سارہ رضوی سے انٹرویو

Share Article

سارہ رضوی 2008 بیچ کے گجرات کیڈر کی ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون آئی پی ایس آفیسر ہیں، جنہوں نے اپنی محنت و لگن سے یہ ثابت کر دیا کہ مسلم لڑکیاں بھی اگر چاہیں تو دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ وہ نہ صرف مسلم لڑکیوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے اس کارنامے سے پوری ہندوستانی مسلم برادری کا سر فخر سے اونچا کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو عملی طور پر یہ کرکے دکھادیا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی شے ہے، جس کے سہارے انسان ترقی کے منازل طے کر سکتا ہے۔ سارہ رضوی سے لیے گئے انٹریو کا اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

اپنے بچپن اور تعلیم کے بارے میں قارئین کو کچھ بتائیں۔
میرا تعلق ممبئی کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے ہے۔ میرے والد، افضال احمد ایک سائنس گریجویٹ تھے، ریڈی میڈ کپڑوں کا ان کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا۔ میری والدہ، نگار رضوی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ میرے دادا کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہوگیا، لیکن نانا مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ میری پیدائش ممبئی میں ہوئی اور میں نے اپنی تعلیم بھی ممبئی سے ہی مکمل کی۔ میں نے ممبئی کے ایم ایم کے کالج سے کامرس میں گریجویشن کیا۔
آپ نے سول سروسز میں جانے کا ارادہ کیسے بنایا؟
ایم ایم کے کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد، مجھے مقابلہ جاتی امتحان سے متعلق ایک لکچر سننے کا موقع ملا۔ اسی لکچر کے دوران مجھے ڈریم فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور ماہر تعلیم، ڈاکٹر کے ایم عارف کی تقریر سے سول سروسز میں جانے کا جذبہ حاصل ہوا۔ شروع میں، میں سول سروسز کے ابتدائی امتحان میں دوبار ناکام ہوئی، لیکن تیسری بار میرا انتخاب ہوگیا۔ میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بننا چاہتی تھی، لہٰذا میں نے گریجویشن کے دوران ہی فاؤنڈیشن کورس مکمل کر لیا تھا۔ لیکن ڈاکٹر عارف نے مجھے سول سروسز میں جانے کا مشورہ دیا۔ اس سلسلے میں میری فیملی نے میری حمایت کی، اور ممبئی کے ماڈرن ایجوکیشنل، سوشل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن نامی ایک ٹرسٹ نے میری مالی مدد کی۔ آئی پی ایس کی ٹریننگ میں نے مسوری، اتراکھنڈ سے حاصل کی۔
آپ کی اس کامیابی پر مسلم معاشرے کا ردِ عمل کیسا رہا؟ کیا آپ کو کوئی ایوارڈ بھی ملا؟
میں نے 2008 میں یو پی ایس سی امتحان پاس کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے میری پذیرائی کی اور مجھے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ اس کے علاوہ، بارہویں کے امتحان میں جب میں نے ٹاپ کیا تھا، اس وقت بھی اندھیری (ویسٹ)، ممبئی میں میرے پڑوس میں رہنے والے لوگوں نے مجھے مبارکباد دی اور میری کافی تعریف کی۔
عورتیں عام طور پر جذباتی ہوتی ہیں۔ کیا آپ اپنی زندگی میں کبھی جذباتی ہوئی ہیں؟
پولس میں شامل لوگ بھی انسان ہوتے ہیں، چاہے وہ مرد ہوں یا عورت۔ ہمیں ان لوگوں کے لیے کام کرنا ہوتا ہے جو پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ ہمیں سخت ہونا پڑتا ہے، کیوں کہ ہمارا سامنا مجرم پیشہ لوگوں سے ہوتا ہے، لہٰذا اگر ہم جذباتی ہوگئے تو ہم معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری ٹھیک ڈھنگ سے پوری نہیں کرپائیں گے۔
آئی پی ایس آفیسر کے طور پر آپ کو کوئی سب سے برا دن؟
آئی پی ایس افسر بننے کے بعد میں نے ہمیشہ اپنے کام سے پیار کیا اور اپنی ڈیوٹی سے کبھی پریشان نہیں ہوئی، بلکہ مجھے خاتون آئی پی ایس آفیسر ہونے پر فخر ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود، جب میں نے یہ خبر سنی کہ نکسلیوں نے دنتے واڑہ میں 78 سی آر پی ایف جوانوں کو ہلاک کر دیا ہے، تو اس دن مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ میرے خیال سے، وہ دن میری زندگی کا سب سے برا دن تھا۔
آئی پی ایس آفیسر ہونے کے علاوہ، کیا آپ کسی سماجی سرگرمی سے بھی جڑی ہوئی ہیں؟
میں ممبئی میں واقع ایک این جی او، میسکو سے وابستہ ہوں۔ وہ لوگ اپنے پروگراموں میں مجھے اکثر بلاتے ہیں اور مجھ سے حوصلہ اور رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
آپ کی ہابی کیا ہے؟
میں اپنی مادری زبان، اردو سے بہت محبت کرتی ہوں۔ میں غزلیں سنتی ہوں، اس کے علاوہ میں نے کچھ مضامین بھی لکھنے کی کوشش کی، لیکن اسے شائع نہیں کرا سکی۔ میں اپنے کالج کے دنوں میں مضامین لکھا کرتی تھی، جو شائع بھی ہوتے تھے۔ مجھے کھانا پکانا بھی پسند ہے اور ایسا میں اپنی فیملی کے لیے اکثر کرتی ہوں۔
آپ کا ایسا کوئی خواب، جو پورا ہونا ابھی باقی ہے؟
میرے تقریباً تمام خواب پورے ہو چکے ہیں۔ تاہم، آئی پی ایس آفیسر بننے کے بعد میں پولس فورس کے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدلنا چاہتی ہوں۔
آپ کا رول ماڈل کون ہے؟
آئی پی ایس کی ٹریننگ کے دوران، میں اپنے ڈائریکٹر، مسٹر کے وجے کمار سے کافی متاثر ہوئی اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ تمل ناڈو کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر ہیں اور 2009-10 میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولس اکیڈمی کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
مسلم لڑکیوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
میں آپ کے توسط سے تمام عورتوں کو یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ زندگی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے اور یہ ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اسے بہتر بنائیں یا اسے برباد کردیں۔ میں مسلم والدین سے یہ اپیل کروں گی کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں اور انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے فیصلے خود لے سکیں۔ میں ان لڑکیوں کے لیے ایک شعر پڑھنا چاہوں گی، جو تعلیم کو بطور چیلنج لے رہی ہیں …g
شاہراہِ زندگی سے دوستوں گزرو تو یوں
ڈھونڈنے والے تمہارا نقشِ پا ڈھونڈا کریں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *