اعلانیہ مقصد وہی ہے جو اُن کے سامنے آیا ہے؟ اُس تنظیم کے تار کہیں کسی دوسری تنظیم سے تو نہیں جڑے ہیں؟ افسوس اِس بات کا ہے کہ یہ سوال غور کرنے لائق ہیں، لیکن وہ لوگ جو صحیح ہیں، ایماندار ہیں، وہ اِن چیزوں پر دھیان نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آئی ایس آئی نے ایک کوشش کی کہ ساری دنیا میں کشمیر کو لے کر ہندوستان پر انگلی اٹھائی جائے اور اِس میں اُس نے ان ہندوستانیوں کو شامل کر لیا، جو واقعتا صحیح صحافی یا صحیح سوچ والے لوگ ہیں۔
یہ صحیح سوچ والے لوگ اِس سازش کو نہیں پہچان پائے، لیکن سازش کو نہ پہچان پانا اور اُس کا حصہ دار بن جانا معصومیت کی نہیں، بیوقوفی کی مثال ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ ایسی جگہوں پر، جہاں ہم ملک کے باہر ہوتے ہیں، وہاں کوئی ایسی بات ہو جس میں ہندوستان کا نام آئے، اُس کے بنیادی سوالوں پر بات چیت ہو، وہاں ہم بیوقوفی یہ کرتے ہیں کہ ملک کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ شاید ہمارے اِن دوستوں نے کئی جگہ پر ایسا کیا۔ مجھے لاہور کا ایک قصہ یاد ہے۔ لاہور میں بابا صاحب امبیڈکر کو لے کر ایک سیمینار ہوا، جس میں ہندوستان سے کئی لوگ گئے، جن میں جنوبی ہند کے ایک دلت لیڈر بھی تھے، جو ایک اخبار چلاتے ہیں اور فائر برانڈ مانے جاتے ہیں۔ اُس دلت لیڈر نے وہاں ہندوستان کے مفادات، تحریک آزادی اور ملک کے وجود کے خلاف باتیں کہیں۔ اُس شخص کو شرم نہیں آئی کہ وہ ہندوستان کے تعاون سے ہی پاکستان میں تھا۔ جب ہم ملک کے باہر ہوتے ہیں تو ہمیں بولتے وقت بہت احتیاط برتنی چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ ہم کچھ ایسا بول جائیں کہ دوسرے ملک میں ہمارا مذاق بن جائے۔ جب ہم ملک کے خلاف بولتے ہیں تو مذاق کا سبب بنتے ہیں اور کسی کے ہاتھ میں کھیلنے لگتے ہیں۔ ہمارے اِن دوستوں نے کشمیر یا دنیا میں جو سیمینار ہوتے ہیں، اُن میں جاکر یہی کیا۔ انہوں نے ہندوستان کے مفادات کے خلاف دوسرے ملک کے مفادات کی حمایت کی۔ آئی ایس آئی یہی چاہتی تھی کہ کشمیر کو لے کر ہندوستان کے ہی لوگ تلخ انداز میں بولیں۔ کبھی بھی ہمارے دوستوں کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ جتنی گڑبڑیاں اُس کشمیر میں ہیں جو ہندوستان کے ساتھ ہے، شاید اُس سے زیادہ گڑبڑیاں اُس کشمیر میں ہیں جو پاکستان کے ساتھ ہے۔ اِن دوستوں نے کبھی پاکستان کے ساتھ والے کشمیر اور مظفر آباد میں جاکر دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی، کبھی یہ مانگ نہیں کی کہ ہم جب اسلام آباد یا کراچی آتے ہیں تو ہمیں مظفر آباد بھی جانے کی اجازت دی جائے۔ اگر اجازت نہیں ملے گی تو ہم کراچی یا اسلام آباد نہیں جائیں گے۔
لیکن کلدیپ نیر صاحب ہوں یا باقی ساتھی، انہیں پاکستان جانے کی اتنی جلدی رہتی ہے کہ جیسے اگر یہ نہیں گئے تو اِن کے سیکولرازم پر کوئی چوٹ پہنچے گی یا لوگ انہیں سیکولر ماننے سے منع کر دیں گے۔ سیکولر ازم کا مطلب کمیونل ازم کا ساتھ دینا نہیں ہے، ملک کے مفادات کے خلاف بولنا بھی نہیں ہے۔ اپنے ملک میں سیکولر ازم کے لیے لڑنا ایک بات ہے اور اسے لے کر ساری دنیا میں اپنے ملک کو بدنام کرنا بالکل دوسری چیز ہے۔ ہندوستان سیکولر ملک ہے، یہاں کی سرکار سیکولر روایات پر چلتی ہے، یہاں مسلمان محفوظ ہیں۔ اُتنے محفوظ ہیں، جتنا دوسرے ملکوں میں نہیں ہیں۔ یہاں کے مسلمان ملک کے ساتھ ہیں، وہ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کی طرح نہیں ہیں، جو رہتے کہیں ہیں اور اُن کے مفادات کہیں اور جڑے ہوتے ہیں۔ یہ پازِٹیو چیزیں ہندوستان کے ایتھوز میں ہیں، تمدن میں ہیں اور یہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی گنگا جمنی تہذیب میں رچی بسی ہیں۔ اِن چیزوں کے بارے میں ساری دنیا میں نہ بولنا اور اِن ایتھوز کے خلاف ماحول بنانا شاید ہندوستان کے مفادات کے خلاف بولنا مانا جاسکتا ہے۔
حکومت کیا کر رہی ہے؟ اُس کے پاس ایک نیٹ ورک ہے، الگ الگ طرح کی خفیہ ایجنسیاں ہیں اور خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ بھی جانکاری کے ذرائع ہیں۔ وہ اسرائیل اور سی آئی اے کے ساتھ خفیہ جانکاری شیئر کر رہی ہے۔ ایسے میں اُسے آج تک یہ کیوں نہیں پتہ چلا کہ دنیا کی وہ کون کون سی تنظیمیں ہیں، جو ہمارے ملک کے مفادات کے خلاف، یہاں کے لوگوں کو ورغلا کر شامل کرتی ہیں اور اپنا اُلو سیدھا کرتی ہیں۔ چاہے کشمیر کو لے کر، جمہوریت کو لے کر یا جس طریقے کے بھی ساری دنیا میں سیمینار ہوتے ہیں، انہیں اگر ہندوستان سے باہر کی کوئی تنظیم منعقد کرتی ہے تو اس کے بارے میں حکومت کو کیوں پتہ نہیں ہوتا؟ ابھی جو امریکہ میں نیٹ ورک پکڑا گیا، اُس میں شامل فائی، جنہوں نے بنیادی طور پر ہندوستان میں ہی تعلیم حاصل کی اور اب امریکہ میں ہیں، نے یہ نیٹ ورک کیسے بنایا، اس بارے میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس جانکاری کیوں نہیں آئی؟ یہ سنجیدہ موضوع ہے۔ اگر حکومت کے پاس اُن تنظیموں کی جانکاری یا تفصیل نہیں ہوگی، جو ملک کے مفادات کے خلاف یا اُن موضوعات پر سیمینار منعقد کرتی ہیں، جن پر ملک کے دانشور متحرک ہوتے ہیں، تو وہ کس طرح لوگوں کو آگاہ کر پائے گی کہ آپ کی رائے صحیح ہے۔ آپ اپنی رائے ملک میں لکھئے، یہاں اخبار ہیں، ٹیلی ویژن ہے، پبلک میٹنگ ہے۔ لیکن آپ باہر جس منچ پر جا رہے ہیں، وہ آئی ایس آئی سپورٹیڈ ہے یا کسی اور ملک کے ذریعے سپورٹیڈ ہے۔ اُس کا فائیننس وہاں سے آتا ہے۔ سرکار اُن لوگوں کو، جو اس میں شامل ہیں، شامل ہونا چاہتے ہیں یا شامل ہوئے ہیں، ایک بار وارننگ تو دیتی، لیکن اس نے کسی کو وارننگ نہیں دی۔
وزیر داخلہ نے دلیپ پڈگاؤنکر کے دفاع میں کھل کر کہا کہ وہ جس سیمینار میں گئے، کشمیر میں مذاکرات کار بننے سے پہلے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اُس تنظیم کے بارے میں نہ تب کوئی جانکاری تھی اور نہ شاید اب کوئی جانکاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ملک کو لے کر سنجیدہ ہو، سرکاری ایجنسیاں سنجیدہ ہوں۔ جو محب وطن ہیں، ملک کے مسائل کو لے کر فکرمند ہیں، آگاہ کرتے ہیں، حل بتاتے ہیں، ایسے لوگوں پر نظر رکھنے اور اُن کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے سے زیادہ ضروری ہے اُن لوگوں پر نظر رکھنا، جو اُن تنظیموں کے جال میں پھنس سکتے ہیں، جو ملک کے مفادات کے خلاف ساری دنیا میں کام کر رہی ہیں۔ ہمارے اُن سبھی لوگوں کو، جو ملک کے باہر کسی بھی ایسے سیمینار یا کانفرنسوں میں جاتے ہیں، جس کا رشتہ ملک کے کسی مسئلہ سے ہے، جانے سے پہلے ضرور پتہ کر لینا چاہیے کہ وہ تنظیم آخر ہے کیا؟ جب وہ وہاں جائیں تو بہت ناپ تول کر بولیں۔ ایسا نہ کریں کہ اپنی ہی ایک آنکھ پھوڑ لیں، اس تحریک یا بھرم میں کہ وہ انسانیت کے لیے ہاتھ اٹھا رہے ہیں، جب کہ اُن کا ہاتھ اُن کے ملک کے مفادات کے خلاف اُٹھ رہا ہے۔ فرقہ وارانہ ذہنیت والے گروپ اُن تنظیموں کو بڑھاوا دیتے ہیں، جو بنیادی سوالوں پر باہر سیمینار یا کانفرنسیں کرتے ہیں۔ انہیں جب فائیننس ملتا ہے، تب وہ یہ نہیں دیکھتے کہ فائیننس آ کہاں سے رہا ہے۔ وہ سیمینار کے لیے فائیننس تلاش کرتے ہیں اور جو بھی فائیننس کردے، اس کے لیے کام کرتے ہیں۔ حکومت کو اِن کی جانکاری رکھنی چاہیے اور اُن لوگوں کو وقت رہتے آگاہ کرنا چاہیے، جو اس ملک کے سینئر صحافی ہیں، سینئر ایڈیٹر ہیں، اوپینین میکر ہیں اور غدارِ وطن نہیں ہیں۔ انہیں سمجھانا بتانا چاہیے کہ آپ جہاں جا رہے ہیں، اُس تنظیم کی اصلیت یہ ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہمارے ملک کے وہ لوگ، جو سچ مچ صحافت میں، سمجھ میں نام کما چکے ہیں، ایسے جال میں نہیں پھنستے اور آج انہیں شرم سے اپنا منہ چھپانے اور ٹیلی ویژن پر آکر معافی مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ہم معافی چاہتے ہیں، ہم نہیں جانتے تھے کہ جس کی دعوت پر سیمینار میں گئے، وہ آئی ایس آئی فنڈیڈ ہے۔ امریکہ سے یہ خبر باہر آئی۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے پہلے یہ جانکاری ہندوستان کو کیوں نہیں دی، یہ سرکار جانے، لیکن اگر حکومت تھوڑی سنجیدہ ہوجائے تو ہم بہت ساری شرم ناک حالتوں سے بچ سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here