damiکشمیر کا جو مسئلہ ہے وہ مسئلہ یونائٹیڈ نیشنز کے ایجنڈا پر بھی ہے۔ اگر مسئلہ نہیں ہوتا تو یونائٹیڈ نیشنز کی ملٹری آبزرور نہیں ہوتی۔ یہاں بھی مستقل اسٹیشن اور اس پار بھی۔ ان کا اہم مقصد ہے سیز فائر پر نگرانی رکھنا۔ ہندوستان یہ کبھی نہیں بولتا کہ یہ مسئلہ نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے دونوں نے ایکسٹریم پوزیشن لیا ہے۔ اب ہندوستان کہتا ہے کہ پی او کے ہمیں واپس ملنا چاہئے۔ میں کہتا ہوں کہ جب تک آپ زندہ ہیں ہم بھی ہیں تاریخ میں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ پچھلے 27-26 سال سے پاکستان نے ہمیں کیا دیا،ہتھیار دیئے، لاکھوں کی تعداد میں اے کے رائیفلز دیئے اور یہاں لوگ مارے گئے۔ میں عام آدمی کے بارے میں بات کررہاہوں نہ کہ فوجیوں کی۔ اگر وہاں سے بندوق نہیں آتی،یہاں یہ لوگ نہیں مارے جاتے۔کتنی تاریخیں دہرائوں۔ شیخ عبداللہ کے ساتھ کشمیر ایکارڈ ہوا تھا1975 میں ۔پھر میر قاسم کو کیوں ہٹا دیا۔ یہاں ڈیموکریسی نہیں ہے۔ ایک کو بٹھائو ، دوسرے کو ہٹائو۔ سپریشن کی بات ہے۔ لوگوں کو پیلیٹ گن سے مارا۔ اگر ہم مقابلہ کریں افغانستان کا ، وہاں دس لاکھ لوگ مرے، عراق میں ابھی تک دس لاکھ مرے ہیں، شام میں اس سے زیادہ مرے ہیں۔ لیکن ہندوستان کبھی ایمانداری سے کوشش نہیں کرتا۔پاکستان کوبھی کشمیری عوام کے ساتھ کوئی انٹریسٹ نہیں ہے۔ میں چھ سات بار پاکستان گیا۔ وہاں کے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپس میں صلح ہوجائے، راستے کھل جائیں۔ کشمیر کارڈ ، پاکستان کا ٹرمپ کارڈ ہے۔ وہاں کا کوئی وزیر اعظم کشمیر کی بات نہ کرے تو اگلے دن ہی باہر ہوجائے گا۔ ہمارے علاحدگی پسند گروپ کے جولڑکے ہیں، وہ پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں۔ پی او کے کا جھنڈا لہراتے ہیں ،آئی ایس آئی ایس کا جھنڈا لہراتے ہیں۔ اس کا مطلب بھی انہیں نہیں معلوم ہوگا۔ اتنا ہی نہیں چین کا جھنڈا بھی لہرارہے ہیں ۔ بیچاروں کو پتہ نہیں ہے کچھ، میں یہ نہیں کہوںگا کہ ان کو کوئی پیسہ دیتا ہے یا نہیں دیتا ہے۔ لیکن ان لڑکوں نے اپنے کلاس کے دوستوں کو زخمی ہوتے، مرتے دیکھا ہے۔ آنکھ کی روشنی کھوتے دیکھا ہے۔ اب اگر ہمیں کشمیر کا حل چاہئے تو کیسے ملے گا؟ہندوستان پاکستان اگر دونوں ایکسٹریم پوزیشن پر ہوں تو کیاہوگا؟اگر ایسے ہی خون بہتا رہے تو تو کشمیر کا حل کیسے نکلے گا؟
بد قسمتی سے اس ریاست میں جو تین حصے ہیں جموں، کشمیر اور لداخ ،ان تینوں میں کسی بھی طرح کی کوئی یکسانیت ہے نہیں۔یہ توڈوگروں نے اپنی ریاست کی توسیع کی ہے، ورنہ کشمیر کا مطلب ہے صرف کشمیروادی ۔ہری سنگھ ،جو آخری ڈوگرا راجا تھے، ان کی کار کا نمبر تھا کشمیر 1۔ تو ا س پورے مسئلے کا مرکزی نقطہ کشمیر ہے ۔ میں کہوں گا کہ کشمیر کو ایک الگ ریاست کا درجہ دیا جائے۔ جموں والے ایک الگ ریاست مانگ رہے ہیں،میں اس کی حمایت کرتاہوں۔ یہ ایک صحیح مانگ ہے۔جواہر ٹنیل سے اوڑی تک کشمیر وادی ہے۔ اسے ایک آٹونومس ریاست بنانا چاہئے۔ ظاہر ہے ہندوستان کے اندر ہی ،لیکن ہندوستان کا صرف ڈیفنس، فورین آفیئرس اور کمیونیکیشن پر حکومت ہو(جیسا کہ ڈاکٹر کرن سنگھ نے بھی راجیہ سبھا میں کہا ہے) اور ہمارا لگ آئین اور جھنڈا بنارہے۔
اب سوال ہے کہ کیا پاکستان اس بات کو مانے گا؟وہ تو اسی کشمیر کو چاہتے ہیں۔ میری ذاتی سمجھ ہے کہ اگر ان کو یہ یقین دلایا جائے کہ پی او کے تم رکھو ،ہم کشمیر کو آٹونومی دیں۔ اب کشمیر میں جب دلی سے لوگ آتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ ہندوستان سے آئے ہیں؟اس کا مطلب ہے کہ لوگ کشمیر کو انڈیا کا پارٹ نہیں مانتے۔ کچھ دوستوں نے مجھ سے پوچھا کہ کشمیر کیسے سروائیو کرے گا؟میں نے اس پر تھوڑا کام کیا ہے۔ کشمیر کی بنیادی حالت اچھی ہے۔ 1947 کے بعد سے کشمیر دودھ،سبزی ،پالٹری ایکس پورٹ کرتا رہا ہے۔ ہماری سیاحت کو تیار کیا جانا چاہئے ، ہارٹی کلچر،ایگریکلچر اور ہینڈی کرافٹ تو دنیا میں مشہور ہے۔
پچھلے چار مہینے میں کیا ہوا؟کتنے لوگ مرے؟7000 سے زیادہ جیل میں ہیں۔ اس سب کانتیجہ کیا ہے؟حریت کے ایک پرانے چیئرمین پروفیسر عبد الغنی بٹ نے کہا تھا کہ یہ موو مینٹ ایسے ہیں جیسے کوئی لنگڑا گھوڑا اور اس پر ایک اندھا سوا ر ہے، وہی ہورہا ہے اس وقت۔اب دھیرے دھیرے دکانیں کھل رہی ہیں۔ ٹرانسپورٹ چل رہا ہے۔ میںان سے پوچھنا چاہتاہوں کہ ان کی منزل کیا ہے؟یاسین ملک ہوں، عمر فاروق ہوں، گیلانی ہوں ۔کوئی ڈیفائن نہیں کرسکے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟کشمیر کا کیا ہوناچاہئے؟کیا سیاسی مستقبل ہو؟کوئی نہیں کہتا۔ ان کے خلاف جو بولے گا وہ غدار ہے،وہ آئی پی ایجنٹ ہے، وہ انڈین ایجنٹ ہے۔ یہاں فری وائس کو سب سے زیادہ نقصان شیخ عبداللہ نے پہنچایا۔ دو بار وہ سی ایم رہے۔ ایک بار بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اسی وجہ سے آج لوگوں کی الگ الگ آوازیں سنتے ہیں۔
دلی میں ہمارے کچھ دوست ہیں۔ان میںسے کئی کی رائے ہے کہ انڈیا بھی اس پرراضی ہوگا کہ جموں کوریاست بنائو،لداخ کو یونین ٹیریٹری ، کشمیر کو اٹانومی دے دو۔ سرکار کیا اس پر سوچتی ہے،مجھے نہیں معلوم۔ مودی سرکار کا جو امپریشن ہے کشمیر پر وہ بہت برا ہے۔ کشمیر کا سب سے بد صورت چہرہ آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ گیلانی کے خلاف کوئی نہیں بولے گا۔ میں گیلانی صاحب سے پوچھوں گا کہ 26سال سے آپ لیڈکررہے ہیں ایک موومینٹ کو، آپ بتائیے کیا مثبت نتیجہ نکلا ہے؟یہ سوال کرنے کا مجھے حق ہے ،یہ میں پوچھوں گا ان سے ۔کشمیر میں عقلمندوں کی کمی نہیں ہے، سیاسی جانکار بہت ہیں، ان میں وکیل بھی ہیں، صحافی بھی ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں ،لکھنے والے بھی ہیں لیکن بولتا نہیں ہے کوئی۔
آج اگر کشمیر میں ریفرنڈم کریں گے تو 95فیصد آزادکشمیر کے لئے ووٹ کریں گے۔ کشمیر سے میرا مطلب کشمیر ہے۔ جموں اور لداخ نہیں ہے۔ باقی 8یا 10 فیصد ہیں اس میں سے جماعت کے کچھ لوگ شاید پاکستان کو ووٹ دیں۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا ہوں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا سارا رشتہ ہیہندوستان سے ہے۔ چاہے وہ سی ایم رہے ہوں یا بیروکریٹس ، وہ ہندوستان کو ووٹ دیںگے۔ گیلانی صاحب کہتے ہیںکہ رائے شماری کرائو، ٹھیک ہے۔یہ تینوں علاقے میںہوگی جموں، کشمیر اور لداخ میں ۔اگر اس رائے شماری میں ہندوستان جیتتا ہے تو گیلانی صاحب کیا کہیں گے؟سارا جموں، انڈیا کو ووٹ دے گا۔ سارا لداخ انڈیا کو ووٹ دے گا۔ یہاں کے کچھ لوگ بھی دیں گے۔اس حساب سے اگر ہندوستان اکثریت پالیتا ہے تو گیلانی صاحب کے پاس کیا راستہ ہے؟ہمیں کشمیر کو آج کے حالات سے دیکھنا ہے۔ ہندوستان اگر سوچتا ہے کہ وہ عام آدمی کے ساتھ زور زبردستی سے کشمیر کو سنبھال کر رکھ پائے گا ،میں ایسا بھی نہیں مانتا۔جتنا ظلم ہوگا، آپ ابھریں گے۔یہ ہماری بدقسمتی ہے۔
(مضمون نگار کشمیر کے مشہور رائٹر ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here