حدیث نبوی

Share Article

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ایک شخص دو دھاری دار کپڑوں میں (ملبوس) اتراہٹ اور اکڑ کے ساتھ چل رہا تھا نیز (وہ ان کپڑوں کو اتنا نفیس اور برتر سمجھ رہا تھا کہ) اس کے نفس نے اس کو غرور وخود بینی میں مبتلا کردیا تھا(اس کا انجام یہ ہواکہ) زمین نے اس شخص کو نگل لیا چنانچہ وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلاجائے گا۔‘‘(بخاری و مسلم)
فائدہ:انسان کی چال اس کے مزاج و احوال اور عادات و اطوار کی بڑی حد تک نشاندہی کرتی ہے، اسی لیے اس بات پر خاص زور دیا جاتا ہے کہ انسان کو اپنے چلنے کا انداز ایسا نہ رکھنا چاہیے جس سے اس کی شخصیت میں کسی نقص و بے راہ روی اور اس کے طبعی احوال و کیفیات میں کسی ٹیڑھے پن کا اظہار عام ہو۔
ایک دوسری حدیث پاک میں تکبر کے متعلق سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے کہ: جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر و غرور ہوگا اور اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے کبر کی تعریف بھی بیان فرمادی کہ کبر تو حق کے مقابلے میں اترانے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔(بحوالہ مسلم)
اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کبر کتنی بڑی اخلاقی گندگی اور نحوست ہے کہ اس نحوست کو لیے ہوئے کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا، اہل جنت وہی لوگ ہیں جو ہر طرح کے کبر اور غرور اور اس قسم کی گندگی سے ذرا بھی آلودہ نہ ہوں۔
حقیقت کے لحاظ سے کبر یہ ہے کہ انسان کو حق کی پروا نہ ہو اور لوگوں کو نگاہ حقارت سے دیکھتا ہو، یہ چیز اس کے باطنی خبائث کی کھلی دلیل ہوگی، اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایسا طرز عمل اختیار کرتا ہے جس میں اللہ کے حقوق اور حق و صداقت کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے یا اس کے رہن سہن کے انداز، اس کی اپنی آرائش و زیبائش اور چال چلن کے پیچھے یہ جذبہ کام کرتا ہے کہ دوسرے اسے بڑا سمجھیں اور اس کے آگے اپنے کو کمتر جانیں تو یہ روش صریحاً کبر و نخوت کی روش ہے جسے کسی صورت میں بھی صحیح اور درست نہیں کہاجاسکتا، اپنی اس روش کے ساتھ وہ کبھی بھی اس حقیقی عظمت کو حاصل نہیں کرسکتا جو عمر بھر اس کی منتظر رہتی ہے اور اس کے برعکس اسے اس کبر و نخوت کی بڑی سخت سزا بھگتنی پڑے گی۔ درحقیقت شیطان کو مردود اور رجیم بھی اسی کبر نے بنایا اور ہزاروں برس کی عبادت اس کے کچھ کام نہ آئی۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کبر جیسے منحوس مرض سے نجات عطا فرمائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *