سماج واد کی جڑ مضبوط ہے ،مٹائے نہیں مٹتی

Share Article

dami1990 کی دہائی میں مختلف ممالک میں کمیونزم کے روبہ زوال ہونے کا اثر ہندوتان کی کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں پر پڑا۔کمیونسٹ پارٹیاں تو کسی طرح اپنے وجود کو بحال رکھے ہوئی ہیں مگر سوشلسٹ پارٹیاں تقریباً دم توڑ چکی ہیں۔ دہلی میں معروف ماہر قانون اور حقوق انسانی کے رہنما راجندر سچر برائے نام ہی سوشلسٹ پارٹی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ ویسے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بھلے ہی سوشلسٹ پارٹیاں دم توڑ رہی ہیں مگر سوشلزم یا سماج واد ہندوستانی سماج کی رگ و پے میں سمایا ہوا ہے۔ حتی کہ 1996 میںآئین ہند میں 42ویں ترمیم کے بعد ہندوستان ’’ سوورین ڈیموکریٹک ریپبلک‘‘ سے ’’سوورین سوشلسٹ سیکولر ڈیموکریٹک ریپلک‘‘ بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں سماجی طور پر سوشلزم اس آئین میں مذکورہ ترمیم سے قبل بھی موجود تھا اور آج بھی زندہ ہے۔ انہی پس منظر میں ملک میں موجودہ سوشلزم کی صورت حال کا جائز گیا ہے۔
’’ میں اس روایت کی ایک کڑی ہوں جو پرہلاد سے شروع ہو کر سقراط سے ہوتے ہوئے گاندھی تک پہنچ چکی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ انسان ہتھیاروں اور طاقت کا استعمال کئے بغیر ناانصافی اور استحصال سے لڑنے کا فن سیکھ لے‘‘۔یہ قول مشہور سوشلسٹ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کا ہے۔ڈاکٹر لوہیا سماج وادکے آئیڈیالاگ تھے۔ان کا ماننا تھا کہ ملک میں مالدار بننے کا حق سب کو ہے ،جو چاہے جتنا مالدار بنے لیکن سماج میں عدم توازن کا خاتمہ ہونا چاہئے ،بھوکے کے پیٹ میں روٹی،بے روزگار کے ہاتھ میں کام،ننگے کے جسم پر کپڑا، بچوں کے ہاتھ میں کاپی و قلم ہو اور سماجکے بڑے اور چھوٹے میں باہم شفقت و احترام کا جذبہ ہو۔لیکن کیا ڈاکٹر لوہیا کا وہ خوب پورا ہورہا ہے؟اکیسویں صدی آتے آتے ہماری سماجی قدریں مٹتی جارہی ہیں،حکومت سے لے کر عوام اور شہر سے لے کر گائوں تک ہماری جو سماجی شناخت تھی ،وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
امریکہ کے مشہور مفکر اور سماج واد کے زبردست حامی نائوم چومسکی جن کی عمر اس وقت 88 سال ہے اور 100 سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں ،نے سرمایہ دارانہ نظام کی سخت مخالفت اور سماج واد کی حمایت کی ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ سوشلزم ملک کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرنے میں معاون ہوتی ہے۔ہندوستان کی سیاست کو ایک نیا رخ دینے والے جے پرکاش نارائن بھی اسی نظریہ کے قائل تھے۔ان کے سماج واد کا نعرہ آج بھی پورے ملک میں گونج رہا ہے اور ان کے پیروکار اپنے اپنے طور پر اس موقف کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
سوشلزم معاشرے میں انسان کو اول حیثیت دے کر اس کی تمام ضروریات کی باز یابی کی مکمل ضمانت، طبقاتی اور غیر مساویانہ سماج کے خلاف ٹھوس اور مادی جہدوجہدکے قوانین کی آگاہی دیتی ہے اور انسانی سماج سے استحصال ،بھوک، ننگ، افلاس کے مکمل خاتمے کا تقاضہ کرتی ہے۔اس لیے سوشلزم کا بھی تمام مذاہب سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ مذاہب بھی نوع انسان میں مساوات اور استحصال کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
سوشلزم نہ صرف ملک کے سرمایا دارانہ نظام کی مخالفت کرتا ہے بلکہ وہ روایت وا قدار کی بحالی کی بھی وکالت کرتا ہے۔لیکن موجودہ دور میں کیپٹلزم کا رجحان بتدریج سوشلزم کے نظریہ کو کمزور کررہا ہے۔ویسے کمیونزم کے روبہ زوال ہونے کا منفی اثر سوشلزم کے مستقبل پر بلا شبہ پڑا ہے۔آج اکیسویں صدی میں پوری دنیا میں یہی رجحان جڑ پکڑنے لگا ہے ۔البتہ سماج واد کے کچھ ایسے علمبردار اب بھی ہیں جو سچے دل کے ساتھ اس شناخت کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ابھی حال ہی میں اسلامی کلچرل سینٹر میں اے ایم یو الومنائی ایسو سی ایشن مہاراشٹر کے زیر اہتمام مختلف مکتبہ فکر کے چیدہ افراد کے ایک مباحثے میں جہان آباد کے رکن پارلیمنٹ اور راشٹریہ لوک دل کے صدر ڈاکٹر ارون کمار نے ایک بڑی اچھی بات کہی کہ’’ ہماری سماج وادی شناخت میں کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ مٹتے مٹتے بھی نہیں مٹ رہی ہے اس کی شناخت ۔
گاندھی جی ایک ایسے ہندوستان کو دیکھنا چاہتے تھے جہاں سماج میں ہم آہنگی ہو،پیار و محبت اور مذہبی تفریق کے زہر سے پاک معاشرہ ہو۔کمار نے مزید کہا کہ ہم قدیم دور سے ہی اصول کی شکل میں سماج واد کو دیکھتے آرہے ہیں مگر اکیسویں صدی میں ہمارا یہ اصول کمزور ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔اس کمزوری کی وجہ سے ہمارا جو سماجی تانا بانا تھا، وہ ٹوٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ملک میں عدم روادی ، تشدد اور اشتعال انگیزی ،ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کے لئے خطرہ ہے اور اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی قدیم روایت یعنی سماج واد کو اپنانا ہوگا۔ سماج اور سماج واد ہندوتان کی مٹی میں سرایت ہے اور کوئی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی۔ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت سماج واد یعنی سوشلزم کی پکڑ سماج میں کمزور ہوئی ہے لیکن ناامیدی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ یہاں کے لوگوں میں ،یہاں کی مٹی ، یہاں کی ثقافت میں اس کی جڑیں گہری ہیں، اس لئے چاہ کر بھی اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس دھرتی پر جائسی، رحیم خانخانہ، تلسی اور کبیر سبھی نے فکری و معنوی طور پر سوشلزم کی آبیاری کی ہیں۔‘‘
انہوں نے مباحثے کے درمیان یہ بات کہی کہ’’ ہمارا ملک ایک گلدشتہ ہے جہاںتمام مذاہب مل کر اس گلدستہ کو حسن بخش رہے ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تمام مذاہب روادای کا درس دیتے ہیں ۔یہاں دو مذاہب کے ماننے والے بڑی تعداد میںہیں۔ ایک ہندو ازم کے پیروکار اور دوسرے اسلام کے ماننے والے۔ ان دونوں کے علاوہ بھی جتنے مذاہب ہیں ،ان تمام کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا پڑوسی بھوکا ہے تو وہ مذہبی انسان قطی نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں نظریات میں اختلافات ہونا فطری ہے لیکن اس اختلاف کو منافرت کا سبب نہیں بننے دینا چاہئے۔ ٹیگور اور گاندھی کے درمیان بھی نظریاتی اختلاف تھے لیکن وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں تھے۔یہی ہماری مٹی کی روایت رہی ہے اور اسے لے کر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ روایت اب کمزور ہورہی ہے اور تعلیمی اداروں سے لے کر مذہبی اداروں میں بھی اب رواداری کا درس کمزور پڑنے لگا ہے۔تعلیمی اداروں میں اسٹوڈ نٹس یونین بنتے ہیں اور یہ یونین کسی نہ کسی پارٹی کے اشارے پر کام کرتے ہوئے اس پارٹی کا بھونپو بن جاتا ہے۔مذہبی اداروں کا حل یہ ہے کہ ایک مرتبہ سوامی سبجا نند ایودھیا گئے اور تین دن تک وہاں قیام کیا۔اس دوران ان سے کہا گیا کہ وہ کچھ بولیں تو انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ میں کچھ نہ ہی بولوں ۔کیونکہ اگر میں کچھ بولا تو آپ لوگوں کی دکانیں بند ہوجائیںگے۔
موجودہ وقت میں نئی نسل کو سوشلزم کی اہمیت بتانے کی ضرورت ہے اور اس بات کو لے کر دور دور تک جانا چاہئے۔ تعلیمی اداروں کا کام انسان پیدا کرنا ہے لیکن وہ کسی خاص نظریہ کے لوگ پیدا کررہے ہیں ،ڈاکٹر انجینئر پیدا ہورہے ہیں لیکن انسان پیدا نہیں ہورہے ہیں ۔سوشلزم کو مضبوط کرنے میں تعلیمی ادارے اہم رول ادا کرسکتے ہیں کیونکہ بچہ وہاں زیادہ سیکھتا ہے اور سوشلزم کی اہمیت بخوبی سمجھ سکتا ہے۔
الومنائی کے اس پروگرام کے کنوینر تنویر عالم نے سوشلزم کی اہمیت ، معنویت اور جودہ دور میں اس کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سماج واد ایک ایسا فلسفہ ہے جس کو اپنائے بغیر ہم اپنے ملک کو آگے نہیں لے جاسکتے ہیں۔ ہندوستان کا معاشرہ ثقافتی تنوع کا مظہر ہے اور یہاں کے لوگوں میں اخوت و محبت باقی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس سلسلے میں پہل کریں اور نفرت پھیلانے والوں میں محبت پیدا کریں۔
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے مطابق سماج واد انسان کو ہتھیار کا استعمال کئے بغیر استحصال کے خلاف لڑنا سکھاتا ہے۔اگر اس نظریہ کو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر قبول کرلیا جائے تو دنیابھر میں دہشت گردی اورافریقی ممالک میں قحط کی جو شکایتیں ہیں ،اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی نتیجہ ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا تھا، پوری دنیا کو تیزی کے ساتھ سامراجی تشدد تباہی اور بربادی میں گھسیٹ رہا ہے۔ امریکی سامراج کی سر براہی میں جن حملوں اور مداخلتوں کو افغانستان ، عراق لبیا اور شام میں شروع کیا گیا تھا، ان ممالک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔نیٹو روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں میں بڑے پیمانے پر نئے ہتھیاروں سے لیس ہو کر خود کو مسلح کر رہاہے۔افریقہ مسلسل امریکی اور یورپی جدید نو آباد یاتی سازشوں کا ہدف ہے۔جنوبی امریکہ ، مشرقی یو رپ ،ٹرانس کا کیشیا اور بر صغیر میں ہمسایہ ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعات کو ہوا دیتے ہوئے کشید گی اور علاقائی جھڑپوں کی لپیٹ میں لے لیاہے۔مشرقی ایشیاء میں ٹرمپ انتظامیہ کی ایشیاء خاص طور پر چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی نے پورے خطے کو جنگ میں ملوث کر دیاہے۔اگر سامراجی نظام کی جگہ سماج واد کے نظام کو اختیار کرلیا جائے تو خود بخود ان تمام کا مسائل کا حل نکل آئے۔ہندوستان کی روایت سماج واد ہے اور گاندھی جی کے بقول ’’ہم اصول کے طور پر سماج واد کو مانتے ہیں‘‘۔ ہم اس اصول سے ہٹتے جارہے ہیں اور نتیجے میں کئی مشکلوں میں پھنستے جارہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *