جے پی اور جنتال دل میں طلاق کے آثار

Share Article

اشرف استھانوی
بہار میں گذشتہ 7 برسوں سے حکمراں این ڈی اے میں شامل جنتا دل یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رشتوں میں لگاتار تلخی او رکڑواہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ تعلقات اس حد تک کشیدہ ہو گئے ہیں کہ خود حکمراں خیمہ کے لوگ بھی اب دبی زبان سے اس بات کا اعتراف کرنے لگے ہیں کہ یہ رشتہ اب زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو نے تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ بے میل شادی کے نتیجہ میں بی جے پی اور جنتا دل یو کا ہنی مون زیادہ دنوں تک چلنے والا نہیںہے او ردوسری بے میل شادیوں کی طرح اس شادی کا انجام بھی طلاق کی شکل میں جلد ہی سامنے آئے گا۔
طلاق کی نوبت تو اسی وقت آگئی تھی جب پٹنہ میں بی جے پی قومی اکز کیو ٹیو کی میٹنگ ہو رہی تھی اور اس میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی شرکت سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس حد تک بھڑکے تھے کہ انہوں نے بی جے پی رہنمائوں کی ضیافت کا اپنا پہلے سے طے شدہ پروگرام تک منسوخ کر دیا تھا۔ لیکن اس وقت چوں کہ اسمبلی انتخابات سامنے تھے اور بی جے پی یا جنتا دل یو میں سے کوئی بھی انتخاب کے عین قبل اتحاد توڑ کر خود کو کمزور کر نے یا اپوزیشن کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کے حق میں نہیں تھا کیوں کہ دونوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ بہار میں بھلے ہی وہ مخلوط حکومت چلا رہے ہوں لیکن تنہا ان میں سے کسی کی بھی اوقات لالو اور ان کی پارٹی کو شکست دینے کی نہیں ہے۔

بہار کے سابق وزیراعلیٰ اور اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل کے سپریمو لالو پرساد یادو نے تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ بے میل شادی کے نتیجہ میں بی جے پی اور جنتا دل یو کا ہنی مون زیادہ دنوں تک چلنے والا نہیں ہے اوردوسری بے میل شادیوں کی طرح اس شادی کا انجام بھی طلاق کی شکل میں جلد ہی سامنے آئے گا۔طلاق کی نوبت تو اسی وقت آگئی تھی جب پٹنہ میں بی جے پی قومی اکز کیو ٹیو کی میٹنگ ہو رہی تھی اور اس میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی شرکت سے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اس حد تک بھڑکے تھے کہ انہوں نے بی جے پی رہنمائوں کی ضیافت کا اپنا پہلے سے طے شدہ پروگرام تک منسوخ کر دیا تھا۔

وہ دونوں مل کر ہی لالو کو واپسی سے روک سکتے ہیں۔ چنانچہ اتحاد میں شامل دونوں پارٹیوں کے مرکزی قائدین نے معا ملے کو سرد خانے میں ڈال دینے میں ہی عافیت محسوس کی۔ بی جے پی نے بھی اقتدار کے لئے ذلت کے کڑوے گھونٹ حلق سے خوشی خوشی اتار لئے اور معاملہ یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ اس وقت سب سے اہم معاملہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا اور اقتدار پر دوبارہ قابض ہونا ہے۔ اور اس کے لئے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحدہ کوشش ضروری ہے۔ یہ کوشش رنگ لائی اور این ڈی اے ایک بار پھر زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آگیا۔ اس بار حکمراں اتحاد نے کامیابی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ جنتا دل یو کی سیٹوں میں تو اضافہ ہواہی ۔ بی جے پی نے بھی زبردست چھلانگ لگائی۔ اور وہ جنتا دل یو کے کافی قریب آگیا۔ لیکن تھوڑی سی کسر پھر بھی رہ گئی اور وہ اس بار بھی اتحاد کی چھوٹی پارٹنر ہی بن کر رہ گئی اگر بی جے پی تھوڑا زور اور لگا دیتی یا جنتا دل یو قدرے کم زور لگاتاتو بہت ممکن تھا کہ بی جے پی اتحاد کے بڑے شراکت دار ہونے کے ناطے قیادت کا دعویٰ کر دیتی ۔ اس وقت معاملہ بگڑ بھی سکتا تھا ۔ لیکن اولاً تو ایسا ہوا نہیں اور دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ اس انتخاب میں اپوزیشن کا تقریباً صفایا ہو گیا۔ یعنی اگر اس طرح کی صورت پیش آئی بھی تو غیر بی جے پی تمام پارٹیاں مل کر بھی اس کی تلافی کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔
پھر موقع آیا راجیہ سبھا او رکونسل کے دو سالہ انتخاب کا۔ اس موقع پر بی جے پی کو چھوٹے پارٹنر ہونے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ حالاں کہ بی جے پی کو امید تھی کہ اس بار اس کی سیٹوں میں اضافہ کے پیش نظر اسے ترجیح حاصل ہو گی۔ لیکن نتیش کے آگے کسی کی کچھ نہیں چلی اور ایک بار پھر بی جے پی قیادت کو کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی یاترائوں کی سیاست تو پہلے سے ہی بی جے پی کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے جسے نہ تو بی جے پی کو اگلتے بنتا ہے اور نہ ہی نگلتے بنتا ہے۔ یاترائوں کا سارا کریڈ ٹ ایک پارٹی اور ایک کیڈر کو جاتا ہے جب کہ اس میں مکمل سرکاری مشنری کا استعمال ہوتا ہے۔ حکومت کی پہلی پانچ سالہ میعاد کے دوران تو جو ہوا وہ ہوا ہی دوسری پانچ سالہ میعاد میں یہ اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ان یاترائوں کا استعمال وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی انتخابی تیاریوں کے لئے لگاتار کر رہے ہیں۔ بیشک وہ ان یاترائوں کے دوران اپنی حکومت کی حصولیابیوں کو بھی گناتے ہیں لیکن سیدھے سادے عوام اسے ایک خاص پارٹی اور اس کے لیڈر کا شومانتے ہیں، جو بی جے پی اور اس کے رہنمائوں کو بہت بھاری پڑتا ہے۔ لیکن یہ سب وہ اقتدار کے لئے برداشت کرتے آرہے تھے۔
انتہا اس وقت ہوئی جب صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے جنتا دل یو نے نہ صرف یو پی اے امید وار پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کر دیا بلکہ پارٹی کے قومی صدر شرد یادو نے ان کے کاغذات نامزدگی پر نام تجویز کرنے والے کی حیثیت سے دستخط بھی کر دیے۔ او ربی جے پی کو تن تنہا چھوڑ دیا۔ لیکن اس معاملے میں چوں کہ اتحاد میں شامل شیو سینا نے بھی یہی رویہ اپنایا اس لئے اس اختلاف کو با دل نخواستہ بی جے پی کو برداشت کرنا پڑا۔ لیکن معاملہ اس وقت اس کے لئے نا قابل برداشت بن گیا جب صدارتی انتخاب کی ہلچل کے دوران ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے لئے بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کے ممکنہ امید وار نریندر مودی کی ایک بار پھر زور و شور سے مخالفت شروع کردی۔ یہ معاملہ ایک انٹر ویو سے دوبارہ ابھرا اور اسے جنتا دل یو کے دیگر رہنمائوں نے جم کر اچھالا۔ ایسا لگنے لگا کہ صدارتی انتخاب کا موقع نہ ہو کر وزیر اعظم کے انتخاب کا کوئی موقع ہو۔ وزیر اعظم کی امید واری کے لئے نتیش نے صاف طور پر کہا کہ ملک کی سیکولر روایات میں یقین رکھنے والا اور تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرنے والا ہی کوئی شخص وزیر اعظم کا امید وار ہو سکتا ہے۔ نتیش نے جو 5 شرطیں بتائی ہیں ان میں سے 3 شرطیں نریندر مودی پوری نہیں کرتے ہیں۔ اس معاملے پر بھی کافی لے دے ہونے کے بعد پھر دونوں طرف کے قائدین نے معاملے کو دبا دیا۔ اس طوفان سے اٹھنے والا گرد و غبار ابھی پوری طرح ہٹا بھی نہیں تھا کہ جنتا دل یو نے ایک اور بڑا جھٹکا اپنی حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی کو دے دیا۔ نتیش نے بی جے پی کے سنجے جھا کو با قاعدہ پارٹی میں شامل کر لیا۔ اسی دوران اس بات کے بھی واضح اشارے ملے کہ پارٹی کے ایک اور سنیئر رہنما اور ریاستی قانون ساز کونسل کے چیر مین کے عہدہ سے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے پنڈت تارا کانت جھا بھی جلد ہی جنتا دل یو جوائن کر سکتے ہیں۔ اور اس طرح بہار کے متھلانچل علاقہ میں بی جے پی کی بنیاد پر ضرب پڑ سکتی ہے۔ سنجے جھا پارٹی سے اس لئے ناراض تھے کہ انہیں پارٹی نے 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں پارٹی امید وار بننے کے قابل نہیں مانا تھا۔ جب کہ تارا کانت جھا اس لئے پارٹی قیادت سے نا خوش ہیں کہ انہیں بی جے پی نے کونسل میں ایک او رٹرم نہ دے کر انہیں چیر مین سے سیدھے عام آدمی بننے پر مجبور کر دیا۔ سنجے جھا کے بعد اگر تارا کانت جھا جنتا دل یو جوائن کرتے ہیں تو یہ بی جے پی کے لئے ایک ایسا جھٹکا ہوگا جو اس کے لئے برداشت کرنا آسان نہ ہوگا۔ حالاں کہ سیاسی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ بی جے پی فی الحال اس جھٹکے کو بھی برداشت کر لے گی کیوں کہ اس وقت اس کے لئے اقتدار سے ہٹنا یا جنتا دل یو سے علیحدگی اختیار کرنا کسی بھی صورت میںاس کے حق میں نہ ہوگا۔ اسے تو نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں بھی جنتا دل یو کی ممکنہ مخالفت کا حوصلہ برداشت کرنے کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔ویسے سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ بی جے پی بھلے ہی اقتدار کے لئے جھٹکے پر جھٹکے برداشت کرتی جائے اور ذات کے کڑوے گھونٹ حلق میں اتارتی جائے لیکن 2014 کے لوک سبھا انتخاب کے وقت شاید وزیر اعظم کے عہدہ کی امید واری کے سوال پر جنتا دل یو کی طرف سے ملنے والا جھٹکا برداشت نہ کر سکے ۔ اس وقت بی جے پی کے لئے نہ تو بغیر امید وار کے انتخابی میدان میں اترنا ممکن ہوگا او رنہ ہی جنتا دل یو کا مطالبہ خاطر میں لانا۔ ایسی صورت میں علیحدگی یقینی ہو جائے گی۔ کیوں کہ جنتا دل یو کے لئے نریندر مودی کی قیادت میں لوک سبھا انتخاب لڑ کر اپنی سیکولر امیج او ربہار میں اپنی سیاسی زمین بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اسی صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اب بی جے پی اور جنتا دل یو کا ہنی مون زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتا ہے۔ اور یہ بے میل شادی اب ٹوٹ کر رہے گی۔ لالو اسی صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی تیاری میں ابھی سے جٹ گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *