حلب میں خوفزدہ زندگی

Share Article

2a9f349e4d4f4addb382b1fb62aff172_18شام کے حلب شہر میں باغیوں پر کارروائی کو لے شہریوں اور بے گناہوں کی جانیں بڑی تعداد میں ضائع ہورہی ہیں۔شہر میں گھرے ہوئے افراد کو تحفظ کی غرض سے اقوام متحدہ نے 2700 بچوں سمیت 8000 افراد کو جنگ زدہ شہر چھوڑنے کی اجازت دی تھی ۔اجازت ملنے کے باوجود اب بھی متعدد بچے حلب میں باغیوں کے زیرقبضہ رہنے والے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حلب پر حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ایک فوٹیج جاری ہوا ہے۔ اس فوٹیج میں دکھایا گیاہے کہ ایک بچی جوگھر تباہ ہونے کے بعد بری طرح سے زخمی ہے۔ اس کے جسم پر خون اور چوٹ کے جابجا نشانات ہیں،اسے اسپتال میں داخل کیا گی اہے مگر اس پر ایسا خوف طاری ہے کہ وہ صرف آتے جاتے لوگوںکو خوفزدہ نظروں سے دیکھتی ہے مگر زبانسے کچھ نہیں بول رہی ہے۔ اس کی والدہ ام فاطمہ ایک اپارٹمنٹ بلاک پر فضائی بمباری کے نتیجے میں ہونے والی تباہی میں بچنے والی واحد بالغ شخصیت تھیں اور ان کے بقول جب حملہ ہوا تو ہمارا خاندان سو رہا تھا۔ ایک اور فوٹیج میں ایک دردناک منظر دکھایا گیاہے ۔ محمود نامی ایک لڑکے کو دکھایا گیا جو اپنے ایک ماہ کے بھائی اسماعیل محمد کو گود میں اٹھائے ہوئے ہے جو عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوا۔اسی طرح دو چھوٹے بچے کے جسم پر خون کے دھبوں سے بھرے پوشاک میں ہسپتال کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے اپنی ماں کو تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ۔ان دونوں بچوں پر ایسا خوف طاری ہے کہ ان کے منہ سے آواز تک نہیں نکل رہی ہہے۔وہ دونوبچے اسپتال کی کمروں اور راہداریوںمیں اپن ماں کو تلاش کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *